حجاب کا حکم صرف ازواجِ نبی کے لئے تھا؟
حجاب کا حکم صرف ازواجِ نبی کے لئے تھا؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی خدمت میں! (۲)

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب خالد مسعود صاحب حجاب اور پردے سے متعلق مزید کہتے ہیں:
ج :… ”حجاب صرف نبی کی ازواج کے لئے تھا۔“
روزنامہ نوائے وقت کی خبر میں تو صرف اتنا ہی تھا، البتہ روزنامہ جنگ کراچی، سنڈے میگزین کے طویل انٹرویو میں موصوف نے اس کی کچھ مزید تفصیلات سے بھی آگاہ کیا ہے، مثلاً: وہ کہتے ہیں:
”پردے کا مطلب ہم جن معنوں میں لیتے ہیں، مثلاً حجاب، قرآن مجید کے حکم کے نزدیک وہ صرف رسول اللہ کی بیویوں کے لئے تھا، قرآن مجید میں پوری وضاحت آئی ہے کہ رسول اللہ کی ایک بیوی کی شادی کے موقع پر رواج کے مطابق لوگ پوری رات وہاں بیٹھے رہے، اور پوری تفسیر احادیث میں آئی ہے، اس کے بعد حضرت عمر نے فرمایا کہ کچھ تو پرائیویسی ہونی چاہئے، تو جو پردہ ہے، وہ پرائیویسی کے معنی میں آتا ہے، یہ رسول اللہ کی ازواج کے بارے میں تھا…۔“ (سنڈے میگزین روزنامہ جنگ ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
قطع نظر اس کے کہ موصوف کے بیان میں کیا صحیح اور کیا غلط ہے؟ … کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ: ”رسول اللہ کی ایک بیوی کی شادی کے موقع پر رواج کے مطابق لوگ پوری رات وہاں بیٹھے رہے“ سراسر جھوٹ اور غلط ہے، کیونکہ کسی آیت، حدیث، تفسیر اور تاریخ میں اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہے، ہاں البتہ رات دیر تک بیٹھنے کا ذکر صحیح بخاری میں ہے، اسی طرح حضرت عمر کی طرف: ”کچھ تو پرائیویسی ہونی چاہئے۔“ کی نسبت بھی غلط ہے، اس کا بھی کہیں کوئی تذکرہ نہیں ملتا… تاہم ان کے ہر دو بیانات سے اتنی بات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ موصوف پردہ کو صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص مانتے ہیں اور پردہ کی غرض و غایت یا حکمت و مصلحت بھی صرف اور صرف پرائیویسی یعنی تخلیہ کو قرار دیتے ہیں۔ گویا ازواج مطہرات کے بعد اب کوئی مسلمان خاتون پردہ کی مکلف نہیں ہے، نیز پردہ چونکہ ان کے ہاں محض پرائیویسی کے لئے تھا، اس لئے اگر کسی کی پرائیویسی متاثر نہ ہوتی ہو تو اس کو پردہ کی چنداں حاجت نہیں… اس عقل و دانش اور علم و حکمت پر یہی کہا جاسکتا ہے:
”بریں عقل و دانش بباید گریست “
سوال یہ ہے کہ ازواج مطہرات کے علاوہ دوسری مسلمان خواتین پردہ کی مکلف کیوں نہیں؟ یا یہ حکم ازواج مطہرات کے ساتھ کیوں خاص ہے؟ اگر دوسری مسلمان خواتین اس حکم سے مستثنیٰ ہیں تو کیوں؟ ان کو کب؟ اور کس آیت یا حدیث کی رو سے مستثنیٰ قرار دیا گیا؟ کیا ہم نظریاتی کونسل کے چیئرمین سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتے ہیں کہ وہ ایسی کسی قرآنی آیت، حدیث، فقہی جزئیہ، ائمہ اربعہ میں سے کس امام کی تصریح، مسلمہ ائمہ تفسیر، حدیث، اور اہلِ تحقیق میں سے ایسے کسی کے قول، فعل یاعمل کی نشاندہی فرماسکتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہوکہ حجاب اور پردہ کا حکم صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص تھا؟ کیا حضرات صحابہ کرام نے بھی اس سے یہی سمجھا تھا؟ کیا حضرات صحابیات بھی اس حکم سے مستثنیٰ تھیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کیا اس کی نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ کون کون سے صحابہ کرام اس کے قائل تھے؟ اور کن کن صحابیات نے اس حکم الٰہی سے …نعوذباللہ… بغاوت کی تھی؟ تُف ہے اس عقل و دانش پر اور لعنت ہے اس جہالت و سفاہت پر کہ اپنی خواہش پرستی اور انکار دین کو قرآن و سنت اور دین و شریعت کے سرمنڈھ دیا جائے اور نہایت ڈھٹائی، بے حیائی، بے باکی اور بے شرمی سے اسے اچھا لا جائے۔ افسوس !صد افسوس !کہ موصوف نے ایسی کسی آیت، حدیث، تفسیر، تحقیق، کسی صحابی، تابعی یا ائمہ اربعہ میں سے کسی امام کی تصریح کی نشاندہی نہیں فرمائی، جس سے ہم جیسے کوتاہ علموں کی راہ نمائی ہوتی، اگر وہ اس قسم کی کوئی نشاندہی فرمادیتے تو ہمیں ان کے دلائل و براہین پر غوروفکر میں سہولت ہوجاتی، نیز ہمیں اندازہ ہو جاتا کہ انہیں کہاں سے ٹھوکر لگی ہے؟ اور وہ کس بناء پر غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں؟ یا وہ کس وجہ سے سیدھے سادے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں؟ تاہم ہمارا حساس و وجدان ہے کہ وہ کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں، بلکہ وہ دوسروں کو غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے پر مامور ہیں۔ کیونکہ وہ جاہل و اَن پڑھ نہیں، ”لکھے پڑھے اسکالر “اور ڈاکٹر فضل الرحمن جیسے ملحد و مرتد کے شاگرد و خوشہ چیں، بلکہ ان کے جانشین اور ان کی فکر و فلسفہ کے داعی و مناد ہیں۔ نظر بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آیت حجاب میں… جس کا انہوں نے اپنے انٹرویو میں حوالہ بھی دیا ہے… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں سے متعلق خطاب ہے اور صحابہ کرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، اس لئے غالباً موصوف نے اس سے یہی سمجھا کہ اس آیت میں مذکور احکام و آداب بھی حضرات ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہیں، لیجئے! آیت حجاب پڑھیئے اور موصوف کی فکر رسا کی داد دیجئے! ملاحظہ ہو آیتِ حجاب:
”یا یہا الذین آمنوا لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یؤذن لکم الٰی طعام غیر ناظرین اناہ، ولکن اذا دعیتم فادخلوا، فاذا طعمتم فانتشروا ولامستأنسین لحدیث، ان ذٰلکم کان یؤذی النبی فیستحی منکم واللّٰہ لایستحی من الحق واذا سألتموہن متاعاً فسئلوہن من ورآء حجاب، ذٰلکم اطہر لقلوبکم وقلوبہن، وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللّٰہ ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابداً، ان ذٰلکم کان عنداللّٰہ عظیما۔‘ (احزاب:۵۳)
ترجمہ:… ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو، مگر جس وقت تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جاوے، ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو، لیکن جب تم کو بلایا جاوے تب جایا کرو، پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگاکر مت بیٹھے رہا کرو ، اس بات سے نبی کو ناگواری ہوتی ہے، سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صاف بات کہنے سے لحاظ نہیں کرتا، اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو، یہ بات تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تم کو جائز نہیں کہ رسول اللہ کو کلفت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم آپ کے بعد آپ کی بیبیوں سے کبھی بھی نکاح کرو، یہ خدا کے نزدیک بڑی بھاری بات ہے۔“
یہ طے شدہ امر ہے، بلکہ تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ پردے کی فرضیت کا حکم سب سے پہلے سورئہ احزاب کی مندرجہ بالا آیت میں نازل ہوا تھا، اسی لئے اس آیت کو آیت حجاب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تاہم اس آیت میں امت مسلمہ کو حجاب کے علاوہ چند دوسرے احکام و آداب کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے مثلاً: دعوت طعام کے آداب، کسی کے گھر میں جانے کے آداب، عورتوں کے لئے پردہ کا حکم، ازواج مطہرات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے نکاح نہ کرنے کا حکم وغیرہ۔ یہ آیت اگرچہ ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے، اور اس میں ازواج مطہرات کے پردے سے متعلق حکم بھی ہے، لیکن اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ یہ حکم صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے، بلکہ یہ حکم عام ہے اور اس کے عموم پر تمام مفسرین کا اجماع ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح سورئہ احزاب کی مندرجہ ذیل آیات میں خطاب ازواج مطہرات کو ہے، مگر ہر ذی فہم جانتا ہے کہ یہ حکم ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی خواتین کے لئے عام ہے، چنانچہ سورئہ احزاب کی وہ آیت ملاحظہ ہو:
”یانسآء النبی لستن کاحد من النساء ان اتقیتن فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض وقلن قولاً معروفا۔ وقرن فی بیوتکن ولا تبرّجن تبرّج الجاہلیة الاولی واقمن الصلٰوة وآتین الزکوة واطعن اللّٰہ ورسولہ، انما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیرا۔“ (احزاب:۳۲/۳۳)
ترجمہ:…”اے نبی کی بیبیو!تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو تم بولنے میں نزاکت مت کرو کہ ایسے شخص کو خیال ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے اور قاعدہ کے موافق بات کہو اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو! تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو پاک صاف رکھے۔“
دیکھئے! یہاں بھی خطاب اگرچہ ازواج مطہرات کو ہے مگر اس کا حکم عام ہے ، اگر بالفرض اس آیت کو ازواج مطہرات کے ساتھ خاص کردیا جائے، تو کیا کہا جائے کہ ازواج مطہرات کے علاوہ دوسری مسلمان خواتین آج بھی زمانہ جاہلیت کی طرح ننگ دھڑنگ پھرسکتی ہیں؟ کیا جناب خالد مسعود صاحب اس کے قائل ہیں کہ اس آیت میں نماز قائم کرنے، زکوٰة دینے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا حکم بھی صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے، تو کیا امت مسلمہ کی دوسری خواتین نماز، زکوٰة کی ادائیگی اور اللہ، رسول کی اطاعت سے مستثنیٰ ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے، تو بتلایا جائے کہ ایک آیت میں ہی ایک حکم عام تو دوسرا خاص کیوں؟
ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین!
صرف یہی نہیں، بلکہ اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں کہ خطاب خاص ہوتا ہے لیکن اس کا حکم عام ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
”یایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن واحصوا العدة، واتقوا اللّٰہ ربکم، لاتخرجوہن من بیوتہن ولا یخرجن الا ان یأتین بفاحشة مبینة، وتلک حدود اللّٰہ، ومن یتعد حدود اللّٰہ فقد ظلم نفسہ، لا تدری لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امراً۔“ (الطلاق: ۱)
ترجمہ:… ”اے پیغمبر جب تم …اپنی… عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کو …زمانہ… عدت …یعنی… حیض سے پہلے …یعنی طہر میں… طلاق دو اور تم عدت کو یاد رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، ان عورتوں کو ان کے …رہنے کے… گھروں سے مت نکالو… کیونکہ سکنٰی مطلقہ کا مثل منکوحہ کے واجب ہے… اور نہ وہ عورتیں خود نکلیں مگر ہاں کوئی کھلی بے حیائی کریں تو اور بات ہے اور یہ سب خدا کے مقرر کئے ہوئے احکام ہیں اور جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا … مثلاً اس عورت کو گھر سے نکال دیا… اس نے اپنے اوپر ظلم کیا تجھ کو خبر نہیں شاید اللہ تعالیٰ بعد اس …طلاق دینے…کے کوئی نئی بات …تیرے دل میں… پیدا کردے۔“
کیا خیال ہے خالد مسعود صاحب یا ان کے ہمنوا یہاں حیض کے بجائے طہر میں طلاق دینے، اور عدت کی مدت میں گھر سے نہ نکالنے یا عدت کے حساب رکھنے کو بھی ازواج مطہرات کے ساتھ خاص مانتے ہیں؟ کیا وہ نعوذباللہ ازواج مطہرات کے علاوہ دوسری مسلمان خواتین کی عدت اور عدت میں سکنٰی کے قائل نہیں ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کس بنیاد پر؟ سوال یہ ہے کہ جس طرح اس آیت کے مخاطب اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات ہیں مگر اس کا حکم عام ہے، ٹھیک اسی طرح آیت حجاب میں بھی خطاب اگرچہ ازواج مطہرات کو ہے مگر اس کا حکم عام ہے اور تمام مسلمان خواتین اس کی مکلف ہیں۔ اس کے علاوہ اگر بالفرض قرآن کریم کے احکام صرف اس کے مخاطبین اولین تک محدود ہوتے، تو نعوذباللہ! آج امت مسلمہ قرآن اور قرآنی تعلیمات کے نور ،روشنی اور برکات سے محروم نہ ہوچکی ہوتی؟ کیونکہ قرآن کریم کے مخاطب اول تو حضرات صحابہ کرام تھے، جب وہ نہیں رہے تو ان کی طرف متوجہ ہونے والا خطاب کیونکر باقی ہوتا؟ چلئے اس کو بھی چھوڑیئے ہم اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سے عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ اس آیت اور اس کے حکم کا کیا محمل ارشاد فرمائیں گے؟ جس میں ازواج مطہرات کے ساتھ ساتھ مومن خواتین کو بھی مخاطب کرتے ہوئے گھر سے باہر جاتے وقت پردہ کا حکم دیا گیا ہے، ملاحظہ ہو:
”یایھا النبی قل لا زواجک وبنٰتک ونساء المؤمنین یدینن علیہن من جلابیبہن، ذالک ادنیٰ ان یعرفن فلایؤذین وکان اللّٰہ غفوراً رحیما۔“(احزاب: ۵۹)
ترجمہ:… ”اے پیغمبر اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی بیبیوں سے بھی کہہ دیجئے کہ نیچی کرلیا کریں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں، اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“
حافظ ابن کثیر تفسیر ”ابن کثیر“ میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”قال علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس امر اللّٰہ نساء المؤمنین اذا خرجن من بیوتہن فی حاجة ان یغطین وجوہہن من فوق رؤسہن بالجلابیب ویبدین عیناً واحدة۔“
”وقال محمد بن سیرین سألت عبیدة السلمانی عن قول اللّٰہ تعالیٰ یدنین علیہن من جلابیبہن، فغطی وجہہ ورأسہ وابرزعینہ الیسریٰ“ (ابن کثیر ص:۲۳۱، ج:۵، مکتبہ رشیدہ کوئٹہ)
ترجمہ:… علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لئے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے چہروں کو سروں کی جانب سے پردہ سے ڈھانپ لیا کریں اور… راستہ دیکھنے کے لئے … صرف ایک آنکھ کھلی رکھا کریں۔ حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سلمانی سے اللہ کے ارشاد:”یدنین علیہن من جلابیبہن“ کے معنی و مفہوم کے بارہ میں پوچھا تو انہوں نے اپنا چہرہ اور سرچھپا کر، صرف بائیں آنکھ ظاہر کرکے… اس کی عملی وضاحت فرمائی۔“
صرف حافظ ابن کثیر ہی نہیں، بلکہ تمام مفسرین نے اس مقام پر اس سے ملتے جلتے الفاظ میں اس کی تفسیر کی ہے۔ ملاحظہ ہو: علامہ آلوسی کی روح المعانی، قاضی شوکانی کی فتح القدیر، جصاص کی احکام القرآن، علامہ قرطبی کی تفسیر الجامع الاحکام القرآن، علامہ قرطبی ہی کی احکام القرآن، تفسیر ابن جریر، تفسیر بحر محیط، تفسیر ابوالسعود، تفسیر زاد المیسر،تفسیر در منثور، تفسیر روح البیان، تفسیر مظہری، تفسیر معالم التنزیل ،تفسیر جمل اور تفسیر بیضاوی وغیرہ۔ اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ مغربی اساتذہ سے پڑھتے ہیں، یا ان کا مغرب میں برین واش کیا جاتا ہے، وہ اسی زاویہ نگاہ سے اسلام، قرآن اور اسلامی احکام کو دیکھتے،پڑھتے اور سمجھتے ہیں، چونکہ ان کی فکر، سوچ، دل، دماغ، کان اور آنکھ میں بدگمانی اور تشکیک کا میل کچیل بھردیا جاتا ہے، اس لئے ان کو قرآن، سنت، اجماع امت، صحابہ کرام، تابعین، امت مسلمہ کی تحقیقات و تعامل اور مسلمات دینیہ میں اسی شک و شبہ کا میل کچیل نظر آتا ہے، اس لئے وہ اپنی فکر، سوچ، دل، دماغ، زبان، ہاتھ، کان اور آنکھ سے ہر وہ بات سوچتے، بولتے، لکھتے اور دیکھتے ہیں جو ان کے مستشرق اساتذہ اور ملحد مربی بولتے اور لکھتے ہیں، ورنہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآنی احکام ، اوامر و نواہی میں اگرچہ خطاب مردوں کو ہوتا ہے مگر خواتین بھی اس میں شامل ہوتی ہیں، اور جہاں ازواج مطہرات  کو مخاطب کیا گیا ہے وہاں عام مسلمان خواتین بھی اس کی مخاطب ہوتی ہیں۔ مثلاً پورے قرآن میں خواتین کے حج کرنے سے متعلق کہیں کوئی حکم نہیں ہے، کیا کہا جائے کہ خواتین پر حج فرض نہیں ہے؟اسی طرح تیمم کا حکم دیتے ہوئے عورتوں کے بجائے صرف مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے، تو کیا خواتین اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتیں؟ اسی طرح بے شمار احکام میں مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے، تو کیا خواتین ان احکام سے مستثنیٰ ہوں گی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ ناس ہو منکرین حدیث کاکہ انہوں نے ہمیشہ قرآن کریم کو، حدیث و سنت اور فقہائے امت کی تحقیقات کے تناظر میں سمجھنے کی بجائے اپنی کوتاہ عقل و فہم سے سمجھنے کی کوشش کی ہے، چونکہ انہوں نے اپنی عقل نارسا اور فہم ناقص کو حدیث و سنت اور ائمہ ہدیٰ کی فہم و فراست پر ترجیح دی ہے، اس لئے وہ اغوائے شیطانی کا شکار ہوگئے، اور یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے اسلاف کی تحقیقات کو چھوڑ کر اپنی کور فہمی پر اعتماد کیا، انہوں نے ہمیشہ ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اگرچہ خالد مسعود جیسے حضرات کو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا، لیکن ضروری تھا کہ سیدھے سادے مسلمانوں کی راہ نمائی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرام اور صحابیات کے ارشادات و معمولات میں سے چند ایک یہاں نقل کردیئے جاتے تو یہ سمجھنا آسان ہوتا کہ پردہ اور حجاب صرف ازواج مطہرات کے ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ یہ حکم تمام مسلمان خواتین کے لئے عام ہے اور اس پر قرنِ اول سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کا تعامل چلا آرہا ہے۔ تاہم خوفِ طوالت سے ان تمام نصوص کو چھوڑ کر ہم موصوف کے چوتھے ارشاد کا جائزہ لیتے ہیں۔ ………………………………
د:… ”اگرچہ داڑھی سنت ہے، تاہم حضور علیہ السلام کے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے۔“
گویا وہ فرمانا چاہتے ہیں کہ داڑھی مسلمانوں کا اختصاص نہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمان و غیر مسلم دونوں داڑھی رکھا کرتے تھے، دوسرے الفاظ میں وہ داڑھی ایسے واجب کی تخفیف کرکے اس کو غیر اہم اور غیر ضروری باور کرانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم موصوف سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں جو کام کافر و مسلم کیا کرتے تھے، وہ غیر اہم ہوتا ہے؟ یا وہ اسلام اور مسلمانوں کا اختصاص و شعار نہیں بن سکتا؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کیا کہا جائے کہ اسلام سے قبل مروجہ عبادات و اعمال مثلاً: حج، عمرہ، احرام، طواف، صفا مروہ کی سعی، بیت اللہ کی حرمت، حدود حرم اور اشہر حرم کی عزت و تکریم، مہمانوں کی خدمت، حجاج کو پانی پلانا وغیرہ ،یا اسی طرح صدقہ خیرات، خوش اخلاقی، نکاح و طلاق، جنگ و امن کے احکام، ثبوت ِ نسب، محرمات ابدیہ کا تصور، حلال و حرام کا احساس، چوری، ڈکیتی، قتل و قتال کی سزائیں اور دیت و قصاص وغیرہ کا نفاذ بھی غیر اہم ہیں؟ اور ان احکام و امور کی بجا آوری اور پاسداری بھی غیر اہم اور غیر ضروری قرار پائے گی؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو داڑھی کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ چونکہ، حضور علیہ السلام کے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے … اس لئے یہ غیر اہم اور غیر ضروری ہے۔ پھر موصوف نے اس ارشاد الٰہی کی طرف کیوں توجہ نہ فرمائی، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و صورت کو اپنانے کی تلقین فرماتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
”لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوة حسنة۔“ (احزاب:۲۱)
ترجمہ:… ”تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے۔“
کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر داڑھی نہیں رکھی؟ کیا موصوف اس کا انکار فرماسکتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی تھی؟ اگر جواب نفی میں ہے او ریقینا نفی میں ہے تو کیا اس ارشاد الٰہی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی تلقین نہیں فرمائی گئی؟ اس کے علاوہ دوسری جگہ یہ ارشاد الٰہی بھی تو ہے:
”قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ۔“ ( آل عمران:۳۱ )
ترجمہ:… ”آپ فرمادیجئے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔“
کیا موصوف اس سلسلہ میں قرآن و سنت کی کوئی ایسی نص پیش کرسکتے ہیں، جس میں کہا گیا ہو کہ فلاں فلاں معاملہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے اور فلاں فلاں شعبہ میں ان کی اتباع اور اطاعت کی ضرورت نہیں؟ یا ان کی مخالفت کی جاسکتی ہے؟ اس سب سے ہٹ کر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات عالیہ میں داڑھی رکھنے کی شدید تاکید کرکے اس کی اہمیت و عظمت کو نہ صرف واضح کیا ہے، بلکہ اس کو مسلمانوں کا شعار باور کرایا ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:
۱:… ”عن عائشة رضی اللّٰہ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عشر من الفطرة: قص الشارب واعفاء اللحیة۔“ (صحیح مسلم، ج:۱، ص:۱۲۹)
ترجمہ: … ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: دس چیزیں فطرت میں داخل ہیں، مونچھوں کا کٹوانا اور داڑھی کا بڑھانا …الخ“
۲:… ”عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال احفوا الشوار ب واعفوا اللحیٰ۔ وفی روایة انہ امر باحفاء الشوارب واعفاء اللحیة ۔“ (صحیح مسلم، ج:۱، ص:۱۲۹)
ترجمہ:… ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :مونچھوں کو کٹواؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کو کٹوانے اور داڑھی کو بڑھانے کا حکم فرمایا۔ “
۳:… ” عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما قال قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: خالفوا المشرکین، او فروا اللحٰی واحفوا الشوارب“ (متفق علیہ مشکوٰة، ص:۳۸۰)
ترجمہ:…”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ۔“
۴:… ”عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جزو الشوارب وارخوا اللُّحٰی، خالفوا المجوس۔“ (صحیح مسلم، ج:۱ ص:۱۲۹)
ترجمہ:… ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔“
۵:…”عن زید بن ارقم رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال من لم یأخذ من شاربہ فلیس منا۔“ (رواہ احمد والترمذی والنسائی، مشکوٰة ص:۳۸۱)
ترجمہ:… ”حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مونچھیں نہ کٹوائے وہ ہم میں سے نہیں۔“
۶:… ”عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما قال: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لعن اللّٰہ المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال، رواہ البخاری۔“ (مشکوٰة ،ص:۳۸۰)
ترجمہ:… ”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ کی لعنت ہو ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں۔“
ان تمام احادیث میں ”داڑھی بڑھاؤ“ اور ”مونچھیں کتراؤ“ کو امر کے صیغہ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور کسی اہلِ علم پر مخفی نہیں کہ امر حقیقتاً وجوب کے لئے ہوتا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ داڑھی رکھنا اور مونچھیں کٹوانا واجب ہے اور واجب کا ترک حرام ہے، کیا اب بھی یہ کہا جائے گا کہ داڑھی رکھنا غیر ضروری یا اسلام کا شعار نہیں؟ کیا اب بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ غیر اہم ہے؟ بتلایا جائے کہ جو کام تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے کیا اور بطور خاص نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو اس کی طرف متوجہ کیا، بلکہ اس کو مسلمانوں کے لئے لازم قرار دیا، وہ کیونکر اسلام کا شعار اور مسلمانوں کا اختصاص نہیں ہوگا؟ مزید براں داڑھی منڈانے اور کٹوانے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے ہوئے شاہ ایران کے قاصدوں کی طرف دیکھنے اور ان سے بات چیت کرنے کو نہ صرف ناپسند فرمایا، بلکہ ان کو بددعا دیتے ہوئے ان سے اعراض فرمایا، ملاحظہ ہو:
”فکرہ النظر الیہما، وقال: ویلکما من امرکما بہذا؟ قال امرنا ربنا یعنیان کسریٰ، فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ولکن ربی امرنی باعفاء لحیتی وقص شاربی۔“ (البدایة والنہایہ ج:۴، ص:۲۲۹، حیاة الصحابہ، ج:۱، ص:۱۱۵)
ترجمہ: … ”پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر کرنا بھی پسند نہ کیا اور فرمایا: تمہاری ہلاکت ہو، تمہیں یہ شکل بگاڑنے کا کس نے حکم دیا ہے؟ وہ بولے کہ یہ ہمارے رب یعنی شاہِ ایران کا حکم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن میرے رب نے تو مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم فرمایا ہے۔“
سوچنا چاہئے کہ داڑھی بڑھانے کا حکم، حکمِ الٰہی ہے اور جس کام کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہو، وہ اہم ہوگا یا غیر اہم؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے، تو وہ کیونکر مسلمانوں کا اختصاص و شعار نہیں ہوگا؟ پھر یہ بات بھی قابل ِ غور ہے کہ داڑھی منڈانا یا کٹانا مسلمانوں کا نہیں مجوسیوں کا شعار ہے، بتلایا جائے کہ داڑھی کاٹنے والے یا مونڈنے والے کا وزن مسلمانوں کے پلڑے میں ہوگا یا مجوسیوں کے پلڑے میں؟ مگر اے کاش! کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین اس کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ مسلمانوں کا شعار نہیں،
فیالضیعة العلم والفہم! فانا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمدوآلہ واصحابہ اجمعین
(جاری ہے)
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , محرم الحرام ۱۴۲۹ھ فروری۲۰۰۸ء, جلد 70, شمارہ