بزور وزبردستی کسی کی زمین لے لینا
مسئلہ(۵۲۱): کسی شخص کا اپنے گھر کی توسیع کے لیے کسی دوسرے شخص کی زمین کو اس کی رضامندی کے بغیر لے لینا ،جب کہ اس شخص کا نام بھی دستاویزات میں لکھا ہو ، شرعاً درست نہیں ہے، کیوں کہ کسی کی زمین غصب کرنا گناہِ کبیرہ ہے، بروزِ قیامت غاصب کے گلے میں ساتوں زمینوں کا طوق بناکر ڈالا جائے گا(۱)، لہٰذا اگر کسی شخص نے کسی کی کوئی زمین غصب کرلی ہو، تو اس کو چاہیے کہ شخصِ آخر کی زمین خالی کرکے واپس دیدے(۲)، یا ملبے وغیرہ کی قیمت
 ------------------------------
=صفہم مباح ، ولکن علیہ الدیۃ في مالہ ۔
(۴/۲۲۴ ، باب قلع الماء عن أہل الحرب وتحریق حصونہم ونصب المجانیق علیہا)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : نحاربہم (أہل الحرب) بنصب المجانیق وحرقہم وغرقہم ، وقطع أشجارہم ورمیہم ، لکن جواز التحریق والتغریق مقید کما في شرح السیر ، بما إذا لم یتمکنوا من الظفر بہم بدون ذلک بلا مشقۃ عظیمۃ ، فإن تمکنوا بدونہا فلا یجوز ، لأن فیہ إہلاک أطفالہم ونسائہم ومن عندہم من المسلمین ۔
(۶/۱۶۰ ، کتاب الجہاد ، مطلب في أن الکفار مخاطبون ندباً)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : لو أسلم حربي في دار الحرب ولم یہاجر إلینا فقتلہ مسلم عمداً أو خطأً فلا شيء علیہ إلا الکفارۃ ، وعند أبي یوسف علیہ الدیۃ في الخطایا ۔
(۶/۶۹ ، کتاب السیر ، لو أسلم أحد الأبوین)
ما في ’’ الفتاوی الکاملیۃ ‘‘ : من یدخل تحت جوارہم وأمانہم من غیر إعانۃ لہم بنفسہ وبمالہ ولا یکون عیناً لہم علینا ولا ردائً دونہم لا یباح قتلہ ، وإنما ہو عاص معصیۃ لا تبیح ما عصمہ الإسلام من دمہ ومالہ ، وإنما أبیح أخذ أموالہم أیضاً لکونہم یعینون بہ العدو علی مقاتل الإسلام ومقاومتہ ومناواتہ ومناہفتہ ، فأبیح أخذہ لذلک ۔ (بحوالہ فتاوی حقانیہ :۵/۳۰۶)=