رجعی واقع ہوگئی ہے، اگر وہ عدت کے اندر اندر رجعت کرنا چاہے تو درست ہے، اور رجعت کے لئے ہمبستری ضروری نہیں ہے؛ بلکہ زبانی اور ٹیلیفون پر بھی رجعت کی جاسکتی ہے۔
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل، ولو عبدا أو مکرہا؛ فإن طلاقہ صحیح۔ (الدر المختار مع الشامي ۴؍۴۳۸ زکریا)
ویقع بہا أي بہذہ الالفاظ، وما بمعناہا من الصریح واحدۃ رجعیۃ، وإن نوی خلافہا أو لم ینو شیئا۔ (الدر المختار مع الشامي ۴؍۴۵۸ زکریا)
وتصح الرجعۃ مع إکراہ وہزل ولعب وخطأ بنحو راجعتک ورددتک ومسکتک بلا نیۃ؛ لأنہ صریح۔ (الدر المختار مع الشامي ۵؍۲۴ زکریا) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲؍۲؍۱۴۲۵ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
طلاقِ رجعی
سوال(۴۸۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی بیوی ہندہ نے برائے نماز مصلیٰ بچھایا، زید نے کہا کہ ابھی نماز کی نیت مت کر میں یہ سامان اتارلوں، ہندہ نے نیت باندھ لی، زید جب سامان اتارکر پیچھے کو ہٹا تو کوئی چپل ہندہ کے لگ گیا، نماز پڑھ کر ہندہ اور زید میں قدرے جھگڑا ہوگیا، زید اپنی بیوی ہندہ سے بولا کہ تیری ان باتوں پر طلاق بھی دے سکتا ہوں، پھر تھوڑی دیر کے بعد زید بولا کہ میں نے تجھے طلاق دی، اس کے بعد دو تین ماہ ہندہ زید کے پاس بیوی بن کر رہی، زید اُس سے ہنسی مذاق خلوت سب طرح سے پیش آتا رہا، جب ہندہ اپنے باپ کے گھر پہنچی، تو اپنے والدین سے ہندہ نے کہا کہ مجھ سے اس طرح کہا تھا کہ میں نے تجھے فارغ خطی دی، طلاق کا لفظ نہیں آیا تھا، زید نے کہا میں نے لفظ طلاق کہا تھا،آپ شریعتِ مقدسہ کی روشنی میں مسئلہ کا حل فرماکر ممنون ومشکور ہوں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں چوںکہ زید ایک طلاق کا اقرار کررہا ہے؛ لہٰذا اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے، پھر حسبِ تحریر سوال بعد میں وہ