بحالتِ روزہ لبوں پر سرخی لگانا
مسئلہ(۹۳): اگر کوئی عورت روزہ کی حالت میں اپنے لبوں پر ایسی سرخی لگائے، جو جلد تک پانی کے پہنچنے کو مانع ہو، تو یہ جائز نہیں (۱)، اور اگر مانع نہ ہو تو جائز ہے، لیکن اس کے منہ میں چلے جانے کا احتمال ہو ، توپھر مکروہ ہے۔(۲)
------------------------------
=ما في ’’ فتح القدیر لإبن الہمام ‘‘ : والکل إما أن خرج أو عاد أو أعادہ ، فإن ذرعہ وخرج لا یفطر قلّ أو کثر لإطلاق ما رویناہ ، وإن عاد بنفسہ وہو ذاکر للصوم کان ملء الفم فسد صومہ عند أبي یوسف رحمہ اللہ تعالی ، لأنہ خارج شرعاً حتی انتقضت بہ الطہارۃ وقد دخل ، وعند محمد لا یفسد ، وہو الصحیح ، لأنہ لم توجد صورۃ الإفطار وہو الابتلاع ولا معناہ إذ لا یتغذی بہ ۔ (۲/۳۳۹ ، باب ما یوجب القضاء والکفارۃ)
ما في ’’ الفتاوی الولوالجیۃ ‘‘ : وإذا ذرعہ القيء لم یفطر، وإن تقیأ فطر لما روي عن النبي ﷺ أنہ قال : ’’ من قاء فلا قضاء علیہ ، ومن استقاء فعلیہ القضاء ‘‘ ۔ وہذا إذا لم یعد شيء ۔
(۱/۲۱۹ ، الفصل الأول)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : إذا قاء أو استقاء ملء الفم ، ہکذا في النہر الفائق ، وہذا کلہ إذا کان القيء طعاماً أو ماء أو مرۃ ، فإن کان بلغما فغیر مفسد للصوم عند أبي حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ تعالی خلافاً لأبي یوسف رحمہ اللہ تعالی إذا ملأ الفم ، وقولہ : ہذا أحسن من قولہما ، ہکذا في فتح القدیر ۔ (۱/۲۰۴ ، الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : أو قاء وعاد لم یفطر ، وإنما ذکر العود لیفید أن مجرد القيء بلا عود لا یفطر بالأولی ، وأطلقہ فشمل ما إذا ملأ الفم أو لا ، وفیما إذا عاد وملأ الفم خلاف أبي یوسف ، والصحیح قول محمد لعدم وجود الصنع ولعدم وجود صورۃ الفطر وہو الإبتلاع ، وکذا معناہ ، لأنہ لا یتغذی بہ بل النفس تعافہ ۔ (۲/۴۷۹ ، باب ما یفسد الصوم الخ)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : في فتاوی ما رواء النہر : إن بقي من موضع الوضوء قدر=