ہر دن، عید کا

مولانا عبید اللہ خالد

عید مبارک ہو!
عید کے نام کے ساتھ ہی ذہنوں میں ایک خوشی کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور دل میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔ یہ عید کی خوشی کھانے پینے اور نیا کپڑا لتا پہننے کی خوشی نہیں، بلکہ کچھ اور ہے، جسے اللہ نے خاص با عمل مسلمانوں کے ساتھ مختص کردیا ہے۔ اور وہ ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خوشی۔

جب ایک ماہ کے روزوں میں مومن بندہ اللہ کے حکم کے مطابق سارا دن انہی چیزوں کو کھانے پینے اور برتنے سے گریز کرتا ہے جو رمضان کے چاند سے چند ماہ پہلے تک استعمال کررہا تھا، اور اب رمضان ن کے ختم ہوتے ہی دوبارہ اسے اللہ کی طرف سے یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ دن بھر ان جائز اشیا کااستعمال کرسکتاہے تو اول تو اسے یہ مسرت ہوتی ہے اور اس سے بڑھ کر خوشی یہ ہوتی ہے کہ ایک ماہ کی پابندی جو اس نے خالصةً اللہ کی رضا کے لیے اختیار کی ہوئی تھی، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے خوش ہوکر اس کی توبہ قبول کرلی۔ اللہ اپنے بندے کے اس عمل سے راضی ہوگیا۔

پھر، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ قبولیت اسے نہ صرف ایک روحانی مسرت عطا کرتی ہے بلکہ زندگی کے تمام تر شعبوں میں اسے اس کے فوائد و فیوض محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اس بنا پر اس کی یہ خوشی دو چند ہوتی چلی جاتی ہے۔ اللہ والوں کا کہنا ہے کہ جب مومن بندہ اللہ کے لیے ماہ رمضان میں اپنی زندگی کو صبر اور قربانی پر لگاتا ہے اور عید کے دن اسے جو خوشی نصیب ہوتی ہے وہ ان لوگوں کے حصے میں آتی ہی نہیں جنھوں نے رمضان کے روز وشب کو عام دنوں کی طرح گزارا ہوتا ہے۔ عید، نئے کپڑے پہن لینے اور قسم قسم کے کھانے تناول کرلینے کا نام تھوڑا ہی ہے۔ عید تو اللہ کی رضا کی روحانی خوشی کی کیفیت کا نام ہے، اور یہ کیفیت ہر اُس شخص کے لیے ہر وقت رہ سکتی ہے جو اللہ کی رضا کے لیے اپنے دن اور رات کو رمضان سے پہلے اور رمضان کے بعد بھی رمضان کے رنگ پرلے آئے۔

چناں چہ مسلمان کی حیثیت سے ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ رمضان تو چلاگیا مگر زندگی سے اسلام نہیں جانا چاہیے۔ جیسا کہ عام طور پر یہ غلطی مسلمانوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ رمضان کے روز و شب میں فرائض تو کیا نوافل اور مستحبات کا بھی بڑا اہتمام کرتے ہیں لیکن رمضان کے بعد فرض عبادت بھی مشکل سے اداکرپاتے ہیں، اس رویے کا خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت، رمضان کا مہینہ ایک طرح سے تربیت کا زمانہ ہوتا ہے جو ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ جیسے ہم نے اس مہینے میں اللہ کی رضا کے لیے اپنے اوپر کئی پابندیاں عائد کیں اور زندگی کی ترتیب بدل ڈالی، اب عید کے دن اور عید کے بعد اگلے رمضان تک اسی طرح اپنے اوپر اللہ کی عائد کی ہوئی پابندیوں اور اللہ کی بتائی ہوئی زندگی کی ترتیب کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے۔

عید کا دن اس عزم کا دن ہے۔ عید کا دن اس فیصلے کا دن ہے کہ ہمیں اپنے آج کے دن سے لے کر اگلے پورے سال کو رمضان کے خطوط پر ترتیب دینا ہے۔ یقین جانئے، جس لمحے آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں، اسی لمحے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو وہ خوشی اور فرحت ملنا شروع ہوجاتی ہے، جس کے لیے ہر انسان آرزو کرتا ہے۔

اگر آپ سال کا ہر دن، عید کا دن بنانا چاہتے ہیں تو اپنے آنے والے ہر دن کو رمضان کی روح اور مقصد کے مطابق گزاریے۔