سانحہ لال مسجد مغربی ایجنڈے کی تکمیل
سانحہ لال مسجد مغربی ایجنڈے کی تکمیل!



الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
جدھر دیکھیں اور جس طرف نگاہ اٹھائیں‘ وہاں اسلام‘ مسلمان‘ اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات‘ اپنوں اور غیروں کی تلواروں کی زد میں ہیں‘ اور دنیا جہاں کی توپوں کا رخ اسلام اور مسلمانوں کی طرف ہے۔ ہر شخص آتش نمرود کو ہوا دینے میں مصروف ہے‘ مگر اے کاش! اس کو بجھانے یا ٹھنڈا کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں‘ ایک طرف اگر اسلام دشمن قوتوں کا اسلام‘ پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اتحاد‘ اتفاق اور ایکا قابل دید ہے‘ تو دوسری طرف مسلمانوں کا اختلاف‘ افتراق اور تشتت و انتشار لائق صد ماتم ہے۔ جہاں مغرب نے اسلام دشمنی کی تحریک کو کمال مہارت سے پروان چڑھایا ہے‘ وہاں مسلمانوں نے دفاع اسلام کے اہم فریضہ اور مقصد حیات کو نہایت بے توجہی اور بے اعتنائی سے پس پشت ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ سیکولر مغرب تو اپنی اسلام دشمن روش کو نہیں چھوڑسکی‘ لیکن اس کے برعکس نام نہاد مسلم حکومتیں‘ اربابِ اقتدار اور مسلمان‘ روشن خیال کہلانے کے شوق میں‘ اپنے دین و مذہب اور ملک و ملت کے مفادات‘ اور مقدس شخصیات کی عزت و ناموس اور شعائر اسلام کے تحفظ سے یکسر دامن کش ہوگئے‘ جب تک مغرب کو اسلام‘ مسلمانوں اور ان کی مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص پر کسی شدید ردِ عمل کا اندیشہ اور خدشہ رہا‘ وہ ہلکے پھلکے انداز میں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتی اور پھر برائے نام معافی تلافی کرکے ان کے اعصاب کمزور کرتی رہی‘ لیکن اس طرح کی مسلسل کارروائیوں سے جب اسے یقین ہوگیا کہ اب مسلمانوں کے اعصاب ٹوٹ چکے ہیں‘ ان میں دفاع کی قوت نہیں رہی‘ یا کمزور پڑ گئی ہے اور وہ بھی ہماری طرح اب مذہب کو فرد کا انفرادی اور ذاتی معاملہ سمجھنے لگے ہیں‘ تو اس نے کھل کر اسلام اور شعائر اسلام کے خلاف میدان سنبھال لیا‘ اور آئے دن اسلام‘ شعائر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص کرنے میں مصروف ہوگئی۔ مسلمانوں نے جب آسانی سے اس کو برداشت کرلیا اور مغرب نے بہ حسن و خوبی یہ معرکہ سر کرلیا‘ تو اس نے دو قدم آگے بڑھ کر براہ راست مسلمان ممالک پر چڑھائی کردی‘ اپنی قوت و شوکت کی دھاک بٹھانے کے لئے فلسطین اور دنیائے عرب کے وسط میں اسرائیل کے نام سے یہودی حکومت قائم کرائی‘ الجزائر‘ کوسوو اور بوسنیا کی مسلم آبادیوں کو تہہ تیغ کیا گیا‘ لاکھوں انسانوں کو راتوں رات موت کے گھاٹ اتارا گیا‘ انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کے نام سے عیسائی اسٹیٹ قائم کی گئی‘ افغانستان پر چڑھائی کی گئی‘ وہاں کی مسلم حکومت کو تاراج کیا گیا‘ لاکھوں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا‘ اگلے مرحلہ میں عراق پر قبضہ کیا گیا‘ عراقی صدر کو پھانسی پر لٹکاکر مسلم دنیاکو حکم عدولی یا مغرب کی مخالفت پر اس جیسے بھیانک انجام سے دوچار ہونے کی دھمکی دی گئی‘ اور مزید مسلم ممالک مثلاً : ایران‘ شام اور پاکستان کو بھی اسی قسم کے انجام کے لئے تیار رہنے کے اشارے دیئے گئے‘ تب ”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق ”مسلم حکمرانوں“ نے بھی انقیاد و تسلیم کا اعلان کردیا‘ مگر افسوس کہ مغرب نے اس پر بھی قناعت نہ کی‘ بلکہ مسلمانوں کو دہشت گرد‘ تشدد پسند‘ مجرم اور انتہا پسند باور کرایا گیا اور مسلم حکمرانوں کو ایسے ”مجرموں‘ دہشت گردوں“ اور ”تشدد پسندوں“ کے خلاف گھیرا تنگ کرنے‘ ان کو مغرب اور خصوصاً امریکا کے حوالے کرنے کا حکم شاہی صادر کیا گیا‘ یوں افغانستان‘ عراق‘ عرب اور پاکستان کے ”دہشت گردوں“ سے بدنام زمانہ ‘ پل چرخی‘ قلعہ جنگی ‘ ابو غریب جیل اور گوانتاناموبے کے عقوبت خانے بھرنے لگے‘ دوسری جانب مسلمانوں کی دینی‘ مذہبی‘ جہادی اور رفاہی تنظیموں پر پابندی عائد کرائی گئی‘ مگر سیکولر مغرب کی عداوتِ اسلام کی آگ پھر بھی ٹھنڈی نہ ہوئی‘ اور وہ ”مسلمان حکمرانوں“ کے کردار سے مطمئن نہ ہوئی‘ تو اس نے توہین رسالت پر مبنی خاکے بنوائے‘ ان کو اخبارات و میڈیا پر اچھالا اور مسلمانوں کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت کا امتحان لیا‘ جب دنیا بھر کے مسلمانوں‘ خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں نے اس پر شدید احتجاج کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بے پناہ محبت و عقیدت اور جذباتی وابستگی کا ثبوت دیا تو مغرب کی آتش انتقام مزید بھڑک اٹھی اور اس نے اپنے ”نمائندوں“ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی محبت و عقیدت کے محور و مراکز پر حملے کئے جائیں‘ یوں پاکستان میں نافذ قانون توہین رسالت کو متنازعہ بنایا گیا‘ اس کے طریقہ کار میں ترمیم کی گئی‘ حدود آرڈی نینس کو منسوخ و معطل کیا گیا‘ اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی ترمیم کی منسوخی کو ایجنڈے میں شامل کرایا گیا‘ اس پر بھی مسلمانوں کی قوت دفاع کمزور نہیں ہوئی‘ تو مسلمانوں کے عبادت خانوں‘ مساجد اور مدارس کے انہدام اور بلڈوز کرنے کے احکامات صادر کرائے گئے۔ دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کے منصوبے بنوائے گئے‘ ان کے نصاب میں تبدیلی پر زور دیا گیا‘ مدرسہ بورڈ اور ماڈل مدارس کے شوشے چھڑوائے گئے‘ بلکہ دینی مدارس کو نابود یا کمزور کرنے کے لئے بالفعل ماڈل مدارس جاری کئے گئے‘ دینی مدارس کی کردار کشی کی گئی‘ دینی مدارس کو دہشت گرد باور کرانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا‘ اہل علم‘ علماء اور دینی مدارس کے طلبہ کو تشدد پسند اور دہشت گرد باور کرانے کے لئے پوری قوت صرف کی گئی‘ اور دینی مدارس و مراکز پر بمباری کی گئی‘ وزیرستان پر آپریشن کے نام پر چڑھائی کی گئی‘ اسی طرح بھولے بھالے مسلمانوں کو شریعت کے خلاف اکسایا گیا‘ اس کے ساتھ ساتھ خالص علمی و تحقیقی کام کرنے والے علماء و صلحاء کے پاک‘ پاکیزہ اور مقدس خون سے زمین رنگین کی گئی‘ ان کو خاک و خون میں تڑپایا گیا‘ چنانچہ مولانا حبیب اللہ مختار‘ مولانا مفتی عبدالسمیع‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی‘ مولانا مفتی نظام الدین شامزی‘مولانا مفتی محمد جمیل خان‘ مولانا نذیر احمد تونسوی‘ مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد‘ شیخ الحدیث مولانا عنایت اللہ‘ مولانا مفتی محمد اقبال‘ مولانا حمید الرحمن عباسی‘ مولانا اعظم طارق اور مولانا مفتی عتیق الرحمن رحمہم اللہ تعالیٰ بیسیوں علماء ‘ صلحاء کو شہید کیا گیا‘ اس کے علاوہ سانحہ نشتر پارک میں بیسیوں علماء اور عوام کو خاک و خون میں تڑپایا گیا‘ جبکہ مسلمانوں کی قوت و شوکت کو ختم کرنے اور ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی گئی‘ غرض مسلمانوں اور دین داروں کو ہر اعتبار سے مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ کہیں تسلیمہ نسرین جیسی حیا باختہ خاتون کو مسلمانوں کی مقدس شخصیات پر زبان طعن بلند کرنے کے لئے مامور کیا گیا‘ کہیں یوسف کذاب‘ کو اس کا م کے لئے نامزد کیا گیا‘ کہیں ملعون سلمان رشدی اور اس کی بدنام زمانہ ہفوات ”شیطانی آیات“ کی سرپرستی کی گئی اور کہیں اس کی گستاخیوں پر اس کو ”سر “کا خطاب دے کر مسلمانوں کے زخمی قلوب پر نمک پاشی کی گئی۔ غرض مغرب کی چیرہ دستیوں کی ایک طویل داستان اور لامتناہی سلسلہ ہے ‘سمجھ نہیں آتا کہ کس کا ذکر کیا جائے اور کس کو چھوڑا جائے؟ دیکھا جائے تو ان تمام کا مقصد صرف اور صرف یہی نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کو ذہنی‘ قلبی کوفت اور کرب و اذیت میں مبتلا کیا جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو جس قدر تکلیف اور اذیت پہنچتی ہے‘ اسلام دشمن اتنا ہی فرحت و خوشی محسوس کرتے ہیں۔
………………………………
غالباً اس سب کچھ کے باوجود بھی مغرب‘ مسلمان حکمرانوں سے صحیح معنی میں خوش اور راضی نہیں ہوئی‘ یقیناً اس کی خواہش اور چاہت ہوگی کہ کسی طرح مسلمان‘ ان کے علماء‘ ان کے دینی مراکز‘ مدارس ان میں پڑھانے والے اساتذہ‘ معلمات‘ طلبہ اور طالبات بدنام ہوجائیں اور لوگ ان سے متنفر ہوجائیں‘ ان پر سے مسلمانوں کا اعتماد اٹھ جائے اور دین‘ دینی مدارس‘ مدارس کانصاب‘ اس کے اساتذہ‘ طلبہ اور طالبات نشان نفرت بن جائیں۔ بلاشبہ شروع دن سے ہی اس کی یہی خواہش اور کوشش رہی ہے‘ مگر بحمدللہ! آج تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکی‘ لیکن جب مغرب نے دیکھا کہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور ان کو طیش دلانے کی اس کی کوئی کوشش و سعی کامیاب نہیں ہوئی‘ تو اس نے اپنے مہروں کو مدارس و مساجد کے خلاف راست اقدام کا حکم دیا‘ چنانچہ مسلمانوں کے ملک‘ مسلمان آبادی کے شہر اور پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں دن دہاڑے قانونی طور پر قائم کی گئی‘ مساجد کو ڈھاکر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی‘ اس پر جہاں پاکستان بھر کے مسلمانوں‘ دین داروں اور اہلِ علم نے بھرپور احتجاج کیا اور اس کی شدید مذمت کی‘ وہاں اسلام آباد کی لال مسجد اور مدرسہ حفصہ للبنات کے خطیب و مہتمم مولانا عبدالعزیز اور ان کے نائب مولانا عبدالرشید غازی اور دوسرے علماء نے بھی احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ گرائی جانے والی چھ مساجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے اور اس کی یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ کسی مسجد کو نہیں گرایا جائے گا‘ اس پر حکومت نے ٹال مٹول اور لیت و لعل سے کام لیا تو ان حضرات نے لال مسجد اور مدرسہ حفصہ سے ملحق چلڈرن لائبریری پر قبضہ کرلیا‘ گویا انہوں نے لائبریری کے قبضہ کو اپنے جائز مطالبات منوانے کے لئے ایک سبب اور ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ملک بھر کے سرکردہ علماء کرام‘ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ذمہ داران‘ مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی کے اساتذہ اور مشائخ نے ان کے احتجاج کے اس انداز اور روش سے اختلاف کیا اور ان کو متعدد بار سمجھایا کہ یہ طریقہ کار آپ کے لئے‘ آپ کے مدرسہ ‘ طلباء ‘ طالبات و اساتذہ اور ملک بھر کے دینی مدارس کے لئے نقصان دہ ہے اور اس سے آپ کو‘ آپ کے مدرسہ اور آپ کی تحریک کو نقصان ہوگا‘ اور اس کا سارا فائدہ اسلام دشمنوں کو ہوگا اور جو لوگ دین‘ دینی مدارس اور علماء دشمنی میں ادھار کھائے بیٹھے ہیں‘ آپ کے اس عمل کو جواز بناکر دینی مدارس‘ علماء‘ طلبہ‘ طالبات اور اہلِ دین کو ہدف تنقید بنائیں گے‘ اور جو دین دشمن آج تک دینی مدارس‘ طلبہ اور علماء کو دہشت گرد کہتے آرہے تھے اور ان کے پاس اس اتہام و الزام کا کوئی ثبوت نہیں تھا‘ آپ کے اس طرز عمل سے ان کو ثبوت مہیا ہوجائیں گے اور دین دشمن خصوصاً مدارس دشمن اس کو جواز بناکر آپ کے مدرسہ پر چڑھائی بھی کرسکتے ہیں‘ مگر نامعلوم ان حضرات پر اپنے اکابر و اساتذہ کی فہمائش اور دل سوزی کا اثر کیوں نہ ہوا؟ شاید اس لئے کہ وہ سمجھتے ہوں گے کہ مسلمان حکومت اور مسلمان فوج اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف اس قدر انتہائی اقدامات کی طرف نہیں جائے گی۔ ہمارا وجدان کہتا ہے کہ وہ حضرات اپنی جگہ مخلص تھے اور انہوں نے جو کچھ کیا‘ اللہ کے لئے کیا تھا‘ مگر ان کے ”مشیروں“ میں سے کچھ بدبخت خیر خواہی کے عنوان سے بدخواہی کرنا چاہتے تھے‘ اس لئے انہیں بدبختوں میں سے کچھ ”بڑوں“ کی ان کو آشیرباد یا تعاون کا پورا پورا یقین تھا کہ ان کے خلاف ایسا کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا‘ دوسری طرف غالباً کچھ حکومتی اہل کار‘ ان کے بچے اور بچیاں بھی اس مدرسہ میں ز یر تعلیم تھے اور وہ بھی براہ راست ان سے رابطہ میں تھے‘ اس لئے ان کو ایسے کسی خطرہ کا احساس نہیں ہونے دیا گیا۔ پھر جب لال مسجد و مدرسہ حفصہ للبنات کے ذمہ داران کو کچھ لوگوں نے علاقہ میں چلنے والے زناکاری اور بدکاری کے اڈوں کی شکایت کی اور وہاں کسی ایسی خاتون کی نشاندہی بھی ہوئی‘ جو اس قسم کا کوئی اڈا چلاتی تھی‘ چنانچہ انہوں نے اپنے تئیں خلوص و اخلاص سے اس کی روک تھام کے لئے اپنے کارکنان کے ذریعہ اس کو مدرسہ بلاکر اس کی فہمائش کی‘ تاہم تنبیہ کے بعد اس کو چھوڑ دیا گیا‘ اسی طرح کچھ لوگوں کو فحش کیسٹوں اور سی ڈیز کے کاروبار سے بھی منع کیا اور مردوں کا مساج کرنے والی چینی خواتین کو بھی اس غلیظ کام سے منع کیا‘ مگر چونکہ اس پورے عرصہ میں حکومت اور اس کی ایجنسیاں منقار زیر پر رہیں‘ تو ان کے حوصلے مزید بڑھتے چلے گئے‘ علماء کرام اور خصوصاً وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ارباب حل و عقد نے جب دیکھا کہ وہ اپنے طرز عمل سے باز آنے اور اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں‘ تو انہوں نے تنبیہاً جامعہ فریدیہ اور مدرسہ حفصہ کا وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے الحاق ختم کردیا‘ مگر افسوس! کہ وہ حضرات حکومت کی اس خفیہ چال کو بھی نہ سمجھ سکے۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ حکومت اور ایجنسیوں کا چھ ماہ تک منقار زیر پر رہنا یا خاموش رہنا صرف اور صرف اس لئے تھا کہ ان کے خلاف انتہائی اقدام کا جواز پیدا کرکے رائے عامہ کو ہموار کیا جاسکے‘ نیز اپنے بیرونی آقاؤں کو باور کرایا جاسکے کہ یہ لوگ اس قدر خطرناک تھے کہ ان کی سرکوبی کے لئے چھ ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ بہرحال ان حضرات نے گرائی گئی مساجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ مطالبات بھی کئے کہ حکومت ملک سے عریانی‘ فحاشی کا سدباب کرے اور نفاذ شریعت کا اعلان کرے۔ بلاشبہ ان کے یہ مطالبات اپنی جگہ سو فیصد صحیح‘ درست‘ بجا اور ہر مسلمان کے دل کی آواز تھے‘ مگر انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کررکھا تھا‘ اس سے علماء کو اختلاف تھا۔ اس لئے کہ دو اور دو چار کی طرح یہ واضح تھا کہ ایک معمولی چلڈرن لائبریری کے قبضہ سے مجبور ہوکر‘ مذہب بیزار حکومت‘ ان کے یہ مطالبات کیونکر مان سکتی تھی؟ اخباری اطلاعات‘ میڈیا رپورٹوں اور تجزیوں کے مطالعہ سے لگتا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف دائر ریفرنس میں جھوٹ ثابت ہونے‘ لندن میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے ایشو کو دبانے اور اسے غیر موثر بنانے یا ان سے توجہ ہٹانے اور مغربی دنیا میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کے لئے حکومت نے لال مسجد کا ایشو کھڑا کرکے اس پر چڑھائی کی منصوبہ بندی کی تھی‘ اس آپریشن کے نام پر جس قدر خون ریزی ہوئی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں‘ اگر حکومت کو ذرہ بھر ملک و ملت سے خیر خواہی ہوتی تو وہ ان نہتے شہریوں‘ معصوم طلبہ‘ طالبات اور جائز و شرعی مطالبہ کرنے والی اس مٹھی بھر جماعت پر اس طرح چڑھائی نہ کرتی اور نہ ہی انسانوں کے خون سے ہولی کھیلتی ۔ ۹/جولائی تک کی اخباری اطلاعات اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہماری بہادر فورس کے ہاتھوں ۳۰ سے زائد افراد خاک و خون میں تڑپائے جاچکے تھے‘ جبکہ لال مسجد کے ذمہ داران کی اطلاع کے مطابق صرف ایک رات کے آپریشن میں ساڑھے تین سو طالبات جام شہادت نوش کرچکی ہیں۔ اس ساری صورت حال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس معرکہ ”حق و باطل“کی وجہ سے دنیا بھر میں دین‘ اہل دین‘ علماء‘ طلباء ‘ طالبات اور مدارس و مساجد کو بُری طرح ہدف تنقید و ملامت بنایا جارہا ہے‘ بہرحال مولانا عبدالعزیز کے شریعت یا شہادت کے نعرہ کے باوجود آپریشن کے دوران برقع پہنا کر مسجد سے نکالنا‘ پھر ان کا دھرلیا جانا او ر برقع اور حجاب کی توہین و تنقیص اور موصوف کی میڈیا پر تذلیل کرنا بھی اسی سازش اور طے شدہ منصوبہ کا حصہ لگتا ہے ‘ورنہ ایک معمولی عقل و فہم کا انسان بھی یہ باور نہیں کرسکتا کہ مولانا عبدالعزیز جیسا مضبوط اعصاب کا انسان اس قدر جلدی کیونکر باہر آگیا؟ چنانچہ بعد کی اخباری اطلاعات اور ان کی اہلیہ ام حسان کے بیان کی روشنی میں ان کو کسی ”بڑے“ کے اعتماد و یقین دہانی کے بعد باہر نکلنے پر آمادہ کیا گیا تھا‘ جس کا واضح قرینہ یہ ہے کہ اگر وہ فرار ہورہے ہوتے تو اپنی بیوی اور معصوم بچیوں کو محاصرہ میں چھوڑ کر اکیلے باہر نہ آتے؟ چونکہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا تھا‘ اس لئے جیسے ہی وہ باہر آئے تو ان کو پکڑ کر طے شدہ منصوبے کے مطابق نہ صرف ان کی توہین و تذلیل کی گئی بلکہ ملا‘ مولوی‘ داڑھی‘ دین و شریعت‘ حجاب اور برقع کا خوب مذاق اور تمسخر اڑایا گیا۔ بہرحال اس تکلیف دہ صورت حال کو اب ایک ہفتہ ہوچکا ہے‘ لیکن جہاں حکومت اور فوج لال مسجد اور مدرسہ حفصہ کے معصوم طلبہ‘ یتیم بچوں اور بچیوں کو فتح کرنے پر تلی ہوئی ہے‘ وہاں مدرسہ اور مسجد میں محصور مٹھی بھر طلبہ‘ طالبات اور ان کے اساتذہ بھی اس پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ ہمیں محفوظ راہ داری دی جائے اور ہمیں مولانا عبدالعزیز اور سرنڈر ہونے والے دوسرے طلبہ کی طرح ذلیل نہ کیا جائے‘ مگر افسوس! کہ حکومت‘ اس کی ایجنسیاں اور فوج‘ ان کو ایسی کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔ اس پر پاکستان بھر کے مذہبی و سیاسی علماء کرام نے بیک زبان یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت‘ قومی اور ملکی مجرموں کو عام معافی دے کر ان کو چھوٹ دے سکتی ہے‘ بلکہ ان کو اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز کرسکتی ہے‘ تو ایسے لوگوں کو وہ کیوں معاف نہیں کرسکتی‘ جن کا صرف اور صرف یہ جرم ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مساجد و مدارس کو نہ گرایا جائے اور گرائی گئی مساجد و مدارس کو دوبارہ تعمیر کیا جائے‘ آئندہ کے لئے یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ مساجد نہیں گرائی جائیں گی‘ ملک عزیز سے عریانی و فحاشی ‘زناکاری کے اڈے ختم کئے جائیں اور نفاذ شریعت کیا جائے۔ بہرحال یہ تسلیم !کہ لال مسجد اور مدرسہ حفصہ والوں کا انداز اور طرز عمل ٹھیک نہیں تھا‘ لیکن ان کے مطالبات اپنی جگہ بالکل بجا‘ صحیح اور درست تھے‘ تو ان کے ساتھ چوروں‘ ڈاکوؤں‘ لٹیروں‘ غداروں اور ملک و ملت دشمنوں کا سا سلوک کرنا کیونکر روا ہوسکتا ہے؟ اب بھی وقت ہے حکومت اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرے اور اس خون خرابہ سے باز آجائے اور مدارس دشمنی کی پالیسی ترک کردے‘ ورنہ اس کے نتائج نہایت بھیانک اور خطرناک ہوں گے۔ یہ بات اپنی جگہ سو فیصد صحیح ہے کہ اس ساری صورتحال سے امریکا اور اس کے اتحادی خوش ہوئے ہیں اور ہماری حکومت اور جناب پرویز مشرف کا مغرب میں مورال بلند ہوگیا ہے‘ لیکن حکومت اور فوج کے اس طرز عمل سے دنیا بھر کے مسلمان اور دین دار برادری نہایت کرب و اذیت میں مبتلا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ بھی مغرب کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی تکمیل کی خاطر عراق ‘ افغانستان‘ کوسوو‘ بوسنیا‘ الجزائر اور فلسطین کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور مسلمانوں کے شعائر اور مقدس شخصیات کی توہین و تنقیص کی گئی ہے‘ جس کی خاطر توہین رسالت پر مشتمل خاکے بنائے گئے ‘ تسلیمہ نسرین اور رشدی ایسے ملعون کو نوازا گیا اور مسلمان علماء و صلحاء کے خون سے زمین رنگین کی گئی‘ تاہم ظلم‘ ظلم ہے اور ظلم کی سیاہ رات ہمیشہ نہیں رہتی‘ ایک نہ ایک دن حق و سچ اور عدل و انصاف کا سویرا ہوگا تو کسی ظالم کو کہیں کسی تاریکی میں پناہ نہیں ملے گی۔ ………………………………
۹/ جولائی کی صبح کو ہم نے یہاں تک لکھا اور پُرامید تھے کہ انشاء اللہ کوئی بیچ کی راہ نکل آئے گی اور ہماری حکومت علماء‘ طلبہ اور طالبات کو خون میں نہلانے اور اپنے ہی شہریوں کو فتح کرنے‘ ان کو کیڑوں‘ مکوڑوں کی طرح پاؤں تلے روندنے اور مسجد و مدرسہ کے تقدس کو پامال کرنے کی ناپاک جسارت نہیں کرے گی۔ دوسری طرف ہم اس لئے بھی مطمئن تھے کہ ملک بھر کے مقتدر علماء کرام کا نمائندہ وفد اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت اس قضیہ کو سلجھانے کے لئے اسلام آباد میں موجود ہے‘ یقینا وہ اس کا کوئی پُرامن اور پائیدار حل نکالنے میں کامیاب ہوجائے گی‘ چنانچہ وفاق المدارس العربیہ کے علماء کرام نے حالات کو سدھارنے اور قابل عمل حل نکالنے اور خون ریزی کو روکنے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کی اور کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے‘ چنانچہ ان حضرات نے مسلم لیگ (ق) کے چوہدری شجاعت حسین‘ وزیر اعظم شوکت عزیز‘ وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد ایک قابل عمل حل بھی نکال لیا تھا‘ جبکہ اس دوران مختلف مراحل میں وفاقی وزرأ محمد علی درانی‘ طارق عظیم‘ نصیر خان‘ انجینئر امیر مقام اور کمانڈر خلیل بھی شریک رہے‘ چنانچہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ طویل ملاقات میں تقریباً تمام امور پر اصولی اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ مگر افسوس!کہ جناب جنرل پرویز مشرف اور ان کے مشیروں کی انانیت‘ رعونت‘ تکبر‘ ہٹ دھرمی‘ علماء دشمنی اور مغرب خوشنودی اس کی راہ میں آڑے آگئی‘ یوں طے شدہ لائحہ عمل‘ اور امن منصوبہ نخوتِ اقتدار کی بھینٹ چڑھ گیا اور خیر خوبی سے حل ہونے والا قضیہ بدترین خونی معرکہ کی شکل اختیار کرگیا‘ اس موقع پر علماء کرام نے کیا کچھ کیا؟ اور ان کی مساعی کو کب اور کس نے مسترد کیا؟ اس سلسلہ میں علماء نے جو کچھ کہا‘ اس کی تفصیلات روزنامہ جنگ کراچی کے حوالے سے درج ذیل ہیں:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ‘ این این آئی) وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی سے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس حوالے سے وزراء غلط وجوہات بیان کررہے ہیں‘ سمجھوتے کے مسودے کو ایوان صدر میں تبدیل کردیا گیا‘ انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد پر حکومت کی طرف سے طاقت کا استعمال ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے‘ ہم مزید خونریزی روکنے کے لئے جس جذبہ کے تحت یہاں آئے تھے‘ وہ مزید صدمے اور رنج و غم میں بدل گیا ہے‘ وزیر اعظم کی موجودگی میں طے پانے والے متفقہ فارمولے کو مولانا عبدالرشید غازی نے قبول کرلیا تھا لیکن ایوان صدر سے دوسرا مسودہ لانا مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا‘ آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے آج (بدھ) کو راولپنڈی میں وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے‘ دریں اثناء لال مسجد انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے جانے والے وفد میں شامل مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ حکومتی رویئے نے مایوس کیا ‘ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا ہے‘ انہوں نے کہا کہ عبدالرشید غازی مصالحت پر راضی تھے‘ علماء اور وزراء کے درمیان معاہدے کے مسودے پر ایوان صدر میں تبدیلی کردی گئی‘ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا کہ لال مسجد آپریشن میں فریقین کی طرف سے جاں بحق ہونے والے افراد کو شہید قرار دیا جاسکتا ہے‘ اس کا انحصار ان کی نیت پر ہے‘ پارلیمنٹ لاجز میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی رفیع عثمانی نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ لال مسجد کے اندر جاں بحق ہونے والوں کی نیت کیا ہے‘ اگر وہ اس نیت کے ساتھ لڑرہے تھے کہ اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو بچایا جائے‘ غیر اسلامی اقدام کو روکا جائے تو اس حوالہ سے رائے کا مختلف ہونا معنی نہیں رکھتا ہے‘ وہ شخص شہید ہے‘ اسی طرح سیکورٹی فورسز میں شامل اہلکاروں کی نیت کو دیکھنا ہوگا اگر وہ اس نیت کے ساتھ آپریشن میں شریک تھے کہ مسجد اور مدرسہ میں موجود لوگ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو شرعاً صحیح نہیں تو وہ شہید قرار پائیں گے‘ لیکن اگر وہ ملازم کے طور پر تنخواہ کے عوض کارروائی میں شریک تھے تو شہید نہیں ہوں گے‘ وہ جہنمی ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خان‘ نائب صدر ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر‘ رکن مجلس عاملہ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی‘ ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری‘ مولانا مفتی محمد‘ مولانا قاری سعید الرحمن‘ مولانا حکیم محمد مظہرمہتمم جامعہ اشرف المدارس کراچی‘ مولانا مفتی عبدالحمید جامعہ اشرف المدارس‘ مولانا امداد اللہ جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی‘ قاضی عبدالرشید مہتمم دارالعلوم فاروقیہ‘ مولانا ظہور علوی مہتمم جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور دیگر علماء کرام موجود تھے‘ انہوں نے کہا کہ حالات کے سنگینی کی طرف جانے سے روکنے کے لئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد سلیم اللہ خان اپنے رفقاء حضرت مولانا مفتی محمد رفیع‘ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر‘ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری‘ مولانا زاہدالراشدی‘ مولانا ڈاکٹر عادل خان‘مولانا حکیم محمد مظہر‘ مولانا مفتی محمد نعیم اور دیگر علماء کرام کے ہمراہ ۹/جولائی کو اسلام آباد پہنچے تاکہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف حکومتی آپریشن سے پیدا شدہ صورتحال پر حکومت سے بات چیت کی جاسکے اور مزید خونریزی کے امکانات کو روکتے ہوئے مسئلے کے پُرامن حل کا کوئی راستہ نکالا جاسکے‘ انہوں نے کہا کہ اس وفد نے پاکستان مسلم لیگ کے چوہدری شجاعت حسین‘ وزیر اعظم شوکت عزیز اور وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی جبکہ اس گفتگو کے مختلف مراحل میں وفاقی وزراء محمد علی درانی‘ طارق عظیم‘ نصیر خان‘ انجینئر امیر مقام‘ کمانڈر خلیل بھی شریک رہے اور وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں تمام امور پر اصولی اتفاق رائے ہوگیا‘ ان طویل مذاکرات کے دوران لال مسجد و جامعہ حفصہ کے منتظم مولانا عبدالرشید غازی سے بھی ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو ہوتی رہی اور آخری مجلس میں مولانا عبدالرشید غازی کے اصرار پر ان کے نمائندہ کے طور پر مولانا فضل الرحمن خلیل کو بھی شامل کرلیا گیا‘ اس طویل گفتگو اور وزیر اعظم کے ساتھ اتفاق رائے کے بعد اس کی تفصیلات طے کرنے کے لئے چوہدری شجاعت حسین‘ محمد علی درانی‘ اعجاز الحق اور طارق عظیم کے ساتھ شام کو طویل ملاقات ہوئی اور ایک متفقہ فارمولا طے پایا جسے فون پر مولانا عبدالرشید غازی کو بھی سنادیا گیا اور انہوں نے بھی اتفاق کرلیا‘ انہوں نے کہا کہ اس مصالحتی فارمولے پر فریقین کے اتفاق کے بعد‘ جب دستخط کرنے کا مرحلہ آیا تو چوہدری شجاعت حسین اور ان کے رفقاء نے کہا کہ اس کی حتمی منظوری کے لئے اسے ایوان صدر لے جانا ضروری ہے‘ ہمیں اس پر تعجب ہوا کیونکہ اس مصالحتی فارمولے کو ان بنیادی نکات کی روشنی میں تحریر کیا گیا جو آج ہی وزیر اعظم کے ساتھ طویل مجلس میں اصولی طور پر طے کئے گئے تھے اور اب چوہدری شجاعت حسین اور ان کے رفقاء کے اتفاق سے مشترکہ طور پر لکھے گئے تھے‘ بہرحال وہ حضرات ایوان صدر چلے گئے اور کم و بیش دو گھنٹے کے بعد واپس آئے تو ان کے پاس ایک نیا فارمولا تھا جس میں سابقہ فارمولے کی بنیادی باتوں کو جن پر ہم نے مولانا عبدالرشید غازی کو بمشکل تیار کیا تھا‘ تبدیل کردیا گیا تھا اور انہوں نے آتے ہی یہ کہہ دیا کہ اب اس میں ردوبدل نہیں ہوسکتا‘ یہ حتمی بات ہے‘ جس کا ”ہاں“ یا ”نہ “ میں جواب مطلوب ہے اور ہمارے پاس اس مقصد کے لئے صرف نصف گھنٹہ ہے‘ اس کے بعد ہم اس کے لئے مزید وقت نہیں دے سکتے‘ یہ نیا فارمولا عبدالرشید غازی کو فون پر سنایا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا‘ جس کے بعد مزید کوئی بات جاری رہنے کا امکان نہیں تھا‘ انہوں نے کہا کہ متفقہ فارمولا میں تحریر تھا کہ مولانا عبدالرشید غازی کو ان کے خاندان اور ذاتی سامان سمیت ان کے گاؤں کے گھر میں بحفاظت منتقل کردیا جائے گا‘ لیکن نئی تحریر میں جو الفاظ درج کئے گئے ان کا مطلب کسی گھر میں ان کی منتقلی اور ان کے خلاف کارروائی تھا‘ متفقہ فارمولا میں یہ طے پایا تھا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد میں موجود طلبہ اور دیگر افراد جو مولانا عبدالرشید غازی کے ہمراہ باہر آئیں گے تو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد ان کے معاملات کی انکوائری کی جائے گی اور جو افراد جامعہ حفصہ کا تنازعہ شروع ہونے سے قبل کسی کیس میں مطلوب نہیں ہوں گے انہیں ان کے گھر بھجوادیا جائے گا جبکہ مطلوب افراد کے معاملات قانون کے مطابق عدالتوں کے ذریعے طے کئے جائیں گے مگر نئے فارمولا میں اسے تبدیل کردیا گیا‘ متفقہ فارمولا میں لکھا گیا تھا کہ عبدالرشید غازی کے الگ ہوجانے کے بعد لال مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف اسلام آباد کے سپرد ہوگا اور جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے کنٹرول میں دے دیا جائے گا اور جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ سے متعلق قانونی معاملات اور لال مسجد کے انتظامی امور حکومت اور وفاق المدارس کے باہمی مشورے سے ہوں گے‘ اس شق کو بھی تبدیل کردیا گیا‘ چنانچہ بنیادی امور کی تبدیلی کے بعد وہ مصالحتی فارمولا جو حکومت اور وفاق المدارس کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم کے درمیان باہمی اتفاق رائے سے طے کیا گیا تھا‘ چونکہ باقی نہیں رہا‘ اس لئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے وفد کے لئے اس معاملے سے الگ ہوجانے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا‘ اس کے بعد جو صورت حال پیش آئی ہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے‘ ہمیں افسوس ہے کہ حکومت نے آخری مرحلہ میں ڈیڈ لاک پیدا کرکے اور تبدیل شدہ فارمولا کا نصف گھنٹہ کے اندر ہاں یا نہ میں حتمی جواب دینے کا مطالبہ کرکے ہماری مصالحتی کوششوں کو ناکام بنادیا‘ اس سلسلے میں آئندہ لائحہ عمل کے تعین کے لئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان نے مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس آج ۱۱/جولائی کو صبح دس بجے راولپنڈی میں طلب کرلیا ہے‘ جس میں تبدیل شدہ صورت حال میں وفاق کا موقف اور پروگرام طے کیا جائے گا۔“ (روزنامہ ”جنگ “کراچی‘ ۱۱/جولائی ۲۰۰۷ء)
اخباری اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح نماز فجر کے وقت شروع ہونے والے اس خونی معرکہ کی بدولت لال مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسہ حفصہ میں محصور قریب قریب تمام افراد شہید کردیئے گئے ہیں اور مولانا عبدالرشید غازی اور ان کی بوڑھی والدہ بھی جام شہادت نوش کرچکی ہیں۔ اس طرح سینکڑوں کی تعداد میں معصوم طلبہ اور طالبات بھی نہایت مظلومیت اور بے بسی کی حالت میں دین و شریعت کا نام لینے کی پاداش میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
کیا کہا جائے کہ ہمارے حکمران مسلمان ہیں؟ یا کافر؟ انسان ہیں یا درندے؟ کیا کوئی مسلمان یا انسان بھی ایسی سفاکانہ اور بے رحمانہ کارروائی کرسکتا ہے؟ نہیں‘ ہرگز نہیں‘ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان اقتدار کی بچاریوں اور چنگیز کے جانشینوں کے ہاں انسانیت اور اس کے حقوق نام کی کوئی شئی نہیں ہے‘ دیکھا جائے تو ان کو انسانوں سے نہیں اقتدار سے محبت ہے‘ اگر یہ لوگ انسان ہوتے یا انہیں انسانیت کی عظمت کا پاس ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ ایک مسلمان کے خون کی عظمت کعبة اللہ سے بڑھ کر ہے اور ایک مسلمان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ اس خونی معرکہ میں کتنے لوگ شہید ہوئے؟ کتنے مرد‘ کتنی عورتیں اور کتنے معصوم بچے اپنے ملک کی بہادر فوج کی بے رحم گولیوں کا نشانہ بنے؟ ان میں کتنے تربیت یافتہ جنگجو تھے؟ کتنے پاکستانی اور کتنے غیر ملکی تھے؟ ان کے پاس کیسے مہلک ہتھیار تھے؟ اور انہوں نے کس قدر مزاحمت کی؟ تاحال اس کے بارہ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا‘ اس لئے کہ لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے‘ اور نہ ہی ہسپتالوں میں کسی کو جانے کی اجازت ہے‘ شاید اس لئے کہ کہیں حکومت اور ایجنسیوں کے پروپیگنڈا کی قلعی نہ کھل جائے اور قوم کے سامنے اس آپریشن کے جواز کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔ تاہم سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کے مطابق حکومت نے پانچ سو کفن تیار کرنے کا کہا تھا‘ مگر میں نے ہزار کفن بنوائے ہیں‘ اور صورت حال بہت خراب ہے‘ انہوں نے کہا کہ لال مسجد کو بھیجی گئی تین سو چادریں کم پڑگئیں اور ہلاک شدگان کی تعداد سینکڑوں میں ہوسکتی ہے‘ انہوں نے کہا کہ میتیں اٹھانے والے کارکنوں کے مطابق سینکڑوں میتیں پڑی ہیں‘ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے۔ بہرحال اتنی بات تو طے ہے کہ اس معرکہ خوں چکاں میں جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے‘ کیونکہ سرکاری اعداد و شمار بلکہ وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ کے مطابق لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں چار ساڑھے چار ہزار افراد تھے‘ جبکہ سرنڈر ہوکر آنے والے حکومت کے بقول پندرہ سو افراد تھے‘ سوال یہ ہے کہ باقی تین یا ساڑھے تین ہزار افراد کہاں گئے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ سب کے سب بھی خون میں نہلادیئے گئے ہیں؟ اور ان کے پاک و پاکیزہ خون سے لال مسجد کے درودیوار اور اس کے فرش کو لال کردیا گیا ہے؟ اگر ایسا ہے اور یقیناً ایسا ہے تو حکومت و فوج کے بزرچ مہروں کا یہ کہنا کہ اس آپریشن میں ساٹھ سے زائد افراد مارے گئے ہیں‘ کیونکر قابل تسلیم ہوگا؟ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ موجودہ حکومت کو اپنے شہریوں سے ذرہ بھر کوئی تعلق ہے؟ بلامبالغہ اگر انہیں انسانی جانوں اور مسلمانوں سے کچھ بھی ہمدردی ہوتی تو وہ یہ انتہائی ظالمانہ‘ سفاکانہ اور بہیمانہ قدم نہ اٹھاتی‘ کیا ارباب اقتدار سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ان معصوموں کا خون کیوں بہایا گیا؟ کیا یہ ملک دشمن تھے؟ کیا یہ ملک و ملت دشمن سرگرمیوں میں مصروف تھے؟ کیا اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں مساجد کے انہدام کی روک تھام کا مطالبہ جرم ہے؟ کیا زناکاری‘ فحاشی اور عیاشی کے اڈوں کی بندش کے لئے آواز اٹھانا خلاف قانون ہے؟ کیا نفاذ شریعت کا مطالبہ ملکی بغاوت ہے؟ کیا چلڈرن لائبریری پر قبضہ ایسی چیز تھی کہ اس سے اقتدار کی گاڑی رک گئی تھی؟ کیا اس آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا؟ اگر جنوری سے جولائی تک کے عرصہ میں صرف اس لئے آپریشن نہیں کیا گیا کہ حکمت عملی کے خلاف تھا‘ تو اب اس کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ کیا اب ہزاروں معصوموں کا قتل حکمت عملی کے مطابق ہوگیا تھا؟ کیا یہ ملک اس لئے بنا تھا کہ اس میں اسلام کے پاسبانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جائے گا؟ کیا ہماری فوج کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ مساجد و مدارس‘علماء اور طلبہ پر گولیاں برسائے؟ کیا سرکاری خزانہ پر پلنے والے وزیروں‘ مشیروں کی فوج ظفر موج کا یہی مصرف ہے کہ وہ زانیوں‘ شرابیوں کا تحفظ کرے ‘اور جو ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے ان کو خاک خون میں تڑپائیں؟ کیا اس ملک میں رحم و کرم نام کی کوئی شے نہیں؟ کیا حقوق نسواں بل پاس کرنے والی حکومت کو ان معصوم بچیوں پر کوئی ترس نہیں آیا؟ جو برقعے میں ملبوس گھٹ کر شہید ہوگئیں اور درندوں نے انہیں مدرسہ حفصہ سے متصل پانی کے نالے میں پھینک دیا‘ کیا وہ خواتین نہیں تھیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو ان یتیم و لاوارث طالبات کے کوئی حقوق نہیں تھے؟ اگر تھے تو حقوق نسواں کی دھائی دینے والے اس موقع پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ ایسے ”باغیوں“ کی بجلی‘ پانی اور گیس بندکردیا جاتا یا اعصاب شل کرنے والی گیس چھوڑ کر ان کو بے بس کیا جاتا اور وہ مجبور ہوکر خود ہی ہتھیار ڈال دیتے؟ اگر یہ سب کچھ ممکن تھا تو اس قتل عام کا کیا جواز تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جان بوجھ کر ان معصوموں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا؟ اور اس صورت حال سے فائدہ اٹھاکر اپنے ”آقاؤں“ کی خوشنودی حاصل کرنے اور ان کی بارگاہ میں ”اچھا“ کہلانے کے لئے یہ سب کچھ کردیا گیا؟ یا پھر مدارس‘ مساجد‘ علماء‘ طلبہ‘ طالبات اور برقع کو بدنام کرنے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا ہے؟ اگر نہیں تو اب تک ان سے چشم پوشی کیوں برتی گئی تھی؟ اور اب بہ عجلت تمام یہ سب کچھ کیوں کیا گیا؟ یہ وہ سولات ہیں جو ہر انسان اور مسلمان کے ذہن میں ابھرتے ہیں اور ابھر کر ہلچل مچاتے ہیں مگر اضطراب اور پریشانی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ شاید جناب صدر اور ان کے مشیران باتدبیر سمجھتے ہوں گے کہ وہ ان ”باغیوں“ کو ٹھکانے لگاکر مطمئن ہوجائیں گے‘ نہیں‘ ہرگز نہیں‘ بلکہ ”ایں خیال است و محال است و جنوں“ یاد رکھئے! ان بے قصوروں‘ خصوصاً معصوم بچوں اور خواتین کا بہنے والا خونِ ناحق‘ انہیں کبھی چین و سکون سے نہیں رہنے دے گا‘ اگرچہ بظاہر انہوں نے اپنے نام نہاد مخالفوں کو ٹھکانے لگاکر بیرونی دنیا سے خراج تحسین حاصل کرلیا ہے‘ مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے میدان کربلا میں حضرت حسین کے قافلہ کو شہید کرنے والے ایک ایک بدباطن سے بدلہ لیا اور تاریخ بتلاتی ہے کہ ان میں کا ایک ایک فرد اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب اور انتقام کا نشانہ بنا‘ ایسے ہی انشاء اللہ! خاندان نبوت کے ان روحانی جانشینوں کی مظلومیت و مقہوریت بھی رنگ لائے گی اور ان مظلوموں کے بے قصور بہنے والے مقدس خون کا انتقام لیا جائے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اربابِ اقتدار کے دن گنے جاچکے ہیں اور ان کے ظلم و ستم کا باب بہت جلد بند ہونے والا ہے‘ بلکہ اب تو اس کا اندیشہ ہے کہ کہیں ہم سے آزادی کی یہ نعمت سلب نہ کرلی جائے‘ کیونکہ ہم نے اور ہمارے بڑوں نے ”اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون“ اور ”پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ الا اللہ“ کے نام پر یہ ملک حاصل کیا تھا‘ مگر افسوس کہ ہم اللہ سے کئے گئے اس وعدے سے مکر گئے‘ تو ہم سے ایک حصہ چھین لیا گیا‘ مگر اب جب باقی ماندہ حصہ میں بھی اسلام‘ شعائر اسلام‘ مساجد و مدارس‘ دین اور اہلِ دین کی توہین و تنقیص کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور علماء‘ طلبہ اور معصوم پردہ نشینوں کو خاک و خون پر تڑپایا جارہا ہے‘ تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے یہ باقی ماندہ حصہ بھی واپس نہ لے لیں۔ اے اللہ! ان معصوموں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما اور ان کے متعلقین کو صبر جمیل نصیب فرما اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچا۔آمین۔ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ اب علماء‘ صلحاء‘ ارباب مدارس اور خصوصاً وفاق المدارس کے ارباب حل عقد کو چاہئے کہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور آئندہ پیش آنے والے حالات‘ واقعات اور صورت حال کا ادراک کریں اور ان سے نمٹنے کے لئے کوئی موثر حکمت عملی طے کریں‘ ورنہ اندیشہ ہے کہ جن درندوں کے منہ کو علماء طلبہ اور طالبات کا خون لگ گیا ہے‘ وہ مزید دوسرے مدارس اور علماء کی طرف بھی بڑھنے کی کوشش کریں گے‘ لہٰذا اس کے لئے قبل از وقت پیش بندی کی شدید ضرورت ہے۔ بلاشبہ لال مسجد کا سانحہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے‘ ہمارے خیال میں ہماری حکومت اور فوج نے لال مسجد پر حملہ اور فائرنگ کرکے جلیانوالہ باغ اور مسجد شہید گنج کے موقع پر ہونے والی انگریزوں اور سکھوں کی فائرنگ کی تاریخ دہرا کر ثابت کردیا ہے کہ انگریزوں اور سکھوں کو مطمئن رہنا چاہئے کہ ”مسلمانوں کی سرکوبی “کے لئے ان کے ”جانشین“ اب بھی موجود ہیں۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ وصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, رجب المرجب۱۴۲۸ھ اگست۲۰۰۷ء, جلد 70, شمارہ