سورۂ فاتحہ کے دروس میں سے آج ہمارا آخری درس ہے۔اب تک آپ کے سامنے ہر آیت کی کچھ تفصیل بیان کی گئی تھی ،اب اس کا اجمالی خاکہ ہم بیان کرتے ہیں تاکہ اس میں بیان کئے گئے مضامین کا خلاصہ یاد رہے۔
’’ سورۂ فاتحہ‘‘کا خلاصہ:
سورۂ فاتحہ در اصل پورے قرآن پاک کا متن اور سرخی ہے۔ علماء نے فرمایا کہ قرآن پاک میں جتنے مضامین ہیں اُن سب کی نشاندہی اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میں فرمادی۔ جب کوئی کتاب لکھی جاتی ہے تو اُس کے شروع میں تمہید لکھی جاتی ہے کہ یہ کتاب کیوں لکھی گئی؟ اس کتاب میں کیا کیا مضامین ہیں؟ یہی نوعیت سورۂ فاتحہ کی بھی ہے،کیونکہ اس میں حق تعالیٰ شانہ نے دین کے اصول،فروع،عقائد،عبادات ،تشریعات، توحید، الوہیت، ربوبیت،صفاتِ باری،قیامت،عبادت، استعانت، ہدایت،دعا، استقامت، رسالت، موافقت منعم علیہم (انبیاء،صدیقین، شہداءوصلحاء)صراطِ مستقیم کی طلب اور رہنمائی ، گمراہ اور اللہ کے راستہ سے انحراف کرنے والوں سےبچنے کا ذکر فرمایا ہے۔
اللہ پاک نے اس صورت میں قرآن مجید کا خلاصہ بیان فرمایا ہے،جیساکہ اس کی وضاحت اس سے پہلے کی گئی ہے،گویا مختصر الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں اللہ پاک نے قرآن مجید میں تین قسم کے مضامین بیان فرمائے ہیں(۱)عقائد (۲)احکام (۳)وعظ اور نصیحت۔اور سورۂ فاتحہ میں بھی اجمالا ان کا ذکر موجود ہے، اسی لئے اس کو پورے قرآن کا خلاصہ کہا جاتا ہے۔
الحمد للہ رب العالمین اورالرحمن الرحیم کا خلاصہ:
اب ہم اس سورت کے خلاصۂ قرآن ہونے کا تجزیہ کرتے ہیں۔
چنانچہ ’بِسْمِ اللّٰہِ ‘‘میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور بے شمار اسماءِ الٰہی کی طرف اشارہ ہے۔اور ’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘میں اللہ پاک کے صفات کمالیہ کی طرف اشارہ ہےاور ان