”الْعَمَلُ فِي لَيْلَة الْقدر وَالصَّدَََقَةُ وَالصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ أفْضَلُ مِنْ ألْفِ شَهْر“ شبِ قدر میں عمل کرنا صدقہ دینا، نمازپڑھنا ،زکوۃ اداء کرنا ہزار مہینوں سے افضل ہے۔(الدر المنثور:8/568)
فائدہ:ہزار مہینوں کے83 بَرس 4 مہینے بنتے ہیں۔(تفسیر روح البیان)
گویا تراسی برس چار مہینے سے بھی زیادہ عبادت کا ثواب ملتا ہے ،اور اِس زیادتی کا حال معلوم نہیں کہ ہزار مہینے سے کتنے ماہ زیادہ افضل ہے ۔(فضائلِ رمضان :35)
(3)شبِ قدر میں فرشتوں کا نازل ہونا :
اِ س مُبارک رات کی ایک بڑی فضیلت یہ ہے کہ اِس میں فرشتوں کے سردار ”حضرت جبریل ﷤“جن کو روح القدس کہا جاتا ہے ،وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں، چنانچہ اللہ پاک کا اِرشاد ہے:
﴿تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ﴾اُس میں فرشتے اور رُوح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہرکام کیلئے اُترتے ہیں ۔(آسان ترجمہ قرآن)
روح سے کیا مراد ہے ؟اس بارے میں مفسرین کے کئی اقوال ہیں، راجح یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کے سردار حضرت جبریلِ امین ﷤ہیں، جیساکہ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا﷫نے امام رازی﷫کے حوالے سے اس کو فضائلِ رمضان میں ذکر کیا ہے ۔ (فضائلِ رمضان : 37)
حضرت سیدناابوہریرہ ﷜سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺاِرشاد فرماتے ہیں :
”إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى“