کتاب النکاح
٭…نکاح کے مسائل…٭
نکاح گھر پر یا مسجد میں؟
مسئلہ(۱۰۸): گھر پر تقریبِ نکاح کا منعقد کرنا جائز ہے، لیکن مستحب یہ ہے کہ نکاح مسجد میں کیا جائے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کاحکم فرمایا ہے، اور آج کل شادی کے رسم و رواج اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ جن کو انجام دینے میں اکثر مستورات کی نمازیں فوت ہوجاتی ہیں، نیز نکاح میں اس قدر فضول خرچی بڑھ گئی کہ بسا اوقات آدمی اس میں مقروض ہوجاتا ہے۔
اسی طرح تبلیغی اجتماعات میں عقد نکاح کیا جائے تویہ بھی بہتر ہے،کیوں کہ اجتماعات عموماً مساجد میں ہوتے ہیں ، اور جہاں مسجد میں گنجائش نہیں ہوتی ہے، وہاں اجتماع گاہ میں دو تین دن تک اذا ن واقامت کے ساتھ پانچوں وقت باجماعت نماز پڑھی جا تی ہے، اس لیے اس جگہ نکاح کرنا مسجد میں نکاح کرنے کے مانند ہوگا۔(۱)
 ------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ العرف الشذي شرح الترمذي ‘‘ :عن عائشۃ قالت : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’’أعلنوا ہذا النکاح واجعلوہ في المساجد ، واضربوا علیہ بالدّفوف ‘‘ ۔ (۲/۳۵۸)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : (ویندب إعلانہ) أي إظہارہ ، والضمیر راجع إلی النکاح بمعنی العقد، لحدیث الترمذي : ’’ أعلنوا ہذا النکاح واجعلوہ في المساجد ، واضربوا علیہ بالدفوف ‘‘ ۔ (۴/۵۷)
ما في ’’ فتح القدیر لإبن الہمام ‘‘ : ہذا ویستحب مباشرۃ عقد النکاح في المسجد ، لأنہ عبادۃ ، وکونہ في یوم الجمعۃ ، وفي الترمذي : عن عائشۃ رضي اللہ تعالی عنہا قالت:=