(۱) کرسی پر اشارہ کرنے کی صورت میں بعض لوگ رکوع میں ہاتھ کو ران پر رکھتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں فضا میں معلق رکھ کر اشارہ سے سجدہ کرتے ہیں، ایسا کرنا ثابت نہیں، رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھنا چاہیے۔
(۲) معذوری کی حالت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت میں رکوع میں سرین کا زمین سے اٹھنا ضروری نہیں، بلکہ پیشانی کا گھٹنے کے مقابل ہونا ضروری ہے، جیسا کہ ’’ امداد الاحکام‘‘ میں ہے: ’’ بحالتِ جلوس رکوع کرتے ہوئے صرف اتنا ضروری ہے کہ پیشانی کوگھٹنے کے مقابل کردیا جائے، اس سے زیادہ جھکنے کی ضرورت نہیں، نہ سرین اٹھانے کی ضرورت ہے‘‘۔ [امداد الاحکام:۱/۶۰۹]
اب کرسیوں پر نماز ادا کرنے والے حضرات اپنے احوال پر غور فرمائیں کہ - کیا واقعتا وہ اس درجہ معذور ہیں کہ شرعاً ان کے لیے کرسی پر نماز ادا کرنا جائز ہو، اگر وہ اس درجہ معذور نہیں تو پھر کرسیوں پر نماز پڑھنے سے احتراز کریں، تاکہ مساجد میں بے ضرورت کرسیوں کی کثرت نہ ہو، بوقتِ ضرورت کرسی اختیار کرنے کی صورت میں ٹیبل والی کرسی اختیار نہ کی جائے ‘‘۔
(ماہنامہ دار العلوم دیوبند، جلد ۹۵، شمارہ: ۶، رجب ۱۴۳۲ھ مطابق جون۲۰۱۱ء)
’’احسن الفتاویٰ‘‘ میں ہے:
’’ اگر ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری کرسی پر سجدہ کیا تو نماز صحیح ہوجائے گی، بشرطیکہ سجدہ کے وقت گھٹنے بھی کرسی پررکھے، مع ہذا ایسا کرنا گناہ ہے، زمین پر بیٹھ کر نماز