ذلت و رسوائی کا ذمہ دار، مسٹر یا مُلَّا؟
ذلت و رسوائی کا ذمہ دار، مسٹر یا مُلَّا؟
الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
روزنامہ نوائے وقت کے سنڈے میگزین ۲۷/اپریل ۲۰۰۸ء میں ”ہماری ذلت و رسوائی کا سبب کیا ہے؟“ کے عنوان سے جناب محمد اختر چشتی پسروری صاحب کا ایک کالم شائع ہوا ہے، جس کے مندرجات سے پریشان ہوکر ہومیو ڈاکٹر جناب حافظ اقبال مسعود صاحب سیالکوٹ نے راقم الحروف کو اپنے مکتوب کے ساتھ اس کی کٹنگ بھیج کر فرمائش کی ہے کہ اس کو بغور پڑھوں اور اس کا جواب لکھوں، جناب ڈاکٹر اقبال مسعود صاحب کا کہنا ہے کہ:
”آپ کے مضامین اکثر رسالہ ختم نبوت میں پڑھتا ہوں اور جس طرح اسلامی اقدار پر پڑنے والی ضرب کا آپ جواب دیتے ہیں، اس سے نہ صرف ہماری علمی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایمان کو بھی جلا ملتی ہے، گزشتہ ہفتے سیالکوٹ میں چھپنے والے نوائے وقت سنڈے میگزین میں ایک مضمون نظر سے گزرا، میرے دل دماغ نے اس مضمون سے قطعاً ناراضگی کا اظہار کیا، پتہ نہیں ایسا لگتا ہے کہ لکھنے والے نے انصاف نہیں کیا، میرا فوراً ذہن آپ کی طرف گیا، جناب کو اس لئے زحمت دی کہ اس کو بغور پڑھیں، اگر لکھنے والے نے انصاف کیا ہے تو ٹھیک! وگرنہ اس کا جواب ضرور لکھئے گا، اورمہربانی سے اس کا جواب جب لکھیں تو مجھے بھی آگاہ کریں، تاکہ میں اپنی اصلاح کرلوں۔“
راقم الحروف نہ تو ڈاکٹر اقبال مسعود صاحب سے واقف ہے اور نہ ہی جناب محمد اختر چشتی پسروری سے، تاہم ڈاکٹر صاحب کے خط سے ان کی سلامتی ٴ فکر اور جناب محمد اختر چشتی صاحب کی تحریر سے ان کی بیمار ذہنیت اور علماء دشمنی کا اندازہ ہوتا ہے۔ جناب محمد اختر چشتی صاحب کے نام کے ساتھ ”چشتی“ کے لاحقے سے اول وہلہ میں دل و دماغ میں یہی تصور ابھرتا ہے کہ موصوف بھی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس سرہ کی فکر و فلسفہ یا ان کے سلسلہ سلوک و احسان سے متعلق یا متاثر ہوں گے، مگر افسوس! کہ ان کی تحریر و کالم پڑھتے ہی یہ احساس و تاثر یکسر کافور ہوجاتا ہے، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ لاحقہ بھی کسی خاص مصلحت یا حکمت کے تحت لگایا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ دین، مذہب، مسجد ، مُلَّا، مولوی اور اہلِ دین کی توہین و تنقیص یا ان سے نفرت و بیزاری کے زہر کو ”چشتی“ نسبت کے غلاف میں لپیٹ کر سادہ لوح مسلمانوں اور عام انسانوں کے دل و دماغ میں اتارنا چاہتے ہوں؟ بہرحال کچھ بھی ہو، موصوف کا مضمون پڑھنے کے بعد ہر وہ مسلمان جس کو دین و مذہب، مسجد و مدرسہ اور مُلَّا و مولوی سے ذرہ بھر تعلق، یا سلامتی ٴ فکر سے کچھ بھی علاقہ ہو، وہ یہی سمجھے گا کہ موصوف نے مدارس، مساجد اور علماء کے ساتھ نہ صرف یہ کہ انصاف نہیں کیا، بلکہ ان کی بے جا مخالفت کرکے حق و انصاف کا خون اور اپنے بغض ِ باطن کا اظہار کیا ہے۔ ذیل میں ہم چشتی صاحب کے کالم کے مندرجات کی روشنی میں ان کی فکر و فلسفہٴ پیش کرنے کی کوشش کرنا چاہیں گے:
۱:… ”چشتی“ صاحب دین، اہل دین،مساجد، مدارس اور علماء مخالفت میں ایسے حواس باختہ ہوئے کہ وہ اپنے مضمون کی ابتدا علامہ اقبال کے اس شعر سے کر بیٹھے، جس میں علامہ صاحب نے ”چشتی“ صاحب کے موقف کے برعکس صوفی و مُلَّا کی خدمات کو سلام عقیدت پیش کیا ہے، ملاحظہ ہو: ”علامہ اقبال کا ایک فارسی شعر ہے:
سلام از ما صوفی و مُلَّا سلام
کہ پیغام خدا گفتند مارا
علامہ اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ:میں صوفی و مُلَّا کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے خدا کا پیغام ہم تک پہنچایا ہے۔“ بلاشبہ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں صوفی و مُلَّا کی خدمات کو جس خوبصورت انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ اپنی جگہ ایک بے مثال حقیقت ہے، اس لئے کہ امت مسلمہ تک اللہ کا پیغام پہنچانے اور امت کے دین و ایمان کی حفاظت کا ذریعہ صرف اور صرف یہی صوفی و مُلَّا رہا ہے، اگر خدانخواستہ یہ نہ ہوتے یا ان کو بیچ سے نکال دیا جائے تو امت کا اللہ، رسول سے جیسا کچھ ربط و تعلق ہے، شاید وہ بھی نہ رہتا۔ لکھنے کو تو جناب چشتی صاحب نے علامہ اقبال کا یہ شعر لکھ دیا، مگر غالباً اس کے فوراً بعد ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا کہ میں نے یہ کیا لکھ دیا؟ کیونکہ اس سے تو میں نے علامہ کی زبانی صوفی و مُلَّا کی عظمت و برتری کا اظہار و اعلان کردیا ہے۔ چونکہ چشتی صاحب کو مُلَّا و صوفی سے خداواسطے کا بغض و عناد تھا، اس لئے علامہ اقبال مرحوم کے اس اعتراف حقیقت کو بنیاد بناتے ہوئے انہوں نے صوفی و مُلَّا کے ساتھ ساتھ بیچارے علامہ اقبال مرحوم کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا، اور انہیں بھی اپنی تنقید کے نشانہ پر رکھ لیا، چنانچہ فرماتے ہیں:
”لیکن اس کی تشریح سے انہوں نے خدا جبرئیل اور محمد مصطفی کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور تینوں حیران ہیں کہ یہ ہم نے کب کہا تھا؟“
ماشاء اللہ...چشتی صاحب نے اس اعتراف حقیقت کی پاداش میں علامہ اقبال کی کس خوبصورتی اور سلیقہ مندی سے خبر لی ہے؟ اور ان کی کیسی عمدہ درگت بنائی ہے؟ چنانچہ اس بیچارے کو اللہ، رسول اور جبرئیل کی مخالفت کے بدترین تمغہ سے سرفراز فرمادیا۔ چشتی صاحب کے ”فلسفیانہ“ کالم اور ”بلیغ عارفانہ کلام“ کا معنی و مفہوم سمجھنے کے لئے، پہلے تو ہم نے خود اس کو متعدد بار پڑھا، اس کے بعد کئی ایک اہلِ قلم سے اس کی مراد سمجھنے میں معاونت چاہی، تو سب نے یہی فرمایا کہ علامہ اقبال مرحوم کا یہی شعر اور اعتراف حقیقت ہی چشتی صاحب کی آنکھ کا کانٹا ہے، جس کی بنا پر علامہ اقبال صوفی و مُلَّا کے ساتھ چشتی صاحب کے مجرموں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، تاہم اگر بالفرض خدانخواستہ چشتی صاحب کے ”مافوق الفطرت “کالم کا معنی و مفہوم سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہے یا ہم نے ان کی مراد سمجھنے میں لغزش کھائی ہے تو ہم درخواست کریں گے کہ آں موصوف اپنے دوسرے قارئین کے ساتھ ساتھ اگر اس جاہل مطلق کی بھی اصلاح فرمادیں تو بے حد عنایت ہوگی۔ چشتی صاحب! اگر بُرا نہ منائیں تو ہم عرض کریں گے کہ ان کی جانب سے علامہ اقبال مرحوم کے اس بے غبار شعر کی یہ خوبصورت تشریح: ”کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا ،بھان متی نے کنبہ جوڑا“ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
۲:… چشتی صاحب مزید لکھتے ہیں:
”اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عربی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ علماء حضرات اور مذہبی اسکالروں کی تعداد بہت کم ہے جو پورے ملک کی بڑی بڑی مساجد اور دینی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن شہر و دیہات کی لاکھوں مساجد میں ۸۰ فیصد امام مسجد اور مؤذن حضرات کم پڑھے لکھے اور روایتی مُلَّا ہی پوری قوم کی مذہبی رہنمائی کررہے ہیں۔ علامہ اقبال کا اشارہ انہی لوگوں کی طرف ہے ، جو صرف ناظرہ قرآن کریم یا حفظ کرنے کے علاوہ چند احادیث یاد کرکے ملک کے بے شمار بچوں کو اسلامی تعلیم دے رہے ہیں۔“
موصوف چشتی صاحب کی اس عبارت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس ”عالمانہ“ تشریح و تفسیر کو علامہ اقبال مرحوم کے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں، اسی لئے وہ وضاحت کناں ہیں کہ: ”علامہ کا اشارہ انہی لوگوں کی طرف ہے۔“ سوا ل یہ ہے کہ علامہ نے یہ تشریح کہاں فرمائی ہے؟ یا علامہ کا یہ اشارہ ان کے مذکورہ بالا شعر کے کس لفظ سے ماخوذ یا مترشح ہے؟؟
ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین!!
۳:… جناب چشتی صاحب قوم و ملک کی ذلت و رسوائی کے اسباب بیان کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:
”پاکستان میں چار پانچ اضلاع اٹک، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ اور ملتان وغیرہ میں صرف روایتی مولوی تیار کئے جاتے ہیں، جو سارے ملک کی مساجد میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، آپ جس مسجد کے مولوی یا خطیب کے متعلق معلوم کریں گے تو ان میں سے اکثر مولوی حضرات کا تعلق انہی اضلاع میں سے کسی ایک سے ہوگا، کیونکہ ان لوگوں کا دین سے تعلق کم اور روزگار سے زیادہ ہوتا ہے، ان کا نقطہٴ نظر صرف یہی ہوتا ہے کہ مدرسہ سے نکل کر دوسرے شہروں یا دیہات میں جاکر کسی نہ کسی مسجد میں ا مامت سنبھالنا یا کم از کم موٴذن کے طور پر اپنے کام کی ابتدأ کرنا ہے، جو بعدازاں موقع ملنے پر وہ امام مسجد کے مرتبہ تک پہنچ جاتے ہیں، اس طرح یہ لوگ اپنی اپنی مسجد میں بچوں کو دینی تعلیم دینا شروع کردیتے ہیں۔ “
اگر چشتی صاحب صوفی، مُلَّا، مولوی، مسجد و مدرسہ کی مخالفت میں حواس باختہ نہیں ہوئے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دینی مدارس و مکاتب کا سلسلہ صرف ان چند اضلاع تک محدود نہیں، بلکہ بحمداللہ! پورے پاکستان کے ہر شہر، قصبہ، دیہات اور قریہ قریہ تک پھیلا ہوا ہے، کیا سرحد، بلوچستان اور سندھ میں دینی مدارس و مکاتب کا جال بچھا ہوا نہیں؟ کیا ملک بھر میں سرحد کے علماء کی کثرت نہیں؟ کیا بلوچستان میں دینی فضا اور دین داری کا بول بالا نہیں؟ کیا سندھ دین اور دینی مدارس و مکاتب سے خالی ہے؟ کیا کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ، لاڑکانہ، شکارپور، سکھر، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈوالٰہ یار وغیرہ میں دینی مدارس قوم کو روحانی غذا مہیا نہیں کررہے ؟ کیا مظفر گڑھ، علی پور، لیہ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، تونسہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاول پور، بہاول نگر، خانیوال ،رحیم یار خان ، صادق آباد، وہاڑی، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، کوئٹہ، سبی، مستونگ، خضدار، پنج گور، تربت، چمن، اکوڑہ خٹک، پشاور، مانسہرہ، بنوں، کوہاٹ، سوات، مردان میں دینی مدارس نہیں ہیں؟ کیا ہزارہ، مانسہرہ، اوگی، بٹگرام اور آزاد کشمیر کے اضلاع اس سعادت سے محروم ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس ”گوہر افشانی“ کا کیا معنی؟
دوم:… آپ کا یہ ارشاد کہ ”ان لوگوں کا دین سے تعلق کم اور روزگار سے زیادہ ہوتا ہے“ کیا یہ ان دین دار اور مخلصین پر کھلی تہمت و افترأ نہیں؟ کیا آپ نے ان مخلصین کے دلوں میں جھانک کر دیکھا ہے کہ یہ لوگ دنیا کے لئے دین پڑھتے ہیں؟ کیا آپ نے حدیث نبوی ”ہلا شققت قلبہ“...کیا آپ نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟... کی مخالفت نہیں کی؟ کیا آپ نے دین پڑھنے والے مخلصین اور دین دار گھرانوں اور مسلم والدین کی توہین و تضحیک نہیں کی؟ کیا آپ نے اس سے دین دشمنوں کے موقف کی تائید نہیں کی؟ کیا آپ نے قرآن و حدیث پڑھنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں کی؟ کیا آپ نے دینی مدارس و مکاتب میں قوت لا یموت پر گزارہ کرکے امت تک دینی اور قرآنی تعلیم پہنچانے والوں کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپا؟ چشتی صاحب! آپ کے نام سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ خیر سے آپ بھی مسلمان ہیں اور آپ کا تعلق بھی کسی مسلمان گھرانے سے ہے، مگر گستاخی معاف! آپ کی تحریر سے ایسا لگتا ہے کہ آپ اپنے مستشرق اساتذہ اور ملحد ماحول سے اس قدر متاثر ہیں کہ آپ کو دین، دینی مدارس، مساجد، مُلَّا، مولوی اور صوفی سے چڑ سی ہوگئی ہے اور آپ ان کی توہین و تنقیص کا کوئی موقع ضائع کرنا نہیں چاہتے، اگر آپ خدا کا پیغام خدا کی مخلوق تک یا علوم نبوت امت تک خود نہیں پہنچاسکتے اور آپ کی معاشی و معاشرتی مجبوریاں اس کی اجازت نہیں دیتیں تو کم از کم ایسے لوگ جو سب کچھ داؤ پر لگاکر اللہ کا پیغام، اللہ کی مخلوق تک پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں، ان کی مخالفت یا کم از کم حوصلہ شکنی تو نہ کریں۔ سوم:… آپ جن مدارس و مکاتب اور روایتی مولویوں کی توہین و تنقیص اور ان کی قدر و منزلت گھٹانے کے درپے ہیں، آپ کو شاید اس کا اندازہ نہ ہو کہ انہی روایتی مولویوں کی برکت سے امت کا اسلام سے رشتہ و رابطہ استوار ہے، آپ جیسے لکھے پڑھے روشن خیال اور اعلیٰ دماغ اسکالروں کو تو شاید کبھی دور افتادہ دیہاتوں اور پسماندہ بستیوں میں جانے کا موقع ہی نہ ملا ہو، اور شاید آپ کی بھاری بھرکم ذمہ داریاں اس کی اجازت بھی نہ دیں اور یقینا آپ کو اس کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔ مگر جہاں غربت و افلاس، جہالت و ناخواندگی کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہو، جہاں دنیا جہان کی این جی اوز اور غیر مسلم مشنریاں مختلف انداز، حیلوں اور بہانوں سے مسلمانوں کے دین و مذہب، ایمان و اسلام پر حملہ آور ہوں، وہاں یہی روایتی مُلَّا ہی ان کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہے، اور امت کے دین و ایمان کی ڈوبتی کشتی کا پاسبان ہے، اگر یہ مُلَّا نہ ہوتا تو کب کی امت دین و ایمان، مذہب و ملت اور اسلامی اخلاق و تہذیب کو خیر باد کہہ چکی ہوتی! چشتی صاحب! کبھی آپ نے سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب کے دور افتادہ اور پسماندہ دیہاتیوں کے دین و مذہب کی خبر لی؟ یا کبھی ان کے ایمان و اخلاق بچانے کے لئے کسی سوچ و فکر کی زحمت گوارا کی؟ جناب چشتی صاحب! شاید ہماری بات آپ کو سمجھ نہ آئے اور آئے گی بھی نہیں، کیونکہ آپ ہمیں بھی انہیں روایتی مولویوں کی جماعت کا رکن یا ترجمان سمجھیں گے، لہٰذا اس کے لئے ایک خالص دنیاوی تعلیم یافتہ اور سی ایس پی افسر کی شہادت سنئے اور اندازہ لگایئے کہ اس روایتی مُلَّا یا معمولی لکھے پڑھے کی خدمات کی کیا اہمیت ہے؟ لیجئے پڑھیئے اور سر دھنیئے!
”برہام پور گنجم، سنگلاخ پہاڑوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھرانے آباد تھے۔ ان کی معاشرت ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود محنتی، کلثوم دیوی اور بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا، گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی، جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا، جمعرات کی شام دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلادیا جاتا تھا، کچھ لوگ نہا دھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو چوم کر ہفتہ بھر کے لئے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔ ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد آباد کر جایا کرتے تھے، اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پاگیا ہوتا، تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے، بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے، اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بندھا رہتا تھا۔ برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے مُلَّا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا، ایک زمانے میں مُلَّا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے، لیکن سرکارِ انگلشیہ کی عمل داری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے مُلَّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا، رفتہ رفتہ نوبت بایں جا رسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کے ترکش کے تیر بن گئے، داڑھی والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں مُلَّا کا لقب ملنے لگا، کالجوں یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا، مسجد کے اماموں پر جمعراتی، شبراتی، عیدی، بقر عیدی، اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے، قل اعوذیئے مُلَّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں، لُو سے جھلس جانے والی گرم دوپہروں میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں (یہ ایئرکولر اور ایئر کنڈیشنر کے عام ہونے سے پہلے کی بات ہے) کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑ کڑاتے جاڑے میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟ دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دُور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر ،گلی گلی، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی پکی مسجدیں اسی ایک مُلَّا کے دم سے آباد تھیں، جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسے میں پڑھا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھاکر، گھر بار سے دور کہیں اللہ کے گھر میں سرچھپاکر بیٹھ رہا تھا، اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی، اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اورنہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا، اپنی استطاعت اور دوسرے کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع، کہیں د ین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری کو روشن رکھا، بہرام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، مُلَّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اُڑ جانے سے محفوظ رکھا، یہ مُلَّا کا ہی فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف مسلمان ثابت و سالم برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعدادو شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندراج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا، برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً مُلَّاکے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے، جس نے کسی نہ کسی طرح، کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔“ (شہاب نامہ، ص:۲۴۰، ۲۴۱)
چہارم:… آنجناب فرماتے ہیں کہ اٹک ،میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ اور ملتان میں صرف روایتی مولوی تیار کئے جاتے ہیں ،جناب چشتی صاحب! میں نہیں سمجھتا کہ آنجناب نے یہ مضمون ہوش و حواس میں لکھا ہے؟ ممکن ہے آپ نے کسی کے کہنے یا سنی سنائی معلومات پر قلم اٹھایا ہو، ورنہ جو آدمی پنجاب کے ایک مشہور شہر پسرور میں رہتا ہو، یقین نہیں آتا کہ وہ ان علاقوں کی دینی فضا، دینی مدارس سے اس قدر لا علم و جاہل ہو؟ کیا ہم جناب چشتی صاحب سے پوچھ سکتے ہیں کہ جامعہ امدادیہ فیصل آباد، دارالعلوم فیصل آباد، جامعہ عبیدیہ، دارالقرآن فیصل آباد، ادارہ دعوت و ارشاد، مدرسہ فتح العلوم چنیوٹ، مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن ختم نبوت چناب نگر، جامعہ محمودیہ جھنگ، دارالعلوم جھنگ، جامعہ عثمانیہ شور کوٹ، جامعہ خیرالمدارس، جامعہ قاسم العلوم، دارالعلوم رحیمیہ ملتان، جامعہ عمر بن خطاب، جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا، جامعہ فاروقیہ شجاع آباد، دارالعلوم کبیر والا، جامعہ قادریہ حنفیہ ملتان، جامعہ مفتاح العلوم، مدرسہ سراج العلوم سرگودھا، جامعہ حقانیہ ساہیوال، سرگودھا وغیرہ، دارالارشاد اٹک، اشاعت القرآن حضرو، مدرسہ عربیہ سعدیہ سراجیہ میانوالی، جامعہ قادریہ بھکر بھی روایتی مدارس ہیں؟ اور ان میں روایتی مولوی بنائے جاتے ہیں؟ جہاں کی اکثریت میں دورئہ حدیث کے علاوہ تخصصات بھی کرائے جاتے ہیں۔ چشتی صاحب کچھ تو خدا کا خوف کریں! مدارس ، مساجد اور مُلَّاو مولوی اور صوفی کی مخالفت میں حقائق سے اغماض نہ کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ دین اللہ کا باغ ہے اور اس باغ کا مالک کائنات کا مالک ہے، وہ جس طرح باغ لگانا جانتا ہے، اسی طرح اس کی حفاظت و صیانت اور اس کے لئے رجال کار پیدا کرنا اور ان کو اپنے اس عظیم کام کے لئے منتخب کرنا بھی جانتا ہے، میری اور آپ کی مخالفت سے نہ صرف یہ کہ یہ چراغ نہیں بجھے گا، بلکہ انشاء اللہ مدہم بھی نہیں ہوگا، کیونکہ ارشاد الٰہی ہے:
”یریدون لیطفوٴوانوراللّٰہ بافواہہم واللّٰہ متم نورہ ولوکرہ الکافرون“
۴:… جناب چشتی صاحب دین، دینی تعلیم اور علومِ نبوت حاصل کرنے والوں کی توہین و تخفیف کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”ہمارے دیہات اور شہروں میں کم آمدنی والے لوگ اسکول کی بھاری فیس اور بچے کے وزن سے زیادہ وزنی کتابوں کا بوجھ نہ اٹھاسکنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو مسجد میں دینی تعلیم کے لئے بھیج دیتے ہیں ، ستم کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے بعض کھاتے پیتے لوگ بھی اس قدر مذہبی ہوتے ہیں کہ وہ بھی اپنے بچوں کو چار چھ جماعتوں تک اسکول میں پڑھانے کے بعد دینی تعلیم کے لئے مسجد میں ڈال دیتے ہیں، جہاں پر مسجد اور مدرسہ کے مولوی حضرات کا کسی دوسرے بڑے تعلیمی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ اسے باقاعدہ کنٹرول کرتا ہے۔“
جناب چشتی صاحب! نے اس پیراگراف میں بیک جنبش قلم کئی ایک ایسے ارشادات فرمائے ہیں، جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، مثلاً : ”ان مدارس میں کم آمدنی والے اور غریب و نادار، حضرات کے بچے پڑھتے ہیں یا جو اسکول کی فیس نہیں برداشت کرسکتے وہی اپنے بچوں کو مساجد و مدارس میں بھیجتے ہیں اور زیادہ تر دیہات کے لوگ ہی اس طرف توجہ کرتے ہیں۔“
اے کاش! کہ چشتی صاحب نے کبھی کسی مدرسہ کی زیارت کی ہوتی؟ یا انہوں نے کسی مدرسہ کے طلبہ کا سروے کیا ہوتا، تو ان کو معلوم ہوتا کہ ان مدارس میں کون لوگ پڑھتے ہیں؟ اور ان کی مالی حالت کیا ہے؟ یا ان کے والدین اپنے بچوں کو کس وجہ سے پڑھا تے ہیں؟ اور وہ معاشی اعتبار سے مفلوک ہیں؟ یا خوشحال؟ وہ اسکولوں کی فیس دے سکتے تھے یا نہیں؟ چشتی صاحب! اگر آپ اپنے راحت کدہ سے نکل کر کسی دینی مدرسہ میں جانے کی زحمت گوارہ کرلیتے تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ ان دینی مدارس میں جہاں غربأ اور فقرأ کے بچے پڑھتے ہیں، وہاں کثیر تعداد، ان طلبہ کی بھی ہے، جو خیر سے کروڑ نہیں ارب پتی ہیں، اور وہ نہ صرف مدرسہ کے مطبخ سے کھانا نہیں کھاتے، بلکہ وہ لاکھوں روپے کے فنڈ مدرسہ میں دے کر دینی تعلیم کی اشاعت و ترویج کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔ چشتی صاحب! امریکا، افریقہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ملائیشیا وغیرہ کے طلبہ معاشی مجبوری کے لئے نہیں، دینی تعلیم کے شوق سے دینی مدارس میں پڑھنے آتے ہیں۔ چلئے! اگر کوئی محروم القسمت مال دار اپنے بچوں کو دین نہیں پڑھاتا یا آپ کی طرح اس کو مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے تو آپ ہی بتلائیں اس میں ملا، مولوی، صوفی، مسجد و مدرسہ یا دین کا کیا قصور ہے؟ چشتی صاحب! اگر آپ نے حدیث پڑھی ہوتی تو آپ کو اندازہ ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے والے بھی زیادہ تر غرباء و فقراء ہی تھے، کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کو بھی آپ یہ طعنہ دیں گے کہ وہ معاشی مسائل سے مجبور ہوکر کفر سے ایمان کی طرف آئے تھے؟ کیا آپ ان کے بارہ میں بھی یہ ریمارکس دیں گے کہ: ”ان لوگوں کا دین سے تعلق کم اور روزگار سے زیادہ تھا؟“ اگر مدرسہ صفہ میں پڑھنے اور رہنے والے محض دین و مذہب کی خاطر پڑھتے تھے اور ان کا یہ کارنامہ لائق تقلید تھا، تو آج چودہ سو سال بعد ان کے نقش قدم پر چلنے والے اور مادہ پرست دنیا اور ہوأ و ہوس کو خیر باد کہہ کر اپنے ”روشن“ مستقبل کو ”تاریک“ کرنے والے فرزانے بھی لائق ملامت نہیں بلکہ باعث صد تبریک ہیں۔ اسی طرح آپ کا یہ ارشاد بھی سراسر غلط اور مضحکہ خیز ہے کہ ”ان روایتی مدارس کا کسی بڑے تعلیمی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اور ان کو سرکاری و غیر سرکاری کوئی ادارہ باقاعدہ کنٹرول نہیں کرتا“ اس لئے کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس مکاتب اور جامعات کا حسب مسلک اپنا اپنا ایک وفاق ہے اور وہ تمام مدارس اس کے ساتھ ملحق ہیں اور ان کی تعلیمی نگرانی اور دیکھ بھال کا باقاعدہ نظام ہے، ان کے سالانہ امتحان ہوتے ہیں، ان کے پرچے بنتے ہیں ان کے ممتحن ہوتے ہیں اور حسب استعداد و صلاحیت کامیاب ہونے والوں کی درجہ بندی کے اعتبار سے سند جاری کی جاتی ہے اور ناکام ہونے والوں کا محاسبہ کیا جاتا ہے، چنانچہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، تنظیم المدارس ، اتحاد المدارس، وفاق المدارس سلفیہ وغیرہ نام کے دینی مدارس کے متعدد وفاق سرگرم عمل ہیں اور ان سب کا ایک متحدہ وفاق ”اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ“ کے نام سے بھی ہے، جو ملک بھر کے مختلف مدارس کے اہم مسائل کے حل کے لئے سرگرم عمل ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ ملک بھر کے بارہ ہزار سے زائد چھوٹے بڑے دینی مدارس و مکاتب اور جامعات منسلک ہیں، اور اس کی جانب سے تمام دینی مدارس کے الحاق و انسلاک کی سند جاری کی جاتی ہے اور جو مدارس تعلیمی یا انتظامی میدان میں کوتاہی کے مرتکب پائے جائیں، ان کی سند الحاق ختم کردی جاتی ہے اور ہر تین سال بعد اس سند الحاق کی تجدید کی جاتی ہے اور سالانہ اس وفاق کے تحت تقریباً لاکھوں بچے اور بچیاں امتحان دیتے ہیں، چنانچہ گزشتہ سال وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت ایک لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات نے امتحان دیا۔ چشتی صاحب! اگر آپ احمقوں کی جنت میں نہیں رہتے تو ان حقائق کی تکذیب آفتابِ نصف النہار کی تکذیب و انکار کے مترادف ہے۔
۵:… جناب چشتی صاحب! دینی مدارس اور مولوی کے خلاف اپنے بغض و عداوت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ان کا نصاب بھی یکساں نہیں ہوتا، ہر ایک مسجد کے مولوی کا اپنا قانون ہوتا ہے، وہ تعلیمی لحاظ سے کسی ضابطے کا پابند نہیں ہوتا، اکثر مولوی حضرات کا اپنے شاگردوں کے ساتھ رویہ نہایت متشددانہ ہوتا ہے، اور وہ اپنے شاگردوں کے لئے جلاد سے کم نہیں ہوتے، ان کے تشدد سے ڈر کر بھاگنے والے طلبہ کو وزنی زنجیر ڈال کر رکھا جاتا ہے، امام مسجد ہی بچوں کو پڑھاتا ہے، خود ہی امتحان لیتا ہے اور خود ہی پاس کرکے بچوں کے والدین کو بلواکر کامیاب طلبہ کے سر پر خود ہی دستارِ فضیلت سجادیتا ہے، اس تقریب کا نام رسم دستار بندی ہوتا ہے یعنی یہ سارا کام ہر مولوی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ کے مترادف چلاتا ہے۔“
چشم بددور! چشتی صاحب کی معلومات کا اندازہ لگایئے کہ:” ان مدارس کا نصاب یکساں نہیں ہوتا“ اگر ایسا ہوتا تو دینی مدارس اپنے نصاب کے تحفظ کی خاطر حکومت سے جنگ کیوں لڑتے؟ کیا چشتی صاحب کو معلوم نہیں کہ دینی مدارس کا نصاب قرآن، سنت، فقہ اصولِ فقہ، حدیث، اصولِ حدیث، تفسیر، اصولِ تفسیر، منطق، فلسفہ، معانی، بدیع کے علاوہ صرف و نحو، انگلش، اردو، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر، کے مضامین پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ نصاب درسِ نظامی کے نام سے مشہور و متعارف ہے۔ کیا یہ حق و سچ نہیں کہ امریکا، برطانیہ اور بیرونی قوتیں ان دینی مدارس کے اس خالص دینی، مذہبی نصاب سے خائف ہیں؟ کیا اس کو جھٹلا نا ممکن ہے کہ اپنے آقاؤں کے اشارہ پر ہماری حکومت دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی خواہش میں ہلکان ہے؟ اگر ان مدارس کا کوئی نصاب نہ ہوتا تو حکومت کو اس مہم چلانے یا اربابِ مدارس کو اس کے لئے مجبور کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ چشتی صاحب! اگر دینی مدارس کے اساتذہ کا اپنے تلامذہ کے ساتھ متشددانہ رویہ ہوتا ہے یا ان کو زنجیروں میں ڈال کر رکھا جاتا ہے، تو آنجناب نے اس کی کوئی ایک آدھ مثال ہی پیش کی ہوتی؟ اگر بالفرض ایسا ہوتا تو آپ جیسے اسلام اور مدارس دشمن زمین و آسمان کو سر پر نہ اٹھالیتے؟ کیا دنیا بھر کی این جی اوز اور ہیومن رائٹس کی انجمنیں شور قیامت نہ برپا کردیتیں؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو اس ڈفلی بجانے اور مدارس کو بدنام کرنے کا کیا معنی؟ چشتی صاحب! مولوی روزِ اول سے منظم ہے اور اس کا نظام مربوط ہے، اس کا انداز ناصحا نہ اور مشفقانہ ہے، باوجود اس کے کہ دین پڑھنے والوں کے لئے دنیاوی اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہیں، پھر بھی بقول آپ کے: ”اچھے کھاتے پیتے مسلمان اپنے بچوں کو دینی مدارس میں تعلیم کے لئے داخل کرادیتے ہیں“ دوسری طرف دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ بڑے دینی مدارس میں داخلہ ملنا مشکل ہے، اور خود دینی مدارس بھی ہمیشہ اپنی کوتاہ دامنی کے باعث دینی تعلیم حاصل کرنے والوں سے معذرت خواہ رہتے ہیں، کیا اب بھی کہا جائے کہ ان میں تشدد ہوتا ہے؟ اگر مدارس میں تشدد ہوتا یا ان میں طلبہ کو زنجیریں ڈالی جاتیں تو دینی مدارس میں پڑھنے کون آتا؟ چشتی صاحب! اگر آپ بُرا نہ منائیں تو آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ہمارے مدارس و مکاتب میں تشدد و مارپیٹ کی سختی سے ممانعت ہے، یقین نہ آئے تو ملک بھر کی سب سے اسلامی دینی مدارس کی چین اقرأ روضة الاطفال ٹرسٹ کے مدارس اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی اس کی ایک سو چھپن برانچوں میں جاکر دیکھ لیجئے ! چھپن ہزار سے زائد طلبہ کے والدین، اساتذہ اور خود ان مدارس میں پڑھنے والے طلبہ سے پوچھ کر دیکھئے کہ وہاں مارپیٹ اور تشدد کی کس قدر سختی سے ممانعت ہے؟ چشتی صاحب! دینی مدارس اور ان کا نظام و نصاب ماشاء اللہ منظم و مربوط ہے اور ان کا انداز تعلیم بھی دنیا بھر کے ترقی یافتہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے کسی اعتبار سے کم نہیں ہے، ہاں البتہ آپ کو اور صرف آپ کو ہی ان سے اختلاف ہے اور آپ ان کے خلاف اکیلے اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپ رہے ہیں! جناب چشتی صاحب! عین ممکن ہے کہ آپ نے جس نام نہاد مدرسہ یا مکتب میں پڑھا ہو، وہاں کے نام نہاد ظالم ملا نے آپ کے ساتھ ”غیر انسانی“ سلوک کیا ہو، آپ پر ناروا تشدد کیا ہو، یا آپ کی شرارتوں سے مجبور ہوکر اس نے آپ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پاؤں میں زنجیر اور بیڑیاں ڈالی ہوں، تو ہم برملا کہیں گے کہ اس روایتی اور نام نہاد ملا کا یہ کردار قابل صد نفرت ہے، اور آپ کے ساتھ اس نے بے جا ظلم کیا ہے، مگر ایک ظالم کے ”مخصوص حالات“ میں ظلم کو جواز بناکر آپ تمام دینی مدارس، مکاتب کے نظام اور علماء کے کردار کو ہدف تنقید بنائیں، بہرحال یہ زیادتی ہے۔
۶:… چشتی صاحب کو یہ بھی اعتراض ہے کہ: ”مولوی حضرات سرکاری یا غیر سرکاری جگہ پر قبضہ کرکے مسجد بنالیتے ہیں، اور پاکستان میں سڑکوں پر ۹۰ فیصد تجاوزات مساجد، واپڈا اور ٹیلی فون کے کھمبوں کی وجہ سے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہمارا موجودہ مسجد بنانے کا نظام متحدہ ہندوستان کے مندر بنانے سے متاثر ہے۔“
اے کاش! چشتی صاحب نے اپنا زور قلم مسجد و ملا کے بجائے بے دینی کے مراکز، مشنری اسکولوں، ارتدادی اداروں، قادیانی، ذکری، منکرین ِ حدیث اور ملحدین کے مراکز کے خلاف صرف کیا ہوتا؟ کیا ان کو جگہ جگہ این جی اوز کے مراکز ،اسلام دشمن اڈوں اور مسلمانوں کی جیبوں سے رقم بٹورتے ہسپتال اور اسکول بھی کبھی نظر آئے؟ آخر ان کو مسجد و مدرسہ ہی کیوں کھٹکتا ہے؟ کیا پاکستان اور اس کی سرکاری املاک پر ان کا حق ہے؟ جو ان کو شیر مادر سمجھ کر ہضم کررہے ہیں؟ آخر کیوں؟
۷:… چشتی صاحب کو یہ بھی شکایت ہے کہ :
”ان مولویوں کی وجہ سے ہم ملک بھر میں ایک دن عید نہیں کرسکتے۔“
حضور گستاخی معاف! یہ اعتراض تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر کرنا چاہئے کہ اس نے ملک بھر میں ایک وقت میں سورج و چاند کے طلوع و غروب کا نظام کیوں نہیں بنایا؟ اگر اللہ تعالیٰ مغربی ممالک، مغربی علاقوں یا سطح زمین سے اونچے علاقوں میں چاند پہلے نکال دیں اور مشرقی یا زیریں علاقوں میں وہی چاند دوسرے دن دکھلا دے تو اس میں مولوی کا کیا قصور ہے؟ حضور! اللہ کا رسول تو یہ اعلان کرتا ہے کہ: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو (عید کرو)۔“ مگر آپ ہیں کہ کہتے ہیں چاند نظر آئے یا نہ نظر آئے ایک ہی دن عید ہونی چاہئے، اگر آپ کی یہ منطق مان لی جائے تو کیا خیال ہے کل کلاں آپ یہ نہ فرمائیں گے کہ پوری اسلامی دنیا، بلکہ دنیا بھر کے پورے مسلمان ایک ہی دن روزہ رکھیں اور عید کریں، کیا یہ ممکن ہوگا؟ کہ جہاں ابھی سورج غروب ہی نہیں ہوا وہاں چاند کیونکر نظر آئے گا؟ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ کل کلاں آپ فرمائیں کہ ایک ہی وقت میں فجر اور مغرب کی نماز ادا کی جائے، کیا خیال ہے کہ پشاور اور سرحد کے بالائی علاقوں میں سورج غروب ہوچکا ہوگا مگر سندھ کے مطلع پر سورج چمک رہا ہوگا لیکن آپ کی تجویز اور حکم پر مغرب کی نماز کا ادا کرنا لازم ہوگا، اسی طرح جب پشاور اور بالائی علاقوں میں صبح کے وقت سورج نکل چکا ہوگا اور دوسری طرف کراچی اور مضافات میں سورج نکلنے میں ابھی نصف گھنٹہ باقی ہوگا تو کیا اس وقت پشاور اور کراچی والوں کو ایک وقت میں فجر کی نماز ادا کرنا ممکن ہوگا؟ چشتی صاحب! ہوش کے ناخن لیں اور قدرت الٰہی کے کرشموں میں دخل دینے کی حماقت نہ کریں۔
۸:… چشتی صاحب کو یہ بھی شکایت ہے کہ:
”مذہبی علماء اب تک دنیاوی اور دوسری زبانوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں، دوسری طرف ایک حدیث مبارکہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا کہ :”علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین تک جانا پڑے۔“ قابل غور بات ہے کہ کیا ان دنوں چین میں بہت عربی پڑھائی جاتی تھی؟ اس کا مطلب تو یہ تھا کہ مسلمانوں کو دنیا کا ہر علم حاصل کرنا چاہئے لیکن یہ خدا کے بندے عربی کے سوا ہر علم کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔“
چشتی صاحب! علماء نے بحمداللہ عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان سیکھنے کی کبھی مخالفت نہیں کی، یہ آپ کی بھول ہے، اگر ایسا ہوتا تو اسلامی لٹریچر عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں نہ ہوتا، حالانکہ بحمداللہ عربی کے علاوہ اردو، فارسی، ہندی، سنسکرت، مرہٹی، انگلش، فرانسیسی اور ڈچ زبان میں ضروری اسلامی تعلیمات کی کتب موجود ہیں، بلکہ اسلام کے مرکز سعودی عرب سے تو دنیا بھر کی زبانوں میں اسلامی لٹریچر تیار کرکے تقسیم کیا جاتا ہے اور رابطہ عالم اسلامی مستقل یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے علماء جن سے آپ کو شکایت ہے کہ وہ عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان سیکھنے کے مخالف ہیں، ان کے دینی مدارس کے نصاب میں انگلش کے مضامین کو خصوصی اہمیت سے پڑھا یا جاتا ہے، بلکہ کئی ایک مدارس میں اس کے باقاعدہ تخصصات کرائے جاتے ہیں اور ان ہی روایتی مدارس سے باقاعدہ انگریزی ماہناموں کا اجرأ ہوچکا ہے اور انگلش تراجم کا مستقل شعبہ قائم ہے، چنانچہ تفسیر عثمانی، تفسیر معارف القرآن، تحفہٴ قادیانیت، آپ کے مسائل اور ان کا حل، اختلاف امت اور صراطِ مستقیم کے انگلش تراجم ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ماہنامہ بینات، ماہنامہ البلاغ، ماہنامہ الفاروق کے انگلش ایڈیشن انہی مدارس سے شائع ہوتے ہیں۔ جہاں تک علماء کی طرف سے انگلش سے احتراز اور پرہیز کا تعلق ہے وہ ایک خاص وقت کے لئے تھا اور وہ بھی صرف اس لئے کہ کسی زمانہ میں سرکارِ انگلشیہ ہم پر مسلط تھی اور اس کی کوشش تھی کہ ہندوستان پر انگریزی تسلط کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان اور اس کی تہذیب بھی مسلط کی جائے، اس لئے اس وقت کے علماء نے مسلمانوں کے دین و مذہب اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو بچانے کے لئے شدت سے انگریزی کی مخالفت کی تھی۔ جب ہندوستان سے انگریزی اقتدار کا تسلط ختم ہوگیا اور انگریز ہندوستان سے بوریا بستر لپیٹ کر چلا گیا تو خود مسلمانوں نے انگریزی علاقوں اور ممالک کے لوگوں کو دینی تعلیم و تہذیب اور اسلام و ایمان کی دعوت دینے کے لئے نہ صرف انگریزی سیکھنے کی اجازت دے دی، بلکہ اس طرف خصوصی توجہ فرمائی، یہی وجہ ہے کہ آج تمام دینی مدارس میں انگریزی پڑھائی جاتی ہے اور دینی مدارس کے نصاب میں میٹرک کرنا لازم قرار دیا جاچکا ہے اور انہی دینی مدارس کے جدید تعلیم یافتہ افراد فوج، پولیس، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ مناصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لہٰذا آج بھی علماء اور دین دار مسلمانوں کا یہی موقف ہے کہ ضرور انگریزی سیکھی جائے مگر اس کی تہذیب و ثقافت کو نہ اپنایا جائے۔ جہاں تک آپ کی پیش کردہ حدیث کا تعلق ہے کہ: ”علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین تک جانا پڑے۔“ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کو اہل علم و تحقیق نے موضوع اور منگھڑت قرار دیا ہے اور ایک موضوع و منگھڑت روایت کو بنیاد بناکر علماء کو مطعون کرنا یا اس کو انگریزی زبان سیکھنے کا جواز اور استدلال بنانا، چشتی صاحب جیسے ”اہلِ علم“ کا ہی کام ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر اس حدیث کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کا معنی یہ ہے کہ علم سے دینی علم کا حصول مراد ہے، اور چین کا لفظ انتہائی سفر کے لئے بولا گیا ہے، کیونکہ اس وقت چین عربوں کے لئے بعید ترین ملک تھا، جس کا معنی یہ ہوگا کہ علم دین کی تحصیل کے لئے بعید سے بعید سفر سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
۹:… چشتی صاحب کا اپنے کالم کا یہ عنوان قائم کرنا کہ :”ہماری ذلت و رسوائی کا سبب کیا ہے؟“ پھر اس کے بعد پورے کالم میں علماء کو رگیدنا اور دینی مدارس کی توہین و تنقیص کرنا، اس بات کی بین اور واضح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک اس وقت دنیا بھر میں یا کم از کم پاکستان میں مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سبب صرف اور صرف مُلَّا و مولوی اور روایتی دینی مدارس ہیں، اگر یہ مدارس اور مولوی نہ ہوتے تو نامعلوم دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوتی؟ اور عالمی طور پر پاکستان کا وقار و معیار کس قدر بلند ہوچکا ہوتا؟ چشتی صاحب! گستاخی معاف! پاکستان یا مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سبب مُلَّا و مولوی یا روایتی دینی مدارس و مساجد کے بجائے، جدید تعلیم یافتہ حضرات، بیورو کریسی، اسٹیبلشمنٹ اور آپ جیسے لکھے پڑھے حضرات ہی ہیں، اس لئے کہ مُلَّا مولوی کے ذمہ جو کام اور ڈیوٹی لگی تھی، بحمداللہ! روز اول سے آج تک وہ اس کو بحسن و خوبی نبھارہا ہے، مثلاً مُلَّا، مولوی، صوفی اور دینی مدارس کے ذمہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو دین و مذہب سے آشنا کریں، اللہ کی مخلوق کو اللہ کا پیغام پہنچائیں، امت کو قرآن و حدیث سے روشناس کرائیں، جائز و ناجائز، حرام و حلال، پاک و ناپاک سے آگاہ کریں، ان کو اسلام کے فرائض، سنن، آداب کی تعلیم دیں، معاشی و اقتصادی مسائل سے مطلع کریں، مسلمانوں کو نماز، روزہ، حج، زکوٰة، نکاح، طلاق، خریدوفروخت، شفعہ، وکالت، کفالت، طہارت، غسل، وضو، تیمم، موت، میت، جنازہ، تکفین و تدفین کے احکام بتلائیں، کفر ، اسلام، ارتداد، زندقہ، منافقت کی نشاندہی کریں، حدود، قصاص، تعزیرات کی تفصیلات بتلائیں، اگر کوئی طالع آزما مسلمانوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرے تو اس کا دفاع کریں، اس کا جواب دیں، مناظرہ، مباہلہ کی ضرورت پیش آئے تو اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کریں، مسلمانوں کی نمازوں، جنازوں، نکاح و طلاق کے معاملہ میں ان کی مدد کریں، مسلمان بچوں کو قرآن، علومِ قرآن اور علومِ نبوت کی تعلیم دیں، آپ ہی بتلائیں کہ مُلَّا و مولوی نے آج تک ان میں سے کس میدان میں پیٹھ دکھائی ہے؟ یا کس شعبہ میں ا س نے اپنے فرائض میں کوتاہی برتی ہے؟ اس نے آپ کو مولوی دیئے، مدرس دیئے، موذن دیئے، مفتی دیئے ،محقق دیئے، مقرر دیئے، حافظ دیئے، قاری دیئے اور آپ کو اچھے شہری دیئے، پھر اس کا سب کچھ اول آخر ملک کے لئے ہے، اس نے کبھی کسی کے کہنے پر اپنا موقف نہیں بدلا، ملک سے غداری نہیں کی، وہ ملک کا سرمایہ لوٹ کر نہیں بھاگا، اس نے کسی ملک کی امیگریشن نہیں لی۔ اس کے مقابلہ میں آپ جیسے لکھے پڑھے حضرات اور بیوروکریٹ جو ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے، ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک کے نظم و نسق کو چلائیں، ملک کو معاشی، اقتصادی اور انتظامی معاملات میں ترقی سے ہمکنار کریں، بین الاقوامی طور پر ملک کی عزت و وقار کو بحال کریں، ملک کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں، عوام کے مسائل کو حل کریں، ملک میں امن و امان قائم کریں، ملک سے چوری، ڈکیتی، مار دھاڑ، قتل و غارت گری کا خاتمہ کریں، آجر و اجیر اور حاکم و محکوم کو ان کے حقوق و فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس دلائیں، عدل و انصاف کا بول بالا کریں، ظلم و تعدی کا خاتمہ کریں، تعلیم و صحت کا انتظام کریں اور نئی نسل کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں، انہیں ملک و قوم کا وفادار بنائیں اور قوم کو اچھے شہری مہیا کریں۔ اب آپ ہی بتائیں پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے ۶۱ سال کا طویل عرصہ ہوچکا ، ان اکسٹھ سالوں میں آپ کے سرکاری خزانہ پر چلنے والے اسکولوں، تعلیمی اداروں، ان سے نکلنے والے اسکالروں، بیوروکریٹوں اور حکمرانوں نے ملک و قوم کو کیا دیا؟ کتنے سائنس دان دیئے؟ کتنے محقق دیئے؟ کتنے ملک و قوم کے خیر خواہ دیئے؟ ان کی برکت سے ملک نے کیا ترقی کی؟ ملکی مصنوعات میں کتنا اضافہ ہوا؟ معاشی و اقتصادی اعتبار سے ملک کتنا آگے بڑھا؟ پاکستان کے ۶۱ سال کی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیجئے تو اندازہ ہوگا کہ اس نے ترقی معکوس کی ہے، دوسری طرف ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے انڈیا کا جائزہ لیجئے تو وہ آج ہر میدان میں ہم سے کہیں آگے ہے، اس نے ہر میدان میں نمایاں ترقی کی ہے، اس نے درآمدات و برآمدات میں نام پیدا کیا ہے، اس کی مصنوعات دنیا بھر میں پہنچ چکی ہیں، وہ وہیکل مصنوعات میں چائنا اور جاپان سے کندھا ملانے کی پوزیشن میں ہے، اس نے ایٹمی میدان میں نام کمایا ہے، غرض ہر میدان میں اس نے اپنے افراد پیدا کئے ہیں، اور ان کا ہر شہری اپنے ملک و قوم کا خیر خواہ ہے۔ جب کہ پاکستان کا یہ حال ہے کہ اس کی اپنی کوئی پالیسی نہیں، ہمت نہیں، جرأت نہیں، امریکا اور یورپی قوتوں کا کاسہ لیس ہے، ان کے اشارئہ ابروئے چشم پر سب کچھ ڈھیر کرنے کو تیار ہے، اپنے شہری پکڑ پکڑ کر امریکا کے حوالہ کئے جارہے ہیں؟ حد تو یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے وزیر مشیر نہیں ملتے، چنانچہ ہمیں وزیر اعظم کے لئے کبھی امریکا سے معین قریشی منگوانا پڑتا ہے تو کبھی شوکت عزیز۔ آپ ہی فیصلہ فرمادیں کہ ہماری ذلت و رسوائی کا سبب ملا، مولوی ہے یا سرکاری اسکول و کالج اور یونیورسٹی کا لکھا پڑھا بیوروکریٹ؟ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ اور اسکولوں کالجوں کی پیدوار اپنے ملک و قوم کی خدمت کرنے کے بجائے امریکا، کینیڈا اور یورپ کی ایمیگریشن لے کر باہر بھاگ رہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس کو اپنے ملک میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ کبوتروں کی مانند ایک ایک کرکے اغیار کے آشیانوں پر جمع ہورہے ہیں، آپ ہی بتلائیں کہ ہماری ذلت و رسوائی کا سبب یہ مُلَّا و مولوی ہے یا آپ جیسے ننگ دین وطن؟ جن کی مفاد پرستی اور حرص و طمع کی وجہ سے ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ: ”پاکستانی قوم ایسی بے غیرت اور لالچی ہے کہ اگر اس کو اپنی ماں بیچ کر پیسے حاصل کرنا پڑیں تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتی؟ جناب چشتی صاحب !اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتلایئے کہ مُلَّا و مولوی نے آپ کو ملکی ترقی سے کب روکا تھا؟ اس نے آپ کو کب کہا تھا کہ ایٹم بم نہ بنایئے؟ اس نے آپ کو کب کاریں، موٹریں، بسیں اور ٹرک بنانے سے منع کیا تھا؟ اس نے کب کہا تھا کہ آپ ہوائی جہاز نہ بنائیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ قوم کو ریلیف نہ دیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ ملک میں سڑکیں اور پل نہ بنائیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ اپنے ملک کی دولت لوٹ کر باہر کے بینکوں میں جمع کرائیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ آزاد عدلیہ پر شب خون ماریں؟ اس نے کب کہا تھا کہ ملک میں امن و امان قائم نہ کریں؟ اس نے کب کہا تھا کہ اپنے ملک اور قوم کو امریکا کی گود میں ڈال دیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ اپنے شہریوں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کریں؟ اس نے کب کہا تھا کہ اپنے ملک کی معدنیات سے فائدہ نہ اٹھائیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ پیٹرول اور گیس نہ نکالیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ انڈیا سے معاہدہ کر کے اپنے دریا بند کروادیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ ڈیم نہ بنائیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ آئل ریفائنریاں نہ لگائیں؟ اس نے کب کہا تھا کہ قوم و ملک پر مہنگائی کا عفریت مسلط کریں؟ آپ ہی بتلائیں کہ ذلت و رسوائی کا سبب کون ہے: مُلَّا و مولوی یا ملک کے سیاہ سفید کا مالک بیوروکریٹ سرمایہ دار اور سیاست دان؟ چشتی صاحب! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتلایئے کہ ملک کو دو لخت کس نے کیا؟ نوے ہزار فوجی کس نے گرفتار کروائے؟ مسئلہ کشمیر کو التوا ء میں کس نے ڈالا؟ کارگل سے پیچھے کون ہٹا؟ محسنِ پاکستان اور ایٹمی سائنس دان کو کس نے ذلیل کیا؟ اس کو پابند سلاسل کس نے کیا؟ ملک کو افراط زر کا شکار کس نے کیا؟ روپے کی قدر میں کمی کس کی برکت سے ہوئی؟ بینک سے قرضے لے کر کس نے معاف کرائے؟ بینک فراڈ کس نے کئے؟ ملکی خزانہ کو شیر مادر سمجھ کر کس نے ہضم کیا؟ بینک کرپٹ کون ہوئے؟ نیب اور احتساب کے سامنے ننگے کون ہوئے؟ اربوں روپوں کی املاک کو کوڑیوں کے عوض کس نے فروخت کیا؟ کے- ای- ایس- سی، ٹی این ٹی جیسے نفع بخش اداروں کو کس نے فروخت کیا؟ پاکستان اسٹیل مل کو نیلام کرنے کا منصوبہ کس نے بنایا؟ ملک بھر کے سرکاری بینک اور ان کی کھربوں کی جائیدادیں کس نے نیلام کیں؟ بینک آف پنجاب کی دو برانچوں میں (۴۰۰۰۰۰۰۰۰۰)چار ارب روپے کا غبن کس نے کیا؟ اسی بینک کے آڈٹ کے دوران ظاہر ہونے والے (۱۳۰۰۰۰۰۰۰۰۰)تیرہ ارب روپے سے زائد کا فراڈ کس نے کیا؟ ایم پی ون تنخواہ اسکیل کے تحت ۶ سال تک ۹۹ فاضل افراد کو (۳۵۰۰۰۰)ساڑھے تین سے (۷۰۰۰۰۰) سات لاکھ ماہانہ کس نے عطا کئے؟ ذرا اندازہ تو لگایئے کہ ان چھ سالوں میں پاکستانی خزانہ کو کس قدر نقصان ہوا ہوگا؟ چنانچہ فی کس (۷۰۰۰۰۰) سات لاکھ کے حساب سے ۹۹ افراد پر ماہانہ (۶۹۳۰۰۰۰۰)چھ کروڑ ترانوے لاکھ ،سالانہ (۶۲۳۱۶۰۰۰۰۰) چھ ارب تئیس کروڑ اور سولہ لاکھ، جبکہ چھ سال میں (۳۷۳۸۹۶۰۰۰۰۰) سینتیس ارب اڑتیس کروڑ اور چھیانوے لاکھ روپے، ان ریٹائرڈ اور فاضل افراد کی نذر کس نے کئے؟ جو خیر سے اپنی مدت ملازمت پوری کرچکے تھے اور ان کا کوئی خاص مصرف بھی نہ تھا ۔ (دیکھئے روزنامہ جنگ کا اداتی صفحہ، ۶/مئی ۲۰۰۸ء) اسی طرح (۴۵۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰)ساڑھے چار کھرب کے سرکاری مکانات اپنے منظور نظر افراد کو کوڑیوں کے دام کس نے الاٹ کئے؟ (دیکھئے روزنامہ جنگ کراچی، ۱۸/اپریل ۲۰۰۸ء) چشتی صاحب! ہماری بیوروکریسی کے یہ کارنامے ہماری ذلت و رسوائی کا سبب ہیں یا عزت کا؟ اور یہ بھی بتلایئے کہ یہ مُلَّا و مولوی نے انجام دیئے یا لکھے پڑھے بیوروکریٹس نے؟ امید ہے میری یہ چند گزارشات آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے کافی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عقل سلیم نصیب فرمائے اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے اپنے محاسبہ کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , جمادی الاخریٰ ۱۴۲۹ھ جولائی ۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ