آیا اور اس نے فون پر ہی اپنی والدہ سے یہ کہہ دیا کہ جب بیوی ہی کی وجہ سے ساری ناراضگی ہے، تو بیوی میرے لئے حرام ہے، یہ جملہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا، جب کہ شوہر کی نیت باپ کو ڈرانے کی تھی، بیوی کو طلاق دینا مقصود نہیں تھا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں شوہر کا یہ کہنا کہ ’’بیوی میرے لئے حرام ہے‘‘، اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، اور زوجین کا آپسی تعلق ختم ہوگیا، ہاں البتہ اگر اس کے بعد دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو دوبارہ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں۔
عن إبراہیم قال: إن نوی طلاقا، فأدنی ما یکون من نیتہ في ذٰلک واحدۃ بائنۃ، إن شاء و شاء ت تزوجہا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۹؍۶۰۲ رقم: ۱۸۴۹۳)
أفتی المتأخرون في أنت علی حرام بأنہ طلاق بائن للعرف بلانیۃ۔ (شامي / باب الصریح ۴؍۴۶۴ زکریا)
رجل قال لامرأتہ: ’’أنت حرام عليَّ‘‘ والحرام عندہ طلاق لکن لم ینو طلاقا وقع الطلاق۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴؍۴۴۹ رقم: ۶۶۳۹ زکریا)
وینکح مبانتہ مما دون الثلاث في العدۃ و بعدہا بالاجماع۔ (الدر المختار مع الشامي / باب الرجعۃ ۵؍۴۰ زکریا) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۵؍۷؍۱۴۲۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
’’میرا تمہارا رشتہ ٹوٹ گیا‘‘ کہنے سے طلاق
سوال(۳۶۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے دسمبر ۱۹۸۷ء کو اپنی بیوی کو دو مرتبہ طلاق دی چار مہینہ کے اندر اندر رجوع بھی کرلیا اس کے چھ مہینہ کے بعد زید کی بیوی نے زید سے بات کی تو زید نے کہا کہ تمہارا ہمارا رشتہ ٹوٹ چکا ہے، اِن ۶ یا ۷؍ سال کے عرصہ میں جب بھی زید کے سمجھانے کی کسی نے یا بیوی نے بات کی، تو اس