اسلامی نظریاتی کونسل کی مجتہدانہ تحقیق!
اسلامی نظریاتی کونسل کی مجتہدانہ تحقیق!

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
کسی زمانہ میں اسلامی نظریاتی کونسل، واقعی اسلامی نظریات کی کونسل تھی اور اس کے معزز ارکان، اصحابِ علم و فضل اور اربابِ فہم و فراست تھے، اور اس کے فیصلے یا تجاویز واقعی اسلامی شریعت کی آئینہ دار ہوتی تھیں۔
مگر افسوس! کہ جس دن سے عقابوں کے نشیمن زاغوں کے تصرف میں آئے، اسلامی نظریاتی کونسل اپنی حیثیت و مقام سے یکسر محروم ہوگئی اور وہ ”ڈاکٹر خالد مسعود کے نظریات کی کونسل“ بن کر رہ گئی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے ”نامور“ چیئرمین کے عقائد و نظریات پر اس سے قبل ماہنامہ بینات کی کئی اشاعتوں میں تفصیل سے گزارشات پیش کی جاچکی ہیں، اور ان کے دل و دماغ میں کلبلاتی باغیانہ سوچوں میں سے چند ایک پر مختصر سا تبصرہ بھی آچکا ہے۔
جناب ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کو اپنے نظریات و معتقدات سے رجوع اور توبہ کی توفیق تو کیا ہوتی، البتہ اس بار انہوں نے پھر اپنے عقائد و نظریات ،بلکہ قلبی احساسات و رجحانات کی دوسری قسط قوم کے سامنے پیش کی ہے، جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اسلام اور احکامِ اسلام کے بارہ میں کیا جذبات رکھتے ہیں؟ اور یہ بھی کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ دین و شریعت کا حلیہ بگاڑنے میں کس حد تک سعی و کوشش فرماسکتے ہیں؟
چنانچہ روزنامہ جنگ کراچی نے اپنی سپر لیڈ میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر خالد مسعود کے عقائد و نظریات کو اسلامی نظریاتی کونسل کے ”معزز“ ارکان کے اجلاس کے حوالے سے یوں نقل کیا ہے:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ شوہر کو تحریری طلاق کا مطالبہ کرنے والی بیوی کو ۹۰ روز کے اندر طلاق دینے کا قانونی پابند بنایا جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں معینہ مدت کے بعد نکاح فسخ قرار پائے گا۔ کونسل نے نکاح نامے کی طرح طلاق نامہ بھی تجویز کیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ نکاح کی طرح طلاق کی رجسٹریشن بھی کی جائے۔ اسلامی کونسل کا اجلاس ہفتے کو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کی صدارت میں ہوا، جس میں کونسل نے رؤیت ِہلال کے مسئلے کو غیر متنازع بنانے کے حوالے سے تجویز کیا ہے کہ مکہ مکرمہ کو مرکز بناکر تمام مذہبی تہوار اسی کے مطابق منائے جائیں۔ کونسل نے قرار دیا کہ خواتین محرم کے بغیر حج پر جاسکتی ہیں.... کونسل کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل ملک میں رائج قوانین کے جائزے اور دیگر اہم موضوعات پر حکومت کو اب تک ۸۴ رپورٹیں پیش کرچکی ہے جو اہم سفارشات پر مشتمل ہیں، مگر اب تک کسی حکومت نے کونسل کی سفارشات کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا اور نہ ان کی بنیاد پر قانون سازی کے لئے قومی اسمبلی میں بحث کی ضرورت محسوس کی گئی ،تاہم مقام مسرت ہے کہ گزشتہ دنوں صدر مملکت سے ملاقات میں جب اس طرف ان کی توجہ مبذول کروائی گئی تو انہوں نے پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر بابر اعوان کی سربراہی میں کونسل کی رپورٹوں کے جائزے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کونسل کے تمام اراکین نے صدر کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اب کونسل کی سفارشات کو بہت جلد بحث کے لئے پیش کیا جاسکے گا.... فیملی لاز پر نظرثانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کونسل نے سفارش کی ہے کہ قانون بنادیا جائے کہ بیوی اگر کبھی تحریری طور پر طلاق کا مطالبہ کرے تو شوہر ۹۰ دن کے اندر اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا ،وہ اگر ایسا نہیں کرے گا تو یہ مدت گزر جانے کے بعد نکاح فسخ قرار پائے گا۔ بیوی پابند ہوگی کہ مہر اور نان نفقہ کے علاوہ اگر کوئی اموال اور املاک شوہر نے اسے دے رکھی ہیں اور اس موقع پر وہ انہیں واپس لینا چاہتا ہے تو فصل نزاع کے لئے عدالت سے رجوع کرے، یا اس کا مال اسے واپس کردے۔ کونسل نے نکاح فارم میں کچھ تبدیلیوں کی منظوری دیتے ہوئے نکاح نامے کی طرح طلاق نامہ بھی تجویز کیا ہے، اس کے مطابق ملک میں نکاح کی طرح طلاق رجسٹریشن کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ رؤیت ِہلال کے مسئلے پر غوروخوض کے بعد کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے لئے خالص سائنسی طریقے سے مکہ مکرمہ کو مرکز بناکر چاند کی ولادت کے لحاظ سے پوری دنیا کے لئے ایک ہجری کیلنڈر بنادیا جائے اور تمام مذہبی تہوار اسی کے مطابق منائے جائیں.... کونسل نے محرم کے بغیر خواتین کے سفر حج کے بارے میں کہا ہے کہ دستورِ پاکستان اور دیگر ملکی قوانین کے تحت خواتین آزادی سے اندرونِ ملک اور بیرون ملک سفر کرسکتی ہیں۔ اس پر کوئی قدغن نہیں۔ سعودی عرب کے قوانین کونسل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ کونسل نے نفاذ شریعت کے حوالے سے کچھ راہنما اصول منظور کئے ہیں، جنہیں نفاذ شریعت پر کونسل میں ہونے والی آئندہ ورکشاپوں میں علمائے کرام کے سامنے رکھا جائے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ۱۷۱ ویں اجلاس میں نادار اقرباء کی کفالت کے لئے قانون سازی کی سفارش کی اور اس کے لئے ایک ڈرافٹ منظور بھی کیا۔ “ (روزنامہ جنگ کراچی، ۱۶/نومبر ۲۰۰۸ء)
جس شام کو اسلامی نظریاتی کونسل کی ”تحقیق“ قومی اخبارات کو جاری کی جارہی تھی، جیو ٹی وی چینل کے نمائندے نے علماء کرام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کسی خوش فہم نے راقم کا نمبر دے دیا، حسن اتفاق کہ اس وقت راقم الحروف ایک مسجد میں طلبا کی نشست میں مصروفِ گفتگو تھا، تب انہیں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے رئیس دارالافتاء حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری صاحب کی طرف متوجہ کیا گیا، چنانچہ حضرت مفتی عبدالمجید صاحب نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ڈاکٹر خالد مسعود کے ان جدید اجتہادات پر گرفت فرمائی، یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حضرت مفتی صاحب کی اس پوری گفتگو کو تصویر کے بغیر ٹی وی پر سنایا گیا، تاہم اس سے اگلے دن کے اخبارات میں متعدد سیاسی زعماء اور مذہبی راہنماؤں نے بھی ڈاکٹر خالد مسعود کی اس نئی اُپچ پر احتجاج فرمایا:
اسی طرح ۱۶/نومبر ۲۰۰۸ء کو روزنامہ امت کراچی کی ٹیم نے مفتی اعظم پاکستان کے جانشین اور دارالعلوم کراچی کے صدر مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، رؤیت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن، جماعت اسلامی کے مولانا عبدالمالک اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی سے اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ سفارشات کے بارہ میں استفسار کیا تو انہوں نے جو کچھ کہا، روزنامہ امت کراچی کی زبانی ملاحظہ ہو:
مفتی محمد رفیع عثمانی:
سوال: بیوی کے مطالبے پر شوہر کو ۹۰ روز میں طلاق دینے کا پابند کرنے کا جو فیصلہ اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے سامنے آیا ہے ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب: اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، اتفاق سے یہ رپورٹ جس کا ذکر آپ نے کیا، میری نظر سے نہیں گزری اور نہ ہی میں نے اس حوالے سے کہیں پڑھا ہے، ممکن ہے کہ اخبارات میں یہ شائع ہوئی ہو، لیکن اگر آپ اس پر بات کریں کہ ۹۰ روز میں شوہر بیوی کے تحریری مطالبے پر طلاق دینے کا پابند ہے تو اس کی شرعی حیثیت بڑی واضح ہے کہ یہ سراسر غیر شرعی معاملہ ہے، اس قسم کے کسی مطالبے پر عملدرآمد اور طلاق صادر ہوجانے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہوگی ،کیونکہ یہ شریعت کے منافی ہے کہ بیوی تحریری طور پر شوہر سے جب طلاق کا مطالبہ کرے تو شوہر طلاق دینے کا ۹۰ روز کے اندر پابند ہو، ہاں ایک بات ہے بعض صورتوں میں نکاح کے وقت نکاح کی شرائط میں عورت کو طلاق کا حق دیا جاتا ہے، اس صورت میں طلاق کا یہ حق عورت کو حاصل ہے، وہ جب چاہے طلاق لے لے اور اسے شوہر دینے کا پابند ہوگا، تو ایسی کسی صورت میں اس نوعیت کے فیصلے کا اعلان ہوسکتا ہے، تاہم ایسی کسی شرط اور پہلے سے طے شدہ معاملے کے بغیر کسی طرح بھی یہ شرعی معاملہ نہیں ہوگا اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے غیر شرعی معاملات کو فروغ دینا، انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور قہر الٰہی کو دعوت دینے کے متردادف ہے۔ سوال: مفتی صاحب! اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ عورت کو مرد زبانی طلاق دے گا تو وہ موثر نہیں ہوگی، اس کے لئے ضروری ہے کہ نکاح کی طرح طلاق بھی رجسٹریشن کے عمل سے گزرے ،اس بارے میں شرعی اصول کیا ہے؟
جواب: یہ غلط ہے کہ طلاق تحریری طور پر ہونا ضروری ہے، عہد رسالت سے لے کر تمام خلفائے راشدین تک ،اس کے بعد اور آج تک اس پر امت کا اجماع ہے کہ عورت کو طلاق دینے کے لئے مرد کا صرف کہہ دینا کافی ہے، اگر مرد برضا و رغبت عورت کو طلاق دے دے، اس کے لئے وہ تحریر نہ بھی لکھے تو بھی طلاق واقع ہوگئی، اب کسی صورت واپس نہیں ہوسکتی، لہٰذا اس معاملے کو تحریر اور کسی رجسٹریشن کے عمل کا پابند بنانا غیر شرعی ہے، اس قسم کے کسی فیصلے کا شریعت مطہرہ سے کوئی تعلق نہیں، یہ سراسر خود ساختہ فیصلہ ہے ،جو شریعت اور اجماع امت سے متصادم ہے۔
سوال: مفتی صاحب! کونسل نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ عورت بغیر محرم کے حج کرسکتی ہے، حج کے حوالے سے جو محرم کے ساتھ جانے کی پابندی ہے، اس کی مخالفت کی ہے۔ حالیہ رپورٹ میں آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: عہد رسالت سے لے کر آج تک پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ عورت محرم کے بغیر سفر نہیں کرسکتی اور سفر حج کے حوالے سے تو اس پر کوئی اختلاف نہیں، اب یہ نئی بات سامنے آرہی ہے کہ عورت بغیر محرم کے سفر حج کرسکتی ہے، یہ غیر شرعی ہے، اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ احادیث مبارکہ اور قرآن کریم سے ثابت ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے، یہ شرعی معاملہ ہے، ۱۴ سو سال ہوگئے اس حوالے سے کوئی ایسا اختلاف سامنے نہیں آیا، لیکن نہیں معلوم کہ کیوں اس طرح کے فیصلے سامنے آرہے ہیں کہ جو اسلامی نظام اور پوری شریعت مطہرہ کی توہین کے مترادف ہیں، ایسے فیصلے شریعت مطہرہ سے نہ صرف متصادم ہیں، بلکہ اس طرح کے فیصلے غضب الٰہی کو دعوت دیں گے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ا سپر کسی صورت عمل نہیں کیا جاسکتا۔
سوال: اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ فیصلوں پر اگر حکومت عملدرآمد کرتی ہے تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے؟
جواب: ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ایسا نہیں کرسکتی، اگر واقعتا اسلامی نظریاتی کونسل نے ایسے فیصلے کئے ہیں اور وہ ان پر عملدرآمد کی بھی خواہاں ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک عمل ہوگا، حکومت کو کسی طرح بھی ان غیر شرعی فیصلوں کو نافذ کرنے کا اختیار نہیں، پوری قوم سراپا احتجاج ہوگی ، اسلامی نظریاتی کونسل کو ایسے کسی فیصلے یا سفارش کا اختیار نہیں ہے، علماء اس حوالے سے سخت ردِ عمل ظاہر کریں گے۔
مولانا عبدالملک:
س: اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بیوی کے تحریری مطالبے پر شوہر کو ۹۰ دن کے اندر طلاق دینے کا پابند کیا گیا ہے، اس پر آپ کا شریعت کے قوانین کی روشنی میں کیا تبصرہ ہے؟
ج: اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ مطالبہ سراسر غیر اسلامی ہے، اس لئے کہ طلاق دینا شوہر کے اختیار میں ہے، اگر وہ طلاق نہیں دینا چاہتا تو اسے طلاق دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، یہ مرد کا اختیار ہے، عورت طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے، اس مطالبے کی صورت میں اگر عورت کا مطالبہ جائز اور اس کی شرعی وجوہات ہوں جو کہ تفصیلاً لکھی ہوئی ہیں تو ایسی صورت کے اندر عدالت شوہر کے خلاف مقدمہ کرے گی کہ وہ اپنی بیوی کو اس کا حق کیوں نہیں دیتا، ان وجوہات میں یہ بات شامل ہے کہ وہ نان نفقہ نہ دیتا ہو یا حقوق زوجیت ادا کرنے کا اہل نہ ہو، یا ظلم و زیادتی کرتا ہو، مارپیٹ کرتا ہو اور بیوی کی جان کو خطرہ ہو، ایسی صورت میں وہ خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے اور طلاق کا بھی۔ عدالت بیوی کو انصاف دینے کے لئے شوہر کو بلائے گی اور عدالت میں اسے بلاکر اس سے طلاق دلوائے گی، یعنی عدالت از خود طلاق نافذ نہیں کرسکتی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ عدالت شوہر کو بلائے بھی نہیں اور از خود اس کو عورت کے کہنے پر عدالت فارغ کردے، شریعت میں ایسا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ س : نکاح نامے اور طلاق نامے کی دستاویزات کی کیا شرعی اہمیت ہے؟
ج: یہ دستاویزات قانونی اور معاشرتی ضرورت ہیں، ان کے تیار کرنے پر شریعت کو کوئی اعتراض نہیں، طلاق نامے کی بھی دستاویزی اہمیت اسی طرح ہے جس طرح نکاح کا ثبوت ہوتا ہے، طلاق نامہ بھی ایک ثبوت ہی ہوتا ہے کہ عورت کہہ سکتی ہے کہ اس شخص نے مجھے طلاق دی ہے، لیکن از خود طلاق واقع نہیں ہوجاتی۔ س: اسلامی نظریاتی کونسل کس پس منظر میں ان دستاویزات پر زور دے رہی ہے؟
ج: اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان مغرب کے معاشرے سے متاثر ہیں اور وہ مغرب کی مغربیت کو ہمارے معاشرے میں لانا چاہتے ہیں، جو معاملات ہمارے معاشرے میں متنازعہ نہیں تھے، ان کو بھی متنازعہ بنانا چاہتے ہیں، وہ اس بات کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں دین کی تعلیمات کا فہم کم ہے، دین کا علم محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے، نکاح ایک معاہدہ ہے اور اس معاہدے کے گواہ ہوتے ہیں، اسلام نے ان معاشرتی رسوم و رواج کو نہیں چھیڑا ہے، جو اسلام کے خلاف نہیں ہیں، حتی کہ نابالغ کی شادی کا مسئلہ بھی اسی طرح ہے لیکن نابالغ کو شریعت یہ اختیار دیتی ہے کہ دونوں فریقین میں سے کوئی بھی بالغ ہونے پر اس معاہدے کو ختم کرسکتا ہے، یعنی اس کا اختیار نہیں چھینا، جو چیز غیر اسلامی ہے وہ یہ ہے کہ کسی نقصان یا جھگڑے کے تاوان کے طور پر مخالفین اپنے بچوں کا نکاح کردیں، یہ ایک غلط تصور ہے، لیکن نکاح کا عمل از خود غیر شرعی نہیں ہے، مگر مغربی معاشرے کو ہمارے اوپر مسلط کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ ان کے معاشرے میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے ، وہ ہمارے خاندانی نظام کو حسد کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ ارکان یہاں مغربی کلچر آہستہ آہستہ رائج کرنا چاہتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاندانی نظام مر جائے گا، وہ عورتوں کو دھوکا دے رہے ہیں ،اور آئے دن معمولی معمولی بات پر عورتیں مردوں سے طلاق کا مطالبہ کریں گی اور محض یہ اطلاع دے دیں گی کہ میں نے طلاق کا مطالبہ کیا ہے اور پھر ۹۰ دن کے اندر طلاق کی دستاویزات عدالت سے لے کر اپنے گھر تباہ کر بیٹھیں گی، جس سے معاشرے میں ابتری پھیلے گی اور کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
مفتی منیب الرحمن:
سوال: مفتی صاحب! اسلامی کونسل کے حالیہ فیصلوں کے حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، اس کا مینڈیٹ یہ نہیں ہے کہ یہ فیصلوں کو نافذ کرے، یہ صرف اپنی سفارشات بھیج سکتا ہے اور یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ اس کا مینڈیٹ یہ ہے کہ یہ ایسے قوانین جو شریعت سے متصادم ہوں، ان کی اصلاح کرے گا اور ان کو اسلامی تقاضوں کے مطابق کرے گا۔ بدقسمتی سے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے مینڈیٹ سے انحراف کرتے ہوئے ایسے فیصلے شروع کردیئے ہیں جو نہ صرف شریعت سے متصادم ہیں بلکہ قوم میں انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔ سوال: گویا اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلوں کا تعلق شریعت سے نہیں ہے؟
جواب: جی! بالکل یہ ایک متوازی نظام لارہے ہیں جو اسلامی نہیں ہے، ان کے فیصلے شریعت مطہرہ کے یکسر منافی ہیں، یہ خود ساختہ فیصلے ہیں، جو امت کے اجماع کے بھی خلاف ہیں اور ان فیصلوں کو کسی طرح بھی اسلامی شریعت کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا ،بلکہ یہ متوازی فیصلے ہیں۔
سوال: عورت کو طلاق کا حق دیا گیا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ عورت تحریری طلاق طلب کرے تو مرد ۹۰ روز میں طلاق دینے کا پابند ہے، بصورت دیگر طلاق از خود واقع ہوجائے گی؟
جواب: جی !یہ اسلامی نظریاتی کونسل کا از خود فیصلہ و سفارش ہے۔ شریعت کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، تنسیخ طلاق کا معاملہ بڑا واضح ہے۔ قرآن کریم و سنت سے یہ بات ثابت اور قرآن میں موجود ہے کہ اگر زوجین یہ سمجھیں کہ وہ اب اس مقام پر ہیں کہ جہاں وہ ازدواجی زندگی ایک ساتھ نہیں گزارسکتے تو اس صورت میں عورت اگر شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو شریعت نے اسے اجازت دی ہے کہ وہ مہر چھوڑ دے، یعنی اس سے دستبردار ہو جائے۔ اس صورت میں بھی مرد کی رضامندی سے عورت کو طلاق ملے گی۔بصورت دیگر وہ عدالت سے رجوع کرے گی۔ اب جو فیصلہ سامنے آیا ہے ،وہ عورت کو از خود طلاق کا حق دے رہا ہے، گویا اگر شوہر نے طلاق دینے میں ۹۰ روز سے زائد دن لگائے تو یہ طلاق از خود واقع ہوجائے گی۔ اس بارے میں دنیا میں کوئی قانون نہیں۔ شریعت مطہرہ تو دور کی بات ہے ،خود مغربی قوانین میں بھی طلاق کے حصول کا ایک نظام ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام تو دور کی بات ہے ،مغربی نظام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، یہ شرعی نہیں ،شریعت سے متوازی فیصلہ ہے، اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔
سوال: اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ محض زبانی طلاق کافی نہیں ہے، بلکہ تحریری ہونی چاہئے اور اس کی رجسٹریشن بھی ہونی چاہئے، جیسے نکاح کی ہوتی ہے؟
جواب: اسلام نے طلاق کا حق مرد کو دیا ہے، طلاق کا واقع ہونا شریعت کی رو سے مرد کے اقرار پر ہے، اگر مرد تسلیم کرتا ہے کہ اس نے طلاق دی ہے، تو وہ واقع ہوجائے گی، طلاق کے لئے کسی تحریر کی کوئی شرط نہیں، یہ زبانی بھی ہوجائے گی اور کوئی خاص مقام کا بھی تعین نہیں ہے، لہٰذا اب اگر طلاق کے موثر ہونے کے لئے صرف تحریر کی شرط لگادی جائے تو یہ شریعت کے منافی بات ہے، اس نوعیت کے کسی بھی فیصلے کا تعلق شریعت سے نہیں ہے، ہاں! اس معاملے میں صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ اگر حکومت یہ سمجھے کہ جس طرح نکاح کے لئے رجسٹریشن محض ایک انتظامی نوعیت کے معاملے کے طور پر ہوتی ہے، اس طرح طلاق دینے کے بعد کسی بھی عورت کو ایک تحریری ثبوت مل جائے کہ وہ مطلقہ ہے تو اس کی رجسٹریشن کرائی جاسکتی ہے، اس میں شرعی قباحت نہیں ہے، لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ طلاق زبانی نہیں ہوتی، جب تک مرد تحریری طور پر لکھ کر طلاق نہ دے اور اس کی رجسٹریشن نہ ہوجائے،تو یہ سراسر غیر شرعی مسئلہ ہے، اس پر نہ تو عملدرآمد ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔
سوال: مفتی صاحب! اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ عورت محرم کے بغیر حج پر جاسکتی ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟
جواب: اول اسلامی حکومت کے قیام کے بعد سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے کہ محرم کے بغیر حج نہیں ہوسکتا، آج ایک نیا فیصلہ سامنے لاکر اسلامی نظریاتی کونسل صرف ایک متوازی شریعت بنارہی ہے، اس سے زیادہ اس پر کیا کہا جاسکتا ہے؟ خود عرب سمیت دنیا بھر کے تمام اسلامی ممالک میں یہ متفقہ معاملہ ہے، اب اس طرح اس معاملے کو متنازعہ بنایا جارہا ہے، اسلام نے عورت کو محرم کے ساتھ سفر کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا محرم کے بغیر حج پر نہیں جایا جاسکتا، اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔
سوال: مفتی صاحب !اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے اب تک علماء کی کوئی واضح رائے سامنے نہیں آئی ہے، اس میں مصلحت کا دخل ہے یا محض عدم توجہ کے سبب ایسا ہوا؟
جواب: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل آج اپنے مینڈیٹ سے ہٹ چکی ہے، وہ ایسے فیصلے کرنے میں لگ گئی ہے جوکسی طرح بھی شرعی قوانین و اصولوں میں سے نہیں ہیں، وہ ایسا کرکے کس کو خوش کرنا چاہتی ہے؟ نہیں معلوم، لیکن ان فیصلوں کو نہ تو علماء کی حمایت حاصل ہے، نہ عوام کی کبھی حمایت حاصل ہوگی۔ سوال: مفتی صاحب! اگر حکومت نے ان پر عملدرآمد کیا تو اس کے بعد کیا ہوگا؟
جواب: ہماری نئی حکومت کو ماضی کی حکومت سے سبق لینا چاہئے، سابق صدر مشرف کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل سے خواتین کے حقوق کا بل منظور کروایاگیا۔ حقوق نسواں کے بل کی علماء نے مخالفت کی، اسے شریعت سے متصادم قرار دیا۔ ۲۰۰۶ء میں بل منظور ہوا ۔ ۲۰۰۷ء میں زوال کا آغاز ہوا اور ۲۰۰۸ء میں اقتدار چھن گیا، اب نئی حکومت کو فیصلہ کرلینا چاہئے کہ جب شریعت سے جنگ کی جائے گی، اسلامی قوانین کا مذاق اڑایا جائے گا، متوازی شریعت نافذ کرنے کے لئے اداروں کو استعمال کیا جائے گا تو پھر قہر الٰہی آئے گا اور حکومت بھی قائم نہیں رہے گی۔
سوال: اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ فیصلوں کے حوالے سے علماء کیا متفقہ لائحہ عمل لارہے ہیں؟
جواب: ہم نے بات کی ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء سے بات چیت کرکے کوئی حتمی لائحہ عمل سامنے لائیں گے، اس سلسلے میں ہماری بات ہورہی ہے، توقع ہے کہ رواں ہفتے میں ہم مشترکہ اجلاس میں متفقہ لائحہ عمل دیں گے۔ تاہم ایک بات واضح ہے، یہ فیصلے کسی طرح بھی شریعت سے تعلق نہیں رکھتے، ان کو کسی طرح بھی شرعی قرار نہیں دیا جاسکتا اور ان پر عملدرآمد کسی صورت نہیں ہونے دیا جائے گا۔
ڈاکٹر سرفراز نعیمی:
ڈاکٹر سرفراز نعیمی کا کہنا تھا کہ اسلام نے خانگی زندگی گزارنے اور زوجین کے باہمی تعلقات کو قائم رکھنے میں شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے، وہ اس کو جس طرح نافذ کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودہ سفارش کہ: شوہر کو بیوی کے طلاق طلب کرنے کے بعد ۹۰ روز میں طلاق دینے کا پابند کیا جائے، ورنہ عدالت خودبخود فیصلہ کردے گی، یہ اختیار اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہ بیوی کو حاصل ہے اورنہ کسی نام نہاد جج یا قاضی کو، اگر اس طرح کا اقدام اٹھایا گیا تو یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات میں براہ راست مداخلت قرار پائے گا، بجائے اس کے کہ عدالت زوجین میں محبت و الفت اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ اور خاندانی بقا کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے، خاندان کو توڑنے میں قاضی خود ایک حریف بن جائیں گے۔ یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، جس طرح یورپ کے اندر معاشی اعتبار سے خاندانوں کو دو لخت کردیا گیا اور خواتین کو گناہوں کی دلدل میں دھکیلنے میں آزادانہ اختیارات دے دیئے گئے، وہی کچھ مغرب، پاکستان میں کرانا چاہتا ہے اور بدقسمتی سے موجودہ حکام ذہنی، فکری اور شعوری اعتبار سے مفلوج ہوچکے ہیں۔ یہ ذمہ داری پاکستان کے تمام علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی احکامات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں، اسلام نے بیوی کو خلع کے طریقے پر جو اختیار دے رکھا ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس اختیار کو اس طرح بروئے کار لایا جائے کہ اس سے اسلامی تعلیمات کی روح ختم ہوجائے، اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ کہنا کہ دنیا میں چاند کی رؤیت کو مکہ مکرمہ میں چاند کی پیدائش کے ساتھ منسلک کردیا جائے ،یہ فقہی اعتبار سے ممکن نہیں، خانہ کعبہ کو جو قبلہ بنایا گیا ہے ، وہ اس اعتبار سے بھی ہے کہ اس خانہ کعبہ میں انتقال مکانی نہیں ہے، وہ اپنے مقام پر لمحہ، ہر زمانہ قائم و دائم رہتا ہے، اس لئے اس کو قبلہ بنانے میں یکجہتی کا پہلو موجود ہے، جبکہ سورج اور چاند کے طلوع و غروب میں دنیا میں کسی بھی مقام پر یکجہتی اور یکجائی ممکن نہیں، کیا سعودی عرب کے حکمران اس بات پر قادر ہیں کہ جس وقت چین میں سورج طلوع ہوتا ہے، اسی وقت سعودی عرب ہی سے طلوع کرکے دکھائیں؟ اور جس وقت ساؤتھ افریقہ میں چاند غروب ہوتا ہے اسی وقت سعودی عرب ہی سے غروب کرکے دکھائیں؟ نمازوں کے اوقات، حج کے ایام اور روزہ رکھنے والا نہ رکھے، عبادت کرنے اور نہ کرنے کا تعلق ہر مقام پر طلوع اور غروب آفتاب یا رؤیت ہلال کے ساتھ ہے اور خود حدیث کے الفاظ بالکل واضح ہیں کہ :”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو“ کیونکہ چاند کی رؤیت اور اس کی ولادت میں ۱۸ سے ۳۰ گھنٹے کا فرق پایا جاتا ہے۔ وگرنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے احکامات کا تعلق چاند کی ولادت سے بیان فرمادیتے، تو پھر امت مسلمہ یقینا چاند کی ولادت کو سبب قرار دیتی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا تعلق ولادت سے نہیں، رؤیت سے ہے۔ یہ بات ناقابل تردید ہے کہ خود سعودی عرب کی حکومت بوجوہ چاند کی ولادت کا اعلان کرنے کے ،کئی مرتبہ اپنے حکم کو واپس لینے پر مجبور ہوتی رہی ہے۔“ (روزنامہ امت کراچی ، ۱۷/نومبر ۲۰۰۸ء ص:۳)
ان صفحات میں ہم متعدد بار اس کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ اسلام دشمنوں کا بس نہیں چلتا کہ وہ کس طرح اسلام اور اسلامی احکام اور قرآن و حدیث کو مسخ کردیں ،اور اس کی جگہ ایک نیا اور ”قابل قبول“ دین و مذہب رائج کرنے کی ”سعادت“ کا ”اعزاز“ حاصل کریں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان نام نہاد محققین کو چودہ سو سالہ قدیم دین و مذہب اور قرآن و حدیث ناقابل عمل اور فرسودہ نظر آتے ہیں، اس لئے وہ اس دین و مذہب اور قرآن و سنت کی اپنی طرف نسبت کرتے ہوئے شرماتے ہیں، چنانچہ وہ اپنی اس خفت و شرمندگی کو مٹانے کے لئے گاہ بگاہ اسے جدت پسندی کی سانگ پر چڑھا کر قابل قبول بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ، مگر افسوس کہ! پاکستان کا دین دار طبقہ ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
بلاشبہ ان کی روز اول سے یہ سعی و کوشش رہی ہے کہ کسی طرح ”بنیاد پرستی“ کا یہ ”پتھر“ ان کے سامنے سے ہٹ جائے، لیکن شومیٴ قسمت! کہ وہ اتنا وزنی اور بھاری ہے کہ مسلسل ۶۱ سال کی جہدِ پیہم کے باوجود تاحال وہ اسے اپنی جگہ سے ہٹانے ،بلکہ ہلانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
یہ تو قارئین کے علم میں ہوگا کہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب ایوبی دور کے ”ادارہ تحقیقاتِ اسلامی“ کے سربراہ اور مشہور زمانہ ملحد ڈاکٹر فضل الرحمن کے شاگرد رشید اور ان کے علوم و افکار کے خوشہ چیں ہیں، ایسا لگتا ہے کہ موصوف کی دلی خواہش ہے کہ ڈاکٹر فضل الرحمن سے جو جو کام نہیں ہوسکے، یا وہ جن الحادی منصوبوں کو تشنہ تکمیل چھوڑ گئے تھے، ڈاکٹر خالد مسعود صاحب ان کی تکمیل کرکے ان کی جانشینی کاحق ادا کرتے ہوئے ان کی روح کو تسکین پہنچائیں۔
عین ممکن ہے کہ وہ ان ”تحقیقات جدیدہ“ سے ”رحم اللّٰہ النباش الاول“ کے مصداق ڈاکٹر فضل الرحمن کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں موجود نفرت و عداوت کے جذبات کو کم کرنا چاہتے ہوں، کیونکہ جب بعد میں آنے والا پہلے والے سے بڑھ کر بے دینی، الحاد اور زندقہ کا مظاہرہ کرے، تو فطری طور پر ہر انسان یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ: اس سے تو پہلے والا اچھا تھا، چنانچہ اس کہاوت اور محاورہ کا پس منظر بھی کچھ اسی طرح کا ہے کہ: ایک کفن چور جب مرا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہا: ”خس کم جہاں پاک“ اچھا ہوا جو مر گیا، اس لئے کہ ملعون مُردوں کی توہین کرتا تھا، جب لوگوں کے یہ احساسات اس کے جانشین تک پہنچے تو اس نے طے کیا کہ میں ضرور ایسا کوئی کارنامہ انجام دوں گا، جس سے لوگ میرے باپ کو بُرائی کی بجائے اچھائی سے یاد کریں گے۔ چنانچہ اس مردود نے یہ گھٹیا حرکت کی کہ کفن بھی چراتا اور مردے کے ایک ڈنڈا بھی گاڑ دیتا۔ لوگوں کو جب اس بدقماش کے اس گھناؤنے فعل اور غلیظ حرکت کی اطلاع پہنچی تو بے اختیار پکار اٹھے: ”رحم اللّٰہ النباش الاول“ ...اللہ پہلے کفن چور کے حال پر رحم فرمائے...کم از کم وہ مُردوں کی ایسی توہین تو نہیں کرتا تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر فضل الرحمن نے ادارئہ تحقیقات اسلامی میں بے دینی کا جو متن تصنیف کیا تھا، اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ سربراہ، اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھ کر اس کی شرح و تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں۔
ڈاکٹر خالد مسعود نے اسلامی نظریاتی کونسل کی آڑ میں جو کچھ فرمایا ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
۱:… رؤیت ہلال کے لئے دنیا بھر کے مسلمان مکہ مکرمہ کی طرف رجوع کریں اور دنیا بھر میں اگر کہیں مکہ مکرمہ سے پہلے یا بعد میں چاند نظر آئے تو ان کی رؤیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
۲:… اگر بیوی طلاق کا تحریری مطالبہ کرے تو اس کا شوہر طلاق دینے کا پابند ہے، اگر شوہر گھر بسانا چاہے اور طلاق نہ دینا چاہے ،تب بھی طلاق کے تحریری مطالبہ کے ۹۰ دن کے بعد بیوی کو خودبخود طلاق واقع ہوجائے گی۔
۳:… نکاح نامے کی طرح طلاق نامہ کی بھی رجسٹریشن کی جائے، چنانچہ اگر کسی نے زبانی طلاق دی اور اس کی رجسٹریشن نہ کرائی تو وہ طلاق موثر نہیں ہوگی ،بلکہ کالعدم تصور کی جائے گی۔
۴:… خواتین بغیر محرم کے حج پر جاسکتی ہیں، اور ان کے بلا محرم سفر پر ”مسعودی شریعت“ میں کوئی پابندی اور قدغن نہیں ہے۔
اب آیئے نمبروار موصوف کی اس فکری پرواز، دین و مذہب اور قرآن و سنت سے بغاوت کا، قرآن و سنت، اکابر علمائے امت کی تحقیق اور چودہ صدیوں کے اکابر مجتہدین کی تصریحات کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں، چنانچہ موصوف فرماتے ہیں کہ:
الف:… ”رؤیت ہلال کے مسئلے پر غور و خوض کے بعد کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے لئے خالص سائنسی طریقے سے مکہ مکرمہ کو مرکز بناکر چاند کی ولادت کے لحاظ سے پوری دنیا کے لئے ایک ہجری کیلنڈر بنادیا جائے اور تمام مذہبی تہوار اس کے مطابق منائے جائیں۔“
نظر بظاہر دیکھنے میں موصوف کی یہ رائے بہت ہی خوبصورت، خوشنما اور آسان نظر آتی ہے، یقینا مسعودی نظریاتی کونسل کے ارکان نے جناب چیئرمین کی اس اجتہادی سوچ پر تعریف و توصیف کے ڈونگرے برسائے ہوں گے، کیونکہ اس میں کسی رؤیت ہلال کے چکر کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، لیکن افسوس کہ موصوف کی یہ تحقیق فقہائے امت، صحابہ، تابعین، ائمہ مجتہدین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور قرآن و حدیث کے سیاق و سباق سے متعارض و متصادم ہے، کیونکہ دنیا بھر میں اتنے بڑے کرئہ ارضی پر جس طرح سورج کا طلوع و غروب مختلف ہے، کہیں ایک، کہیں دو، کہیں تین، کہیں چار، کہیں پانچ، کہیں چھ، کہیں سات، کہیں آٹھ،کہیں نو، اور کہیں دس گھنٹے کا فرق ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ جہاں دس گھنٹے پہلے رات آئے گی، وہاں مطلع پر چاند نہیں ہوگا، تو وہاں چاند کی رؤیت کا حکم اور فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا؟
گویا اس مطلع پر ابھی چاند طلوع ہی نہ ہوا ہوگا کہ وہاں چاند کی رؤیت کا فیصلہ کردیا جائے گا، چلئے دس گھنٹے کا فرق بھی نہ ہو، صرف چند گھنٹے کا ہو، مثلاً پاکستان کا مطلع مشرق میں ہے اور سعودی عرب کا مطلع مغرب میں ہے، جب پاکستان میں سورج غروب ہورہا ہوتا ہے، اس کے ٹھیک دو گھنٹے بعد مکہ مکرمہ میں آفتاب غروب ہوتا ہے،اب پاکستان کے مطلع پر تو چاند نظر نہیں آیا، کیونکہ چاند سورج سے آگے تھا، جب سورج غروب ہوا تو چاند اس سے پہلے غروب ہوچکا تھا، مگر وہی سورج جب سعودی مطلع پر پہنچا تو وہاں سورج غروب ہوتے وقت مطلع پر چاند موجود تھا، سوال یہ ہے کہ سعودی مطلع پر چاند کی موجودگی کی وجہ سے پاکستانی مطلع پر موجودگی کا حکم کیونکر لگایا جاسکے گا؟
کیا ایسا کرنا قرین قیاس ہے؟ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو کسی مشکل و مشقت میں ڈالے بغیر واضح انداز میں فرمایا ہے: ”صوموا لرؤیتہ وافطروا لرؤیتہ“ (مشکوٰة، ص:۱۷۴) ...چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو...عید کرو... کیا موصوف کا یہ ارشاد اور تجویز اس حدیث نبوی سے میل کھاتا ہے؟
اس کے علاوہ ان کی سفارش پر عمل کرنے کی صورت میں خرابی لازم آئے گی کہ اگر: کسی مطلع پر ایک دن پہلے چاند نظر آیا اور وہاں کے لوگوں نے روزہ شروع کردیا اور دوسرے مطلع پر ایک یا دو دن بعد نظر آیا تو ظاہر ہے عید کے چاند کا بھی اس فرق سے اعتبار ہوگا، اب اگر پہلے مطلع کے چاند کے مطابق روزے پورے کئے جائیں تو بعد والوں کے ۲۷،۲۸/ ہوں گے اور اگر بعد کے مطلع کا اعتبار کرکے عید کی جائے گی تو پہلے والوں کے ۳۱،۳۲/ روزے ہوں گے۔ اسی لئے اگرچہ فقہائے احناف کے ہاں اختلاف مطالع کے اعتبار نہ ہونے کا قول ہے، مگر محقق بات یہ ہے کہ بلاد بعیدہ جہاں ایک یا دو دن کا فرق ہو، وہاں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے اور بلاد قریبہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں ہے۔ (دیکھئے معارف السنن، ص:۳۵۲، ج:۵)
اس کے علاوہ چاند کی ولادت اور اس کا طلوع دو الگ الگ چیزیں ہیں، ایک کا تعلق حساب و کتاب سے ہے اور دوسری کا محض مشاہدہ سے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو امت کی آسانی کے لئے اُسے مشاہدہ کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرماتے ہیں کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو، مگر موصوف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے راہنما اصولوں سے ہٹ کر امت کو حساب و کتاب اور سائنس و فلکیات سے جوڑنا چاہتے ہیں۔
ب:… اگر کوئی بیوی طلاق کا تحریری مطالبہ کرے تو اس کا شوہر اس کو طلاق دینے کا پابند ہے، اگر شوہر اس کے باوجود طلاق نہ دے تو طلاق کے تحریری مطالبہ کے ۹۰ دن بعد بیوی کو خود بخود طلاق واقع ہوجائے گی۔“
موصوف کی اس انوکھی تحقیق کے سلسلہ میں چند معروضات پیش کی جاتی ہیں:
۱:… اسلام اور پیغمبر اسلام کی اولین کوشش یہ رہی ہے کہ کسی طرح نکاح کا بندھن نہ ٹوٹے اور طلاق کی نوبت نہ آنے پائے، کیونکہ طلاق مباح کاموں میں سب سے مبغوض اور ناپسندیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر میاں بیوی میں ناچاقی کی صورت پیدا ہوجائے تو اس کے ازالہ کے لئے قرآن کریم میں بتلایا گیا ہے کہ دونوں طرف سے حکم اور ثالث بھیج کر میاں بیوی میں صلح کرائی جائے، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
”وان خفتم شقاق بینہما فابعثوا حکماً من اہلہ وحکماََ من اہلہا، ان یریدا اصلاحاً یوفق اللّٰہ بینہما، ان اللّٰہ کان علیماً خبیراً۔ “ (النساء: ۳۵)
ترجمہ: …”اور اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں آپس میں ضد رکھتے ہیں تو کھڑا کرو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک منصف عورت والوں میں سے ،اور اگر یہ دونوں چاہیں گے کہ صلح کرادیں تو اللہ تعالیٰ موافقت کردے گا ان دونوں میں، بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔ “ (ترجمہ شیخ الہند)
مگر اسلامی نظریاتی کونسل کے نامور چیئرمین اس قرآنی حکم کے علی الرغم فرماتے ہیں کہ بیوی کے طلاق کے مطالبہ کے ۹۰ دن بعد اس پر خودبخود طلاق واقع ہوجائے گی، گویا ان کے ہاں درمیان میں کسی مصالحت اور بات بنانے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ بیوی کا طلاق کا مطالبہ ہی اس کے حق بجانب ہونے کی کافی دلیل ہے۔
اسی طرح اسلام نے جس طرح نکاح کے لئے میاں بیوی کی رضا مندی کو شرط قرار دیا ہے اور ایجاب و قبول کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا، اسی طرح انعقاد نکاح کے بعد طلاق کا حق صرف مرد کو دیا ہے، چنانچہ چند ایک استثنائی صورتوں کے علاوہ جب تک شوہر کی رضا مندی شامل نہ ہو، بیوی نکاح کے بندھن سے آزاد نہیں ہوسکتی۔ پھر یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مرد کو حق طلاق دینے میں عورت کی ہی خیرخواہی مطلوب ہے، کیونکہ عام طور پر خواتین جذباتی ہوتی ہیں اور جذبات کی شدت میں اپنے نفع و نقصان کو بھول جاتی ہیں، اس لئے اس بات کا شدید اندیشہ تھا کہ اگر ان کو حق طلاق دے دیا جاتا تو وہ اپنا گھر برباد کر بیٹھتیں، اس لئے طلاق کو مرد سے منسلک کرکے اس بندھن کو ٹوٹنے سے بچایا گیا۔مگر چیئرمین صاحب مشورہ دیتے ہیں اور حکومت سے اس قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں کہ شوہر کے بجائے بیوی کو اتنا بااختیار بنادیا جائے کہ جب بیوی طلاق کا مطالبہ کرے اور شوہر طلاق نہ دے، قطع نظر اس کے کہ قصور کس کا ہے؟ ۹۰ دن بعد بیوی نکاح سے فارغ ہوجائے۔
۲:… اس تجویز کے ذریعہ گویا چیئرمین صاحب شوہر سے حق طلاق سلب کرکے بیوی کو دینا چاہتے ہیں، حالانکہ اسلامی اور شرعی ضابطہ یہ ہے کہ: اگر میاں بیوی میں ناچاقی ہو اور کسی طرح مصالحت کی صورت نہ بنے تو صلح کرانے والے، شوہر سے کہیں کہ: اگر آپ صلح نہیں کرنا چاہتے تو طلاق دے کر اس کی گلو خلوصی کردیں۔ اسی طرح اگر کوئی شوہر مُتعنّت اور ضدی ہوکہ نہ طلاق دے اور نہ گھر بسائے تو عورت کو اس کے بڑے مشورہ دیں کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے، ایسی صورت میں اگر عورت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے تو عدالت پر لازم ہے کہ شوہر کو بذریعہ پولیس عدالت میں طلب کرے، اس کے سامنے ساری صورت حال رکھے اور کہے کہ اپنی بیوی کی شکایات کا ازالہ کرو، ورنہ اُسے طلاق دے دو۔اگر اس کے باوجود بھی کوئی شوہر طلاق نہ دے تو عدالت ان کے درمیان جدائی کردے۔
مگر موجودہ صورت میں موصوف نے جو تجویز دی ہے یا جس قانون سازی کا مشورہ دے رہے ہیں، اس کا معنی یہ ہے کہ: کوئی گھر بھی سلامت نہیں رہے گا۔ مثلاً: اگر کسی معصومہ کو اپنے شوہر سے معمولی شکایت پیدا ہوئی یا اس کو کسی بدخواہ نے ورغلایا اور اس نے شوہر سے تحریری طلاق کا مطالبہ کردیا اورشوہر نے اس پر غوروفکر کی مہلت مانگی یا خاموش رہا تو ٹھیک ۹۰ دن بعد وہ گھر چوپٹ ہوجائے گا اور عورت یہ کہہ کر اس گھر سے چلی جائے گی کہ میں نے ۹۰ دن قبل طلاق کا مطالبہ کیا تھا، شوہر نے طلاق نہیں دی، لہٰذا قانوناً مجھ پر ۹۰ دن بعد طلاق واقع ہوگئی اور میں جارہی ہوں۔
دوسرے الفاظ میں موصوف پاکستان سے خاندانی نظام اور نکاح و طلاق کے حسین اسلامی بندھن کو مغرب اور مغربی معاشرہ کی طرح ختم کرنا چاہتے ہیں اور مسلمان خواتین کو مغربی خواتین کی طرح بے راہ روی کی گہری غاروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
ج:… جیسا کہ امت کی ٹیم نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے ہاں زبانی طلاق موثر نہیں ہے، بلکہ ان کے ہاں طلاق کے موثر ہونے کے لئے طلاق کا تحریری ہونا ضروری ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کے ہاں اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ کو زبانی طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ان کے ہاں طلاق تب واقع ہوگی جب تحریری شکل میں دی جائے، اگر یہ بات ثابت ہے اور یقیناً ثابت ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ چیئرمین صاحب کی فکرو سوچ قرآن، سنت، چودہ صدیوں کے اکابر علماء اور ائمہ مجتہدین کی فکرو سوچ سے نہ صرف متصادم ہے، بلکہ دین و شریعت میں تحریف و ترمیم کے مترادف ہے ،اس لئے کہ قرآن و سنت میں تحریری طلاق کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے، بلکہ تمام احکام کا تعلق زبانی اقرار و اعتراف سے ہے، اس کے لئے تحریر و کتابت کی کسی شرط کا کوئی تذکرہ نہیں، یہ دوسری بات ہے کہ کسی معاملہ کے لئے تحریر اور کتابت اس معاملہ کے تحقق کے لئے مستند ثبوت کا کام دے سکتی ہے، لیکن طلاق و نکاح کو تحریر پر موقوف کرنا پرلے درجے کی جہالت و سفاہت ہے۔ دوسرے الفاظ میں چیئرمین صاحب کے ہاں جب تک شوہر طلاق کو تحریری شکل نہ دے، موثر نہ ہوگی، چاہے زبانی طور پر وہ طلاق کے الفاظ سو بار ہی کیوں نہ ادا کرے، طلاق واقع نہیں ہوگی۔
کیا موصوف کی اس تجویز کا یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی بدباطن زبانی طور پر اپنی بیوی کو طلاق دیدے مگر اسے تحریر نہ کرے تو وہ اپنی مطلقہ کے ساتھ بحیثیت میاں بیوی رہ سکتا ہے؟ کیا اس سے طلاق بازیچہٴ اطفال نہ بن جائے گی؟ اور کیا اس سے زنا کاری اور بدکاری کا دروازہ نہیں کھل جائے گا؟
د:… اسی طرح موصوف کا یہ فرمانا کہ: نکاح نامے کی طرح طلاق نامہ کی رجسٹریشن کی جائے، یعنی اگر کسی نے زبانی طلاق دے دی، مگر اس کی رجسٹریشن نہ کرائی، تو وہ طلاق موثر نہ ہوگی۔ کیا کہا جائے کہ روز مرہ زندگی اور معاملات میں زبان کے بول اور قول و اقرار کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ کوئی طالع آزما سو بار طلاق دیا کرے یا لکھا کرے، مگر جب تک اس کو رجسٹرڈ نہیں کرائے گا، اس کی بیوی اس کے نکاح سے خارج نہ ہوگی؟ بتلایا جائے یہ کہاں کا اسلام ہے؟ کیا موصوف اس کے لئے قرآن و سنت، اجماع امت اور چودہ صدیوں کے محققین میں سے کوئی ثبوت پیش فرماسکتے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے، اور یقینا نفی میں ہے تو کیا یہ تحریف فی الدین نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو: ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین۔
ہ:… ”اسی طرح موصوف کا یہ کہنا بھی قرآن و سنت اور اجماع امت کے سراسر خلاف ہے کہ : ”خواتین بغیر محرم کے حج پر جاسکتی ہیں اور ان کے بلا محرم سفر پر کوئی پابندی اور قدغن نہیں ہے۔“
اس لئے کہ خواتین کے سفر کے لئے محرم کی پابندی کوئی وقتی اور سماجی حکم نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خالص شرعی حکم ہے، قطع نظر اس کے کہ اس کی حکمت اور علت کیا ہے؟ خواتین کے بغیر محرم سفر پر قدغن لگاتے ہوئے فرمایا گیا:
الف:… ”عن ابی سعید قال، قال: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا یحل لامرأة تومن باللّٰہ والیوم الآخر ان تسافر سفراً فوق ثلاثة ایام فصا عداً الا ومعہا ابوہا او اخوہا او زوجہا اوابنہا او ذو محرم منہا۔“ (ابوداؤد، ص:۲۴۲، ج:۱)
ترجمہ: …”کسی خاتون کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا باپ، بھائی، شوہر، بیٹا یا اس کا کوئی محرم ہو۔“
ب:… ”عن ابن عمر عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال :لا تسافر المرأة ثلاثاً الاومعہا ذومحرم۔“ (ابوداؤد، ص:۲۴۲، ج:۱)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی خاتون تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔“
ج:… ”لا تحجن امرأة الا ومعہا ذو محرم۔“
(مسند ابو عوانہ، دارقطنی، ص:۲۲۳،ج:۲، فتح الباری، ص:۶۷، ج:۴)
ترجمہ: ”جب تک کسی خاتون کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو، ہرگز حج کو نہ جائے۔“
اس کے علاوہ فقہائے احناف کے ہاں تو خاتون پر حج فرض ہی نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم نہ ہو، چنانچہ ملک العلماء امام علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی فرماتے ہیں:
”(واما) الذی یخص النساء فشرطان: احدہما: ان یکون معہا زوجہا او محرم لہا، فان لم یوجد احدہما لایجب علیہا الحج...“
(بدائع الصنائع، ص:۱۲۳، ج:۲)
ترجمہ: …”عورتوں پر حج کی فرضیت کی دو شرائط ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر ہو یا اس کا کوئی محرم ہو، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو اس پر حج فرض نہیں ہے۔“
ان تصریحات اور واضح نصوص کے باوجود یہ کہنا کہ خواتین بغیر محرم کے سفر حج کو جاسکتی ہیں، اور پاکستان میں اس کی قانون سازی کی جائے، کھلا انکار دین اور انکار حدیث نہیں ہے؟ کیا مسلمان اسلامی نظریاتی کونسل کے عزت مآب چیئرمین کی اس گپ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیں گے؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو اہالیانِ پاکستان پرلازم ہے کہ اس ملحدانہ فکر و سوچ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، اور دین و شریعت میں ترمیم و تنسیخ کی اس سازش کا تعاقب کریں، اور اس موذی کو اس منصب سے اتارنے کی اپنی سی سعی و کوشش کریں، تاکہ کل قیامت کے دن کسی ذلت و رسوائی کا ا ن کو سامنا نہ کرنا پڑے۔ چنانچہ اسی جذبہ اور احساس ذمہ داری کے پیش نظر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مدیر و عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اور دوسرے حضرات نے اخبارات کو یہ بیان جاری کیا:
”کراچی (پ ر) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین شریعت میں تحریف کرنے اور اپنی فکر و سوچ کو شریعت باور کرانے کی مذموم اور بے ہودہ کوششوں سے باز رہیں۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے راہنماؤں نے کراچی دفتر میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اور جامعہ علوم اسلامیہ کے رئیس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب مدیر مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا امداد اللہ، مولانا عطاء الرحمن، مولانا فضل محمد، مفتی عبدالمجید دین پوری نے اجلاس میں موجود شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب خالد مسعود صاحب دین و شریعت اور منصوصات اسلام میں تحریف و تنسیخ سے باز رہیں اور اپنی الحادی فکرو سوچ کو شریعت باور کرانے کی کوشش کرکے عذابِ الٰہی کو دعوت نہ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شریعت اور احکام شریعت آج سے چودہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمادیئے ہیں جو کہ قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور شریعت میں ہر دور اور ہر طبقے کے لئے احکامات موجود ہیں، اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ کا مشورہ دینا مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے اور مسلمان اس کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے، بلاشبہ اسلام دین فطرت اور ایک مکمل ضابطہٴ حیات ہے۔ انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب زدہ ان نام نہاد اسکالروں کو اس اہم منصب سے برطرف کیا جائے اور ان کی جگہ مستند علماء کرام کو اس منصب پر فائز کیا جائے۔ اجلاس سے مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اعجاز، ختم نبوت کے ایڈیٹر الحاج عبداللطیف طاہر، محمد انور رانا، مفتی عبدالقیوم دین پوری، مفتی حبیب الرحمن لدھیانوی، مفتی محمد زکریا لدھیانوی اور مفتی عبداللہ حسن زئی، مولانا فخر الزمان، مولانا عبدالملک لدھیانوی، مولانا محمد انس نے بھی شرکت کی۔“ (روزنامہ جنگ کراچی، ۲۱/نومبر ۲۰۰۸ء)
الغرض اگر اسلام دشمن حقائق کو مسخ کرنے اور منصوصات شرعیہ میں ترمیم و تنسیخ کے مذموم پروگرام سے باز نہیں آتے یا اپنے مہروں کی سرپرستی سے نہیں شرماتے تو اہلِ حق اور وارثانِ نبوت اور محافظانِ دین و شریعت کو ان سے بڑھ کر ہمت و جرأت اور بیدار مغزی کا ثبوت دینا چاہئے، اگر خدانخواستہ اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت و صیانت پر مامور الٰہی فورس نے غفلت و کوتاہی کا مظاہرہ کیا تو اس کا شدید اندیشہ ہے کہ دشمن ان کی غفلت کا فائدہ اٹھاکر قلعہ اسلام کی اینٹ سے اینٹ نہ بجادے۔ ولا فعل اللّٰہ۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , ذوالحجہ: ۱۴۲۹ھ دسمبر:۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ