حق و صداقت کا معیار؟
حق و صداقت کا معیار؟


الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
دنیا میں موجود انسانوں میں سے ہر ایک اپنے موقف کو حق‘ سچ اور صحیح جانتا و مانتا ہے‘ اور وہ اپنے موقف کی صحت‘ صداقت و حقانیت پر دلائل‘ براہین اور شواہد و قرائن جمع کرتا ہے۔ چنانچہ انسانی تاریخ کا جائزہ لیجئے اور قرآن و حدیث کا مطالعہ کیجئے! تو معلوم ہوگا کہ ہر ایک اپنے اپنے موقف و مسلک پر مطمئن و مسرور ہے بلکہ اس پر فریفتہ ہے‘ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
”من الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعاً‘ کل حزب بما لدیہم فرحون۔“ (الروم: ۳۳)
ترجمہ:… ”جنہوں نے کہ پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہوگئے ان میں بہت فرقے‘ ہر فرقہ‘ جو …دین… اس کے پاس ہے‘ اس پر فریفتہ ہے۔“ اس سار ی صورت حال کی وجہ اور سبب یہ ہے کہ شیطان ملعون ہر ایک کو اس کے اعمال و عقائد‘ خوش نما اور مزین کرکے دکھاتا ہے‘ چنانچہ ایک طرف اگر مسلمان اور اہلِ حق اپنے موقف کی حقانیت و صداقت کو قرآن و حدیث کے دلائل سے مبرہن کرتے ہیں تو دوسری طرف اعدائے اسلام‘ کفار و مشرکین‘ یہود و نصاریٰ اور ہنود و مجوس بھی اپنے مزعومہ عقائد و اعمال کے لئے دورکی کوڑی لانے کی اپنی سی سعی و کوشش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
۱:… ”وجدتہا وقومہا یسجدون للشمس من دون اللہ وزین لہم الشیطان اعمالہم فصدہم عن السبیل فہم لایہتدون“ (النمل:۲۴)
ترجمہ:… ”میں نے پایا وہ‘ اور اس کی قوم سجدہ کرتے ہیں سورج کو‘ اللہ کے سوا اور بھلے دکھلا رکھے ہیں‘ شیطان نے ان کے کام ‘پھرروک دیا ہے ان کو راستہ سے‘ سو وہ راہ نہیں پاتے۔“
۲:… ”فلولا اذ جاء ہم بأسنا تضرعوا ولکن قست قلوبہم وزین لہم الشیطان ماکانوا یعملون“ (الانعام:۴۳)
ترجمہ:… ”پھر کیوں نہ گڑ گڑائے‘ جب آیا ان پر عذاب ہمارا‘ لیکن سخت ہوگئے‘ دل ان کے اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کررہے تھے۔ “
۳:… ”وکذالک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادہم۔“ (الانعام:۱۳۷)
ترجمہ:… ”اور اسی طرح مزین کردیا بہت سے مشرکوں کی نگاہ میں ا ن کی اولاد کے قتل کو۔“
۴:… ”کذالک زین للکافرین ماکانوا یعملون۔“ (الانعام:۱۲۲)
ترجمہ:… ”اسی طرح مزین کردیئے گئے کافروں کی نگاہ میں ان کے کام۔“
۵:… ”واذ زین لہم الشیطان اعمالہم وقال لا غالب لکم الیوم من الناس۔“ (الانفال: ۴۸)
ترجمہ:… ”اور جس وقت خوشنما کردیا شیطان نے ان کی نظروں میں ان کے عملوں کو اور بولا کہ کوئی بھی غالب نہ ہوگا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے۔“
ایک طرف اگر مسلمان اپنے دین و مذہب‘ مسلک و موقف اور ایمان و عقیدہ کی سچائی پر قرآن و سنت یعنی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور آسمانی وحی کو بطور استدلال پیش کرتے ہیں‘ تو دوسری جانب شیطان بھی اپنے متعلقین و متبعین کو نہایت قوت و شدت سے باور کراتا ہے کہ تم ہی حق پر ہو‘ اس لئے کہ اگر تمہارا موقف غلط اور مسلمانوں کا صحیح و درست ہوتا تو تمہاری کثرت اور مسلمانوں کی قلت کیوں ہوتی؟ تم معزز اور مسلمان ذلیل کیوں ہوتے؟ تم حاکم او رمسلمان محکوم کیوں ہوتے؟ تم جابر اور مسلمان مجبور کیوں ہوتے؟ تم غنی اور مسلمان فقیر کیوں ہوتے؟ تم امیر اور مسلمان غریب کیوں ہوتے؟ تم مدعی اور مسلمان مجرم کیوں ہوتے؟ تم حکمران اور مسلمان تمہاری رعایا کیوں ہوتی‘ اس کے علاوہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی بجائے اقتصادیات پر تمہارا قبضہ کیوں ہوتا‘ پوری دنیا میں مسلمانوں کی بجائے تمہارے اقتدار کا سکہ کیوں ہوتا؟ الغرض جس طرح کفار و مشرکین اور عیسائی‘ وغیرہ اپنی اس عددی کثرت‘ عزت‘ اقتدار اور حاکمیت کو اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں‘ ٹھیک اسی طرح وہ لوگ جو مسلمان ہونے کے باوجود اسلامی اقدار سے باغی اور تہذیبِ مغرب کے دلدادہ ہیں وہ بھی دین و شریعت کے حامیوں کے خلاف یہی استدلال پیش کرتے ہیں کہ اگر ان حامیانِ شریعت کا موقف و منشور حق و سچ یا صحیح و صواب ہوتا تو ملکی عوام ان کی بجائے ہمارے ساتھ کیوں ہوتی؟ وہ ان کے بجائے ہماری آواز پر لبیک کیوں کہتی؟ اور وہ ان کو مسترد کیوں کرتی؟ انہیں عوامی سطح پر مقبولیت کیوں نہ ہوتی‘ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں انہیں عددی برتری کیوں نہ حاصل ہوتی؟ ان کے عوامی اجتماعات‘ جلسوں‘ جلوسوں اور ریلیوں میں عوام بھرپور شرکت کیوں نہ کرتی؟ دراصل روز اول سے دنیا میں دو طرح کی دعوتیں اور دو قسم کے پروگرام چلے آرہے ہیں‘ ایک طرف اگر انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت ہے تو دوسری طرف خواہش پرستوں اور نفس و شیطان کے پجاریوں کی‘ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت رائج و مروج عقائد‘ نظریات اور غلط اعمال و افعال کے خلاف ہوتی ہے‘ تو نفس و شیطان کے پجاریوں اور باطل پرستوں کی عین منشائے شیطان اور ہوا پرستی کے مطابق۔ ظاہر ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام ماحول کا دھارا اور ذوق و مزاج بدلنے کے لئے آتے ہیں۔ جبکہ نفس و شیطان کی دعوت‘ خواہش پرستوں کے ذوق و مزاج کی تائید و تسکین کے لئے ہوتی ہے‘ اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ: ”چلو ادھر کو ہوا ہو جدھر کی“ بہت آسان ہے اور تہذیب و تمدن کے بہتے دریا کے دھارے پر چلنا سہل اور اس کی مخالفت میں سفر کرنا مشکل‘ بلکہ حد درجہ صبر آزما ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ”زمانہ ساز“ بننا مشکل اور ”بزمانہ ساز“ نہایت سہل‘ کیونکہ ابن الوقت… زمانہ کے مطابق چلنا… ہونا کمال نہیں‘ بلکہ ابوالوقت … جو وقت کو اپنے انداز میں ڈھال لیں… بننا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ چنانچہ ماحول و معاشرہ میں پہلے سے موجود ذوق و مزاج کی تعلیم و ترویج پر کسی محنت و مشقت کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی جہالت‘ لاعلمی ‘ بے شرمی‘ بے حیائی اور تخریب کاری کے لئے کسی مکتب‘ مدرسہ جامعہ اور اسکول‘ کالج اور یونیورسٹی کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس لئے کہ تخریب و بربادی آسان اور حد درجہ سہل ہے‘ جبکہ بگڑے ماحول و معاشرہ کی تعمیر و اصلاح اور خواہش و ہوا پرستی کے سامنے بند باندھنا اور اس کے سامنے رکاوٹ کھڑی کرنا بے حد مشکل اور نہایت ہی محنت طلب کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت بھٹکتی انسانیت کی اصلاح کے لئے ہوئی ہے‘ جبکہ دوسری طرف کفر‘ شرک‘ بت پرستی‘ قتل و غارت گری‘ زناکاری‘ بدکاری‘ چوری‘ ڈکیتی‘ بد اخلاقی‘ حیوانیت‘ درندگی اور سفاکی کے لئے کسی کو مامور نہیں کیا گیا‘ اس کے علاوہ مشاہدہ بھی یہی ہے کہ زمین و مکان اور باغ و گلستان کی آبادی و شادابی کے لئے محنت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے‘ اس کے برعکس اس کے فساد و بگاڑ کے لئے کسی سعی و جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی‘ اگر اس کو یوں ہی لاوارث چھوڑ دیا جائے تو کچھ ہی عرصہ بعد محل و مکان شکست و ریخت کا شکار اور سرسبز و شاداب باغ و گلستان بنجر ہوجائے گا‘ اس میں طرح طرح کے خود رو پودے‘ جھاڑ جھنکار اور انواع اقسام کی خاردار جھاڑیاں پیدا ہوجائیں گی اور وہ باغ و مکان ایک ویرانہ و جنگل کی شکل اختیار کرلے گا۔ ٹھیک اسی طرح معاشرہ کی اصلاح و تعمیر کے لئے محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس پر تن‘ من‘ دھن کی بازی لگانا پڑتی ہے‘ جبکہ اس کے بگاڑ کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جس طرح حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت محنت طلب تھی‘ اور معاشرہ کے ذوق و مزاج کے خلاف تھی اور نفس و شیطان کی دعوت عین منشائے نفس و شیطان اور مقتضائے خواہش تھی‘ اور جس طرح حضرات انبیاء علیہم السلام کی خلافِ مزاج دعوت و محنت پر لبیک کہنے والے کم اور خواہش پرست و آزادی پسند ذوق و مزاج کے ہمنوا زیادہ تھے‘ اگر آج دعوتِ نبوت کے حاملین کی صدا پر لبیک کہنے والے کم اور نفس و شیطان اور خواہش وذوق کی ہمنوائی کرنے اور ان کا ساتھ دینے والے زیادہ ہوں تو لائق تعجب اور باعث اضطراب نہیں‘ بلاشبہ یہ نہ مقبولیت عنداللہ کی دلیل ہے اور نہ ہی کسی موقف کی صداقت کی علامت‘ بلکہ اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل کے طور پر پیش کرنا دراصل مشرکین و معاندین اسلام کی ہم نوائی کے مترادف اور ان کی دعوت و مشن کے غلط اور باطل ہونے کی کھلی دلیل ہے‘ کیونکہ ان کج فہموں کی دعوت‘ چاہے کتنا ہی خوشنما اور ان کے خیال میں کتنا ہی اچھی کیوں نہ ہو اور ان کا انداز بیان کتنا ہی سحر انگیز کیوں نہ ہو‘ مگر بہرحال وہ سیّد الاولین و الآخرین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور انداز بیان سے زیادہ جاذبِ نظر ‘ عمدہ اور اچھا تو نہیں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلہ میں یا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے پروگرام و پیغام کے مقابلہ میں‘ ان کے مخالفین و معاندین کا پروگرام‘ پیغام اور دعوت غلط و باطل تھی‘ تو ان کے متبعین کا پیغام‘ پروگرام اور دعوت‘ انبیاء کے نائبین اور وارثوں کے مقابلہ میں کیونکر اچھی ہوسکتی ہے؟ اگر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت پر لبیک کہنے والے اقل قلیل اور کفر و شرک اور بتوں کے بچاریوں کی کثرت‘ دلیل کمال نہیں‘ تو جاہلیت کے علم برداروں کی عددی کثرت دلیل کمال کیوں ہوگی؟ اگر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی مخالفت کی جاسکتی ہے‘ تو ان کے نائبین کی مخالفت بھی لائق تعجب نہیں‘ اگر ان کے پروگرام و پیغام سے بے اعتنائی‘ ان کے کمال اور ان کے پیغام و پروگرام کی عظمت کے منافی نہیں‘ تو ان کے نام لیواؤں کی مخالفت بھی ان کے نقص کی دلیل نہیں ہے‘ بلکہ ا ن کے عین حق و صداقت اور جادئہ مستقیم پر کاربند ہونے کی علامت ہے۔ اس لئے اگر کچھ احمق جہالتِ جدیدہ کے علمبرداروں کے ارد گرد اکٹھے ہوجائیں؟ تو ان کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے اور انہیں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ ہمارے موقف کی حقانیت و صداقت کی دلیل ہے۔ ورنہ پھر انہیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ نعوذباللہ! حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت‘ پیغام اور پروگرام کے مقابلہ میں معاندین اسلام کا پیغام‘ پروگرام اور ان کی دعوت حق و سچ تھی‘ جب ہی تو انبیاء کرام علیہم السلام کے ماننے والے کم اور ان کے مخالفین و معاندین زیادہ تھے۔ حالانکہ نصوصِ صریحہ سے ثابت ہے کہ ایسے انبیاء بھی آئے‘ جن کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں صرف ایک دو تھے اور بعض ایسے بھی ہوئے‘ جن کی دعوتِ حق و صداقت پر لبیک کہنے والا ایک بھی نہیں تھا‘ کیا کہا جائے کہ ان کی دعوت و پیغام میں نقص تھا؟ یا ان کے معاندین و مخالفین ہی محروم القسمت تھے؟ روز اول سے حق و باطل کا معیار یہ رہا ہے کہ باطل اور باطل پرستوں کی دعوت خواہشاتِ نفس اور ہوا پرستی کے منشاء کے عین مطابق ہوتی ہے‘ اس لئے بگڑے ہوئے معاشرہ میں موجود ہوا پرستوں کی اکثریت ان کے ہم دوش ہوجاتی ہے‘ اس کے برعکس چونکہ حق پرستوں اور داعیانِ حق کی دعوت معاشرہ میں موجود فساد و بگاڑ کی اصلاح اور ہوا پرستی و خواہش پرستی کی مخالفت پر مبنی ہوتی ہے‘ اس لئے خواہش پرستوں کی اکثریت اس کی مخالفت و مخاصمت پر کمربستہ ہوجاتی ہے۔ ٹھیک یہی فلسفہ آج بھی کارفرما ہے کہ معاشرہ میں حق پرستوں کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کی کمی کو بطور معیار استعمال کرکے دعویٰ کیاجاتا ہے کہ ہم اور ہمارا پروگرام ہی حق و سچ ہے‘ جب ہی تو ہماری کثرت ہے۔ جو لوگ مسلمانوں اور دین و شریعت کے داعیوں کے مقابلہ میں ا پنی عددی کثرت کو معیار حق جانتے ہیں‘ دیکھا جائے تو وہ دراصل اسلام دشمنوں کے اس پروپیگنڈا کو تقویت پہنچارہے ہیں کہ :”پاکستانیوں نے انتخابات میں دین داروں کو شکست دے کر اسلام کو مسترد کردیاہے۔“ صرف یہی نہیں‘ بلکہ دوسرے لفظوں میں امریکا‘ برطانیہ اور دوسرے اسلام دشمن ممالک کے نشریاتی اداروں نے بھی ایسے لوگوں کو جنہوں نے دین داروں کے مقابلہ میں انتخابات میں عددی اکثریت حاصل کی ہے‘ اسلام مخالف کیمپ میں شمار کرکے خود ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی ہے بتلایا جائے‘ یہ ان کے موقف کے سچا ہونے کی علامت ہے یا غلط ہونے کی؟
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, شعبان المعظم۱۴۲۸ھ ستمبر۲۰۰۷ء, جلد 70, شمارہ