مسلمان بچوں کو مرتد بنانے کی سازش
مسلمان بچوں کو مرتد بنانے کی سازش


الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی!
کسی قوم و ملک کی تعمیر و ترقی اور عظمت و سربلندی میں اس کی تعلیم، معیارِ تعلیم اور نصاب تعلیم، ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلاشبہ نصابِ تعلیم انسان کو اخلاقی قدروں سے آگاہ اور روشناس کرتا ہے، نصابِ تعلیم انسان کی ذہنی اور فکری تعمیر و تربیت کرتا ہے، نصابِ تعلیم کے ذریعہ انسان کے قلبی رجحانات اور طبعی احساسات کی تعمیر و تخریب ہوتی ہے، نصابِ تعلیم انسان کے دین و مذہب کی اساس و بنیاد کا کردار ادا کرتا ہے اور نصابِ تعلیم ہی انسان کو دین دار و بے دین اور مسلم و کافر بناتا ہے۔ کیونکہ نصابِ تعلیم ہی نئی نسل کی ذہنی اور فکری تعمیر، ترقی اور تربیت میں بنیادی پتھر کا کردار ادا کرتا ہے، اس لئے کہ ایک معصوم بچہ یا خالی الذہن طالب علم شروع دن سے جو کچھ درس گاہ اور اساتذہ سے سنے گا، اس کے دل و دماغ اور تحت الشعو ر میں نقش کالحجر ہو جائے گا۔ اسی فلسفہ کے تحت ہر نبی اپنی امت کے لئے معلم اور وحی الٰہی اس کا نصابِ تعلیم ہوتا ہے، چنانچہ اللہ کا نبی ان خدائی تعلیمات کی روشنی میں اپنی امت اور ماننے والوں کی ذہنی اور فکری تربیت کرتا ہے، اور اپنی امت کو انہی خطوط پر گامزن کرکے رشک ملائک بناتا ہے۔ اس کے برعکس جس قوم و ملت کا نصاب ناقص ہو، یا اس کی درس گاہ کے نظام تعلیم میں کجی اور جھول ہو، وہ کامل، مکمل اور ترقی یافتہ نہیں کہلاسکتی۔ وہ ناقص، نامکمل، ادھوری، غیر مہذب اور غیر ترقی یافتہ کہلائے گی، کیونکہ وہ ہر معاملہ میں دوسروں کی دست نگر اور محتاج ہوگی۔ بلاشبہ اسلام ایک مکمل ضابطہٴ حیات ہے، اس میں کسی اعتبار سے کوئی جھول، نقص یا کمی نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں انسان کے بچپن، جوانی، بڑھاپے، زندگی، موت، مابعدالموت اور ایمان و عقیدہ سے متعلق واضح تعلیمات موجود ہیں، مثلاً ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ ، اس کے ملائک، آسمانی کتابوں، انبیاء، رسولوں، یوم آخرت،اچھی بُری تقدیر، مرنے کے بعد جی اٹھنے، جنت و جہنم میں لے جانے کا سبب بننے والے اعمال ،حساب، کتاب، میزانِ عمل، میدانِ حشر اور پلِ صراط وغیرہ کے بارہ میں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دیکھا جائے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کا بھی قریب قریب یہی نصاب تھا، آخر میں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نصاب کی تکمیل وتتمیم فرمائی اور یہود و نصاریٰ کی جانب سے اس میں جو جو اضافے یا کوتاہیاں در آئی تھیں، یا اس میں غلط عقائد و نظریات اور باطل رسم و رواج شامل ہوگئے تھے، ان کی اصلاح فرماکر اس کو کامل و مکمل فرمادیا، اس لئے ارشاد ہوتا ہے:
”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ (المائدہ:۳)
ترجمہ:… ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین کے پسند کیا۔“ اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے درج ذیل ارشادات میں واضح فرمایا کہ:
الف:… ”انما بعثت معلماً“ (مشکوٰة، ص:۳۶)
میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔
ب:… ”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ (کنزالعمال، ج:۱۱،ص:۴۲۰)
میں عمدہ اخلاق کی تعلیم و تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ چونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ نئی نسل اور خالی الذہن افراد کو جیسی تعلیم اور جیسی فکر و سوچ دی جائے گی، انہیں خطوط پر اس کی ذہنی، فکری نشوونما ہوگی اور اس کے دل و دماغ میں دین و مذہب اور ایمان و عقیدہ کے اسی طرح کے نقوش مرتب ہوں گے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدیناور چودہ صدیوں کے اکابرین امت نے اسی غرض سے امت کے لئے ہمیشہ ایسا نصابِ تعلیم مرتب فرمایا کہ اس کی برکت سے حق و سچ اور کذب و باطل نکھر کر سامنے آگیا۔ مگر اے کاش! کہ اب امتِ مسلمہ کی تعلیم و تربیت اور نصابِ تعلیم کی ترتیب و تدوین ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی ہے، جو خیر سے خود ہی دین و مذہب اور نصوصِ قطعیہ سے ناآشنا ونابلد ہیں، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی مرتب کردہ ساتویں جماعت کے لئے پنجابی کی دوسری کتاب کے ص:۳، پر جناب غفران سید صاحب کے مضمون ”ساڈے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم “کے شروع میں درج ہے:
”پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم باراں ربیع الاول نوں پیر دہاڑے دی پیاری سویر ویلے عرب دے مشہور تے مبارک شہر مکے وچ بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا دے گھر پیدا ہوئے، اوس ویلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نوں وفات پائیاں پنج سو اکہتر ورہے ہوچکے سن۔“ (پنجابی دی دوجی کتاب، ستویں جماعت لئی، ترمیم شدہ ص:۳)
کون نہیں جانتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت واقع نہیں ہوئی؟ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھالیا ہے اور قرب قیامت میں جب وہ نازل ہوں گے تو تمام اہلِ کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ، وکان اللہ عزیزاً حکیما، وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ۔“ (النساء: ۱۵۷، تا ۱۵۹)
ترجمہ:… ”اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک، بلکہ اس کو اٹھالیا اللہ نے اپنی طرف، اور اللہ ہے زبردست حکمت والا اور جتنے فرقے ہیں اہلِ کتاب کے سو عیسیٰ پر ایمان لائیں گے اس کی موت سے پہلے۔ “
اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے اور قرب قیامت میں ان کے زندہ آسمان سے نازل ہونے اور ان کے کارناموں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
”والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسرالصلیب ویقتل والخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتی لایقبلہ احد…“ (صحیح بخاری ص:۴۹، ج:۱)
ترجمہ:… ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، عنقریب تمہارے درمیان (عیسیٰ) ابن مریم عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے، پس وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جنگ کو موقوف کردیں گے اور مال اس قدر لٹائیں گے کہ اس کو قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔“ قرآن کریم، احادیث متواترہ اور نصوص قطعیہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ان پر موت واقع ہوئی ہے، مگر اے کاش! کہ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کے بزرچ مہر اور مرتبین نصاب اس کے برعکس فرماتے ہیں کہ:
”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول کو پیر کے دن کی پیاری صبح کے وقت عرب کے مشہور اور مبارک شہر مکہ مکرمہ میں بی بی آمنہ کے گھر پیدا ہوئے اور اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو پانچ سو اکہتر سال ہوچکے تھے۔“
کیا کہا جائے کہ یہ لوگ دین و مذہب سے آشنا ہیں یا جاہل و لاعلم؟ کیا ایسے لوگ جو قصداً اور جان بوجھ کر قرآنی نصوص، احادیث متواترہ اور چودہ صدیوں کے اکابر و محققین کے متفقہ اور اجماعی عقیدہ سے متصادم عقائد و نظریات کی تعلیم و ترویج کے مرتکب ہوں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی؟ کیا ایسے بدقماشوں کے خلاف ملکی قانون حرکت میں نہیں آتا؟ کیا یہ ہاٹ میٹر نہیں؟ کیا اس کے خلاف محکمہ انفارمیشن کو ایکشن لیتے ہوئے شرم آتی ہے؟ بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ قادیانیوں اور یہودیوں کے علاوہ کسی مسلمان کا نہیں ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی بدباطن قادیانی نے عیاری و چالاکی سے مسلمان بچوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ مضمون شامل کیا ہو؟ اگر ایسا ہے تو کیا اس کے خلاف کوئی چارہ جوئی نہیں ہوگی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مرتبین نصاب میں اسلام دشمن قادیانی اور مرزائی مہرے موجود ہوں؟ اور وہ منصوبہ بندی سے مسلمان نو نہالوں کو مرتد بنانے کی سازش میں مصروف ہوں؟ اگر ایسا ہے تو اس کے سدباب کے لئے کس کا دروازہ کھٹکھٹایاجائے؟؟ اس سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس کفریہ عقیدہ اور مضمون پر مشتمل کتاب کی ثقاہت و تصدیق پر وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی صاحب کا بایں الفاظ پیغام بھی موجود ہے:
”وزیر اعلیٰ (پنجاب) کا پیغام“
”عصرِ حاضر علمی ترقی کی انتہاؤں کو چُھو رہا ہے، ترقی یافتہ اقوام کا طرئہ امتیاز اعلیٰ تعلیمی معیار ہے، اس مقصد کے حصول میں نصاب اور درسی کتب کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہماری حکومت کا تعلیمی میدان کو فوقیت دینا ثابت کرتا ہے، نصاب کی ازسر نو تشکیل کے ساتھ ساتھ درسی کتب کی تصنیف و تدوین میں بھی ہم نے کہنہ مشق ماہرین کی خدمات حاصل کیں جو اعلیٰ معیارِ تعلیم کے حصول میں یقینا ممدومعاون ہوں گی۔ عزیز طلبہ و طالبات! زندگی کے اعلیٰ معیار کے حصول میں علمی ترقی اور اعلیٰ معیار بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں، ہماری حکومت اس بنیاد کی فراہمی کے لئے مقدور بھر کوششیں کررہی ہے۔ آپ کا فرض ہے کہ ان نصابی کتب سے استفادہ کریں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ہماری نسلِ نو جدید تعلیمی تقاضوں کو مدِ نظر رکھ کر ترقی کے اعلیٰ مدارج طے کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ چودھری پرویز الٰہی
(وزیر اعلیٰ پنجاب)۔“
گویا اس کفر کو وزارت اعلیٰ پنجاب نے بھی سند جواز فراہم کی ہے، تاکہ کسی معصوم اور مسلمان بچہ کو اس کتاب کے کسی مضمون پر ذرہ بھر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے، بلکہ اسے من و عن قبول کرکے اس کے مطابق اپنا ایمان و عقیدہ بنایا جاسکے۔
فانا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہم اربابِ حکومت اور وزارتِ تعلیم کی خدمت میں گزارش کریں گے کہ دینی مدارس کے نصاب اور نظام تعلیم اور اس کی اصلاح و ترمیم کی سوچ و فکر میں ہلکان ہونے کے بجائے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے مسلم نو نہالوں کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کی فکر کریں، اور ان کو کافر و مرتد بنانے والے دشمنانِ اسلام اور غدارانِ ملک و ملت کا تعاقب کریں۔ مانا کہ دینی مدارس اور ان کا نصاب و نظامِ تعلیم تمہارے اور تمہارے آقاؤں کے ذوق و مزاج سے میل نہیں کھاتا، مگر بحمداللہ! اس کا اطمینان رکھئے کہ دینی مدارس کے نصاب میں جس طرح ملک و ملت دشمنی کی تعلیم نہیں دی جاتی، اسی طرح دین و مذہب سے برگشتہ کرکے مسلمان بچوں کو ارتداد کی گہری غاروں میں بھی نہیں دھکیلا جاتا۔ لہٰذا جو بدبخت وزارتِ تعلیم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ناک کے نیچے بیٹھ کر مسلمان بچوں کو گمراہ کرنے اور ان کو مرتد بنانے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں، ان کو لگام دی جائے، بلاشبہ یہ ملک و ملت اور دین و مذہب کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۔
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, ذوالقعدہ ۱۴۲۸ھ دسمبر۲۰۰۶ء, جلد 70, شمارہ