اسلام آباد کی مساجد کا انہدام
اسلام آباد کی مساجد کا انہدام! دین دشمنی کی خطرناک سازش!


الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی:
یوں تو دنیا بھر میں مسلمانوں کی مشکلات میں ہر روز اضافہ ہے‘ اور روز بروز ان پر عرصہٴ حیات تنگ کیا جارہا ہے‘ مگر سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اب اسلام اور مسلمان خود اسلامی ممالک میں اجنبیت کا شکار ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستان… جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور اسلام کا قلعہ کہلاتا تھا… میں بھی کسی مسلمان کے لئے اپنادینی‘ مذہبی اور خالص اسلامی تشخص برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے‘ بلکہ اب تو یہاں تک نوبت جا پہنچی ہے کہ نئی نسل کے دل و دماغ سے اسلامی اقدار اور مذہبی آثار کو کھرچ کھرچ کر صاف کرنے اور اسلامی شعائر کو ڈھانے اور مٹانے کی مہم زوروں پر ہے۔ پھر اگر کوئی بندہٴ خدا اس بے دینی کے سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کرے‘ یا اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا چاہے‘ تو اسے دہشت گرد‘ تشدد پسند‘ تاریک خیال‘ مذہبی جنونی‘ امن مخالف‘ ملک دشمن اور القاعدہ کے ماسٹر مائنڈ وغیرہ کے ”معزز“ القاب و خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ ضرورت محسوس ہو تو اس ”فتنہ پرداز طبقہ“ کے استیصال و استحصال اور مسلمانوں کو اس کی ”شرارتوں“ سے بچانے کے لئے بمباری وغیرہ سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ مسلمانانِ پاکستان گزشتہ کئی سال سے اس پریشان کن کیفیت ‘ جاں گُسل مرحلہ اور تکلیف دہ صورت حال سے دو چار تھے‘ لیکن حالیہ کچھ عرصہ سے اس صورت حال میں تشویشناک حد تک تیزی آگئی ہے۔ وانا آپریشن‘ باجوڑ مدرسہ پربمباری‘ دینی مدارس کے خلاف دل خراش حکومتی لب و لہجہ‘ علماء اور اہل دین کے خلاف طوفان بدتمیزی اس کی چند ایک مثالیں ہیں۔ یہ صورت حال مزید اس وقت خراب اور ابتر ہوگئی‘ جب صدر پاکستان نے یہ ارشاد فرمایا کہ: ”فرقہ واریت پھیلانے والے مدارس اور مساجد ڈھا دی جائیں گی۔“ چنانچہ اس اعلان کے ہوتے ہی ”شاہ کے وفاداروں“ نے دیکھتے ہی دیکھتے اسلام آباد کی متعدد مساجد و مدارس کے خلاف انہدامی نوٹس جاری فرمادیئے اور عملی طور پر ایک سو سالہ قدیم مسجد امیر حمزہ کو بلڈوز کردیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کیا کوئی مسلمان یہ سوچ سکتا تھا کہ… اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں… یہ دن آئیں گے کہ مسلمان اپنے ہاتھوں خدا کے گھر کو مسمار کریں گے؟ نہیں‘ نہیں‘ ہرگز نہیں!! اس لئے کہ اس ملک کی اساس و بنیاد ہی اس پر تھی کہ مسلمان‘ آزادی سے اپنے دین و مذہب پر عمل کرسکیں اور اسلامی روایات و شعائر کا تحفظ کیا جاسکے‘ لیکن صد افسوس !کہ جن لوگوں نے اس جذبہ کے تحت اسے حاصل کیا تھا‘ اس کے لئے جان‘ مال اور عزت و آبرو کی قربانی دی تھی‘ اب انہی کی اولادیں اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ کیا اس صورت حال کے پیش نظر دنیا بھر کے اسلام دشمن عناصر اور لادین قوتوں کو مسلمانوں‘ اور اسلامی شعائر کے خلاف کھل کر کارروائی کرنے میں مدد نہیں ملے گی؟ اسلام کے خلاف برسر پیکار مسلمان حکمرانوں کو آئندہ ہندوستان اور دوسرے اسلام دشمن ممالک کی خلافِ اسلام سرگرمیوں یا مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر احتجاج کرنے کا حق رہے گا؟ کیا ایسے موقع پر اسلام دشمن یہ نہیں کہیں گے کہ ایک نظریاتی اسلامی ملک میں اسلامی اقدار و شعائر کو ملیا میٹ کرنے والوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ہمارے خلاف لب کشائی کریں؟ اربابِ اقتدار کو سو بار سوچنا چاہئے کہ ان کے اس اقدام سے تشدد پسند جنونی ہندؤوں کے بابری مسجد کی انہدامی کارروائی اور دوسرے غلط اقدامات کو تقویت اور سند جواز نہیں مل جائے گی؟ کیا کہا جائے کہ جو لوگ اللہ کے گھروں کو ڈھانے اور برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ وہ مسلمانوں کے نمائندے ہیں؟ یا ان کو مسلمانوں پر حکومت کا حق حاصل ہے؟ کیا ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت نہیں دے رہے؟ کیا وہ اس ارشاد الٰہی کا مصداق نہیں کہ:
”ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا اولئک ماکان لہم ان یدخلوہا الا خائفین۔“ (البقرہ:۱۱۴)
ترجمہ: ”اور اس سے بڑا ظالم کون؟ جس نے منع کیا اللہ کی مسجدوں میں کہ لیا جاوے وہاں نام اس کا‘ اور کوشش کی ان کے اجاڑنے میں‘ ایسوں کو لائق نہیں کہ داخل ہوں ان میں مگر ڈرتے ہوئے۔ (یعنی ایسے لوگ اس ملک میں حکومت اور عزت کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں‘ ناقل)۔“ بلاشبہ اس ارشاد الٰہی میں کفار و مشرکین مکہ کے اس ظالمانہ اور گستاخانہ کردار کا تذکرہ ہے‘ جو انہوں نے بیت اللہ کے ساتھ روا رکھا تھا۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ وہ لوگ اس ملک میں حکومت و عزت کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں‘ چنانچہ ان کی اسی گستاخی اور بے ادبی کا ثمرہ تھا کہ ان میں سے بہت سے موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے اور جو بچ رہے‘ ان کو وہاں سے ذلیل و رسوا کرکے نکال دیا گیا… لہٰذا کیا یہ ممکن نہیں کہ جو لوگ آج کفار و مشرکین مکہ کی روش پر چل کر مساجد و مدارس کی توہین و تنقیص اور اس کی بربادی کے در پے ہیں‘ انہیں بھی اس انجام سے دوچار ہونا پڑے اور اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دے‘ یا پھر انہیں بیک بینی و دو گوش ملک کی مسند اقتدار سے ہٹاکر عزت و اقتدار کی بجائے ذلت و رسوائی سے دوچار کرکے نشانِ عبرت بنادیا جائے؟
فاعتبروا یا اولی الابصار۔
…………………
آج سے تین چار سال قبل کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے نام پر متعدد مساجد کو منہدم کیا گیا‘ پھر پرانی سبزی منڈی کراچی کی جگہ عسکری پارک کے عنوان سے سبزی منڈی کے اطراف میں قائم قدیم مساجد پر ہاتھ صاف کرنے کا منصوبہ بنایا گیا‘ لیکن جب اس وقت اکابر علماء نے اس ناروا اقدام اور غیر شرعی حرکت کے خلاف احتجاج کیا اور بھرپور مزاحمت کی‘ تو سبزی منڈی کی مسجدیں تو بچ گئیں‘ مگر لیاری ایکسپریس وے کی زد میں آنے والی تمام مساجد کو ڈھادیا گیا‘ اس کے ٹھیک چار سال بعد اب اسلام آباد کی مساجد پر ہاتھ صاف کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا‘ جن مساجد کو مسمار کرنے کا منصوبہ بنایا گیاتھا‘ خدانخواستہ یہ کوئی غیر قانونی اور ناجائز قبضہ کی پیداوار نہیں تھیں‘ بلکہ ان میں سے بعض تو ایسی تھیں‘ جو اسلام آباد کے قیام سے بھی پہلے قائم اور آباد تھیں‘ جبکہ دوسری تمام مساجد ایسی تھیں‘ جو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد ہی تعمیر کی گئی تھیں‘ لیکن ان میں سے کسی کو سیکورٹی پوائنٹ کے لئے خطرہ سمجھ کر‘ کسی کو شہر کی خوبصورتی کے نام پر اور کسی کو گرین بیلٹ کے عنوان سے حرف غلط کی طرح مٹانے اور ڈھانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد دینی مدارس کو بھی اس فہرست میں شامل کرکے ان پر بھی چڑھائی کا منصوبہ تھا۔ بلاشبہ یہ دین دشمنی کی ایک گہری سازش تھی‘ اگر اس کے خلاف بروقت کارروائی نہ کی جاتی اور اس کا تدارک نہ کیا جاتا‘ تو ملکی امن و امان خطرے میں پڑ جاتا‘ دیکھا جائے تو اس کے پس منظر میں حکومت اور عوام کے تصادم کی خطرناک سازش کارفرما تھی۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے جمعیت اہل سنت اسلام آباد ‘ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اکابر اور ملک بھر کے اکابر علماء‘ زعما اور دین دار مسلمانوں کو‘ جنہوں نے اس غیر شرعی اور ظالمانہ اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کی‘چنانچہ بعض معاملہ فہم آفیسران اور ملک دوست وزراء نے بروقت آگے بڑھ کر اس کشیدہ صورت حال کو سنبھالنے اور مسلمانوں کو تصادم کی فضا سے بچانے میں قابل ستائش کارنامہ انجام دیا۔ بہرحال آخری اطلاعات تک حکومت کے نمائندوں نے علماء وطلبا کے احتجاج اور مطالبہ پر یقین دہانی کرادی ہے کہ اسلام آباد کی مسمار شدہ مساجد کو ان کی جگہ سے نہیں ہٹایا جائے گا اور ان کو دوبارہ اسی جگہ تعمیر کیا جائے گا‘ جہاں وہ پہلے تھیں‘ اسی طرح ان تمام مساجد و مدارس سے بھی تعرض نہیں کیا جائے گا‘ جن کے خلاف نوٹس جاری کئے گئے تھے۔ اس معاملہ کو سلجھانے کے لئے جہاں بہت سے جلسے‘ جلوس‘ احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے‘ وہاں سرکاری افسران اور بیوروکریٹس کو صحیح صورت حال سمجھانے‘ حقائق بتانے اور اس غلط اقدام کے عواقب و نتائج سے آگاہ کرنے کے لئے متعدد اکابر نے مختلف اوقات میں اسلام آباد کا سفر کیا‘ چنانچہ آخری اجلاس اور میٹنگ میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مدیر حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر‘ دارالعلوم کراچی کے نائب صدر حضرت مولانا محمد تقی عثمانی‘ ڈاکٹر شیر علی شاہ‘ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری‘ مولانا قاری سعید الرحمن‘ مولانا امداد اللہ ‘ مفتی عبدالحمید‘ مولانا ثناء اللہ غالب‘ مولانا انوار الحق‘ پیر عزیز الرحمن ہزاروی‘ مولانا محمد عادل خان وغیرہ شامل تھے۔ چنانچہ ان حضرات کے حلم و تدبر معاملہ فہمی اور دعاؤں کی برکت سے تصادم کی صورت حال ختم ہوگئی اور مذہبی امور کے وفاقی وزیر جناب اعجاز الحق نے علماء کی معیت میں مسجد امیر حمزہ کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ کر تمام شکوک و شبہات کو رفع کردیا۔ اس صورت حال کے تحت ہم ارباب اقتدار سے عرض کریں گے کہ وہ ایسے بچکانہ اور اشتعال انگیز اقدامات سے احتراز کریں اور ایسے تمام بے تدبیر افسروں کو سمجھائیں کہ وہ ایسے کسی اقدام سے اجتناب کریں جو ملک و ملت کے لئے مشکلات کا باعث بنے یا ملکی امن و امان کو خراب کرنے کا ذریعہ ہو‘ اس لئے کہ مسجد اگر ایک بار کہیں تعمیر ہوجائے تو وہ قیامت تک مسجد ہی رہے گی‘ اسے کسی دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حضرات علماء کرام اور اربابِ دین سے بھی درخواست ہے کہ جذباتیت سے ہٹ کر ہر معاملہ کو نہایت سنجیدگی سے لیا جائے اور کسی دینی اور شرعی معاملہ میں کمزوری اور لچک نہ دکھائی جائے تو انشاء اللہ! بڑے سے بڑا معاملہ بھی بسہولت حل ہوجائے گا۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیرخلقہ محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, صفر المظفر۱۴۲۸ھ مارچ ۲۰۰۷ء, جلد 70, شمارہ