یہی وجہ تھی کہ جیسے جیسے حضور پاک﷑ پر تسلی کا مضمون اُترتاویسے ویسے آپ(﷑) کی خشیت بڑھتی جاتی تھی۔آپ نماز میں کھڑے ہوتے اور پوری پوری رات نماز میں گزار دیتے۔ صحابہ﷢ عرض کرتے کہ اے اللہ کے رسول ﷑! آپ کیوں اتنی مشقت اُٹھاتے ہیں؟ توآپ یوں فرماتے:
’’أفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْراً‘‘ ۱؎’’کیا میں خدا کا شکرگزار بندہ نہ بنوں‘‘
خشیت میں یہ ہوتا ہے کہ جتنی تسلی ہوتی ہے اتنی ہی اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ خشیت والے:
اسی واسطے حضور پاک﷑نے ارشاد فرمایا:
’’وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَتْقَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَخْشَا کُمْ لَهٗ‘‘ اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اورتم سب سے زیادہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے خشیت رکھنے والا ہوں ۔۲؎چونکہ اللہ پاک کی عظمت کو حضور ﷑ ہی زیادہ پہچانتے تھے،اس لئے آپ میں سب سے زیادہ خوف اور سب سے زیادہ خشیت تھی۔
خشیت الٰہی سے مکھی کے سر کے برابر بھی آنسو نکلنے پرجہنم حرام :
ایک حدیث میں ہے:
’’مَا مِنْ عَبْدٍ مُّؤْمِنٍ يَّخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دُمُوْعٌ وَإِنْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ… إِلَّا حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَى النَّارِ‘‘۳؎
’’کوئی مومن بندہ جس کی آنکھوں سے اللہ کی خشیت اور خوف کی وجہ سے آنسو نکل جائیں، اگرچہ کہ مکھی کے سر کے برابر ہومگر یہ کہ اللہ پاک اس پر آگ حرام کردیتے ہیں‘‘۔
------------------------------
۱؎:صحیح بخاری: ابواب التھجد ؍باب قیام النبی حتی ترم قدماہ۔ ۲؎:صحیح مسلم :کتاب الصیام؍باب بیان ان القبلۃ فی الصوم لیست محرمۃالخ۔ ۳؎:سنن ابن ماجہ:کتاب الزھد،۴۱۸۷۔