کیا اسلام مکمل ضابطہ ٴ حیات نہیں؟
کیا اسلام مکمل ضابطہ ٴ حیات نہیں؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی خدمت میں!


الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ
اسلام دشمن قوتیں، ان کے آلہ کار اور ان کے وظیفہ خوار ہمیشہ سے مسلمانوں کو اذیت پہنچانے‘ ان کے جذبات سے کھیلنے‘ انہیں مشتعل کرنے‘ انہیں ذہنی کوفت و تکلیف سے دو چار کرنے‘ ان کے دینی‘ ملّی اور مذہبی احساسات کو پامال کرنے اور انہیں طیش دلانے کو اپنا فرض اور حق سمجھتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اذیت‘ تکلیف‘ اضطراب‘ بے چینی اور بے کلی و بے بسی میں ان کی دلی تسکین اور ذہنی راحت کا سامان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی گھناؤنی حرکات اور شرمناک کردار ادا کرتے رہتے ہیں‘ جس سے نہ صرف مسلمان بلکہ پوری ملت اسلامیہ تڑپ کر رہ جائے اور محمد عربی ا کے نام لیوا بلبلا اٹھیں۔ تاتاریوں کے بارہ میں سنا تھا کہ وہ کسی مسلمان کو ذبح کرتے اور اس کی کٹی ہوئی گردن پر ابلتا تیل ڈالتے‘ جب مقتول کا بہتا ہوا خون رک جاتا اور مقتول تڑپنے لگتا تو وہ تڑپتی لاش کا رقص بسمل دیکھ کر خوشی سے اچھلتے، کودتے، شادیانے بجاتے‘ دھمال اور بھنگڑہ ڈالتے، کیونکہ یہ انسانیت سوز کھیل اور مسلم دشمنی پر مبنی شرمناک سفاکیت، ان درندوں کا محبوب مشغلہ تھا… شنید ہے کہ ماضی قریب میں ان کے جانشینوں نے افغانستان میں بھی مسلمانوں کے خلاف اسی قسم کی سفاکیت کا مظاہرہ کرکے تاتاری ظلم وتشدد اور بربریت کی تاریخ دھرائی ہے۔ کچھ یہی سلوک اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے۔ اور مسلمان اس وقت ٹھیک اسی طرح کی تکلیف دہ اور اذیت ناک صورتِ حال سے دوچار ہیں، چنانچہ دور ِحاضر کے تاتاری اور انسان نما درندے مسلمانوں کو تڑپا‘ تڑپا کر خوش ہوتے ہیں اور ان کے جذبات سے کھیل کر مسرت کے شادیانے بجاتے ہیں۔ جیساکہ سطور بالا سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ شرمناک کھیل آج کا نہیں بلکہ روزِ اول سے چلا آرہا ہے‘ لیکن اب کچھ عرصہ سے اس جبر، ظلم، تشدد اور بربریت میں کسی قدر تیزی اور شدت آچکی ہے۔ ………………………………
اگر کسی زمانہ میں دین ِ الٰہی کے بانی: اکبر بادشاہ اس کے حواریوں: ابو الفضل و فیضی کے جانشین: ایئر مارشل ایوب خان اور ڈاکٹر فضل الرحمن جیسے ملحدوں نے مسلمانوں کے دین و مذہب اور منصوصات شرعیہ پر تیشہ چلا کر مسلمانوں کو آتش زیر پا کیا تھا، تو آج ان کے جانشینوں کی گز گز کی زبانیں قرآن و سنت اور دین و مذہب کے خلاف باہر آچکی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور میں ایسے ملحدوں اور دین دشمنوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی، انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتاتھا اور قرآن وسنت سے بغاوت پر مبنی ان کی ہفوات کو ”آوازِ سگاں“ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں تھی‘ چنانچہ ایسے لوگوں کو اسلام کے خلاف لب کشائی کی ہمت وجرأت نہ تھی‘ بلکہ اگر کہیں کوئی بدبخت اسلام کے خلاف منہ کھولتا تو اس کے خلاف شورِ قیامت برپا ہوجاتا اور اس کے نقد و محاسبہ کے لئے اہلِ علم، علمأ اور صلحأ کھڑے ہوجاتے، یہی وجہ تھی کہ ایسے لوگ اپنے باطل وفاسد بلکہ کاسد نظریات کا اظہار کرنے سے پہلے سو بار سوچتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ہم مسلمانوں کے غیظ وغضب کی تاب نہیں رکھتے۔ انہیں اندازہ تھا کہ مسلمان ہمارا جینا دوبھر کر دیں گے، اس لئے وہ منافقین مدینہ کی طرح اندر ہی اندر اور زیرِ زمین اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے۔ مگر افسوس! صد افسوس کہ اب صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ کل تک جو لوگ اسلام اور شعائر ِ اسلام کے خلاف منہ کھولنے سے پہلے سو بار سوچتے تھے، اب وہ بلاتردد سینہ تان کر مسلمانوں کے خلاف میدان میں آچکے ہیں۔ اب وہ کھلے عام اسلام اور شعائر اسلام پر حملہ آور ہیں‘ مگر ان کو جواب دینے کے لئے کوئی آمادہ نہیں، وہ منصوصات شرعیہ کا انکار کرتے ہیں‘ لیکن ان کی زبان کو لگام دینے کی کسی میں ہمت نہیں۔ چنانچہ اب کھلے عام قرآن وسنت کا انکار کیا جاتاہے، اسلام، اسلامی احکام اور شعائر ِ اسلام پر طنز و تنقید کے تیر برسائے جاتے ہیں، مسلمانوں کی دینی، ملی اور ایمانی غیرت کو للکارا جاتا ہے، انہیں ذہنی کرب و اذیت سے دوچار کیا جاتا ہے، لیکن اس کے سدِّباب اور اس کے سامنے بند باندھنے کی کوئی تدبیر نہیں کی جاتی، شاید اس لئے کہ دنیائے کفر‘ اسلام دشمن قوتیں‘ ہماری حکومت‘ حکومتی ارکان‘ بیوروکریسی اور نام نہاد اسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ ان آستین کے سانپوں کی پناہ گاہ ہیں، اس کے علاوہ نظری، بصری میڈیا‘ اخبارات ورسائل بھی ان کی پشت پر ہیں‘ ان کی ہفوات اور شرانگیز بیانات، اخبارات ومیڈیا کی زینت بنتے ہیں، مگر ہائے افسوس! کہ مسلمان ان کے دانت توڑنے کی پوزیشن میں نہیں،چنانچہ دور حاضر کے ابو الفضل وفیضی کا ایک بیان پڑھیئے اور سر دھنیئے!
”اسلام آباد (آئی این پی) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے‘ یہ مولانا مودودی کی فکر تھی‘ اسلام صرف مکمل دین ہے‘ اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سرکا‘ یہ محض معاشرتی رواج ہے‘ حجاب صرف نبی کی ازواج کے لئے تھا‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک خصوصی انٹرویو میں کیا‘ ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ اگرچہ داڑھی سنت ہے‘ تاہم حضور اکے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں کمزو ریاں ہیں‘ ان کمزوریوں کو دور کیا جانا چاہئے‘ اسلامی قانون کے مطابق اگر کسی کے منہ سے توہین پر مبنی الفاظ نکل گئے ہیں تو اسے توبہ کا موقع ملنا چاہئے‘ لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حدود اللہ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں‘ یہ تصور فقہاء حضرات کا ہے کہ مخصوص سات جرائم کو حدود اللہ کہا جائے“۔ (روز نامہ نوائے وقت کراچی، ۷ /نومبر ۲۰۰۷ء ص:۸)
گویا کل تک جو کام اسلام دشمن نہیں کرسکتے تھے ‘ آج وہی کام ان کے نفس ناطقہ، ترجمان اور وظیفہ خوار انجام دے رہے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ یہ سب کچھ عوام کے خون پسینہ کی کمائی، قومی خزانہ اور پاکستان کے بیت المال پر پلنے والے، نام نہاد مفکرین، اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اسلامی جمہوریہ اور اس کی اسلامی نظریاتی کونسل کی چھتری کے نیچے بیٹھ کر انجام دے رہے ہیں، گویا اسلام کے نام پر ہی اسلام کی بنیادوں کو کھودا جارہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نظری‘بصری میڈیا‘ قومی اخبارات اور لادین رسائل و مجلات بھی نہایت عیاری‘ ہوشیاری اور غیر محسوس انداز میں نئی نسل کو الحاد‘ زندقہ‘ اور لادینیت و دہریت کے گہرے غاروں میں دھکیلنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں، بلکہ سادہ لوح عوام اور نئی نسل کے قلوب میں دین ومذہب سے نفرت وبیزاری کا بیچ بوکر انہیں قرآن وسنت اور دین وملت سے متنفر کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ مذکورہ بالا بیان بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے ایک ہی سانس میں اللہ، رسول، قرآن، سنت، اسلام، اسلامی دستور اور مسلمانوں کے دین و مذہب کو اتنا گالیاں دے ڈالی ہیں کہ شاید یہود و نصاریٰ اور اسلام دشمن بھی ایک سانس میں اس قدر ہرزہ سرائی کی ہمت و جرأت نہ کرپاتے، مثلاً موصوف فرماتے ہیں کہ:
۱:… اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے۔
۲:… اسلام میں چہرے اور سر کا پردہ نہیں۔
۳:… حجاب اور پردہ کا حکم صرف ازواج مطہرات کے لئے تھا… گویا مسلمان خواتین سر اور منہ چھپانے کی مکلف نہیں ہیں…
۴:… داڑھی مسلمانوں کا شعار نہیں، کیونکہ ابتدائے اسلام میں کافر و مسلم سب ہی داڑھی رکھتے تھے… گویا اس پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔
۵:… قانون توہین رسالت میں کمزوریاں ہیں اور ان کمزوریوں کو دور کیا جانا چاہئے… گویا اس قانون میں سقم ہے اور جس قانون میں کسی قسم کا سقم پایا جائے وہ ناقابلِ عمل ہوتا ہے، اس لئے یہ قانون ناقابلِ عمل ہے۔
۶:… قرآن میں حدود اللہ کا کوئی تصور نہیں… گویا چور، ڈاکو، زانی، شرابی اور قاتل وغیرہ پر کوئی حد نہیں لگنی چاہئے۔
کیا کوئی ادنیٰ مسلمان اور دین دار انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ یہ ”ارشادات“ کسی اسلامی ملک کی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین یا کسی ذمہ دار کے ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں، بلکہ کسی معمولی عقل و فہم کے انسان اور مسلمان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسلام، اسلامی آئین اور قرآنی دستور کے خلاف ایسی سوقیانہ اور گھٹیا فکر و سوچ رکھتا ہو۔
ذیل میں ہم جناب ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کے ”ارشادات“ کا نمبروار جائزہ پیش کرنا چاہیں گے:
الف:… اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین صاحب فرماتے ہیں کہ : ”اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے“ اگر گستاخی نہ ہو تو کیا ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ:
۱:… اگر نعوذباللہ! اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں تو وہ مکمل دین کیونکر ہوسکتا ہے؟ اس لئے کہ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
”ان الدین عنداللہ الاسلام“ (آلِ عمران: ۱۹)
… بے شک دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے… سوال یہ ہے کہ اگر اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں تو وہ مکمل دین کیسے ہوگا؟ کیونکہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے، دوسرے لفظوں میں موصوف کے ہاں دین ہی ناقص ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کا فیصلہ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“… (المائدہ: ۳)
… آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین…
۲:… اگر نعوذباللہ! اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ مسلمانوں کو اسلامی زندگی گزارنے کے لئے اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین و مذہب کا دروزہ کھٹکھٹانا ہوگا؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو اس کا تعین کیسے اور کیونکر ہو گا کہ کسی مسلمان کو کن امور اور معاملات میں کس دین و شریعت کی احتیاج ہوگی؟
۳:… اگر اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے تو سوال پیدا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسانوں کو اپنی منشاء کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے کوئی مکمل ضابطہٴ حیات عطا فرمایا ہے یا نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہئے، تاکہ اس کے مطابق زندگی گزار کر رضائے الٰہی حاصل کی جائے اور اگر جواب نفی میں ہے تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی توہین، تنقیص، گستاخی کے علاوہ اس کی الوہیت و ربوبیت کے انکار کے مترادف نہیں؟
۴:… اگر ڈاکٹر صاحب کی اُپچ کے مطابق اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں ہے تو یقینا کوئی دوسرا دین و مذہب ہی کامل و مکمل ضابطہٴ حیات اور دستور زندگی ہوگا، اب سوال یہ ہے کہ اس دین و مذہب اور تہذیب و ثقافت کے ماننے والوں کو… نعوذباللہ!… یہ کہنے کا حق نہیں ہوگا کہ مسلمان کامل و مکمل ضابطہٴ حیات کو چھوڑ نے اور اسلام جیسے ناقص و نامکمل ضابطہ ٴ حیات کو اپنانے کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہیں؟ کیا ڈاکٹر خالد مسعود صاحب …نعوذباللہ… پوری امت مسلمہ کو گمراہ سمجھتے ہیں؟
۵:…اگر ڈاکٹر صاحب کی اس منطق کو مان لیا جائے تو یہ تسلیم نہیں کرنا پڑے گا کہ نعوذباللہ! مسلمان بدراہ، بدعمل، جاہل اور گمراہ ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کیا یہ سلسلہ صرف موجودہ دور کے مسلمانوں تک محدود رہے گا یا نعوذباللہ! صدر اول کے مسلمان، حضرات ائمہ مجتہدین، تابعین، تبع تابعین، صحابہ کرام اور خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی اس ہرزہ سرائی کی زد میں آئیں گے؟
۶:… یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جو دین و مذہب، اپنے ماننے والوں کو مکمل ضابطہٴ حیات فراہم نہ کرتا ہو وہ قابلِ تقلید اور لائقِ اقتداء ہے؟ یا وہ جو اپنے ماننے والوں کو مکمل ضابطہٴ حیات فراہم کرتا ہو؟ ظاہر ہے جو دین و مذہب اپنے ماننے والوں کو مکمل ضابطہٴ حیات فراہم کرتا ہو، وہی قابل اعتماد ہوگا، اس اصول کی روشنی میں بتلایا جائے کہ موصوف کا یہ ارشاد اسلام کی تعریف و توصیف پر مبنی ہے یا اس کی توہین و تنقیص پر؟ اور کیا یہ مسلمانوں کو اسلام سے وابستہ کرنے کی کوشش ہے یا انہیں اسلام سے متنفر و برگشتہ کرنے کی سازش؟
۷:… کیا ہم ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھنے کی گستاخی کرسکتے ہیں کہ اسلام مکمل ضابطہ کیوں نہیں؟ اور اس ضابطہٴ حیات میں کہاں، کہاں خامیاں اور نقائص موجود ہیں؟ کیا وہ اس کی نشاندہی فرماسکتے ہیں کہ اسلام کا فلاں فلاں شعبہ تشنہ ہے؟ یا فلاں فلاں مسائل میں اسلام اپنے ماننے والوں کی صحیح راہنمائی نہیں کرتا؟
۸:… کیا موصوف اس کی نشاندہی فرماسکتے ہیں کہ ان کے نزدیک اسلامی قانون و دستور اور ضابطہٴ حیات کی تشکیل کے کون کون سے ماخذ ہیں؟ کیا وہ قرآن، حدیث، صحابہ، تابعین اور امت ِ مسلمہ کے اجماع اور امت کے عملی تواتر کو اسلام سمجھتے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو پوری چودہ صدیوں کے مسلمان جس ضابطہٴ حیات کی راہنمائی میں کامیاب زندگی گزارتے رہے ہیں، آج وہ ناقص و نامکمل کیسے بن گیا؟ اور اگر جواب نفی میں ہے تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا! کہ موصوف پوری چودہ صدیوں کی مسلم برادری کو جاہل و لاعلم اور گمراہ قرار دینے کی جسارت فرماتے ہیں؟ اور جو شخص قرآن، سنت، پیغمبرِ اسلام ، جماعت صحابہ کرام، تابعین ،ائمہ مجتہدین، امت مسلمہ کے اجماع اور عملی تواتر کا انکار کرنے کی جسارت کرے، وہ مسلمان ہے یا کافر؟
۹:… اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا اسی دین و مذہب، قرآن، حدیث اور اسلامی دستور حیات پر عمل کرنے والوں کو اولئک ہم الفائزون… وہ لوگ وہی ہیں کامیاب… اولئک ہم الراشدون… وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر… اولئک ہم المفلحون… وہ لوگ وہی ہیں فلاح پانے والے… اولئک حزب اللہ… وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا… اولئک اصحاب الجنة… وہی ہیں جنت میں رہنے والے… اور رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ … اللہ ان سے رضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے… کی نوید اور خوشخبری کیوں سنائی؟ کیا کبھی ناقص و نامکمل ضابطہٴ حیات پر عمل کرنے والا کامیاب، نجات و فلاح یافتہ اور اللہ کی رضاورضوان کی نوید و خوشخبری کا مستحق قرار پاسکتا ہے؟
۱۰:… اگر بالفرض ان کی یہ بات تسلیم کرلی جائے … کہ اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں… تو کیا ان کی یہ ہرزہ سرائی اللہ تعالیٰ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کے مترادف نہیں؟ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک ناقص و نامکمل ضابطہٴ حیات کیوں دیا؟
۱۱:… بالفرض اگر اسلام مکمل ضابطہٴ حیات نہیں تھا تو کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض نہ تھا کہ وہ اپنی امت کو بتلاتے کہ اسلام میں فلاں فلاں جگہ نقص اور کمی ہے، اور اس کی تکمیل کے لئے فلاں فلاں دین و مذہب اور قانون و دستور سے مدد لی جائے؟ مگر دنیائے اسلام جانتی ہے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کسی قسم کی کوئی نشاندہی نہیں فرمائی، تو کیا کہا جائے کہ …نعوذباللہ… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے ساتھ خیانت کی ہے؟ کیا ایسا کہنا سمجھنا یا سوچنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت کے انکار کے مترادف نہیں؟ اور جو شخص اسلام، پیغمبرِ اسلام، قرآن اور سنت کے خلاف ایسی فکر و سوچ رکھتا ہو وہ کیا کہلانے کا مستحق ہے؟
۱۲:… ایک طرف حضرات صحابہ کرام کی یہ گواہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو پیدائش سے موت اور مابعد الموت تک کے ہر ہر مرحلہ میں پیش آنے والے تمام معاملات کی نشاندہی فرمائی تھی، حتی کہ پیشاب ،پاخانہ استنجا اور وضو کا طریقہ بھی آپ نے سکھلایا اور بتلایا ہے، دوسری طرف اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین صاحب کا دعویٰ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ناقص و نامکمل ضابطہٴ حیات دے گئے۔ کیا کہا جائے کہ اسلام کی تکمیل کے سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثاروں کی گواہی معتبر ہے یا پندرھویں صدی کے ایک نام نہاد ملحد کی ثولیدہ فکری؟
دراصل ڈاکٹر صاحب زندگی بھر بیرونی تعلیم گاہوں اور ملحد اساتذہ کے زیر تربیت رہے ہیں جن کے الحاد و زندقہ نے ان کے قلب و دماغ میں جگہ پکڑلی ہے، اس لئے اب موصوف ان کی اسی ملحدانہ فکر سے سوچتے، ان کی آنکھوں سے دیکھتے اور انہیں کی زبان سے بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو مسلمانوں کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی بلکہ ان کی مغربی عینک میں ہر چیز ناقص و نامکمل نظر آتی ہے، حتی کہ ان کو اسلام بھی نامکمل و ناقص دکھائی دیتا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی مسلمان خالص قرآن و سنت پر عمل کرکے پکا سچا مسلمان کہلائے، بلکہ ان کے نزدیک اسلام اور اسلامی دستور اور قانون وہی معتبر ہے، جس پر مغرب اور مغربی آقاؤں کی مہر تصدیق ثبت ہو۔ اس کے برعکس جس دین، مذہب کی تکمیل و تتمیم پر اللہ، رسول، قرآن، حدیث ، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین، اجماع امت اور پوری امت مسلمہ کے عملی تواتر کی سند موجود ہو، وہ ان کے نزدیک ناقص و نامکمل ہے، کیونکہ اس پر اساتذہٴ مغرب اور ان کے نامور تلامذہ اسلم جیرا جپوری، عبداللہ چکڑالوی، غلام احمد پرویز اور مرزا غلام احمد قادیانی کی سند تکمیل اور مہر تصدیق ثبت نہیں ہے۔
ب:…موصوف ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”اسلام میں چہرہ اور سر کا پردہ نہیں ہے۔“
ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمان کہ اسلام میں چہرہ اور سر کا پردہ نہیں ہے، یہ ان کی ذاتی رائے اور ان کے دل کے چور کی ترجمانی ہے، ورنہ قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور پوری امت کا عملی تواتر اس کی نفی کرتا ہے۔
درحقیقت موجودہ دور کے لادین عناصر منصوصاتِ شرعیہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے، مسلمانوں کو مادر پدر آزاد کرنے، خواتین کو کوچہ و بازار میں لانے، انہیں بے قیمت جنس بنانے، عریانی، فحاشی اور جسم فروشی کو عام کرنے کے لئے ایک منظم سازش کے تحت یہ سب کچھ کررہے ہیں، چنانچہ بے پردگی کو رواج دینے اور پردہ جیسے حکم شرعی کو بے وزن کرنے کی آوازیں بھی انہیں طبقات کی جانب سے بلند ہورہی ہیں جنہیں خود مقدس رشتوں کا پاس نہیں ہے اور جن کے ہاں کسی کی ماں، بہن، بیٹی اور بہو کی کوئی عزت نہیں ہے، وہ جنسی بھوک مٹانے کے لئے کسی شرعی ضابطہ اور اسلامی قانون اور اخلاقیات کی پابندیوں کے قائل نہیں ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ مغرب اور یورپ کی طرح یہاں کا معاشرہ بھی مادر پدر آزاد ہوجائے، یوں جب، جہاں اور جس سے دل چاہے اس سے سر عام جنسی تقاضا پورا کرلیا جائے۔ چونکہ شرعی لباس، حجاب اور پردہ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس لئے وہ بھولی بھالی عوام اور سیدھے سادے مسلمانوں کو اس ”قید“ سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ ملی حمیت اور دینی غیرت سب سے بڑی نعمت ہے اور یہ مسلمانوں کا طرئہ امتیاز ہے، ان کا خیال ہے کہ کسی طرح مسلمانوں سے یہ جوہر چھین لیا جائے اور انہیں بھی یہود و نصاریٰ اور دوسری بے ضمیر اقوام کی طرح بے ضمیر و بے غیرت بنادیا جائے۔ ورنہ قرآن کریم، احادیث مبارکہ، پوری امت مسلمہ کا چودہ سو سالہ تعامل، عملی تواتر اور علماء و محققین کی تحقیقات کی روشنی میں چہرہ اور سر کا پردہ واجب ہے اور اس کا ترک کرنا گناہ اور بہت سے اخلاقی و شرعی مفاسد کا ذریعہ ہے۔ چہرے اور سر کے پردہ سے متعلق درج ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں: صحیح بخاری میں ہے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے گھر میں نیک صالح اور فاسق و فاجر ہر طرح کے لوگ آتے ہیں اگر آپ امہات المومنین کو پردہ کا حکم دے دیں تو کیا ہی اچھا ہو؟ اس پر سورئہ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی:
”واذا سألتموہن متاعاً فاسئلو ہن من وراء حجاب، ذالکم اطہر لقلوبکم وقلوبہن وماکان لکم ان توذُوا رسول اللہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدًا ان ذالکم کان عنداللہ عظیماً۔“ (الاحزاب: ۵۳)
ترجمہ:… ”جب تمہیں ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو پردہ کے پیچھے سے پوچھا کرو‘ یہی تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے پاکیزگی کا ذریعہ ہے‘ اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ اللہ کے رسول کو ایذا دو‘ اور نبی کی ازواج کے ساتھ نبی کی وفات کے بعد کبھی نکاح نہ کرو‘ کیونکہ یہ اللہ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے۔“ (صحیح بخاری ص:۷۰۶‘ ج:۲)
اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پردہ کا حکم کتنا اہم ہے‘ اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین دور کے پاک باز اور پاکیزہ لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ وہ ازواج مطہرات سے اور ازواج مطہرات ان سے پردہ کیا کریں‘ اور اگر کبھی کوئی ضروری مسئلہ پوچھنا ہو یا کوئی معلومات کرنا ہوں تو بلا حجاب نہیں‘ بلکہ پردہ کے اندر رہ کر کیا کریں‘ یہ تمہارے اور ازواج مطہرات کے قلوب کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ غور فرمایئے! یہ ان لوگوں کے لئے ارشاد ہے‘ جن کو یہ کہا جارہا ہے کہ ازواج مطہرات ان کی مائیں ہیں اور نبی کی ازواج کے ساتھ نبی کی رحلت کے بعد ان کا نکاح کرنا ناجائز ہے‘ کیونکہ یہ اللہ کے ہاں بہت بڑا گناہ ہے۔ بے پردگی کے حامی اور پردہ کے مخالف اس ڈاکٹر صاحب سے کوئی پوچھے کہ اس دور کے ہوس پرستوں اور دعوت گناہ دیتی ان تتلیوں کے لئے یہ حکم کیوں نہ ہوگا؟ کیا ان کے قلوب صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے دلوں سے زیادہ پاکیزہ ہیں؟ کیا دور حاضر کے ان مردوں اور عورتوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا؟ کیا بے پردہ پھرنے والی یہ تمام پریاں ان کی مائیں اور بہنیں ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ اس حکم سے کیوں مستثنیٰ ہیں؟ صرف اس لئے کہ ان کو اللہ کے حکم‘ دین و شریعت‘ شرافت دیانت اور عصمت و پاکیزگی سے دشمنی اور چڑ ہے؟ اور وہ بھی محض اس لئے کہ چشم بددور مغرب کی اندھی تقلید میں خواتین کو اپنی ہوس پرست نگاہوں کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ چہرہ کا پردہ ہے یا نہیں؟ اس کے لئے صرف اتنا عرض ہے کہ پردہ چونکہ فتنہ اور گناہ کے سدباب کے لئے ہے‘ اس لئے چہرہ بھی بنیادی طور پر پردہ میں داخل ہے‘ البتہ کچھ لوگ پردہ کے حکم کو خفیف اور ہلکا کرنے کے لئے یہ کہا کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے خواتین کو اپنے پوشیدہ اعضاء کے پردہ کا حکم دیا ہے‘ رہے وہ اعضاء جو کھلے ہوئے ہوں‘ وہ اس سے مستثنیٰ ہیں‘ چونکہ چہرہ کھلا ہوا ہوتا ہے‘ اس لئے اس کا پردہ نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں چند امور پیش نظر رہنا چاہیں:
اول:… چہرہ کھلے اعضاء میں سے نہیں‘ کیونکہ اگر اس کا پردہ نہ ہوتا یا اس کو چھپانے کا حکم نہ ہوتا تو صحابہ کرام کو ازواج مطہرات سے پردہ کے پیچھے بات چیت کرنے کا حکم نہ دیا جاتا؟
دوم:… چہرے کے علاوہ دوسرے اعضاء تو پہلے سے لباس میں مستور اور چھپے ہوئے ہوتے ہیں تو ان کے پردہ کا کیا معنٰی؟ کیا پردہ کا حکم خواتین کے لباس کو ہے؟ کیا کوئی معمولی عقل و خرد کا آدمی اس کو تسلیم کرسکتا ہے؟
سوم :… پردہ کی مشروعیت اور اس کا حکم دلوں کو فتنہ سے بچانے کے لئے دیا گیا ہے‘ جیسا کہ سورئہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوچکا ہے‘ تو بتلایا جائے کہ خواتین کے چہرہ کو دیکھنے سے دل متاثر ہوتے ہیں یا ان کے اعضاء کے مستورہ پر موجود لباس کے دیکھنے سے؟ اگر چہرہ دیکھنے سے دل متاثر ہوتے ہیں اور یقینا متاثر ہوتے ہیں تو اس کے پردہ کا حکم کیوں نہ ہوگا؟ اور وہ پردہ کے حکم سے کیوں مستثنیٰ ہوگا؟
چہارم:… عورت کی کشش اور جاذبیت اور اس کے حسن‘ قبح‘ خوبصورتی اور بدصورتی کا معیار اس کا چہرہ ہوتا ہے یا اس کے اعضاء پر موجود ساتر لباس؟ ہر عقلمند اس کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ باعث کشش اور محرک فتنہ اس کا کھلا چہرہ ہی ہوتا ہے‘ جب محرک فتنہ ہی چہرہ ہے تو اس کا پردہ کیوں نہ ہوگا؟
پنجم:… جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ:
”یا ایہا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیہن من جلابیبہن۔“ (الاحزاب: ۵۹)
”اے نبی اپنی بیویوں‘ صاحبزادیوں اور دوسرے مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ لٹکالیا کریں اپنے اوپر چادریں۔“
اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت ابن عباس نے … راستہ دیکھنے کے لئے ایک آنکھ کھلی رکھنے کے سوا پورا جسم اور منہ ایک چادر میں چھپا کر بتلایا کہ ہاتھ پاؤں کے علاوہ سب اس میں داخل ہے۔ (تفسیر قرطبی، ج:۴، ص:۲۴۳)
بایں ہمہ اگر کبھی کسی ضرورت سے چہرہ کھلا رہ جائے یا کھولنا پڑے تو اس کی پہلے سے پیش بندی کردی گئی کہ مردوں اور عورتوں کو اپنی آنکھیں نیچی رکھنی چاہئیں، یہ ان کی شرم گاہوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
ان تفصیلات کے بعد کوئی بے دین‘ قرآن و سنت کا منکر اور دین و شریعت کا باغی ہی شرعی پردہ کا منکر ہوگا۔
ششم:… صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے واقعہ افک کی حدیث میں مذکور ہے کہ:
”وکان صفوان بن المعطل السلمی ثم الذکوانی من وراء الجیش فادلج فاصبح عند منزلی فراٰی سوادا انسان نائم فاتانی فعرفنی حین راٰنی وکان یرانی قبل الحجاب فاستیقظت باسترجاعہ حین عرفنی فخمرت وجہی بجلبابی…“ (صحیح بخاری ص:۶۹۶‘ ج:۲ طبع نور محمد کراچی )
”… حضرت صفوان بن معطل سلمی‘ زکوانی‘ لشکر کے پیچھے تھے… جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ چلا گیا اور میں پیچھے رہ گئی اور اپنی جگہ پر بیٹھی انتظار کرتے کرتے سوگئی… تو وہ صبح صبح اس جگہ پہنچ گئے‘ وہ کسی سوتے انسان کا ہیولا اور عکس دیکھ کر قریب آئے تو انہوں نے مجھے پہچان لیا‘ اس لئے کہ انہوں نے حجاب اور پردہ کے حکم سے پہلے مجھے دیکھا تھا‘ جب انہوں نے مجھے پہچان کر ”انا للہ“ پڑھا تو میری آنکھ کھل گئی اور میں نے فوراً اپنے چہرہ کو اپنی چادر سے چھپا لیا…“
بتلایا جائے کہ اگر چہرہ کا پردہ نہیں تھا تو ام المومنین یہ کیوں فرماتیں کہ: ”پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا تھا؟“ اسی طرح اگر چہرہ کا پردہ نہیں تھا تو صدیقہٴ کائنات نے جاگنے پر اپنے چہرہ کو کیوں چھپایا تھا؟ کیا اب بھی اس میں کوئی اشکال و ابہام باقی رہ جاتا ہے کہ چہرہ کا پردہ نہیں ہے‘ یا چہرہ پردہ کے حکم سے مستثنیٰ ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو کیا کہا جائے کہ ڈاکٹر خالد مسعود جیسے ان ابو الہوسوں کا قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ پر ایمان ہے؟
ہفتم:… صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے رضاعی چچا… ابوقعیس کے بھائی… افلح کے حضرت عائشہ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہنے اور حضرت عائشہ کے اجازت نہ دینے کے سلسلہ میں مروی ہے:
”عن عائشة انھا قالت جاء عمی من الرضاعة فاستأذن علی فابیت ان اٰذن لہ حتی اسأل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسالتہ عن ذٰلک فقال انہ عمک فأذنی لہ…قالت عائشة  وذٰلک بعد ان ضرب علیناالحجاب…“ (صحیح بخاری ص:۷۸۸‘ ج:۲‘ طبع نور محمد کراچی)
ترجمہ: … ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ میرے رضاعی چچا… افلح رضی اللہ عنہ… نے میرے گھر اور میرے پاس آنے کی اجازت چاہی تو میں نے ان کو یہ کہہ کر گھر میں داخل ہونے سے منع کردیا کہ میں جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں‘ اجازت نہ دوں گی۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں نے اس سلسلہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ تو تیرے چچا ہیں اور چچے سے پردہ نہیں ہے‘ لہٰذا وہ تیرے گھر میں آسکتے ہیں‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا۔“ ارشاد فرمایا جائے کہ اگر چہرہ کا پردہ نہیں تھا تو حضرت عائشہ اتنا احتیاط کیوں فرماتیں کہ رضاعی چچے کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر گھر میں آنے سے منع فرما رہی ہیں؟ اس کے علاوہ خود فرماتی ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب پردہ کا حکم نازل ہوگیا‘ معلوم ہوا پہلے اس طرح کا آنا جانا منع نہ تھا‘ لیکن جب حجاب کا حکم نازل ہوا‘ تو آپ نے رضاعی چچا کو بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ معلوم کئے بغیر‘ گھر میں آنے سے روک دیا تھا‘ حالانکہ رضاعی رشتوں کا وہی حکم ہے جو حقیقی رشتوں کا ہوتا ہے۔
ہشتم:… حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حجة الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اپنے اور ازواج مطہرات کے حالت احرام میں پردہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
”عن عائشة  قالت کان الرکبان یمرون بنا ونحن مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محرمات فاذا جاوزوا بنا سدلت احدانا جلبابہا من رأسہا علی وجہہا فاذا جاوزونا کشفناہ۔ رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔“
(مشکوٰة ص:۲۳۶)
ترجمہ: … ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ہم (حجة الوداع میں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حالت احرام میں تھیں، جب سوار ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے سر سے نیچے اپنے چہرہ پر بھی پردہ ڈال لیا کرتیں اور جب وہ ہمارے پاس سے گزر جاتے تو ہم دوبارہ اپنا چہرہ کھول لیا کرتیں۔“
بتلایا جائے کہ اگر سر کا پردہ نہیں تھا توازواج مطہرات نے اپنے سروں پر کپڑا کیوں ڈال رکھا تھا؟ اسی طرح اگر چہرہ کا پردہ نہ ہوتا تو حضرات ازواج مطہرات کو اس تکلف کی کیا ضرورت تھی؟ کہ جب حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ان کے پاس سے گزریں، وہ سر سے نیچے اپنے چہرہ کو بھی چھپالیا کریں اور جب لوگ دور چلے جائیں تو پھر چہرہ کھول لیا کریں؟ کیا یہ چہرہ اور سر چھپانے اور چہرہ کے پردہ کی واضح دلیل نہیں؟
مگر یہ تصریحات اور دلائل تو شاید ان لوگوں کے لئے دلیل حجت اور سند ہوں گے جن کا قرآن و حدیث پر ایمان ہو، اس کے برعکس جو لوگ حدیث کو سرے سے حجت و سند ہی نہ مانتے ہوں، ان کے لئے یہ حدیث کیا پورا ذخیرہ احادیث ہی کوئی حیثیت نہیں رکھتا؟
نہم:… حضرت صفیہ بنت حیی کی رخصتی کے موقع پر ان کی حیثیت کے تعین کے لئے پردہ کو ہی معیار قرار دیا گیا، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:
”عن انس قال اقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین خیبروالمدینة ثلٰثا یبنیٰ علیہ بصفیة بنت حیی فدعوت المسلمین الی ولیمتہ فما کان فیہا من خبزولا لحم امر با الانطاع فالقی فیہا من الثمر والاقط والسمن فکانت ولیمتہ فقال المسلمون احدی امہات المومنین اومما ملکت یمینہ؟ فقالوا ان حجبہا فہی من امہات المومنین وان لم یحجبہا فہی مما ملکت یمینہ فلما ارتحل واطألہا خلفہ ومد الحجاب بینہا وبین الناس…۔“
(صحیح بخاری ص:۷۶۱‘ ج:۲‘ طبع نور محمد کراچی)
ترجمہ:… ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوئہ خیبر سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا‘ اسی دوران آپ کا حضرت صفیہ بنت حُیی رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح اور رخصتی ہوئی اور آپ کے ولیمہ کی دعوت پر میں نے ہی لوگوں کو بلایا… جب اس سے فراغت ہوئی تو مسلمانوں میں یہ کھسر پھسر ہونے لگی کہ حضرت صفیہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ اور ام المومنین ہوں گی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی‘ کنیز اور حرم؟ اس پر صحابہ کرام نے کہا دیکھتے ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے پردہ کرایا تو ہم سمجھیں گے کہ یہ آپ کی زوجہ مطہرہ اور ام المومنین ہیں اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پردہ نہ کرایا تو سمجھا جائے گا کہ یہ آپ کی لونڈی اور کنیز ہیں… کیونکہ کنیزوں اور لونڈیوں کے لئے بوجہ ضروریات خدمت اور کام کاج کے پردہ کا حکم نہیں… چنانچہ جب آپ نے قافلہ کو کوچ کا حکم دیا اور آپ نے حضرت صفیہ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور حضرت صفیہاور لوگوں کے درمیان حجاب اور پردہ ڈال دیا… تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ آپ بھی ازواج مطہرات میں سے ہیں۔“
بتلایا جائے کہ اگر چہرہ کے پردہ کا حکم نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھاکر پردہ کیوں لٹکایا؟
اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ کہنا کہ اگر حضرت صفیہ کو کنیز اور لونڈی رکھا گیا تو ان کو پردہ نہیں کرایا جائے گا اور اگر پردہ کرایا گیا تو یہ اس کی نشانی ہوگی کہ آپ ام المومنین کے اعزاز سے سرفراز ہوچکی ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ڈاکٹر خالد مسعود جیسے ہوس پرست اور پردہ کے مخالف و منکر بدقماش لوگ تمام مسلمان خواتین کو نعوذباللہ! لونڈی اور کنیز کا درجہ دینا چاہتے ہوں؟ اور ان کی نگاہ میں ان شریف زادیوں کا مرتبہٴ و مقام بھی کسی خادمہ اور لونڈی سے زیادہ نہ ہو؟ کیا کوئی باغیرت مسلمان‘ اپنی بہنوں‘ بیٹیوں‘ بیویوں اور ماؤں کے لئے اس ”ذلت“ کو برداشت کرے گا؟ اگر نہیں تو ان کو یہ بات سمجھ آجانی چاہئے کہ مسلمان خواتین کے لئے پردہ کا حکم ہے‘ یہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا‘ حضرات صحابہ کرام‘ اور پوری امت کا تعامل ہے‘ یہی قرآن‘ حدیث اور اجماع امت کا فیصلہ ہے۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۷ ماہنامہ بینات, ذوالحجہ۱۴۲۸ھ جنوری۲۰۰۸ء, جلد 70, شمارہ