(مذکورہ حدیث میں)یہ زیادتی نقل کرتے ہیں کہ :جب اِمام قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔ (مسلم:404)
وضاحت:مذکورہ حدیث میں جماعت کے ساتھ ہونے والی نماز میں اِمام اور مقتدی کی ذمّہ داریوں کو واضح کیا گیا ہے ، یعنی: جب اِمام ”اللہ أکبر“ کہے تو تم بھی ”اللہ أکبر“کہو، جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو اور جب وہ فاتحہ ختم کرے تو تم ”آمین “کہو۔اگر سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا مقتدی کیلئے لازم ہوتا تو جیسے تکبیر میں کہا گیا ہے کہ اِمام کے تکبیر کہنے پر تم بھی تکبیر کہو اِسی طرح قراءت کے موقع پر بھی یہ کہا جاتا کہ جب اِمام قراءت کرے تو تم بھی قراءت کرو ، لیکن اِس کے بالکل برعکس یہ کہا گیا ہے کہ:”وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا“یعنی جب اِمام قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔
نوٹ:واضح رہے کہ حضرتسلیمانالتیمی﷫بخاری اورمسلم کےمشہور راوی ہیں اور بالاتفاق ثقہ اور مُتقن ہیں لہٰذا مذکورہ بالا حدیث میں ان کی ذکر کردہ یہ زیادتی بالکل مقبول ہے ، یہی وجہ ہےاِمام مُسلم ﷫نے اپنی صحیح میں یہ زیادتی ذکر کرکے اُسے صحیح قرار دیا ہے۔علاوہ ازین یہ زیادتی نقل کرنے میں حضرت سلیمان التیمی﷫متفرّد بھی نہیں کہ ان پر تفرّد کا اِلزام لگایا جاسکے،بلکہ اور بھی کئی راویوں نے دوسری روایات میں اِسی زیادتی کو نقل کیا ہے،چنانچہ حضرت ابوعُبیدہ﷫کی روایت کیلئے دیکھئے(مستخرج ابی عَوانہ:1698) حضرت عمر ابن عامر﷫اور حضرت سعید بن ابی عَروبہ﷫ کی روایت دیکھئے(دار قطنی:1249)