اسلام میں مرتد کی سزا

استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب زید مجدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے او رحضرت کا سایہ تادیر ہم پر قائم رکھے۔ آمین۔ (ادارہ)

جہاد کب فرض عین ہوتا ہے ؟
اگر کفار مسلمان پر حملہ آور ہوں تو ان کے خلاف جہاد فرض عین ہو جاتا ہے ۔( تفسیر کبیر، تحت آیة رقم217) اگر اس شہر کے مسلمان اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کریں یا کمزور ہوں تو اس علاقے سے متصل رہنے والے مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے، اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت کافروں کے مقابلے کے لیے کافی ہو جائے تو بقیہ مسلمانوں پر یہ جہاد فرض عین نہیں رہے گا، بلکہ فرض کفایہ ہو گا۔ البتہ ان کی نصرت وحمایت ہر صورت میں فرض عین ہو گی۔ امام زہری رحمہ الله فرماتے ہیں جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے ،خواہ وہ میدان قتال میں کافروں کے خلاف برسرپیکار ہو یا گھر میں بیٹھا آرام سے زندگی گزار رہا ہو، گھر بیٹھنے والے پر اس طرح کہ جب اسے جہاد میں تعاون کے لیے بلایا جائے تو وہ تعاون کرے جب مسلمانوں کا خلیفہ یا امیر اسے جہاد میں نکلنے کے لیے کہے تو وہ فوراً آمادہ ہو جائے، اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو گھر میں بیٹھا رہے۔ (روح المعانی، تفسیر کبیر، تحت آیة رقم217)
اس موضوع پر تفصیلی بحث چند صفحات پہلے گزر چکی ہے۔

اشہرِ حرم میں قتال
﴿یسئلونک عن الشھر الحرام﴾․(سورة توبہ:9:36) میں چار مہینوں کو ”اشہر حرم“ کہا گیا ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہاور محرم الحرام ہیں، ان مہینوں میں قتل وقتال ممنوع ہے، البتہ اگر دشمن حملہ آور ہوں تو دفاع کیا جاسکتا ہے ، زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کو محترم سمجھا جاتا تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے غزوہ بدر سے دو ماہ پیش تر جمادی الاخری2ھ میں عبدالله بن جحش رضي الله عنه کی سرکردگی میں ایک جماعت مشرکین کے مقابلے کے لیے روانہ فرمائی، جب یہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان مقام نخلہ میں پہنچے۔ وہاں مشرکین کا قافلہ بھی آپہنچا، دونوں طرف سے جھڑپ ہوئی اور مشرکین کا ایک آدمی عمرو بن امیہ ضمیری مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا، یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی29 تاریخ کی شام کو ہوا، اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آگیا، اس پر مشرکین نے واویلا مچایا کہ یہ لوگ”اشہر حرم“ میں بھی قتل وقتال سے باز نہیں آتے ۔یہ آیت اس پروپیگنڈے کے جواب میں اتری کہ عمروبن امیہ ضمیری کا قتل تو غلط فہمی میں ہوا ،لیکن مشرکین کو اس واقع پر شور شرابے کا حق نہیں پہنچتا، کیوں کہ وہ تو اس سے بڑھ کر کئی بڑے گناہوں کا ارتکاب کر چکے ہیں، لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں، جولوگ عبادت کرنے کا صحیح حق رکھتے ہیں انہیں مسجد حرام سے نکال دیتے ہیں ،الله تعالیٰ کی ذات وصفات میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں ،یہ جرم غلط فہمی میں قتل کرنے سے بڑے جرم ہیں۔

یہ آیت منسوخ ہے یا نہیں؟
جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ اشہر حرم میں ممانعت قتال کا حکم ”فَاقْتُلوُا المُشِرْکِیْنَ“ سے منسوخ ہو چکا ہے۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اور علامہ فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں حرمت والے مہینوں میں قتال کے جواز پر امّت کا اجماع نقل کیا ہے ۔ (روح المعانی، تفسیر کبیر، تحت آیة رقم217) اب ان مہینوں میں اقدامی جہاد کرنا بھی جائز ہے اور دفاعی جہاد میں تو کوئی اختلاف نہیں، خود آپ صلی الله علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر ذوالقعدہ کے حرمت والے مہینے میں صحابہ کرام سے جہاد او رموت پر بیعت لی تھی۔(روح المعانی، تفسیر کبیر، تحت آیة رقم217) صرف ایک تابعی حضرت عطارحمہ الله ”اشہر حرم“ میں اقدامی جہاددرست نہیں سمجھتے تھے، لیکن امت نے ان کے قول کو قبول نہیں کیا۔(روح المعانی، تفسیر کبیر، تحت آیة رقم217)

کفار مسلمانوں سے ہمیشہ قتال کرتے رہیں گے
﴿وَلاَ یَزَالُونَ یُقَاتِلُونَکُمْ…﴾مسلمانوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ کفار کی شاطرانہ چالوں میں نہ آئیں، عمروبن امیہ ضمیری کا معزز مہینے میں قتل ہو جانا تو ایک بہانہ ہے، جو ان کے ہاتھ لگ گیا ہے ، اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تب بھی یہ آپ کے خلاف قتال کرتے، بلکہ یہ دین دشمنی میں اس قدر پختہ ہیں کہ تم سے ہمیشہ برسرپیکار رہیں گے، الله تعالیٰ نے کفار کی مزاحمتی نفسیات سے پردہ اٹھا کر اہل ایمان کو ہمیشہ کے لیے متنبہّ فرما دیا ہے۔ نیز اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار کی مستقل مزاحمت کی وجہ سے قتال فی سبیل الله کا مبارک عمل بھی ہمیشہ جاری رہے گا، ملحدین کی سازشیں اور متجددین کی تاویلیں اس فطری عمل میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔

﴿حتّٰی یَرُدُّ وکُمْ﴾ ان کا بس چلے تو تمہیں مرتد بنا ڈالیں، کفار ہمیشہ پر فریب نعروں کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ آج کل آزادی رائے ، شخصی آزادی ، انسانی حقوق، نسوانی حقوق، جمہوری حقوق کی آڑ میں ارتداد کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمہ الله فرماتے ہیں اگر کفار، رواداری کے طور پر مسلمانوں کے ساتھ کچھ چیزوں میں موافقت بھی کرنے لگیں تو مسلمان اسے اہمیت نہ دیں اوران کی دشمنی سے غفلت مت برتیں۔

ارتداد کسے کہتے ہیں؟
﴿حَتَّیَ یَرُدُّوکُمْ عَن دِیْنِکُم﴾لغت میں ارتداد رجوع کرنے کا نام ہے، اصطلاح شریعت میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی مکمل شریعت کی تصدیق کرنے کے بعداس سے رجوع کرنے کا نام ارتداد ہے،ارتدادپورے اسلام سے پھرنے کا نام نہیں، بلکہ اسلام کے کسی ایسے حکم کے انکار سے بھی ارتداد لازم ہو جاتا ہے جو قطعی الثبوت اور ضروریات دین میں سے ہو۔(الدرالمختار، 4/221)

مرتد کی سزا
اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے، جو احادیث صحیحہ، تعامل صحابہ رضي الله عنهم اوراجماع امت سے ثابت ہے ۔

مرتد کی سزا حدیث کی روشنی میں
صحیح بخار ی میں حضرت عبدالله بن عبّاس رضی الله عنہما کی روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جو (مسلمان)) اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو۔“ ( صحیح البخاری، کتاب حکم المرتد، رقم الحدیث:2794)

حضرت عبدالله بن مسعود رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ،جو یہ گواہی دیتا ہو کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں الله کا رسول ہوں ، ماسوائے تین صورتوں کے ایک یہ کہ وہ قتل (ناحق) کا مرتکب ہوا ہو۔ شادی شدہ زانی ہو۔ اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں سے الگ ہو جائے۔ ( مسند احمد بن حنبل ، مسند عبدالله بن مسعود رقم الحدیث:4024،شرح الاربعین نوویة، الحدیث الرابع عشر:1/45) فقہائے کرام نے احادیث وآثار کی روشنی میں اس کے علاوہ بھی اسباب قتل پر روشنی ڈالی ہے ، مذکورہ حدیث میں صرف تین اسباب قتل مذکور ہیں۔

مرتد کی سزا اجماع امت کی روشنی میں
ائمہ اربعہ رحمہ الله علیہم کے فقہی مسائل پر مبنی کتاب ” الفقہ علی المذاہب الأربعة“ میں ہے۔

”جو شخص اسلام سے پھر جائے، اس کا قتل واجب او راس کا خون بہانا جائز ہے، ائمہ اربعہ رحمہم الله کا اس مسئلے پر اتفاق ہے۔ (واتفق الأئمة الأربعة علیہم رحمة الله تعالیٰ علی: أن من ثبت ارتدادہ عن الاسلام، والعیاذ بالله، وجب قتلہ، وأھدر دمہ․( الفقہ علی المذاہب الاربعة:5/423، کذا فی موسوعة الاجماع:1/436)

مرتد کی سزا عقل کی رو سے
اسلام صرف مذہب نہیں، بلکہ ایک ضابطہ حیات بھی ہے، جو انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔ اس ضابطہ حیات کی تصدیق کرنے کے بعد اس کی تردید کرنابغاوت ہے ،یہ سزا جرم بغاوت کی سزا ہے، دنیا کی تمام حکومتیں او رممالک اپنے شہری کو ملکی قوانین وضوابط کا مذاق اڑانے ، انکار کرنے کی اجازت نہیں دیتے، ایسا کرنے والے شہریوں کو بعض اوقات بغاوت کے جرم میں قتل تک کر دیا جاتا ہے، لہٰذا اسلام نے مرتد کے لیے جو سزا تجویز کی ہے وہ عقلاً بھی درست ہے۔

بعض اوقات ”ارتداد“ کو مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، چناں چہ مدینہ منورہ میں یہودیوں نے آ پ صلی الله علیہ وسلم کی پھیلی ہوئی دعوت کو روکنے کے لیے یہی حربہ اختیار کیا تھا۔ چند پڑھے لکھے لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کرکے مسلمانوں کا حلیہ اختیار کر لیا، پھرکچھ عرصے کے بعد دین اسلام سے برگشتہ ہو کر دین اسلام کی اہانت کرنے لگے، اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ جب دیکھیں گے کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی دین اسلام سے منحرف ہو گئے ہیں، یقینا اس میں کچھ خرابیاں ہیں ،اس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کی تیزی سے پھیلتی ہوئی دعوت رک جائے گی اور نو مسلم مسلمان بھی شک وشبہ میں پڑ جائیں گے، لیکن الله تعالیٰ نے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کو اس منصوبے سے آگاہ فرما دیا، جس سے ان کا سارا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ ﴿وَقَالَت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَہْلِ الْکِتَابِ آمِنُواْ بِالَّذِیَ أُنزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُواْ آخِرَہُ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُون﴾․ (آل عمران:72)(ترجمہ:او رکہا بعض اہل کتاب نے مان لو جو کچھ اترا مسلمانوں پر دن چڑھے او رمنکر ہو جاؤ آخر دن میں، شاید وہ پھر جاویں۔)

آج بھی یہود ونصاری اس طرح کی سازشوں سے ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کو گم راہ کر سکتے ہیں ،مرتدپر اجرائے حد سے اسلامی معاشرہ، بے دینی کے فتنے اور سازشوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

یہودیت ونصرانیت میں دین بدلنے کی سزا
یہود کی شریعت میں ارتداد ہی نہیں، سعی ارتداد او رترغیب ارتداد کی بھی سزا قتل ہے، توریت میں ہے ۔
”اگر تیرا بھائی جو تیری ماں کابیٹا ہے یا تیراہی بیٹا ہے یا تیری بیٹی یا تیری ہم کنار جورو، یاتیرا دوست جو تجھے جان کے برابر عزیز ہے ، تجھے پوشیدہ میں پھسلائے اور کہے کہ! غیر معبودوں کی بندگی کریں، جن سے تو اور تیرے باپ داد اواقف نہیں تھے، تو اس سے موافق نہ ہونااو راس کی بات نہ سننا ،تو اس پر رحم کی نگاہ نہ رکھنا ،تو اس کی رعایت نہ کرنا ،تو اسے پوشیدہ نہ رکھنا، بلکہ اسے ضرور قتل کرنا، اس کے قتل پر پہلے تیرا ہاتھ بڑھے اور بعد اس کی قوم کا ہاتھ اور تو اسے سنگسار کرنا، تاکہ وہ مر جائے ۔“ ( استثناء 13:6۔10)

اور نصرانیوں کے ہاں بھی!
”دانستہ ارتداد ناقابل تلافی گناہ ہے، قتل اور زنا کار ی کے درجے کا۔“ (انسائیکلو پیڈیا آف ریلجن اینڈ ایتھکس جلد6، ص623)

مرتد کے اعمال صالحہ کا حکم
مرتد کے اعمال صالحہ کے متعلق علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں۔

امام شافعی رحمہ الله کے نزدیک مرتد جب تک حالتِ ارتداد میں مرنہ جائے اس کے اعمال صالحہ ضائع نہیں ہوں گے، مثلاً :کوئی شخص نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد مرتد ہو گیا۔ (نعوذ بالله) پھر اسی وقت توبہ کرے مسلمان ہوجائے تو اس کے لیے ظہر کی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے،اسی طرح اگر پہلے حج کر چکا ہے تو دوبارہ اس کا اعادہ ضروری نہیں، اگرچہ وہ صاحب وسعت ہی کیوں نہ ہو، ارتداد سے عمل صالح باطل نہیں ہوتے۔

امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما الله کے نزدیک نفسِ ارتداد سے اعمال صالحہ باطل ہو جاتے ہیں، لہٰذا مذکورہ بالاصورتوں میں اس شخص کے لیے ظہر کی نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہے، اسی طرح اگر صاحب وسعت ہو تو اس پر حج بھی دوبارہ فرض ہو گا۔ کیوں کہ الله تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہ﴾ ( اور جو منکر ہوا ایمان سے تو ضائع ہوئی محنت اس کی )

مرتد کے خصوصی احکام
1...مرتد مباح الدم ہو جاتا ہے۔
2...اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔
3...اس کا ذبیحہ حرام ہوتا ہے۔
4...اس کے معاملات بیع وشراء باطل قرار پائیں گے۔
5...کسی مسلمان کی وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ (تبیین الحقائق کتاب السیر:4/88)

﴿یَسْأَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ قُلْ فِیْہِمَا إِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَکْبَرُ مِن نَّفْعِہِمَا وَیَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کَذَلِکَ یُبیِّنُ اللّہُ لَکُمُ الآیَاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ، فِیْ الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الْیَتَامَی قُلْ إِصْلاَحٌ لَّہُمْ خَیْْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ وَاللّہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاء اللّہُ لأعْنَتَکُمْ إِنَّ اللّہَ عَزِیْزٌ حَکِیْم﴾․(سورہ بقرہ ،آیت:220-219)

تجھ سے پوچھتے ہیں حکم شراب کا او رجوئے کا، کہہ دے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو او ران کا گناہ بہت بڑا ہے ان کے فائدے سے اورتجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دے! جو بچے اپنے خرچ سے، اسی طرح بیان کرتا ہے الله تعالیٰ تمہارے واسطے حکم، تاکہ تم فکر کرودنیا وآخرت کی باتوں کی اور تجھ سے پوچھتے ہیں یتیموں کا حکم ، کہہ دے! سنوارنا ان کے کام کا بہتر ہے او راگر ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اورالله جانتا ہے خرابی کرنے والے اور سنوارنے والے کو او راگر الله چاہتا تو تم پر مشقت ڈالتا ، بے شک الله زبردست ہے، تدبیر والا

تفسیر:شراب کی حرمت
ان آیات میں صحابہ کرام رضي الله عنهم کے بعض سوالات کے جواب دیے گئے ہیں،ان میں پہلا سوال شراب اورجوّے کے متعلق تھا، اہل عرب چوں کہ صدیوں سے شراب کے عادی تھے۔ اس لیے الله تعالیٰ نے اس کی حرمت کے سلسلے میں تدریج سے کام لیا۔ پہلے سورة نحل میں لطیف اشارہ کر دیا گیا کہ نشہ آور شراب اچھی چیز نہیں، پھر سورہ بقرہ کی اسی آیت میں قدرے وضاحت سے فرمایا گیا کہ اس میں گناہ کے امکانات زیادہ ہیں اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، پھر سورہ نساء میں حکم دیا گیا کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو، بالآخر سورة مائدہ میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا۔(مائدہ:91-90)

شراب کی حقیقت
شراب کو عربی میں خمر اور انگریزی میں وائن (Wine) کہتے ہیں، اس کے پینے سے دماغ پر ایک نشہ سا چھا جاتا ہے، عموماً شراب گیہوں، انگور، کجھور، وغیرہ کو کشید کرکے تیار کی جاتی ہے ۔ قرآن واحادیث میں شراب کی حرمت کا اعلان واضح الفاظ میں کر دیا گیا ہے، لیکن ہمارے معاشر ے کے بگڑے نوجوانوں نے اس کے نت نئے نام رکھ لیے ہیں اور اس زہر کو اپنے حلق میں اتار رہے ہیں ۔ علامہ آلوسی رحمہ الله نے اپنے زمانے کے فساق وفجار کے متعلق لکھا ہے کہ ا نہوں نے شراب کے خوش نما نام رکھ لیے ہیں۔ مثلاً عرق عنبری ، مآء الاکسیر، لیکن نام بدلنے سے حکم شرعی تبدیل نہیں ہوتا ،نشہ آور چیزیں بہر صورت حرام ہیں۔ ( روح المعانی تحت آیة رقم:219)

شراب کے نقصانات
1...شراب انسان کے دینی، دنیاوی وقار کو ختم کر دیتی ہے، مال ودولت بے انتہا خرچ ہو جاتا ہے۔ معاشرے میں فساد کا دروازہ کھولتی ہے، اس لیے اسے اُمّ الخبائث، یعنی تمام برائیوں کی جڑ کہا جاتا ہے۔
2...شرابی الله تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے ۔
3...شرابی کے چہرے سے بشاشت ختم ہو جاتی ہے۔
4...شراب، جسمانی امراض کو جنم دیتی ہے۔
5...شراب پینے سے عقل جاتی رہتی ہے اور شرابی اپنی مضحکہ خیز حرکتوں کی وجہ سے لوگوں کے لیے کھلونا بن جاتا ہے ۔ حلال وحرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، الله تعالیٰ اور بندوں کے حقوق سے غافل ہو کر دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھاتا ہے۔

شراب کے استعمال پر وعیدیں
الله تعالیٰ نے اپنی عزت وجلال کی قسم دے کر فرمایا:” جو شخص شراب کا ایک چلو ہی پیے گا میں اتنے ہی مقدار میں اسے جہنمیوں کی پیپ پلاؤں گا اور جو شخص میرے خوف کی وجہ سے شراب چھوڑ دے گا میں اسے پاکیزہ حوض کا پانی پلاؤں گا۔ “ (مشکوٰة:318)

حضرت انس رضي الله عنه سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے شراب کے ضمن میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے نچوڑنے والے پر، بنانے والے پر ،پینے والے پر، پلانے والے پر، لاد کر لے جانے والے پر، جس کے لیے لے جائی جائے ، بیچنے ، خریدنے والے پر، ہدیہ دینے والے پر، اس کی آمدنی کھانے والے پر ۔ (سنن ترمذی، باب النہی ان یتخذ الخمر خلاً:1295)

حضرت موسی اشعری رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” شراب کا عادی جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ (مشکوٰة:317)

شرابی کی سزا
احناف کے نزدیک شرابی کی سزا80 کوڑے ہیں۔ (ردالمحتار:6/449) بشرطیکہ اس کا جرم پورے یقین سے ثابت ہو چکا ہو۔امام شافعی کے نزدیک40 کوڑے ہیں۔(المغنی:9/136)

جُوّے کی تعریف اور حرمت
صحابہ کرام رضي الله عنهم نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے دوسرا سوال جوّے کے متعلق کیا تھا، جس کا جواب فقط اس قدر دیا گیا کہ اس میں گناہ کے امکانات زیادہ اور فائدے کم ہیں ،پھر سورة مائدة میں اس کی حرمت کا واضح اعلان کر دیا گیا:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون﴾․ (المائدہ:90)(اے ایمان والو! یہ جو ہے شراب او رجوا اور بت اور پانسے سب گندے کام ہیں شیطان کے، سو ان سے بچتے رہو، تاکہ تم نجات پاؤ)

جوّے کو عربی میں میسر اور قمار کہتے ہیں، جوّا ہر ایسے معاملے کو کہتے ہیں جس میں عاقدین کا مال خطرے میں ہو اور فریقین میں سے کسی پر نفع ونقصان واضح نہ ہو ۔ (تعلیق الملک علی الخطر، والمال فی الجانبین احکام القرآن للجصاص، تحت آیة رقم219 البقرہ)

زمانہ جاہلیت میں عرب مال ودولت کے علاوہ اپنے بیوی بچے تک جوّے میں داؤ پر لگا دیتے تھے ،جوّے کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ دو شخص کھیل وغیرہ میں یہ بازی لگائیں کہ اگر میں جیتا تو تم ایک ہزار انعام میں دوگے اور اگر تم جیتے تو میں ایک ہزار انعام میں دوں گا ۔ موجودہ زمانے میں جوے کا کاروبار وسیع پیمانے پر او رمختلف ناموں پر زور شور سے جاری ہے ۔ اسٹاک کا کاروبار، انعامی ٹکٹیں، انشورنس اور بیمے کے ادارے، اسے رواج دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بدامنی ، فساد ، ظلم، غربت ، کا بازار گرم ہے، الله تعالیٰ نے فرمایا کہ :﴿إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَةِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُون﴾․(المائدہ:91)(شیطان تویہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر بذریعہ شراب اور جوّے کے اور روکے تم کو الله کی یاد سے او رنماز سے، سو ا بھی تم باز آؤ گے؟)اسلام اپنے معاشی نظام میں پوری انسانیت کی اجتماعی مصلحتوں کوپیش نظر رکھتا ہے اور بغیرکسی استحقاق کے کسی کو کسی کے مال پر قبضے کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا قمار اور جوّے کی جتنی صورتیں ہیں وہ سب حرام ہیں ۔ (قال صاحب روح المعانی: وفی حکم المیسر جمیع انواع القمار، روح المعانی: البقرہ تحت آیة رقم:219)

جوّے پر وعید
جوے کی قباحت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کسی شخص نے فقط زبان سے اتنا کہہ دیا کہ آؤ جوّا کھیلیں۔ (خواہ کھیلنے کا ارادہ نہ ہو) تب بھی اس نے گناہ کیا ،جس کی تلافی کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔ (جامع الترمذی، رقم الحدیث:1545)

جوّے کے مادی اور روحانی نقصانات
1...جُوے کی ساری عمارت ذاتی مفاد کی بنیاد پر قائم ہے، اس میں جیتنے والا شخص ہارنے والے کی غربت ، عزت او رکسی مجبوری کو خاطر میں نہیں لاتا ،یہ خود غرضی اور قساوت قلبی کی آخری صورت ہے۔
2...جوّا انسان کو محنت ومشقت سے رزق حلال کمانے سے روک کر پلک جھپکتے ہی مال دار بننے کے سراب دکھا کر مال دولت ، عزت وناموس کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔
3...چوں کہ جوّا خود غرضی کی ایک صورت ہے، اس لیے اس میں معمولی باتوں پر جھگڑے ، فساد ، قتل وغارت عام معمول ہے، ہارنے والا شخص تو بہر صورت منفی جذبات کا شکار ہوتا ہے ۔

نفلی صدقات میں خرچ کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟
﴿یَسْئلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْو…﴾زکوٰة فرض ہے ،اس کی شرح بھی متعین ہے ، فطرانہ واجب ہے، اس کی شرح بھی متعین ہے ،ان کے علاوہ نفلی صدقات میں کس قدر خرچ کرنا چاہیے؟ یہی سوال صحابہ کرام رضي الله عنهم نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے کیا ،جس کا جواب اس آیت کریمہ میں یہ دیاگیا کہ ”العفو“ یعنی اہل وعیال کی ضروریات پوری کرنے کے بعد جو مال بچ جائے اس میں بآسانی جس قدر خرچ کر سکتے ہو کرو ۔ دراصل بعض صحابہ کرام رضي الله عنهم صدقات کے فضائل سن کر اپنی پوری جمع پونجی راہ الہی میں لٹا دیتے تھے اور اہل وعیال محتاج ہو کر رہ جاتے ، اس آیت کریمہ نے واضح کر دیا کہ صدقہ وہی درست ہے جو اہل وعیال کی ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے۔

البتہ حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنهم توکل کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ،اس لیے ان کے سب کچھ لٹانے پر بھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا، بلکہ بخوشی قبول فرمالیا۔ (جاری)