سزائے موت کی تبدیلی کااعلان!
سزائے موت کی تبدیلی کااعلان!


الحمدللہ وسلام علی عبادہ ا لذین اصطفی!
پی پی پی کو بڑے دنوں بعد لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کی سعادت اور خوشی نصیب ہوئی ہے۔ خدا کرے اسے وصلِ محبوب کی خوشیاں راس آئیں اور وہ اس موقع پر شادی مرگ کا شکار نہ ہو، مگر ان کے بڑوں کے انداز و اطوار سے اس بات کاشدید احساس ہونے لگا ہے کہ وہ بدترین بدحواسی کا شکار ہیں۔ اس لئے اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ کہیں ان کو سوئے ہضم کا عارضہ نہ لگ جائے، اور وہ اپنی ساکھ بنانے یا اپنا مورال بلند کرنے کے شوق میں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی نہ مار بیٹھیں۔ چنانچہ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کے کئی ایک اقدامات اس اندیشے کو تقویت پہنچارہے ہیں، مثلاً: وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی ”مظلوم“ لیڈر اور پی پی پی کی شریک چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر عوام کو سالگرہ کا تحفہ دیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ/اے پی پی) شہید بینظیر بھٹو کی ۵۵ ویں سالگرہ کے سلسلے میں ملک بھر میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا، پارٹی کارکنان و دیگر افراد نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی اپیل پر خون کے عطیات دیئے، شہید قائد کو قومی اسمبلی میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو و دیگر نے گڑھی خدا بخش میں مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی و قرآن خوانی بھی کی، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سمری صدر کو بھجوادی جائے گی، انہوں نے کہا کہ یہ بینظیر شہید کی سالگرہ کا بہترین تحفہ ہے ، اس موقع پر انہوں نے فاٹا میں شہید ہونے والوں کے بچوں کے لئے بینظیر ٹرسٹ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا ۵۵ واں یوم پیدائش روایتی جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے منایا گیا.... انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل ہمارا دوسرا گھر ہے، آج اس دن کی مناسبت سے اعلان کرتا ہوں کہ تمام قیدیوں کو سزا میں تین ماہ کی رعایت دی جائے۔ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو یہ رعایت نہیں ملے گی، اس کے علاوہ وزارت داخلہ کو ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ صدر مملکت کو سمری روانہ کریں کہ تمام سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزا عمر قید میں بدل دی جائے․․․․․۔ “ (روزنامہ جنگ کراچی ،۲۲/ جون ۲۰۰۸ء) اگرچہ انہوں نے اپنے اس اعلان اور ”تحفہ“ میں اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ: ”سزائے موت کی عمر قید میں تبدیلی“ کے اس اعلان کا فائدہ سنگین جرم کے مرتکب افراد و اشخاص کو نہیں ہوگا ...تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ ان کے ہاں سنگین جرائم کا معیارکیا ہے؟ اور وہ کن کن جرائم کو سنگین جرائم سمجھتے ہیں؟ اور کون کون سے مجرم اس دائرہ میں آتے ہیں اور کون کون سے اس دائرہ میں نہیں آتے؟ اگر وہ اس کی بھی وضاحت کردیتے تو بہتر ہوتا، تاہم اس ابہام و اجمال سے جہاں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، وہاں قرآن و سنت کی رو سے بھی ان کا یہ اعلان محل نظر ہے۔
الف :․․․سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے جن جرائم میں سزائے موت مقرر کی ہے، وہ حدود و قصاص کے دائرے میں آتے ہیں اور حدود و قصاص میں کسی فرد ،افراد اور بڑے سے بڑے انسان حتی کہ کسی حکمران اور بادشاہ کو اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی کی اجازت و اختیار نہیں ہے، یہاں تک کہ حدود و قصاص کے معاملات میں سفارش کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت اور گوارا نہیں فرمایا، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کے قبیلہ بنو مخزوم کی ایک خاتون نے چوری کی، اس کا کیس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد سرقہ ...ہاتھ کاٹنے...کا فیصلہ فرمایا، قریش کو اس سے بہت پریشانی ہوئی، انہوں نے چاہا کہ اس سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرکے اس سزا میں کوئی تخفیف کرادے ،تاکہ یہ خاتون اس سزا سے اور ہم بدنامی سے بچ جائیں، سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ کام حضرت اسامہ بن زید ہی کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کو رد نہیں کریں گے، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد کی تبدیلی کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے ،خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! تم سے پہلے والے اس لئے گمراہ ہوئے کہ جب ان میں کا کوئی معزز چوری کرتا تووہ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمتر چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے، اللہ کی قسم! اگر اس مخزومی خاتون کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔“ (صحیح بخاری، ص:۱۰۰۳، ج:۲)
دیکھئے! نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحبِ شریعت نبی ہیں اور ان کا ہر قول و فعل شریعت ہے، اگر انہیں چوری کی سزا کے معاملہ میں تبدیلی اور ترمیم و تنسیخ گوارا نہیں یا دوسرے الفاظ میں ان کو اس کا اختیار نہیں تو دنیا کے کسی نام نہاد بڑے کو کیونکر اس کا اختیار ہوگا؟
ب:… اسلام نے جن جرائم میں سزائے موت تجویز فرمائی ہے، ان میں سے قتلِ عمد، ارتداد، شادی شدہ مرد و عورت کا زنا کرنا، محاربہ یعنی سر عام مال لوٹنا اور قتل کرنا یا پھر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بھی مقدس نبی کی توہین و تنقیص کا ارتکاب کرنا، ان تمام جرائم میں سے صرف قتل عمد ہی ایسا جرم ہے جس میں شریعت نے مقتول کے ورثاء کو معاف کرنے کا حق دیا ہے، باقی کسی بھی جرم میں کسی انسان کو ان سزاؤں کو بدلنے، تخفیف کرنے یا ان کو ختم کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں دیاگیا۔ لہٰذا جناب وزیر اعظم صاحب کا یہ ا علان کہ بی بی کی سالگرہ کے موقع پر پاکستانی جیلوں میں قید سزائے موت کے مجرموں کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے، کسی مسلمان، دین دار اور اللہ و رسول اور قرآن و سنت کے ماننے والے مسلمان کے لئے ناقابل فہم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی گہری سازش کا پیش خیمہ ہے اور پی پی پی حکومت کو ناکام و بدنام کرنے کا حربہ ہے، ورنہ کیا کوئی مسلمان یہ گوارا کرسکتا ہے ،یا سوچ سکتا ہے کہ وہ اللہ، رسول، قرآن، سنت اور دین و شریعت کی آہنی دیوار سے ٹکراکر اپنی د نیا وآخرت برباد کرے؟ اسی طرح کیا کوئی عقل مند اس کو برداشت کرسکتا ہے کہ وہ دین و شریعت کے واضح احکام اور قطعی نصوص میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرکے امت مسلمہ کی مخالفت کرے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس حماقت و جہالت کا کیا معنی؟ ہمارے خیال میں عزت مآب وزیر اعظم جناب گیلانی صاحب جو ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے خود قصداً ایسا نہیں کیا ،بلکہ غیر مرئی اور اسلام دشمن قوتوں نے ان سے یہ اقدام کرایا ہے، اور اس اقدام یا اعلان کے پیچھے یہ غلیظ اور گھناؤنی سازش کارفرما ہے کہ جن بدبختوں نے آزادیٴ اظہار، آزادیٴ ضمیر کے نام نہاد فلسفہ کی آڑ، اسلام دشمنوں کے مقاصد کی تکمیل، معمولی دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے مقدس انبیاء اور شخصیات کی شان میں بے ادبی، گستاخی، توہین و تنقیص کا ارتکاب کیا ہے اور پاکستان کے غیور و دین دار مسلمانوں نے انہیں عدالتوں میں گھسیٹا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے قانون توہین رسالت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے اس شرمناک جرم کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی ہے، اس اعلان و اقدام سے ان کو فائدہ پہنچایا جائے اور ان کو سزائے موت سے بچایا جائے۔ جناب گیلانی صاحب! آپ خود ہی فیصلہ فرمایئے ،کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں کہ آپ کے اس اعلان سے آپ کے نانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو فائدہ پہنچے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو فوراً اس اعلان و اقدام کا ازالہ کیجئے اور وضاحت فرمائیے کہ اس اعلان سے ان بدبختوں کو قطعاً کوئی فائدہ اور ریلیز نہیں ملے گا جنہوں نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر آپ نے یہ وضاحت نہ کی تو اندیشہ ہے کہ کہیں کل قیامت کے دن آپ کا شمار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں اور توہین رسالت کے مرتکبین میں نہ ہو۔ جناب گیلانی صاحب! شفقت و رحمت اور وسعت ظرفی ضرور کیجئے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے بجائے عام مجرمین کے ساتھ۔ ایک طرف تو آپ اپنی قائد اور پارٹی راہنما کے قاتلوں کے سلسلہ میں ذرہ بھر نرمی دکھانے کو تیار نہیں اور پوری کوشش فرماتے ہیں کہ اس کے قاتل کیفر کردار کو پہنچیں، حتی کہ اس سلسلہ میں آپ بین الاقوامی انصاف کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعہ تحقیقات پر مصر ہیں اور دوسری طرف اتنی بے حسی کہ جو مردود و بدبخت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ہیں اور ان کو سزائے موت ہوچکی ہے ،آپ ان کو ریلیف دینے کے لئے ہلکان ہیں۔ اگر آپ کو انسانیت کے ساتھ خیر خواہی ہے تو اپنے حقوق معاف کیجئے اور اپنے مقدمات و خصومات میں عفو و درگزر کیجئے ،مگر جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے ساتھ نرمی اور عفوومعافی کا تعلق ہے، تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی کو معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ خدا کرے !ہماری یہ صدا آپ کے کانوں تک پہنچ جائے اور آپ کو اس پر غوروفکر کا موقع مل جائے، ورنہ آپ کی د نیاو آخرت تباہ ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔ نامناسب نہ ہوگا اگریہاں تمام مسالک کے راہنماؤں اور ذمہ داروں کا وہ بیان بھی درج کردیا جائے، جس میں انہوں نے متفقہ طور پر اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سزائے موت معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، ملاحظہ ہو:
”جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نکتہ اعتراض پروزیر اعظم کی طرف سے سزائے موت معاف کرنے کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ: سزائے موت معاف کرنے کا اختیار حکومت کو نہیں، یہ قرآن مجید کا واضح حکم ہے، وزیر اعظم اپنی مرضی سے ایسے اعلانات نہ کریں جو قرآن و سنت کے منافی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سزائے موت معاف کرنے کے لئے ناقص تفتیشی نظام کو جواز بنانا غلط ہے۔ آئین میں گزشتہ ۶۰ سالوں کے دوران اسلامی تعلیمات کے مطابق چند ایک نامکمل تبدیلیاں کی گئیں ہیں، انہیں مکمل کرنے کی بجائے مسئلہ کو متنازعہ بناکر پنڈورا بکس نہ کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو بھی سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں، حکومت کی ان بنیادوں کو نہ ہلایا جائے جن پر یہ مخلوط حکومت قائم ہے، حکومت پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔ “ (رونامہ اسلام کراچی ،۲۵/جون ۲۰۰۸ء)
”لاہور (آن لائن) تمام مسالک نے سزائے موت معاف کرنے کی مخالفت کردی اور کہا ہے کہ قرآن و سنت میں جن جرائم کی سزا ،موت رکھی گئی ہے، اسے ختم کرنے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعظم، صدر یا کوئی پارلیمنٹ ایسا کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف ورثاء کو حاصل ہے، سزائے موت کے خاتمے کی آڑ میں توہین رسالت کے قانون کو جس کی سزا آئین کی دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت موت ہے، ختم کرنے کا منصوبہ ہے ، جو مغرب کی دیرینہ خواہش اور مطالبہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد، صدر اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان مفتی منیب الرحمن، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان قاری محمد حنیف جالندھری، ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ لاہور ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، سیکریٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان مولانا نعیم الرحمن، علامہ نیاز حسین نقوی وفاق المدارس الشیعہ پاکستان، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان، مولانا عبدالرؤف ملک صدر متحدہ علماء کونسل ، علامہ عنایت اللہ گجراتی، نائب صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان، مولانا عبدالحق بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، ڈاکٹر عطاء الرحمن ناظم اعلیٰ رابطة المدارس الاسلامیہ پاکستان، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، امیر انٹرنیشنل ختم نبوت پاکستان، مولانا مخدوم منظور احمد، مولانا عبدالجلیل نقشبندی، صدر جمعیت اتحاد العلمأ پنجاب، مولانا عبدالروف صدر جمعیت اتحاد العلماء کراچی اور اسد اللہ بھٹو امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں قتل عمدکی سزا موت رکھی ہے اور اس کی معافی کا اختیار حاکم اور عدالت کو نہیں ،بلکہ مقتول کے ورثاء کو دیا ہے۔ ڈاکے کی سزا موت ہے، شادی شدہ زانی اور توہین رسالت کے مرتکب مرتد کی سزا بھی موت ہے، ان سزاؤں کو کوئی بھی معاف نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم فوری طور پر سزائے موت کے خاتمے کی صدر کو بھیجی گئی ایڈوائس واپس لیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک طرف کفار بے گناہ مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں، باجوڑ، وزیرستان، فاٹا، لال مسجد، افغانستان، کشمیر، فلسطین اور عراق میں خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں، ان کے خلاف حکمرانوں کو زبان کھولنے کی سکت نہیں ہے، دوسری طرف مغرب کی ہمنوائی میں ظالموں، قاتلوں، ڈاکوؤں، انسانوں کی عزت کو پامال کرنے والوں سے اتنی ہمدردی ہے کہ ایسے ظالموں کی شرعی سزاؤں کو ختم کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا، وزیر اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے اس بات کا اعلان کرکے واضح کردیا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان پر یقین نہیں رکھتے، وہ پاکستان کو اسلامی ر یاست بنانے کے بجائے یورپ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں، قیام پاکستان کے لئے مسلمانوں نے جو قربانیاں دی تھیں، ان پر پانی پھیرنا چاہتے ہیں، انہوں نے پاکستانی قوم کے جذبات کو مجروح اور مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اور خدا کے غضب کو دعوت دی ہے، اگر انہوں نے عالمی دباؤ میں ایسا اعلان کردیا ہے تو فوراً اس غیر شرعی اعلان کو واپس لیں، توبہ کریں اور مسلمانان عالم سے معافی مانگیں۔“ (روزنامہ امت کراچی، ۲۶/جون ۲۰۰۸ء)
اس کے ساتھ ساتھ عالمی مجلس تحفط ختم نبوت کے امیرخواجہ خواجگان حضرت مولاناخواجہ خان محمد، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس اور عالمی مجلس تحفط ختم نبوت کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، جامعہ کے نائب رئیس مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ کرام ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نا ظم اعلیٰ مولانا عزیزالرحمن جالندھری،ناظم تبلیغ مولانا اللہ وسایا،ناظم نشرواشاعت مولانامحمداکرم طوفانی نے بھی سزائے موت کی تبدیلی کو قرآن و سنت اور دین و شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت کی ہے اور قرار دیا کہ وزیر اعظم صاحب فوراً اس سے رجوع اور توبہ کریں اور مسلمانوں کو اس تکلیف دہ صورتِ حال سے نجات دلائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی دلی وابستگی کا ثبوت دیں۔
واللہ یقول الحق وہبو یہدی السبیل
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمدوآلہ وصحبہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , رجب: ۱۴۲۹ھ اگست۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ