کرکٹ ٹیم کی آڑ میں شعائر اسلام پر حملہ !
کرکٹ ٹیم کی آڑ میں شعائر اسلام پر حملہ!


الحمدللہ کفٰی و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی:
دیکھا جائے تو متحدہ ہندوستان کی تقسیم کا بنیادی مقصد اور غرض ہی یہ تھی کہ مسلمان آزادانہ طور پر اپنے دین و مذہب پر عمل کرسکیں‘ اور انگریزی جبر و تشدد کی جگہ خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ ہو ‘ مگر افسوس! کہ تقسیم ملک کے بعد․․․․چند مخلصین سے ہٹ کر․․․․ پاکستان کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھ میں آئی‘ جو گورے انگریزوں سے زیادہ خطرناک تھے‘ ان کا ظاہر جس طرح کالا تھا‘ ان کا باطن کہیں اس سے زیادہ تاریک اور سیاہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کی لاشوں کو بام اقتدار تک پہنچنے کے لئے سیڑھی تو بنایا مگر ان کی قربانیوں سے وفا نہ کی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کا پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی تھا تو اس کا وزیر قانون منڈل نامی ہندو تھا۔ اسی طرح اس کی بیورو کریسی میں عیسائیوں کے علاوہ لا تعداد بے دین و ملحد موجود رہے‘ یہ ان ہی کی ”برکتیں“ تھیں کہ پاکستان میں ا سلام تو نہ آسکا‘ البتہ الحاد و زندقہ اور کفر و ارتداد خوب خوب پروان چڑھے‘ قادیانیت نے پاکستان اور بیرون پاکستان خوب پَرپُرزے نکالے‘ دنیا بھر کے پاکستانی سفارت خانوں میں کھلے عام قادیانیت کی سرپرستی کی گئی اور بیرونی دنیا میں پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ کے طور پر متعارف کرایا گیا‘ جبکہ اندرونی طور پر بھی قادیانیوں نے پاکستان پر حکومت و اقتدار کے خواب دیکھنا شروع کردیئے۔ اس کے برعکس ایسے لوگوں کی راہ روکنے والے مسلمانوں اور علماء کو جی بھر کر مطعون کیا گیا‘ ان کو گالیاں دی گئیں‘ انہیں ملک دشمن‘ کٹھ مُلَّا‘ تاریک خیال‘ قل اعوذیئے‘ جاہل‘ اجڈ‘ دہشت گرد ‘ تنگ نظر اور ترقی کے مخالف کہا گیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفراللہ قادیانی کی وزارت خارجہ کے دور میں قادیانی پوری دنیا میں بحیثیت مسلمان متعارف ہوئے اور بیرون ملک صرف انہی کو مسلمان اور مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیا گیا‘ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ بیگم بھوپال کی جانب سے ووکنگ‘ لندن میں بنائی جانے والی ووکنگ مسجد قادیانیوں کے سپرد کی گئی‘ اسی طرح آسٹریلیا میں پاکستانی سفارت خانہ کے اخراجات پر تعمیر کی جانے والی مسجد آج تک قادیانیوں کے قبضہ میں ہے‘ جبکہ افریقہ کے دور دراز اور غریب و نادار ممالک میں پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ اور قادیانیوں کو حقیقی مسلمان باور کرایا گیا‘ جس کا انکشاف جزیرہ مالی میں تیس ہزار سے زائد مسلمانوں کے قادیانیت قبول کرنے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کی رسائی کے بعد ان کے دوبارہ مسلمان ہونے اور قادیانیت پر دو حرف بھیجنے پر ہوا‘ بلاشبہ اب اگرچہ قادیانیت کا زور ٹوٹ چکا ہے ‘مگر ظفراللہ قادیانی کی جانب سے بچھائے گئے کانٹے آج بھی مسلمانوں کے جسموں اور دلوں کو زخمی کررہے ہیں‘ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ ہمارے ارباب اقتدار‘ دانستہ یا نادانستہ طور پر آج تک قادیانی استعمار کی ٹھیک اسی طرح سرپرستی فرماتے آئے ہیں‘ جس طرح انگریز بہادر ان کی سرپرستی و آبیاری کرتا رہا۔ دوسری طرف قادیانیوں کا یہ حال ہے کہ وہ کہیں بھی ہوں‘ انہیں اسلام‘ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں سے ٹھیک اسی طرح دشمنی ہے‘ جس طرح ان کے باوا مرزا غلام احمد قادیانی کو تھی۔ چنانچہ وہ اپنی سیٹ‘ عہدہ اور منصب کو استعمال کرتے ہوئے اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے‘ وہ موقع کی مناسبت سے اپنا زہر اگلتے رہتے ہیں‘ اگرچہ وہ کھل کر اپنے آپ کو قادیانی نہیں کہتے اور نہ ہی کھلے عام وہ اسلام اور ارکانِ اسلام کو نشانہ بناتے ہیں‘ مگر وہ افراد و اشخاص اور حالات و واقعات کو آڑ بناکر اسلام اور ارکانِ اسلام پر سنگ باری کرتے رہتے ہیں۔ …………………………
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ گزشتہ دنوں پاکستانی کرکٹ ٹیم‘ یک روزہ عالمی کرکٹ مقابلہ میں ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ سے نہ صرف ہار گئی‘ بلکہ بدترین شکست سے دوچار ہوئی‘ تو اس کی شکست کے اسباب و علل معلوم کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے حسب معمول ایک تحقیقی کمیٹی قائم فرمادی‘ جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ پاکستانی ٹیم کی شکست کی وجوہات کا کھوج لگائے۔ چنانچہ پاکستانی ٹیم کے میڈیا منیجر پرویز جمیل میر نے‘ جو پی جے میر کے نام سے مشہور ہیں ‘اس تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پاکستانی ٹیم کی شکست کی وجوہات بیان کرتے ہوئے جو کچھ ارشاد فرمایا‘ وہ حسب ذیل ہے:
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر پرویز جمیل میر نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑیوں کا مذہب سے بہت زیادہ لگاؤ اور تبلیغی رجحان کی وجہ سے ورلڈ کپ میں کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ عالمی مقابلے میں ٹیم کی ناکامی پر تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے روبرو جمعہ کو انہوں نے اپنا بیان قلمبند کرایا۔ کمیٹی کے ذرائع کے مطابق پرویز میر نے کہا کہ وہ نماز یا دین اسلام کے خلاف نہیں مگر ہمیں مذہب یا نماز کو اپنے پروفیشن پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے لئے وقت مقرر ہے مگر کام کے دوران ہر وقت تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے بعض کھلاڑی کھیل سے تبلیغ کو اہمیت دیتے تھے جس کی وجہ سے ان کی کرکٹ پر سے توجہ ہٹ گئی اور ان کا ذہن بٹ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی جہاز میں دوران سفر بزنس کلاس میں اذان اور نماز ادا کرکے ہم دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔“ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی‘ ۷/اپریل ۲۰۰۷ء)
پی جے میر صاحب کو اس عہدہ پر براجمان ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا‘ جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق ان کا تقرر بھی کسی کی ”نظر کرم“ کا مرہون منت ہے‘ کہا جاتا ہے کہ موصوف‘ پاکستانی ٹیم سے ”شدت پسندی ختم کرنے“ پر مأمور ڈاکٹر نسیم اشرف کے دوست ہیں‘ اور انہیں کی ”برکت“ سے ہی وہ اس منصب پر مأمور ہوئے ہیں‘ اس پر مستزاد یہ کہ بدقسمتی سے وہ ہیں بھی قادیانی‘ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں میں سے ہیں‘ اس لئے انہیں اسلام اور مسلمانوں سے ایک خاص قسم کی تکلیف اور پرخاش ہے اور اسلامی تعلیمات سے سرشار کھلاڑیوں سے انہیں فطری بغض‘ عداوت اور چڑ ہے۔ بہرحال پی جے میر کے اس تکنیکی اور فنی بیان اور کھلاڑیوں کی نماز و تبلیغ اور شعائر اسلام سے وابستگی کو ہدف تنقید بنانے پر مسلمانوں کا اضطراب ایک فطری امر تھا‘ لہٰذا ان کی اس دریدہ دہنی پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے اپنے غم و غصہ کا ظہار کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے‘ جن میں سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق‘ سابق کرکٹر سرفراز نواز‘ شفقت رانا‘ کامران اکمل اور سلیکشن کمیٹی کے ممبر احتشام الدین وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ صرف یہی نہیں‘ بلکہ پوری قوم نے ان کی اس بیمار ذہنیت اور دین و مذہب کے خلاف بغاوت‘ سے بھرپور نفرت کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے پی جے میر کی زہر افشانی کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
” کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں ہم خراب کھیل کر ہارے ہیں۔ نماز یا تبلیغ کو شکست کا جواز بنانا درست نہیں ہے۔… ہفتے کو لاہور سے ٹیلیفون پر جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ ہر مسلمان کو پنج گانہ نماز ادا کرنی چاہئے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ویسٹ انڈیز میں پاکستانی کھلاڑی کسی غیرضروری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے‘ اس لئے نماز یا تبلیغ کو ایشو نہیں بنانا چاہئے۔ پاکستانی ٹیم گزشتہ کئی سال سے ایک ساتھ نماز ادا کررہی ہے۔ ایک خراب سیریز کو شکست کا جواز قرار دینا درست نہیں ہے۔ انضمام الحق نے میڈیا منیجر پی جے میر کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے ورلڈ کپ میں ٹیم کی شکست کا بنیادی سبب کھلاڑیوں کی کھیل سے زیادہ مذہب پر توجہ کو قرار دیا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ پی جے میر کا یہ بیان انتہائی تکلیف دہ ہے‘ کیونکہ کوئی بھی مسلمان اس طرح کی بات نہیں کہہ سکتا۔ یہ منفی سوچ اور تنقید ہے۔ کھلاڑیوں کی نمازوں کو شکست کی وجہ قرار دینے کا مقصد معاملے کو دوسرے رخ پر ڈالنا اور کچھ لوگوں کی طرف سے توجہ ہٹانا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کی نمازوں سے ٹیم کی کارکردگی کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس سے میچ یہاں تک کہ ٹیم کا ٹریننگ پروگرام متاثر ہوا ہے۔ انضمام الحق نے کہا کہ مذہب کو کرکٹ سے جوڑ کر کچھ لوگ غلط فہمیاں پیدا کررہے ہیں۔“ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی‘ ۸/اپریل ۲۰۰۷ء)
سلیکشن کمیٹی کے ممبر جناب احتشام الدین نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کو دین و مذہب اور نمازوں سے جوڑنے کی نفی کرتے ہوئے کہا: ”ورلڈ کپ میں شکست کی ذمہ داری کسی ایک پر ڈالنا زیادتی ہوگی‘ اس کے ذمہ دار کپتان‘ کوچ‘ سلیکشن کمیٹی‘ کرکٹ بورڈ سب ہیں۔… انہوں نے ٹیم میں مذہبی رجحانات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ویسٹ انڈیز میں ٹیم کے ساتھ نہیں تھا‘ لہٰذا کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا‘ تاہم دورہ جنوبی افریقہ میں کھلاڑی اس حوالے سے صرف میٹنگ روم تک محدود رہتے تھے اور میں نے انہیں باہر کہیں تبلیغ کرتے نہیں دیکھا۔ تاہم نماز پڑھنا کوئی بُری بات نہیں‘ بحیثیت مسلمان یہ ہم سب کو پڑھنا چاہئے۔‘(روزنامہ ”نوائے وقت“ کراچی۸/اپریل ۲۰۰۷ء) سابق کرکٹر سرفراز نواز نے پی جے میر کی ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
”انہوں نے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے میڈیا منیجر پرویز میر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان سے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر بورڈ نے نماز کے بارے میں بیان پر پی جے میر کے خلاف کارروائی نہ کی تو وہ از خود اسلامی قوانین کے مطابق ان کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔“ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی ۹/اپریل ۲۰۰۷ء)
قومی کرکٹ ٹیم کے ممبر کامران اکمل نے اس موقع پر قومی ٹیم کی شکست کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ:
”کراچی (اسپورٹس رپورٹر) قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے کہا ہے کہ نماز فرض ہے‘ ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے‘ ورلڈ کپ میں شکست کی وجہ ٹیم کی خراب کارکردگی ہے۔“ (روزنامہ ”امت“ کراچی‘ ۱۰/اپریل ۲۰۰۷ء)
سابق کرکٹر جناب شفقت رانا نے پی جے میر جیسے اسلام دشمن کو ماضی اور حال کی ٹیموں کے کردار کے موازنہ کی روشنی میں آئینہ دکھاتے ہوئے کہا:
”شفقت رانا نے کہا کہ پہلے جب ٹیم ہارتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ لڑکے رات کے تین بجے تک ڈانس کررہے تھے اور پھر کھلاڑیوں کی لڑکیوں کے ساتھ تصویریں آجاتی تھیں‘ لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ دینی عبادت کے باعث میچ ہارے ہیں‘ تو ایسی کوئی بات نہیں‘ نماز فرض ہے‘ وہ ہم نہیں چھوڑیں گے۔“ (روزنامہ ”امت“ کراچی‘ ۱۰/اپریل ۲۰۰۷ء)
پی جے میر صاحب! اگر قادیانی ہیں‘ جیسا کہ ان کے انداز و بیان اور اطوار و افکار سے اندازہ ہوتا ہے‘ تو قارئین بینات اور مسلمانوں کو‘ اس پر حیران و پریشان نہیں ہونا چاہئے‘ کیونکہ ہمارا تجربہ ہے کہ جہاں کہیں کوئی بااختیار قادیانی افسر ہو‘ وہ اپنے ماتحتوں کو دین و مذہب اور نماز و روزہ سے روکنے کے لئے براہ راست کچھ کہنے کے بجائے ایسے ہی حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیا کرتا ہے۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو دوران ڈیوٹی نماز پڑھنے پر یہی کہہ کر باز رکھنے کی کوشش کیا کرتا ہے کہ: ”پہلے حقوق العباد اور بعد میں حقوق اللہ‘ اس لئے جو لوگ ڈیوٹی پوری ادا کرتے ہیں وہ سب سے بڑے عبادت گزار ہیں۔“ غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ان کے باوا مرزا غلام احمد قادیانی بھی دین و مذہب‘ ایمان و عقائد اور اعمال و عبادات کو خیر باد کہہ کر اپنے آقا و مولا انگریز بہادر کی رضا کو مقدم جانتے تھے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ کھیل کود تو کجا؟ نماز تو عین معرکہ حق و باطل اور میدانِ جہاد میں بھی معاف نہیں‘ چنانچہ اگر دشمن سر پر ہو‘ اس وقت بھی مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی کا حکم ہے‘ صرف یہی نہیں‘ بلکہ عین میدانِ جہاد میں اگر نماز کا وقت آجائے اور تمام مسلمان فوجی ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیں‘ تو شریعتِ مطہرہ نے اس کی بھی اجازت دی ہے‘ اور قرآن و حدیث میں صلوٰةِ خوف کے عنوان سے اس کے احکام بھی مذکور ہیں‘ چنانچہ اس سلسلہ میں ارشاد الٰہی ہے:
”واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوٰة فلتقم طائفة منہم معک ولیأخذوا اسلحتہم فاذا سجدوا فلیکونو من و رائکم ولتأت طائفة اخرٰی لم یصلوا فلیصلوا معک و لیأخذوا حذرہم و اسلحتہم ود الذین کفروا لو تغفلون عن اسلحتکم و امتعتکم فیمیلون علیکم میلة واحدة ․․․’ٴٴ (سورئہ نساء: ۱۰۲ )
ترجمہ:… ”اور جب تو ان میں موجود ہو‘ پھر نماز میں کھڑا کرے‘ تو چاہئے ایک جماعت ان کی کھڑی ہو تیرے ساتھ‘ اور ساتھ لے لیویں اپنے ہتھیار‘ پھر جب یہ سجدہ کریں‘ تو ہٹ جاویں تیرے پاس سے‘ اور آوے دوسری جماعت‘ جس نے نماز نہیں پڑھی‘ وہ نماز پڑھیں تیرے ساتھ‘ اور ساتھ لیویں اپنا بچاؤ اور ہتھیار‘ کافر چاہتے ہیں کسی طرح تم بے خبر ہو اپنے ہتھیاروں سے اور اسباب سے‘ تاکہ تم پر حملہ کریں یکبارگی۔“ (ترجمہ حضرت شیخ الہند)
اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی صلوٰةِ خوف کا طریقہ منقول ہے:
”عن سالم بن عبداللّٰہ بن عمر عن ابیہ قال غزوت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قبل نجد فوازینا العدو فصا ففنالہم فقام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصلی لنا فقامت طائفة معہ و اقبلت طائفة علی العدو ورکع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بمن معہ وسجد سجدتین ثم انصرفوا مکان طائفة التی لم تصل فجاؤا فرکع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بہم رکعة و سجد سجدتین ثم سلم فقام کل واحد منہم فرکع لنفسہ رکعة وسجد سجدتین‘ و روٰی نافع نحوہ‘ و زاد: فان کان خوف ہو اشد من ذلک صلوا رجالا قیاماً علی اقدامہم او رکباناً مستقبلی القبلة او غیر مستقبلیہا‘ قال نافع: لا اری ابن عمر ذکر ذلک الا عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ رواہ البخاری۔“ (مشکوٰة المصابیح ج:۱ ص:۱۲۴‘ بخاری ج:۱‘ ص:۱۲۸‘ بخاری ج:۲ ص:۶۵۰)
ترجمہ:… ”حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم (ایک مرتبہ) سرتاج دو عالم اکے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لئے گئے‘ (جب) ہم‘ دشمنوں کے سامنے ہوئے‘ تو ہم نے ان (سے مقابل) ہونے کے لئے صفیں باندھ لیں‘ آنحضرت اہمیں نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے‘ تو ایک جماعت آپ کے ساتھ (نماز کے لئے) کھڑی ہوئی‘ اور دوسری جماعت دشمن کے مدمقابل کھڑی رہی‘ آنحضرت انے ان لوگوں کے ساتھ‘ جو آپ اکے ہمراہ (نماز کی جماعت میں) شریک تھے‘ ایک رکوع کیا اور دو سجدے کئے‘ پھر وہ لوگ (جو آپ اکے ہمراہ نماز میں تھے)‘ ان لوگوں کی جگہ چلے گئے‘ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی (اور دشمن کے مدمقابل کھڑے تھے)‘ جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی تھی‘ وہ آئے (اور آنحضرت اکے ہمراہ نماز میں شریک ہوگئے)‘ چنانچہ آنحضرت انے ان لوگوں کے ہمراہ ایک رکوع اور دو سجدے کئے‘ پھر سلام پھیرا‘ اور یہ لوگ کھڑے ہوگئے‘ اور ہر ایک نے اپنا‘ اپنا ایک‘ ایک رکوع اور دو‘ دو سجدے کرلئے۔“
حضرت نافع  نے بھی اسی طرح روایت بیان کی ہے‘ مگر انہوں نے اتنا اور زیادہ بیان کیا ہے کہ:
”اگر (عین جنگ کی حالت ہو اور) خوف اس سے بھی زیادہ ہو (کہ مذکورہ بالا طریقہ سے نماز پڑھنا ممکن نہ ہو)‘ تو لوگ پیادہ کھڑے کھڑے یا (پیادہ نہ ہوسکیں تو) سواری پر (اگر ممکن ہو تو) قبلہ کی طرف (اور اگر ممکن نہ ہو تو) کسی بھی طرف رخ کرکے نماز پڑھ لیں۔“ حضرت نافع کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت ابن عمر نے یہ الفاظ آنحضرت اسے ہی نقل کئے ہوں گے۔“
جناب پی جے میر صاحب اور ان کے ہم نوا‘ ہی ارشاد فرمائیں کہ اگر عین میدانِ جہاد میں نماز اور وہ بھی باجماعت‘ دشمن کے مقابلہ میں شکست کا سبب نہیں بن سکتی‘ تو کرکٹ کے لئے نماز‘ وجہ شکست کیوں قرار پائے گی؟ اگر عین میدانِ جہاد میں مسلمانوں کو باجماعت نماز کی ادائیگی سے نہیں روکا جاسکتا‘ تو کرکٹ ایسے لہو و لعب اور خالص عیسائی کھیل کے لئے مسلمانوں کو نماز سے کیوں روکا جاسکتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے‘ تو اس پر مسلمان کھلاڑیوں کو کیونکر مطعون قرار دیا جاسکتا ہے؟ پھر یہ بات بھی غور طلب ہے کہ کھلاڑیوں نے عین اس وقت جب مخالف ٹیم بیٹنگ یا بولنگ کررہی تھی‘ نماز کی نیت نہیں باندھی تھی‘ یا مخالف ٹیم جب اپنے ”ہنر“ کا مظاہرہ کررہی تھی‘ اس وقت انہوں نے اس کا جواب وعظ و تبلیغ سے نہیں دیا تھا‘ تو ان کی شکست کا ذمہ دار تبلیغ و نماز کو کیوں قرار دیا جائے؟ مسلمان کھلاڑیوں کی دین و شریعت سے وابستگی اور نماز و تبلیغ ایسے خالص ذاتی عمل کو ہدف تنقید بنانے والے ارشاد فرماویں کہ کرپٹ کھلاڑیوں کی رات‘ رات بھر کلبوں میں آوارگی کو بھی کبھی شکست کا سبب قرار دیا گیا؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں‘ تو مسلمان کھلاڑیوں کی دین داری اور فرائض کی ادائیگی پر حرف گیری کی کیونکر اجازت دی جاسکتی ہے؟ کیا قومی کرکٹ ٹیم کو زندگی میں پہلی بار شکست ہوئی ہے؟ اگر نہیں‘ تو کیا اس کے اسباب و علل بھی تلاش کئے گئے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں‘ تو آج پی جے میر صاحب کس منہ سے مسلمان اور دین دوست کھلاڑیوں کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ اس کے علاوہ اِن ہی د ین دار اور مسلمان کھلاڑیوں نے اس سے قبل فتح و کامرانی کے عالمی ریکارڈ قائم کئے ہیں‘ کیا اس فتح و کامرانی کو کبھی ان کی اسلام دوستی کی برکت قرار دیا گیا؟ یوسف یوحنا‘ جو اسلام کی برکت سے اب محمد یوسف بن چکے ہیں… جنہیں دنیا ”رن بنانے کی مشین“ کے نام سے یاد کرتی ہے… ان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ: اسلام اور نماز کی برکت سے میرے کھیل میں نکھار آگیا ہے۔ پی جے میر‘ اس کے آقاؤں اور سرپرستوں نے کبھی اس کا اعتراف بھی کیا؟ کیا کبھی انہوں نے اس نوجوان کے اسلامی جذبات کی تحسین بھی کی؟ پی جے میر صاحب! کھیل ہی نہیں‘ انسانی زندگی کے ہر کام میں نفع و نقصان اور ہار جیت کا احتمال رہتا ہے‘ پھر کون سا انصاف ہے کہ مسلمان کھلاڑیوں کی فتح و کامرانی اور جیت کو تو اپنے کھاتے میں ڈال لیا جائے؟ اور ان کی ناکامی و شکست کو ان کی دینی اور مذہبی وابستگی کے ساتھ نتھی کرکے ان پر ہدف و تنقید کے نشتر برسائے جائیں؟ کیا ان ”روشن خیال“ اور ”روشن ضمیروں“ سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ کرکٹ ٹیم کی ناکامی کو دین و مذہب کے سر تھوپنا اور نماز و تبلیغ کو اس کا قصوروار ٹھہرانا انتہا پسندی اور دین و مذہب سے بیزاری نہیں؟ کیا کبھی عیسائیوں‘ یہودیوں‘ ہندوؤں اور بدھسٹوں نے بھی اپنی ٹیم کی ناکامی کو ان کے دین و دھرم اور مذہب سے لگاؤ کے کھاتے میں ڈالا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں‘ تو یہ انتہا پسندی‘ مسلمان ملک کے مسلمان کھلاڑیوں کے خلاف کیوں روا رکھی گئی؟ کیا ہم کسی اسلامی ملک کے باسی نہیں؟ کیا ہمارا کوئی اسلامی تشخص نہیں؟ کیا مسلمانوں کو اپنے دین و مذہب اور اسلامی فرائض کی ادائیگی کی اجازت نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے‘ تو اس پر ہرزہ سرائی کا کیا معنی؟ حیرت ہے! کہ اگر یہی ”مذہبی جنونی“ کھلاڑی کرکٹ کے میدان میں عالمی ریکارڈ قائم کریں‘ تو ان کی کامیابی و کامرانی اور فتح مندی کو دین و مذہب کی برکات اور نماز و تبلیغ کی مرہون منت نہیں سمجھا جاتا‘ لیکن اگر کبھی سوئے اتفاق سے وہ شکست و ناکامی سے دوچار ہوجائیں‘ تو اس کا سارا ملبہ نماز و تبلیغ اور دین و ملت سے وابستگی پر گرتا ہے۔ کیا عقل و شعور اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیا دنیا جہان کا کوئی دین اور دھرم اس کو روا رکھے گا؟ کیا کوئی معمولی شعور و ادراک کا حامل انسان اس کو قبول کرسکتا ہے؟ اگر نہیں‘ تو بتلایا جائے انتہا پسندی اور اسلام دشمنی اور کس چیز کا نام ہے؟ مسلمان جس میدان میں بھی ہو‘ وہ پہلے مسلمان ہے اور بعد میں کچھ اور‘ مسلمانوں کو جائز تفریح اور مناسب کھیل کود کی اجازت ہے‘ مگر اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ وہ کھیل کود میں اپنے فرائض اور اسلامی تشخص کو بھلادے۔ لہٰذا اگر مسلمان کھلاڑی کھیل کے ساتھ ساتھ اپنے دین و مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یا وہ فرائض کی ادائیگی سے غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتے اور عین دنیائے کفر کے سامنے فرض نماز باجماعت ادا کرتے ہیں‘ تو اسلام دشمنوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے کے بجائے نام نہاد پاکستانیوں کے پیٹ میں درد کیوں اٹھتا ہے؟ آج سے چند ماہ پیشتر شوال ۱۴۲۷ھ کے بینات میں ہم نے ”کرکٹ ٹیم سے مذہبی شدت پسندی کا خاتمہ“ کے عنوان سے لکھا تھا کہ اسلام دشمنوں کو قطعاً برداشت نہیں کہ مسلمان کھلاڑی اپنے دین و مذہب سے وابستہ رہیں‘ اس لئے جب سے مسلمان کھلاڑیوں نے شراب و کباب کو چھوڑ کر اپنے دین و مذہب سے لولگائی ہے‘ اس وقت سے وہ اسلام دشمنوں کی نظر وں سے گر گئے ہیں۔ لہٰذا پی جے میر جیسے بزرچ مہر‘ اپنے ولیانِ نعمت کی بولی بول کر ایسے مسلمان کھلاڑیوں سے گویا جان چھڑانا چاہتے ہیں‘ اور آئندہ اس میدان میں آنے والے کھلاڑیوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس میدان میں آنا ہو تو دین و مذہب‘ اسلامی فرائض و آداب‘ شکل و شباہت اور سیرت و کردار کو خیر باد کہنا ہوگا۔ ہم اربابِ بست و کشاد اور پاکستانی عوام سے گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ پی جے میر جیسے دین و مذہب اور اسلام دشمن افراد کا محاسبہ کریں اور ایسے لوگوں کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہ دیں‘ آخر اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ایک اسلامی ملک کی مسلمان ٹیم کے خلاف لب کشائی کرے؟ اور دین و مذہب کو ٹیم کی شکست کا سبب قرار دے؟ پی جے میر صاحب کو نوید ہو! کہ ان کی محنت و کوشش رائیگاں نہیں گئی‘ بلکہ ان کی فکر و سوچ نے بیوروکریسی میں اپنی جگہ بنالی ہے‘ چنانچہ ”دی نیوز۱۵اپریل“کی خبر ہے کہ لاہور کے چڑیا گھر کے ”مذہبی جنونی“ چوکیدار پر چھیاسٹھ ہزار پانچ سو روپے کا جرمانہ اس لئے کیا گیا ہے کہ وہ فرض ناشناس اور نامعقول انسان فجر کی باجماعت نماز پڑھنے چلا گیا اور اس کی عدم موجودگی میں آوارہ کتوں نے موروں کے پنجرے میں ”نقب“لگا کر ۲۸ قیمتی مور ہلاک کردیئے۔ حیرت ہے اس عقل و دانش پر اور تعجب ہے اس فیصلہ پر کہ بجائے اس کے کہ لاہور میونسپل کارپوریشن پر جرمانہ کیا جاتا‘ کہ اس نے اتنا قیمتی پرندوں کے مخدوش و بوسیدہ پنجروں کی دیکھ بھال اور مناسب حال مرمت کیوں نہیں کی؟ مگر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق غریب و نادار اور نمازی چوکیدار پر جرمانہ کردیا گیا‘ پی جے میر کی فکر و سوچ کا! کمال اور خلوص و اخلاص کی برکت ہے‘ جس نے لاہور میونسپل کارپوریشن کو اس رسوائی سے بچاکر چوکیدار کے گلے میں پھندا فٹ کردیا۔ پی جے میر صاحب کی محنت و کوشش رہی تو وہ وقت دور نہیں‘ جب ہر جرم سے بڑا جرم نماز‘ روزہ ‘حج‘ زکوٰة اور دینی تعلیم و تبلیغ ہوگا۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, ربیع الثانی۱۴۲۸ھ مئی۲۰۰۷ء, جلد 70, شمارہ