حج میں ٹور والوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا
مسئلہ(۱۰۶): موسمِ حج میں ٹور والے کھانے پینے اور رہائش کے اُس معیار میں اگر کوتاہی ولاپرواہی کرتے ہیں، جس کا انہوں نے پیسہ وصول کیا ہے، تو اچھے انداز میں اُن سے حق طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے(۱)، البتہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر نہ کوئی فحش بات جائز ہے ،اور نہ کسی قسم کا نزاع وتکرار زیبا ہے، بلکہ اپنا زیادہ تروقت نیک کاموں میں لگانا چاہیے۔(۲)
 ------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ فتح الباري ‘‘ : عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ تعالی عنہ ، عن النبي ﷺ أنہ أخذ سناً فجاء صاحبہ یتقاضاہ ؛ فقالوا لہ ، فقال : ’’ إن لصاحب الحق مقالاً ‘‘ ، ثم قضاہ أفضل من سنہ وقال : ’’ أفضلکم أحسنکم قضائً ‘‘ ۔ (۵/۲۷۹ ، کتاب الہبۃ ، باب من أہدي لہ ہدیۃ وعندہ جلساؤہ فہو أحق ، رقم : ۲۶۰۹ ، دار السلام الریاض)
(۲) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {فمن فرض فیہنّ الحجّ فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج} ۔ (سورۃ البقرۃ : ۱۹۶)
ما في ’’ التفسیر المنیر ‘‘ : وعن کل ما یؤدی إلی التنازع والتباغض والاختلاف کالجدال ، والمراد الخصام والتنافر بالألقاب ۔ (۲/۱۹۶)
ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : ’’ سباب المؤمن فسوق وقتالہ کفر ‘‘ ۔ (۲/۱۹)
(امداد الحجاج: ۱/۱۹۵)