یوگا سے متعلق علمائے اسلام کے فتاوی وآراء :
ملیشیاکی ’’مجلسِ اسلا می کبیر‘‘ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ’’یوگا ‘‘حرام ہے ،کیوں کہ یہ ریاضت بودھ مذہب کے دین اوربدھسٹوں (Bugghist)سے مربوط ہے، اور اس کا طریقہ اس مذہب کی حرکاتِ دینیہ پر مشتمل ہے۔کویتی علمائے دین نے اس فتویٰ سے اپنے اتفاق کا اظہار کیاہے۔
اسی طرح دکتور عجیل النشمي (جو علوم شرعیہ کے مشہور ومعروف اسکالر ہیں)، دکتور بسام الشطبي(فقہ وشریعت کے مشہور ومعروف عالم)،دکتور عبد اللّٰہ الہبدان( نورالاسلام ویب سائٹ)، فوز بنت عبد اللطیف الکردي ( ماہرعلم عقائد وادیانِ معاصرہ ) وغیرہ، اور ان کے علاوہ بہت سارے علمائے کرام نے ’’یوگا‘‘ کو حرام قرار دیا ہے۔
مفتیٔ مصر فضیلۃ الشیخ علي جمعہ فرماتے ہیں:
تعد الیوجا من طرق التمسک الہندوکیۃ ؛ فلا یجوز اتخاذہا طریقًا للعبادۃ ۔۔۔۔۔ فإتخاذہا بہذہ الصفۃ التعبدیۃ ضلال قطعًا ۔۔۔۔۔ أما من یقوم بحرکات تشبہہا ولم تخطر ببالہ ارتباطہا بتمسک الہندوک ؛ فہو من باب التشبہ المنہي عنہ شرعًا ؛ والأصل في ذلک ما ورد عن النبي ﷺ أنہ نہی في کثیر من أحادیثہ عن التشبہ بغیر المسلمین في ملبسہم ومشربہم ومأکلہم ، فہذا التشبہ من باب الحرام ۔ (فتاوی عصریۃ:ص/۴۵۱)
خلاصۂ فتویٰ: یوگا، یوگیوں کے عقائد کا التزام نہ کرنے کے باوجو د بھی حرام ہے ، کیوں کہ یہ اس تشبہ میں داخل ہے ،جو شرعاً ممنوع ہے،کیوں کہ’’یوگا ‘‘ایک خاص قسم کی