کتاب اللقطۃ
٭…لقطہ کے مسائل…٭
سیلاب میں بہہ کر آئی چیزوں کا استعمال
مسئلہ(۵۲۲): سیلاب وغیرہ میں بہت سی چیزیں بہہ کر آتی ہیں، ان کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں، کیوں کہ یہ لقطہ کی طرح ہیں، اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ مالک کو تلاش کرکے اس کے حوالہ کیا جائے، ہاں !اگر خود غریب مصرفِ صدقہ ہے، تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے، لیکن اگر مالک آئے اور مطالبہ کرے ، تو اس کی قیمت اپنے پاس سے ادا کردے ۔(۱)
 ------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : اللقطۃ أمانۃ إذا أشہد الملتقط أن یأخذہا لیحفظہا فیردّہا علی صاحبہا ۔ (۲/۲۹۱)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : قولہ : وینتفع بہا لو فقیراً وإلا تصدّق علی أجنبي ، ولأبویہ وزوجتہ ، وولدہ لو فقیرًا ، أن ینتفع الملتقط باللقطۃ بأن یتملکہا ، بشرط کونہ فقیرًا نظرًا من الجانبین کما جاز الدفع إلی فقیر آخر ۔ (۵/۲۶۴)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : إن کان الملتقط محتاجاً فلہ أن یصرف اللقطۃ إلی نفسہ بعد التعریف ، وإن کان الملتقط غنیاً لا یصرفہا إلی نفسہ ، بل یتصدق علی أجنبي أو أبویہ ، أو ولدہ ، أو زوجتہ إذا کانوا فقراء ۔ (۲/۲۹۱)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : وفي القنیۃ : لو رجا وجود المالک وجب الإیصاء ، فإن جاء مالکہا بعد التصدق خیر بین إجازۃ فعلہ ، ولو بعد ہلاکہا ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیۃ : (وفي القنیۃ) وما یتصدق بہ الملتقط بعد التعریف وغلبہ ظنہ أنہ لا یوجد صاحبہ لا یجب إیصاء ہ ، وإن کان یرجو وجود المالک وجب الإیصاء ، والمراد الإیصاء بضمانہا إذا ظہر صاحبہا ، ولم یجز تصدق الملتقط لا الإیصاء بعینہا قبل التصدق بہا ، لکنہ مفہوم بالأولی ، فلذا عمم الشارح ۔ (۶/۳۳۸ ، مجمع الأنہر : ۲/۵۲۶)