انقضائہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الطلاق / فصل فیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ ۱؍۴۷۲ زکریا، وکذا في تبیین الحقائق، کتاب الطلاق / باب الرجعۃ ۳؍۱۶۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۴؍۶؍۱۴۳۱ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
’’یہ بچہ میرا نہیں تم کسی کے پاس سے لائی ہو‘‘ کہنے سے نکاح کا حکم؟
سوال(۳۶۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ بچہ میرا نہیں، تم کسی کے پاس سے لائی ہو، آیا اِس صورت میں زید کا نکاح صحیح ہے یا باطل؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: محض بچہ کے نسب سے اِنکار موجبِ تفریق نہیں ہے، بچہ شوہر زید ہی کا شمار ہوگا اور زوجین کا نکاح برقرار رہے گا۔
وقولہ: وہو فراش المنکوحۃ ومعتدۃ الرجعي؛ فإنہ فیہ لا ینتفی إلا باللعان۔ (شامي ۳؍۵۵۰ کراچی) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۲؍۱۱؍۱۴۱۱ھ
’’بیوی میرے لئے حرام ہے‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
سوال(۳۶۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عبد اﷲ کی شادی ہوئی دونوں میں میل محبت تھا، اسی دوران عبد اﷲ کا اپنے والدین سے بیوی کے تعلق سے کسی بات پر ناراضگی ہوگئی، عبد اﷲ اپنے والدین سے کچھ دوری پر رہتا تھا، اس لئے کبھی کبھی بذریعہ فون عبداﷲ اور اس کے والدین کے درمیان بحث ومباحثہ بھی ہوتا رہتا ہے، ایک دن فون پر ہی عبداﷲ کی اپنے والدین سے بیوی کے کسی مسئلہ کو لے کر تکرار ہوگئی، چناںچہ عبداﷲ کو غصہ