(رمضان المُبارک کے اَعمال)
...٭....٭....٭...٭...٭...
رمضان المُبارک میں بہت سے کرنے کے کام ہیں جن کو شوق و رغبت کے ساتھ کرنا چاہیئے اور اس میں کسی بھی قسم کی سستی اور کمزوری سے بچنا چاہیئے ،اِس لئے کہ یہ مُبارک ایّام اور قیمتی ساعتیں سال میں ایک ہی مرتبہ نصیب ہوتی ہیں اِن میں جس قدر اہتمام ہوسکے کرنا چاہیئے ۔
رمضان المبارک میں جو کام کرنے کے ہیں احادیثِ طیّبہ کی روشنی میں اُنہیں ذکر کیا جارہا ہے، اسے پڑھئے ،عمل کیجئے اور رمضان کو قیمتی بنانے کی کوشش کیجئے ، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس کی ہمت،طاقت اورعمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین
﴿پہلا عَمل: رمَضان کی آمد سے پہلے ہی اُس کی تیاری کرنا﴾
حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عمر﷠اِرشادفرماتے ہیں:
”كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ رَمَضَانَ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ:أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ فَشَمِّرُوْا لَهُ وَأَحْسِنُوْا نِيَّاتِكُمْ فِيْهِ“نبی کریمﷺسے پہلے خطبہ دیتے اور فرماتے : تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے پس تم اُس کیلئے تیاری کرواور اُس میں اپنی نیتوں کو درست کرلو ۔(کنز العمال عن الدّیلمی: 24269)
اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی آمد سے قبل اُس کیلئے پہلے سے تیاری کرنی چاہیئے۔اورقاعدہ بھی یہی ہے کہ ہر چیز کی تیاری اُس کے آنے سے پہلے ہوتی ہے ، مثلاً مہمان کی آمد ہو تو اُس کے آنےکے بعد نہیں ،آنے سے پہلے تیاری ہوتی ہے ، اِسی