فرقہ پرستی کی تخم ریزی کی کوشش
فرقہ پرستی کی تخم ریزی کی کوشش!


الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
حکومت اور فورسز کو جہاں توجہ د ینی چاہئے اور جہاں کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا چاہئے، افسوس کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی، بلکہ ایک عرصہ سے وہاں اختلاف، انتشار، کشت، خون، تشدد اور فرقہ واریت کی آگ بھڑک رہی ہے اور متحارب طبقات اپنے اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے، ان کی املاک، جائیدادوں ، دکانوں، مکانوں، مسجدوں، مدرسوں، مارکیٹوں، بازاروں، شہروں، بستیوں کو اجاڑنے میں مصروف ہیں، وہاں کی آبادیوں کی آبادیاں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں اور اپنے گھر بار، مال، اسباب، کاروبار اور تجارت سے بے دخل ہیں، چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، ان کے نالے آسمانوں تک بلند ہورہے ہیں، مگر وہاں نہ کوئی آپریشن ہوتا ہے اور نہ امن و امان بحال کرنے کی کوئی سبیل کی جاتی ہے، بلکہ ایسی تمام خبروں کو بھی میڈیا پر نہیں آنے دیا جاتا، کیا وہاں کے پاکستانیوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت اور فورسز کی نہیں؟ کیا وہاں بیرونی مداخلت نہیں ہے؟ اگر ہے تو نظر کیوں نہیں آتی؟ کیا وہاں حکومتی رٹ کو کوئی خطرہ نہیں؟ اگر ہے تو اس کے سدباب کی ضرورت کیوں نہیں؟ لیجئے وہاں کے متصادم ہر دو طبقات میں سے ہر ایک کی دہائی سنئے! اور فیصلہ کیجئے! کہ حالات کس رخ پر جارہے ہیں؟ اور اس کے کیا ثمرات و نتائج نکلیں گے؟ کیا اس بھیانک صورت حال پر خاموشی، فرقہ پرستی کی تخم ریزی کی کوشش اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کے مترادف نہیں؟ کیا اس موقع پر آنکھیں بند کرنا جنونی فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں کو شہ دینے کے مشابہ نہیں؟ کیا اس سے قتل و غارت اور کشت و خون کا بازار گرم نہیں ہوگا؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو اس کے تدارک کی ضرورت کیوں نہیں؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو بتلایا جائے کہ اتنا عرصہ سے جاری اس معرکہ خوں چکاں سے صرف نظر کیوں کیا جارہا ہے؟ اور فرقہ واریت کے ان سوتوں کو بند کرنے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ اس سلسلہ میں سب سے پہلے شیعہ حضرات کی دہائی سنئے:
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان شیعہ کانفرنس میں علماء نے کہا کہ طالبان کو روکا نہیں گیا تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا، پارا چنار اور کرم ایجنسی میں شیعہ سنی لڑائی نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے، مسلم مخالف ایجنٹ ان علاقوں میں امن قائم نہیں ہونے دیتے، سرحد کے فسادات کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے۔ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ ۱۵ ماہ سے بند پارا چنار شاہراہ کھولی جائے، پی آئی اے کی سروس بحال کی جائے، کرم ملیشیا کو بحال کیا جائے، مطالبات تسلیم نہ ہونے پر اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا، ہفتے کو انچولی میں منعقدہ آل پاکستان شیعہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے فرزند سید علی حسین نے کہا کہ پارا چنار میں مقامی انتظامیہ جانبداری سے کام لے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل ایجنٹ نے آج ہی بتایا ہے کہ ہم آپ کے لئے راستہ نہیں کھول سکتے اور آپ کی حفاظت نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ امریکی افواج کو تو تحفظ فراہم کررہی ہے مگر اپنے شہریوں کی حفاظت نہیں کرسکتی، اگر حکومت اور انتظامیہ ہماری مدد نہیں کرتی تو پھر وہ اس لڑائی میں غیر جانبدار رہے، حکومت طالبان کی حمایت نہ کرے ہم اپنی حفاظت خود کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر پارا چنار میں طالبان اور ان کے آلہٴ کار اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئے تو پھر کراچی میں بھی امن قائم نہیں رہے گا، انہوں نے کہا کہ ۱۷/ ربیع الاول سے پارا چنار میں فسادات شروع ہوئے اور مظلوم شیعہ حضرات کو نشانہ بنایا گیا، یہ بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف مسلح اقدام کرنے اور دل آزار تقاریر کے بھی خلاف ہیں، دہشت گردوں نے پشاور، درہ آدم خیل، ہنگو، پارا چنار اور ڈی آئی خان میں بربریت کا ثبوت دیا، پارا چنار کے عوام نے دہشت گردی کا مقابلہ دہشت گردی سے نہیں کیا، پارا چنار کے اہل تشیع اپنا دفاع کررہے ہیں، اگر پارا چنار کے مظلوموں کی مدد نہیں کی گئی تو پھر کوئی اہل تشیع آرام سے زندگی بسر نہیں کرسکے گا، انہوں نے اپیل کی کہ عوام پارا چنار، ہنگو کے فسادات کے خلاف بھرپور احتجاج کریں، پارا چنار کے ہسپتال ادویات سے خالی ہیں، حکومت نے ڈیڑھ سال بعد حال ہی میں ہیلی کاپٹر سے ادویات بھیجی ہیں، انہوں نے اپیل کی کہ مخیر حضرات پارا چنار کے مظلوم عوام کی مدد کریں، انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے پارا چنار کے اہل تشیع کوئی دوسرا اقدام کرنے پر مجبور نہ ہوجائیں، وزیرستان کے طالبان سنی اور شیعہ دونوں پر ظلم کرتے ہیں۔ شیعہ ایکشن کمیٹی کے محرک مرزا یوسف حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ افراد کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث سرکاری اہلکاروں کو شامل تفتیش کیا جائے، پارا چنار میں قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی، ہم وفود بناکر وزیر اعظم سمیت چاروں صوبوں کے گورنروں اور وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کرکے انہیں پارا چنار کے مسائل سے آگاہ کریں گے، علامہ سید جواد ہادی نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سرحد کے قبائلی علاقوں کو امریکا نے نشانہ بنایا اور وہاں سازشیں کیں، ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، بعض ایجنسیاں جو امریکی مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہیں وہ دہشت گردوں کا ساتھ دے رہی ہیں، ہم مرسکتے ہیں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا کہ ہم شیعہ سنی جنگ کے حامی نہیں، ہم سنیوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں، طالبان کے سیلاب کو کرم ایجنسی کے اہل تشیع نے روک رکھا ہے، اگر یہ دیوار گر گئی تو پھر کوئی محفوظ نہیں رہے گا، سرحد کا آپریشن جعلی ہے، انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی میں شیعہ سنی کے درمیان تنازع کبھی بھی دو ہفتوں سے زیادہ نہیں رہا مگر اس مرتبہ یہ معاملہ کافی طویل ہوگیا ہے، یہ لڑائی شیعہ سنی لڑائی نہیں ہے اس میں شیعہ سنی استعمال ہورہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری کچھ روایات ہیں اگر یہ لڑائی شیعہ سنی کی لڑائی ہوتی تو ہماری روایات کے مطابق ہوتی، ہمارے ہاں بیماروں ، خواتین ، بچوں، بوڑھوں کو قتل نہیں کیا جاتا مگر اس مرتبہ ایسا کیا گیا یہ اس لئے کیا گیا کہ کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ شیعہ سنی کے درمیان اتنی نفرت پیدا ہوجائے کہ یہ دونوں کبھی نہ مل سکیں، شیعہ اور سنی کا مشترکہ دشمن امریکا ہے، طالبان اگر امریکا کے دشمن ہیں تو ان کی طاقت امریکا کے خلاف استعمال ہونی چاہئے۔ امامیہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی نائب صدر شفیق بنگش نے کہا کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں، ہمیں کراچی تا گلگت ، ہنگو سے ڈی آئی خان تک متحد ہونا پڑے گا، اگر ہم نے اتحاد کی فضا قائم نہیں کی تو پھر ہمیں اپنے علاقے چھوڑنے ہوں گے، میں علمائے کرام کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آگے بڑھیں نوجوان ان کا ساتھ دیں گے، پارا چنار میں شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں، اسلام اور کفر کا مسئلہ ہے۔ علامہ خورشید جوادی نے کہا کہ ہنگو پارا چنار میں ڈیڑھ سالہ بچے کا سر قلم کردیا گیا، لوگوں کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے، وزیرستان میں اہل سنت کو بھی قتل کیا گیا، آج بیداری کا وقت ہے، میں امریکا اور اسرائیل کے ایجنڈے کو لے کر آنے والی قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ہم الطاف حسین کے حکم پر ہنگو اور پارا چنار میں دہشت گردی پھیلانے والوں کو کراچی میں دہشت گردی کی اجازت نہیں د یں گے، یہ دہشت گرد ضیاء الحق کا تحفہ ہیں، ڈی آئی خان سے مولانا فضل الرحمن کا بھی تعلق ہے وہاں دہشت گردی پر تعجب ہے۔ علامہ اسعدی نے کہا کہ ہمیں ظلم کے خلاف متحد ہونا پڑے گا، جب تک ہمارے اندر احساس ذمہ داری پیدا نہیں ہوگی، حالات اسی طرح رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں پارا چنار کے بھائیوں کا دکھ اور ان پر ہونے والے مظالم کا احساس کرنا ہوگا۔ علامہ غلام اکبر ساقی نے کہا کہ میں آرمی چیف اور وزیر اعظم تک اپنا پیغام پہنچانا چاہوں گا کہ یہ قوم بزدل قوم نہیں، اپنے حق کا دفاع کرنا جانتی ہے، زندہ قومیں اپنا تحفظ خود کرتی ہیں، اب آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اگر پاکستان میں زندہ رہنا ہے تو پھر وہ راہ اختیار کرنا ہوگی جو حسین علیہ السلام نے اختیار کی تھی۔ معروف عالم دین محمد علی عابدی نے کہا کہ ہم طاغوتی قوتوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ہم سے ٹکرانے کی کوشش نہ کرنا، حکومت اس زعم میں نہ رہے کہ ان کے کوئی دوست ہیں، ہمارے پاس دوستی کا پیمانہ عیاری نہیں ہے، ہماری دوستی کا معیار کل بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی اور آج بھی ہے۔ کانفرنس سے علامہ شاہ عالم موسوی، علامہ عون محمد نقوی، علامہ عالم شاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا، بعدازاں علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے فرزند سید علی حسین کی قیادت میں انچولی سے سہراب گوٹھ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کے شرکاء امریکا کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی ۶/جولائی ۲۰۰۸ء)
اسی کے ساتھ ہی سنی حضرات اور خانماں برباد دوسرے طبقہ کی دل دہلادینے والی مظلومیت کی داستان پڑھئے:
”پارہ چنار جو کہ کرم ایجنسی کا صدر مقام ہے، پارہ چنار شہر جو اپنی خوبصورتی اور امن و امان کے لئے مشہور تھا، قدرتی و سائل یعنی معدنیات سے مالا مال یہ علاقہ چاروں طرف سے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان واقع ہے، وقتاً فوقتاً کی چھوٹی بڑی لڑائیوں نے اس کا چہرہ پہلے ہی ماند کردیا، لیکن جو افتاد اور مصیبت ۶/اپریل ۲۰۰۷ء کو آئی اس نے شہر کے ایک حصے کو قریباً ۴۰ فیصد تباہ کردیا تھا اور اسی سال ۱۶/ نومبر ۲۰۰۷ء کو ایک دوسری جنگ جو قیامت صغریٰ بن کر اس خوبصورت شہر پر ٹوٹ پڑی وہ الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے، اس جنگ میں ظلم و بربربیت کی وہ داستان رقم کی گئی، جس سے وحشت اور سفاکی کے علمبردار منگولوں کی روحیں بھی شرم سے پانی پانی ہوجائیں، یہ جنگ اس وادی کے لئے خطرناک موذی مرض کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ۱۳/نومبر ۲۰۰۷ء کے دن ہنگو سے سیّد امجد حسین نامی ایک پولیس حوالدار کی لاش مرکزی امام بارگاہ لائی گئی جسے ہنگو سے اغوا کرنے کے بعد ماموں خوڑہ (ٹل کے نزدیک) میں اس کی لاش پھینک دی گئی تھی، اس نوجواں سیّد امجد حسین کا تعلق زیڑان کے علاقے سے تھا اور یہ قبیلہ اپنے پر تشدد رویئے کے لئے مشہور ہے، یہ قبیلہ ۱۳/ نومبر کو اہل سنت والجماعت پر جنگ مسلط کرنا چاہتا تھا، کیونکہ ان کے بقول اس کے قتل میں اہل سنت والجماعت کا ہاتھ تھا، جبکہ پارہ چنار ایک قبائلی ایجنسی کا صدر مقام ہے اور ہنگو بندوبستی شہر اور ضلع ہے، پارہ چنار اور ہنگو میں تقریباً ۱۵۰ کلو میٹر کا فاصلہ ہے، پارہ چنار شہر میں اہل سنت والجماعت کی آبادی ۵ فیصد اور اہل تشیع کی آبادی ۹۵ فیصد ہے، (اہل سنت والجماعت کی دیگر چھوٹی مساجد کے علاوہ ایک مرکزی جامع مسجد ہے جبکہ اہل تشیع کی دیگر چھوٹی بڑی امام بارگاہوں کے علاوہ ایک مرکزی امام بارگاہ ہے جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی امام بارگاہ ہے)۔ جنگ کا پہلا طبل ۱۵/ نومبر ۲۰۰۷ء کی رات عشاء کی نماز کے وقت بجایا گیا جب زیڑان سے آئے ہوئے کچھ شرپسندوں نے معصوم نمازیوں پر جو عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکل رہے تھے، ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد (اکبر گل ولد جنت گل)جس کے پیٹ میں گولیاں لگیں جبکہ دوسرا نوجوان (عادل ولد خیر گل موچی) کی ٹانگ میں گولیاں لگیں زخمی ہوگئے، یہ کسی طور پر بھی جائز نہیں تھا کہ دوسرے علاقوں کے واقعات پارہ چنار پر اثر انداز جیسے کہاوت ہے کہ: کرے کوئی بھرے کوئی، بہرحال دوسرے دن ۱۶/نومبر ۲۰۰۷ء بروز جمعہ انتظامیہ کی نااہلی اور نامناسب حفاظتی انتظامات کی وجہ سے اہل سنت والجماعت نے احتجاجاً اپنی دکانیں بند کرکے ہڑتال کردی، لیکن نماز جمعہ کے بعد ڈھائی اور تین بجے کے درمیان جامع مسجد چوک پر پرند تا بنگلہ (لیوی فورس کے دفتر) سے ہینڈ گرنیڈ پھینکا گیا اور اس کے ساتھ ہی چاروں طرف سے زبردست فائر کھول دیئے گئے۔ شہر کے اس حصے پر جہاں جامع مسجد واقع ہے زبردست گولہ باری کی گئی، راکٹ لانچر، مارٹر گولے اور دوسرے بڑے اور ہولناک اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا اور اس طرح ایک اور خطرناک اور وحشت ناک جنگ کی بنیاد رکھ دی گئی، یہ خطرناک لڑائی ۶ دن جاری رہی، شہر کے اس حصے پر جہاں کچہری کالونی واقع ہے اس پر نزدیکی امامیہ کالونی اور زیڑان کے ہزاروں لوگوں نے بیک وقت لشکر کشی کی، جس میں سارے کوارٹر اور دوسرے چھوٹے بڑے گھروں کو لوٹنے کے بعد جلایا گیا اور وہاں کے مکینوں میں بیشتر کو مارنے کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کردیا گیا، جنگ کے اوائل میں پشاور سے آتے ہوئے فلائنگ کوچ میں سوار سارے مسافروں کو کالج کالونی کے ساتھ تھریشر مشینوں میں ڈال کر اور کلہاڑیاں مار مار کرشہید کردیا گیا، ان میں سے اکثر لاشوں کو تیل چھڑک کر جلاکر بھسم کردیا گیا، امتحانی ہال میں موجود دو نوجوانوں ...جو اسکول کے اساتذہ تھے... عنایت اللہ ولد حاجی خالق داد اور دوسرے زرین گل ولد جمعہ گل کی لاشیں ابھی تک نہیں ملیں، البتہ ان کی خون میں لت پت چادریں ضرور ملیں ہیں، ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مریضوں کو ان کے بیڈوں سے اٹھاکر ہسپتال کے اندر ہی انہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا اور اس میں شرپسندوں کے ساتھ ہسپتال کے عملے کی پوری معاونت تھی، عورتوں اور بچوں کو، جو وہاں پر علاج معالجے کی غرض سے گئے تھے، ان کو گاڑیوں سے باندھ کر گھسیٹ گھسیٹ کر قتل کردیا گیا اور تو اور وہاں کی لیوی فورس بھی ظلم ڈھانے میں کسی سے پیچھے نہیں تھی، انہوں نے وحید ولد حمید بابو، جو کہ سریکلچر میں سرکاری ملازم تھا، کو پیچھے سے گولیاں مارکر قتل کردیا گیا اور اس طرح بہت سے نوجوانوں کو زخمی کیا گیا، پرانا ہسپتال، جو انگریزوں کا تعمیر کردہ ہے، اس کے رہائشی علاقے پر مارٹر گولے پھینک کر حبیب الرحمن (سرکاری ملازم) کو موقع پر شہید کردیا گیا اور اس کے دو بیٹوں کو شدید زخمی کردیا گیا، جس کے اگلے روز دو میں سے ایک بیٹا مناسب طبی امداد نہ ملنے اور خون زیادہ بہہ جانے سے شہید ہوگیا، کچہری کالونی کی عورتیں اور بچے ننگے پاؤں اور ننگے سر کچھ زخمی نوجوانوں کے ساتھ بہت مشکل اور بہت ہی تکلیف میں کرم ملیشیا میس میں پناہ لینے میں کامیاب ہوگئے، وہاں پر پہنچنے کے بعد انہیں بھوک اور پیاس کا شدید سامنا کرنا پڑا کیونکہ سپاہیوں کے لئے مخصوص مقدار میں خوراک ہوتی ہے، لیکن پھر بھی ان کے لئے تھوڑا بہت خوراک کا انتظام کردیا گیا، چونکہ اکتوبر اور نومبر میں پارہ چنار میں سردی شروع ہوجاتی ہے، اس لئے وہاں پر پناہ گزینوں کو بستر نہ ہونے کی وجہ سے شدید سردی کا بھی سامنا کرنا پڑا، اسی طرح پارہ چنار شہر کی عورتیں، بچے اور بوڑھے کرم ملیشیا میس میں پناہ لیتے رہے، اور ان کی تعداد آٹھ نو سو تک پہنچ گئی، دوسری طرف شہر پر مسلسل لشکر کشی ہوتی رہی اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی، طوری قبائل اور اس کے ہواری معصوم لوگوں کو مارتے رہے اور ان کی لاشوں کو مسخ کرنے کے بعد ان لاشوں کی بے حرمتی کرتے رہے، قتل و غارت کا یہ سلسلہ ۶ دن تک مسلسل شہر پر عذاب بن کر برستا رہا۔ ۶/اپریل ۲۰۰۷ء کو جنگ بندی کے لئے دو سے ڈھائی ہزار فوج شہر کی حفاظت کے لئے طلب کی گئی تھی اور باقاعدہ کوبرا ہیلی کاپٹر سے ایئر اسٹرائک بھی کروایا گیاتھا لیکن کیا وجہ ہے کہ ۱۶/نومبر ۲۰۰۷ء کی لڑائی رکوانے اور شہر کو طوری قبائل اور اس کے حواریوں سے نجات دلانے کے لئے کوئی باقاعدہ انتظام عمل میں نہیں لایا گیا، اسی دوران پشاور میں گورنر ہاؤس کے سامنے لوگوں کے شدید احتجاج اور نوجوانوں کی خود سوزی کی دھمکیوں کے بعد حکومت نے تھوڑے بہت حالات سنبھالے اور صرف ۳۰۰ سے ۴۰۰ فوجی بمشکل شہر کے کچھ حصوں پر مامور کئے اور معیاری اور بامقصد حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے پارہ چنار سے نقل مکانی شروع کردی اور ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے، علاقے سے اہل سنت والجماعت کے مکمل انخلاء کے بعد طوری قبائل اور اس کے حواریوں نے جامع مسجد سے ملحقہ آبادی پر دوبارہ لشکر کشی شروع کردی، جامع مسجد پر شدید حملہ کیا گیا، جس سے مسجد کا مینار اور صدر دروازے، اردگر کی چار دیواری کو شدید نقصان پہنچایا، چھوٹی بڑی مساجدکو شہید کیا گیا، گھروں کو لوٹنے کے بعد ان کو جلایا گیا یا پھر ان کو بارود سے مسمار کردیا گیا۔ ۱۶/فروری ۲۰۰۸ء کے خودکش بم دھماکے کے بعدعثمانیہ مارکیٹ اس کے رہائشی فلیٹس، اکبر خان سرائے اور دوسری بچی کھچی عمارتوں اور دکانوں کو مکمل تباہ کردیا گیا اور بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے ۷۵ افراد کو قصداً انہوں نے اہل سنت سے وابستہ قبرستان میں دفن کردیا، بار بار کی لشکر کشی کی وجہ سے آج پارہ چنار شہر موہنجوداڑو کی عکاسی پیش کرتا ہے۔
مجموعی طور پر اہل سنت والجماعت کی تمام آبادی تباہ و برباد ہوچکی ہیں جس کے نقصانات مندرجہ ذیل ہیں:
۱:… ۶: مساجد یعنی جامع مسجد پارہ چنار، ہسپتال مسجد ، اے پی اے کاٹیج مسجد، میرا جان کالونی مسجد، ابراہیم زئی مسجد، بالش خیل مسجد۔ ۲:… ۳۰۰:دکانیں۔ ۳:…۱۶: گاڑیاں۔ ۴:…۵۸۰:مکانات۔ ۵:…۶۱:شہداء۔۶:… ۲۱: لا پتہ افراد۔ ۷:… ۵۰۰۰:بے گھر افراد۔
ہجرت پر مجبور ہونے والے لوگ جو آج پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں مکین ہیں، یعنی صدہ، ٹل، دوآبہ، ہنگو، کوہاٹ، پشاور، حسن ابدال، ٹیکسلا، ایبٹ آباد، لاہور میں یہ لوگ انتہائی کسمپرسی اور کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں، ان کے بچے جو اچھے اچھے اسکولوں میں پڑھتے تھے، آج وہ گھروں میں بیکار بیٹھے ہیں، ان کے علم و ہنر کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے، ان کے ورثاء جو وہاں ذاتی کاروبار یا سرکاری نوکری سے وابستہ تھے، آج بے روزگار ہیں اور ان کی مالی حیثیت انہیں اپنے معصوم بچوں کی تعلیم و تربیت کی اجازت نہیں دیتی، اسی طرح نوجوان جو بے روزگار ہوکر اپنے گھروں میں بے کار بیٹھے ہیں، ان کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، اور یہ ایک خطرناک عمل ہے، وہ کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں، بیماریاں، اسی طرح اندیشے اور وسوسے الگ وبائیں ہیں، آج یہ لٹے پٹے مظلوم حالات سے مجبور کہاں جائیں؟ کیا یہ لوگ پاکستان کے باعزت شہری نہیں؟ بلاشبہ ان لوگوں نے قیام پاکستان کے وقت اور کشمیر کی لڑائی (۱۹۴۸ء) میں ہمیشہ حکومت پاکستان کی خدمت کی ہے اور دل و جان سے اس ملک کی پاسداری کی، اور اس کے لئے انہوں نے بے تحاشہ قربانیاں دی ہیں، لہٰذا ان کی قربانیوں اور ان کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم تمام اہل علم، اہل دانش اور اربابِ اختیار سے اپیل کرتے ہیں کہ پہلی فرصت میں ا ن متاثرین کی اخلاقی مدد کی جائے اور بحیثیت پاکستانی قوم ان کے حقوق دلانے میں ان کی بھرپور مدد کی جائے اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے۔
حکومت و انتظامیہ اپنے اقتدار و اختیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کمزور اور بے سہارا لوگوں کا تحفظ یقینی بنائے، ظالم و مظلوم کا تعین کرکے ملزمان کو کڑی سزا دی جائے، مظلوموں اور بے سہارا لوگوں کی فوری طور پر دادرسی کی جائے اور انتظامیہ اس بات کی پوری کوشش کرے کہ دوسرے علاقوں کے لسانی اور مذہبی اثرات پارہ چنار شہر میں کسی طور پر بھی محسوس نہ کئے جائیں اور لوگوں کے تحفظات کو یقینی بنایا جائے۔ …… از:ریفارمز کمیٹی ممبرز پارہ چنار ،ھال کوہاٹ حاجی ملک ثواب خان جاجی، عطاء اللہ خان، ملا جنت شاہ، سیف الملوک، عزیز خان
فون: 0302-5966664, 0306-8009764۔“
صرف یہی نہیں بلکہ ان مظلوموں نے اس صورت حال کے تدارک کے لئے کچھ تجاویز بھی دی ہیں اور کچھ مطالبات بھی پیش کئے ہیں، کیا ہماری حکومت و انتظامیہ کے پاس اس پر غوروفکر کے لئے کچھ وقت ہوگا؟ یا اس کے تدارک کی سبیل ہوسکتی ہے؟ لیجئے ان کے مطالبات پڑھئے اور بتلایئے کہ ان میں کہاں تک معقولیت ہے؟
”۱:… سب سے پہلے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ۶/اپریل اور ۱۶/ نومبر ۲۰۰۷ء کو مسلط کی گئی لڑائی کے دوران اہلسنت والجماعت کی جن املاک کو لوٹا اور جلا کر ختم کیا گیا ہے، ان نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے، یہ رقوم جلد از جلد ادا کی جائیں تاکہ لوگ اپنا روزگار درست کرسکیں اور منفی رجحانات کی نفی ہوسکے۔
۲:… پارہ چنار کے گردونواح آباد سنی اور شیعہ آبادی کے باہم کچھ ایسے مسائل ہیں جو عرصہ دراز سے التواء کا شکار ہیں، ان مسائل کے حل کے لئے فوری بندوبست کیا جائے کیونکہ یہی غیر مذہبی تنازعات بعد میں ہمدردیاں حاصل کرنے کی وجہ سے فرقہ وارانہ جنگ کا سبب بنتی ہیں۔
۳:… مالی خیل گاؤں سے متصل باؤنڈری کو سیل کیا جائے، کیونکہ وہیں سے دوسرے ممالک انڈیا اور ایران براستہ افغانستان مالی خیل قوم کو اسلحہ اور امداد دیتے ہیں جس کو بعد میں پارہ چنار کے دیگر علاقوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔
۴:… ایرانی حکومت فرقہ وارانہ جنگ میں مرنے والوں کو باقاعدہ وظائف بھیجتی ہے، جس سے وہاں کے شیعہ نوجوان طبقہ میں اس جنگ میں شامل ہونے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ کسی طور پر بھی مناسب نہیں کہ دوسرے ممالک میں دخل اندازی کی جائے، اس کی باقاعدہ اوپن انکوائری کی جائے۔
۵:… پارہ چنار شہر کی سنی آبادی پر زمین کی خریدوفروخت پر سے پابندی ہٹائی جائے، یہ پابندی عرصہ دراز سے طوری اقوام (اہل تشیع) نے اہلسنت پر لگائی ہوئی ہے، جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
۶:… پارہ چنار کے اردگرد مضبوط فوجی چوکیاں قائم کی جائیں، تاکہ شہر بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رہ سکے، علاقے کی حساسیت کی وجہ سے فوجی چھاؤنی میں فوج کی تعداد بڑھائی جائے۔
۷:… پارہ چنار شہر میں قدیم زنانہ ہسپتال کو فعال بنایا جائے، نیز قدیم اے پی اے بنگلہ اور تحصیلدار بنگلہ کو بھی ہسپتال کا حصہ بنایا جائے، اور وہاں گائینی، چلڈرن وارڈ اور ایمرجنسی وارڈ تعمیر کئے جائیں۔
۸:… الیکشن حلقہ بندی میں پارہ چمکنی حلقے کو حلقہ ۳۷ میں شامل کیا جائے۔
۹:… ایجنسی ہیڈ کواٹر ہسپتال کے ایم ایس اور دیگر ڈاکٹروں کی معاونت کی وجہ سے وہاں پر اہلسنت والجماعت کے مریضوں کو مشتعل لشکر نے گھسیٹ گھسیٹ کر بے دردی سے قتل کیا ہے، اس کی باقاعدہ انکوائری کرائی جائے۔
۱۰:… لیوی فورس اور مقامی پولیٹیکل محرروں کو تبدیل کردیا جائے، کیونکہ یہی لوگ فرقہ وارانہ جنگوں میں معاونت کرتے ہیں۔
۱۱:… معاہدہ کوہاٹ اور دیگر معاہدوں کی پاسداری کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا کے ساتھ ان سے تاوان بھی طلب کیا جائے۔
۱۲:… ہر مذہب کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام کا نام عزت و احترام سے لیا جائے۔
۱۳:…علامہ عرفان نوازی ...مرکزی پیش امام، امام بارگاہ، پارہ چنار... جو دراصل اسکردو کا باشندہ ہے، نے ۲۰۰۵ء کو دس محرم کے جلوس سے ایک اشتعال انگیز تقریر کے ذریعہ لوگوں کے جذبات کو مشتعل کیا تھا، جس کے بعد حالات سنگین ہوتے گئے اور جس کا نتیجہ ابھی تک ہم بھگت رہے ہیں، اسی طرح علامہ عابد حسین جو مختلف قسم کے فرقہ وارانہ تشدد کو اکسانے میں ملوث رہا ہے اور اس نے اپنی مہدی ملیشیا فورس بنائی ہے، جو شہر میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے، ان دونوں کو اور ان کے رفقاء کو فوری طور پر علاقہ بدر کیا جائے اور ان کے مدرسوں پر پابندی لگائی جائے۔
۱۴:… سابقہ ڈنڈر روڈ سے میرا جان کالونی کا روڈ پختہ کیا جائے تاکہ ان کو آمد و رفت میں آسانی ہو اور ان کی حفاظت کے لئے فوجی چوکی تعمیر کی جائے۔
۱۵:… شہید کی گئی مساجد اور مدرسے دوبارہ تعمیر کئے جائیں اور اس کی باضابطہ اہل سنت و الجماعت سے معافی مانگی جائے۔
۱۶:… ۶/اپریل اور ۱۶/نومبر کی لڑائیوں کے دوران پارہ چنار شہر اور اس کے گرد ونواح کچہری کالونی اور میرا جان کالونی پر لشکر کشی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی، جو ایک افسوس ناک امرہے، حکومت کی ناکامی اور حکومت کی جانبداری کا منہ بولتا ثبوت ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔
۱۷:… جیسا کہ اورکزئی اور درہ آدم خیل کی پولیٹیکل انتظامیہ کے دفاتر دوسرے علاقوں (بندوبستی) میں قائم ہیں اسی طرح کرم ایجنسی کے دفاتر کو بھی ٹل شہر تبدیل کیا جائے۔
۱۸:… اہلسنت والجماعت کے ذاتی قبرستان میں جبراً اہلِ تشیع نے اپنی ۷۰ سے ۷۵ میتیں دفن کی ہیں، ان کو فوری طور پر وہاں موجود ان کے اپنے قبرستانوں میں منتقل کیا جائے اور مرتکب افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
۱۹:… جامع مسجد اہلسنت والجماعت کی ذاتی ملکیت علی مارکیٹ کی دکانوں میں اہل تشیع نے جبراً کاروبار شروع کررکھا ہے اور اس کے علاوہ کچھ گھروں اور دکانوں پر بھی یہ لوگ قابض ہوچکے ہیں،ا ن کو فوری طور پر وا گزار کرایا جائے اور مرتکب افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
۲۰:… افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ابھی تک وہاں اہلسنت کے خالی گھروں سے دروازے اور کھڑکیاں اکھاڑے جارہے ہیں حتیٰ کہ میرا جان کالونی اور کچہری کالونی کے لینٹر توڑ کر سریا نکالا جارہا ہے اور انتظامیہ تماشا دیکھ رہی ہے، اس کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے ہمیں مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت اپنی پوزیشن بھی واضح کرے۔
۲۱:… شور کوکی زمین فوری طور پر واپس دلائی جائے۔
۲۲:… پارہ چنار کے اہلسنت والجماعت سے وابستہ ۵۸۰ گھرانے اس جنگ میں بُری طرح متاثر ہوئے ہیں، ان کے لئے کوہاٹ، صدہ اور پشاور میں فلاحی ادارے قائم کئے جائیں تاکہ ان کی دردناک کہانی سن کر ان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جاسکے۔
۲۳:… علی زئی جو دراصل اوتی زئی قوم کی شاملات ہے، اس کے کل رقبے پر اہلسنت کا ۷۵ فیصد حق ہے اور اہل تشیع کا ۲۵ فیصد، اس میں اہل تشیع کے چار دیہات موجود ہیں اور اہلسنت کا ابھی تک ایک بھی دیہات نہیں، جس کی تعمیرات پر سے پابندی ہٹائی جائے۔
۲۴:… مذہبی رسومات کے حامل جلسے جلوس اپنی اپنی مساجد اور امام بارگاہوں تک محدود کردیئے جائیں۔
۲۵:… اقوام طوری کا یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ کرم ایجنسی اصل ان کی ہے، دراصل کرم ایجنسی بنگش قبیلے کی صدیوں پرانی ملکیت ہے، چونکہ یہ قبیلہ پرامن تھا اور کسی قسم کی لڑائی جھگڑے کے شوقین نہیں تھے، اس لئے طوری قبیلہ جو دراصل صدیوں سے جنگجو اور لڑائی جھگڑے کا شوقین قبیلہ ہے، نے باہر سے آکر کرم ایجنسی کے مختلف علاقوں پر زبردستی قبضہ جمایا، یہ ناتو سیّد سادات کا ہے اور نہ طوری قبیلے کا۔
۲۶:… طوری ملیشیا جو اس سے پہلے بھی جنگ ۱۹۸۷ء میں جانبداری کا بھرپور مظاہرہ کرچکی ہے اور حکومت کے پاس اس کے باقاعدہ ثبوت بھی موجود ہیں، جس کے بعد اس یونٹ کا دوسرے مختلف یونٹوں میں تبادلہ کردیا گیا، کیونکہ یہ یونٹ جانبداری میں ملوث ہے، ہم کسی طور پر بھی طوری ملیشیا کی کرم ایجنسی میں واپسی کے حق میں نہیں۔
۲۷:… بے بنیاد الزامات اور من گھڑت باتوں اور دھمکی آمیز بیانات کی وجہ سے علاقے کا ماحول پہلے ہی ابتر ہے، اسے مزید خراب نہ کیا جائے اور دھمکی آمیز بیانات سے اجتناب کیا جائے۔ …… از: ممبرز آف ریفارمز کمیٹی کوہاٹ (پارہ چنار)
ملک ثواب خان جاجی ، حاجی عطاء اللہ خان، ملا جنت شاہ، سیف الملوک، عزیز خان
فون:0302-5966664,0306-8009764“
ہم یہ نہیں کہتے کہ ان رپورٹوں میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ سوفیصد صحیح ہے، عین ممکن ہے کہ اس میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہو، یا یکطرفہ صورت حال لکھی گئی ہو، بلاشبہ ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس کی مکمل تحقیقات کرسکیں، لہٰذا یہ حکومت اور اس کی تحقیقاتی ایجنسیوں کا کام ہے کہ وہ اس کی مکمل چھان بین کریں، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے، کیونکہ ہر دو طبقات نے بڑی قوت و شدت سے اپنے اپنے موقف کی صداقت کو بیان کیا ہے، جبکہ موخر الذکر کمیٹی اور اس کے ارکان نے اپنی رپورٹ میں باقاعدہ اپنے نام اور ٹیلیفون نمبردرج کئے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یقینا ان کے موقف میں ایسی کوئی صداقت ضرور ہے جس کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہاں کی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے کر مظلوموں کی مدد کرے اور ظالم کا ہاتھ روکے اور اپنی حکومتی رٹ قائم کرے؟ ہمارے خیال میں اگر حکومت کو اپنی رٹ کا خیال ہے، تو وہ اس آگ کو فرو کرنے کی کوشش کرے اور یہاں کی عوام کو امن و امان مہیا کرے، اگر ایسا نہیں تو کیوں؟ خاکم بدہن، کیا یہ سب کچھ حکومت اور ایجنسیوں کے مشورے سے ہورہا ہے؟ نہیں تو کیا یہ علاقے پاکستانی سرحد سے باہر ہیں؟ کیا یہاں حکومت پاکستان کی کوئی عملداری نہیں؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو اس کا تدارک کیوں نہیں کیا جاتا؟
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , شعبان المعظم: ۱۴۲۹ھ ستمبر۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ