کمیونسٹ ملک میں رہائش پذیر مسلموں کے اموال
مسئلہ(۵۲۰): اگر کسی ملک پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہوجائے ، اور اکثر مسلمان وہاں سے ہجرت کرجائیں، اور بعض مسلمان باقی رہ جائیں، تو جن لوگوں نے کمیونسٹوں کے قبضے کے بعد ہجرت نہیں کی اور انہیں کے ساتھ رہ رہے ہیں، اور مجاہدین کے خلاف ان کی اعانت نہیں کرتے ہیں، تو گرچہ یہ لوگ ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، لیکن شریعتِ مقدسہ ان کو قصداً وارادۃً قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، البتہ ان کے اموال کو ضبط کرنا جب کہ اس سے کفار کو فائدہ پہنچ رہاہو ،درست ہے۔(۱)
 ------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في’’ القرآن الکریم ‘‘ : {إن الذین توفّٰہم الملٓئکۃ ظالمي أنفسہم ، قالوا فیم کنتم ، قالوا کنا مستضعفین في الأرض ، قالوا ألم تکن أرض اللّٰہ واسعۃ فتہاجروا فیہا ، فأولٓئک مأوٰہم جہنّم وساء ت مصیرًا} ۔ ( النساء : ۹۷)
ما في ’’ الجامع لأحکام القرآن للقرطبي ‘‘ : {ألم تکن أرض اللّٰہ واسعۃً} ویفید ہذا السؤال والجواب أنہم ماتوا مسلمین ظالمین لأنفسہم في ترکہم الہجرۃ ۔ (۵/۳۴۶)
ما في ’’ کتاب شرح السیر الکبیر ‘‘ : لو رمیٰ رجل من المسلمین رجلاً واقفاً في صف المشرکین وہو مسلم قد جاء بہ المشرکون مکرہاً ، والرامي لا یعلم أنہ مسلم ، أو یعلم إلا أنہ لم یتعمدہ بالرمیۃ ، أو تعمدہ وہو لا یدري أنہ مسلم ، فہذا کلہ سواء ، ولیس علی الرامي فیہ دیۃ ولا کفارۃ ، لأنہ قد حل لہ الرمي إلی صف المشرکین مطلقاً إلا أن یعلم مسلماً بعینہ قد جاء بہ العدو مکرہاً ، فتعمد بالرمي وہو یعلم حالہ فحینئذٍ یلزمہ القود في القیاس ، لأنہ عمد محض ، والعمد موجب للقعود ، وہذا قیاس یؤیدہ بالنص ، وہو قولہ علیہ السلام : ’’العمد قود ‘‘ ۔ وفي الاستحسان لا قود علیہ ، لأنہ في صف المشرکین ، والرمي إلی =