تجزیہ وتجویز
۱-معذور ومریض حدیث پاک سے منصوص وثابت طریقہ پر ہی نماز ادا کرے، کرسی پر نہیں، کیوں کہ کرسی پر نماز صحیح ثابت سنت کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ نماز کی روح کے منافی اور بہت سے مفاسد اور خرابیوں کاداعی ہے۔
۲-اگر کوئی مریض سجدہ پر قادر ہے ، پورے قیام پر قادر نہیں، تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے، اُتنا قیام اُس پر فرض ہے، خواہ ایک آیت یا تکبیرِ تحریمہ کے بقدر ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہے، تو اُس کی نماز نہیں ہوگی۔ [در مختار مع شامیہ:۲/۲۶۷]
۳-اگر کوئی مریض کھڑے ہونے پر قادرہے، رکوع سجدہ، یا صرف سجدہ پر قادر نہیں، تو اُس کے حق میں قیام ساقط ہے، اور اس کے لیے زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجدہ کے لیے اشارہ کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔ [ایضاً:۲/۵۶۷]
۴-اگر کوئی مریض بعض مفتیانِ کرام کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہوئے ، بعض مخصوص صورتوں میں کرسی پر نماز پڑھتا ہے، تو وہ رکوع وسجود کے لیے اشارہ ہی کرے گا، اپنے سامنے میز یا ٹیبل رکھ کر اُس پر سجدے کا مکلف وپابند نہ ہوگا۔
ہذا ما ظہر لی
واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم
کتبہ العبد:محمد جعفر ملی رحمانی…۳/جمادی الاولیٰ۱۴۳۴ھ