کریڈٹ کارڈ (Credit Card)
مسئلہ(۳۲۸): کریڈٹ کارڈ (Credit Card)کی مروّج صورت چوں کہ سودی معاملہ پر مشتمل ہے، لہٰذا کریڈٹ کارڈیا اس قسم کے کسی کارڈ کا حاصل کرنا جائز نہیں(۱)، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے پندرہویں سمینار منعقدہ: ۱۰،۱۱،۱۲؍ مارچ ۲۰۰۶؁ء کا فیصلہ بھی یہی ہے۔(۲)
------------------------------
(۱) ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {وأحل اللّٰہ البیع وحرّم الرّبوٰا} ۔ (سورۃ البقرۃ : ۲۷۵)
ما في ’’ صحیح مسلم ‘‘ : عن جابر رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال : ’’ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ، وقال : ہم سواء ‘‘ ۔ (۲/۲۷ ، باب الربوا)
ما في ’’ فقہ النوازل ‘‘ : البطاقۃ الفضیۃ أو الذہبیۃ علی الشرط المذکور بطاقۃ ربویۃ ، لا یجوز اصدارہا ولا العمل لاشتمالہا علی قرض جرّ نفعاً وہذا ربا محرم ، والتعامل بہا من التعاون علی الإثم والعدوان ، وباللّٰہ التوفیق ، وصلی اللّٰہ علیہ نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔
(۳/۲۰۳، وثیقۃ رقم: ۱۶۵، بطاقۃ الائتمان)
ما في ’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ ‘‘ : نہی النبي ﷺ عن سلف وبیع ، مثل أن یقرض شخص غیرہ ألف درہم علی أن یبیعہ دارہ أو علی أن یرد علیہ أجود منہ ، أو أکثر والزیادۃ حرام کما تقدم إذا کانت مشروطۃ أو متعارفاً علیہا في القرض ۔۔۔۔۔۔ لأن کل قرض جرّ نفعًا فہوربا ۔
(۵/۳۷۴۶ ، فوائد المصارف البنوک)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : قولہ : کل قرض جر نفعاً حرام ، أی إذا کان مشروطاً ۔
(۷/۲۹۸، مطلب کل قرض جر نفعاً حرام)
(بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام:ص/۲۰، کریڈٹ کارڈ کے شرعی احکام :ص/۱۰۳)
(۲) (نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے:ص/۱۶۳، تجویز نمبر ۴)