اسلامی نظریاتی کونسل کے چیَرمین ڈاکٹرخالد مسعودکا تعارف
اسلا می نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر خالد مسعودکا تعارف،عقائد و نظریات ،فکرا ور فلسفہ

الحمدللہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ!

گزشتہ کئی ماہ سے ماہنامہ بینات کے ادارتی صفحات میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب خالد مسعود صاحب کے ایک بیان پر تبصرہ اور تنقید شائع ہورہی تھی ، خیال ہوا کہ چونکہ پاکستانی عوام کی طرح عموماََلکھے پڑھے حضرات اور علمأ بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی ”شخصیت“ ان کے ”علم و فضل،” فہم و فراست“ اور عقائد و نظریات سے ناآشنا ہیں، بلاشبہ اگر وہ ان کی ”قد آور شخصیت“ ان کی مادر علمی، تربیت گاہ اور ان کے اساتذہ سے آگاہ ہوتے تو شاید اس قدر طویل مضمون لکھنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ ہمارے خیال میں کسی شخصیت کی شرافت و دیانت اور عقائد و نظریات کو پرکھنے کا بہترین ذریعہ اس کا خاندانی پس منظر اور اس کے اساتذہ علم و فن اور ان کی مادر علمی یعنی درس گاہ کا تعارف ہے۔ چنانچہ اگر کسی شخص کے اساتذہ ملحد و بے دین ہوں یا اس کی تربیت گاہ میں الحاد و زندقہ کی تعلیم و تربیت دی جاتی ہو، تو ان اساتذہ اور تربیت گاہ سے اخذواستفادہ کرنے والے کسی” محقق“ سے مسلمانوں کو خیر کی توقع رکھنا یا ان کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا اور چیخنا چلانا نہ صرف عبث ہے بلکہ لائق صد ماتم ۔ اسی لئے ...گستاخی معاف ... جی میں آیا کہ مسلمانانِ پاکستان کی طرح لکھے پڑھے حضرات اور علمأکرام کی خدمت میں جناب ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کے عقائد و نظریات اور ان کی فکری پرواز اور ان کے اساتذئہ علم و ہنر کا کچھ تعارف پیش کردیا جائے․․․․․․․․پیش نظر تعارف اور عقائد ونظریات ڈاکٹر خالد مسعودکے اس انٹرویو سے ماخوذ ہیں جو انہوں نے روزنامہ جنگ کراچی کے ایک نمائندہ کو دیا اور سنڈے میگزین ۲۸ اکتوبر ۲۰۰۷ء میں شائع ہوا ․․․․․․ جناب خالد مسعود صاحب اپنے والدکے بڑے بیٹے ہیں ،ان کے دوسرے بھائی محمود شام ان سے چھوٹے ہیں، ان کا آبائی تعلق انبالہ سے ہے۔ آپ کے والد ماجد جناب صوفی شیر محمد صاحب مرحوم ایک نیک دل انسان اور پرانے احراری تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے لاہور اور پھر جھنگ میں انہوں نے سکونت اختیار کی۔ متحدہ ہندوستان میں انہوں نے انگریز دشمنی کی پاداش میں جیلیں کاٹیں۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی.... ہماری معلومات کے مطابق... وہ جمعیت علماء اسلام اور تبلیغی جماعت سے وابستہ رہے اور رزق حلال کی خاطر انہوں نے جھنگ میں ”ارسطو دواخانہ“ کے نام سے ایک مطب قائم کیا اور زندگی بھر اسی سے وابستہ رہے۔ جس طرح موصوف صوفی شیر محمد مرحوم انگریز دشمن تھے اور استعمار کو مسلمانوں کا سب سے بڑاحریف اور دشمن سمجھتے تھے، اسی طرح انہوں نے اپنی اولاد کی بھی یقیناََ انہیں خطوط پر تربیت کرنا چاہی ہوگی۔ مگر چونکہ انگریز کی عیاری اور مکاری مشہور ہے اور جس طرح شیطان اللہ کے نیک بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو ان کی اولادوں سے بدلے لیتا ہے، اسی طرح شیطان کی معنوی اولاد انگریز کی بھی یہی روش رہی ہے کہ جن کے سامنے ان کا بس نہیں چلتا وہ اپنا بدلہ ان کی اولادوں سے لیتا ہے، افسوس کہ یہی کچھ موصوف صوفی شیر محمد مرحو م کی اولاد کے ساتھ بھی ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کو ان کے والد ماجد نے ابتدائی طور پر اسکول پڑھایا، آزاں بعد وہ ان کو دارالعلوم دیوبند بھیجنا چاہتے تھے، مگر افسوس کہ اب بیٹا باپ کی فکر و سوچ کی مخالف سمت جاچکا تھا۔ چنانچہ خالد مسعود صاحب نے جھنگ کے ایم بی ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ پرائیویٹ طور پر منشی فاضل کیا، گھریلو معاشی حالات مزید تعلیم جاری رکھنے کے متحمل نہ تھے تو اسلامیہ ہائی اسکول میں ٹیچر کی نوکری مل گئی، اسی دوران ایف اے اور بی اے کیا، امتحان میں اچھے نمبر آگئے تو اسکالر شپ مل گئی، مزید تعلیم کے لئے لاہور کا رخ کیا، ایف سی کالج لاہور، گورنمنٹ کالج لاہور اور اسلامیہ کالج لاہورمیں انگریزی ادب میں داخلہ کا امتحان دیا مگر افسوس! کہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ، مجبوراً اسلامیہ کالج لاہور سے ایم اے اسلامیات کیا، اسی دوران مشہور ملحد اور صدر ایوب کے نفس ناطقہ ڈاکٹر فضل الرحمن نے ...جو بعد میں عیسائی ہوکر مرا.... اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کراچی، میں داخلہ کی پیشکش کی اور داخلہ کا خط بھیجا۔ حسن اتفاق کہئے یا سوئے اتفاق! کہ ڈاکٹر فضل الرحمن کے فلسفہ الحاد و استشراق نے اپنا کام دکھایا اور موصوف کے دل و دماغ کو ”فرسودہ مذہبی تصورات“ سے پاک کردیا گیا۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد اس فکر و فلسفہ میں مزید رسوخ پیدا کرنے کے لئے آپ کو کینیڈا میں مانٹریال مکیگل یونیورسٹی بھیج دیا گیا، وہاں سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد واپس تشریف لائے تو ان کے استاذ ڈاکٹر فضل الرحمن کی جگہ خالی ہوچکی تھی اور ضرورت تھی کہ ان کی مسند پر ان کی فکر و سوچ کا انسان براجمان ہو، چنانچہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کو اپنے استاذ موصوف کی خدمات کے تسلسل کو جاری رکھنے کی خدمت پر مامور کردیا گیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمن کی صحبت ، تربیت اور کینیڈا مانٹریال یونیورسٹی کے مستشرق اساتذہ کی محنت بر آئی تو اب ڈاکٹر خالد مسعود وہ نہیں تھا، جس نے جھنگ کے ایک دین دار گھرانے میں نشوونما پائی تھی اور جس کے قلب و جگر اور دل و دماغ میں انگریز اور استعمار کی نفرت کا بیج بویا گیا تھا۔ اب اس کے دل میں انگریز اور استعمار کے خلاف نفرت کے بجائے محبت و الفت کے جذبات تھے، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:
”بہت ساری چیزوں کے بارہ میں اب میری رائے بدل گئی ہے، لیکن آزادی کا تصور آزادی کے لئے محنت اور خاص طور پر استعمار کے ساتھ نفرت اور استعمار کے ساتھ جو ایک تعلق ہے، وہ جب تک میں باہر نہیں گیا اس وقت تک استعمار سے نفرت کا تعلق رہا، لیکن جب خود جاکر استعماری معاشرے کو دیکھا تو پتا چلا کہ کسی حد تک ہمارا اپنا تصور محدود تھا اور ہم پوری طرح مغربی معاشرے کو سمجھ نہیں پائے۔“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
موصوف کی جب برین واشنگ ہوگئی اور وہ مسلم معاشرہ کے بجائے استعمار اور استعماری معاشرہ کو حق و صواب سمجھنے لگے تو ان کے لئے اندرون و بیرون ملک ہر طرح کی ترقیات اور مناصب کے دروازے کھل گئے، چنانچہ وہ اس دوران نائیجیریا گئے، ایک سال تک یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں رہے، اور ۱۹۷۹ء میں اسکالر شپ پر امریکا چلے گئے اور وہاں کئی ایک یونیورسٹیوں میں لیکچر دیئے، اسی طرح دوبار وہ پیرس بھی لیکچرار کے طور پر گئے، مگر اس پورے عرصہ میں اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد میں ملازمت کرتے رہے اور ۱۹۹۹ء میں اس عہدہ سے ریٹائر ہوگئے۔ اس عرصہ میں موصوف مکمل طور پر مغرب کے رنگ میں رنگ گئے، اور اس میں سب سے اہم کردار امریکا کی ”کمیٹی ان اسٹیڈی آف مسلم سوسائٹی“ کی ممبر شپ نے ادا کیا، چنانچہ موصوف خود فرماتے ہیں کہ:
”اس سلسلہ میں دو چیزیں میرے کیریئر میں بہت اہم ہیں، امریکا میں سوشائل سائنس کی ایک ریسرچ کونسل ہے، ان کے مختلف گروپ، مختلف کمیٹیاں ،مختلف فیلڈ سے ہوتی ہیں، انہوں نے ایک نئی کمیٹی بنائی تھی،کمیٹی ان سٹڈی آف مسلم۔ سوسائٹیز (قائم کی)۔ عام طور پر امریکا میں جس سٹڈی کا رجحان ہے وہ AREA اسٹیڈیز میں اور اسلام ان میں سے مڈل ایسٹ وغیرہ میں اہم پارٹ ہوتا ہے، یہ پہلی کمیٹی تھی جس کا فوکس مسلم سوسائٹی تھا، اس کمیٹی کی مجھے ممبر شپ کی آفر دی گئی، یہ ممبر شپ پانچ سال کی تھی۔ اس ممبر شپ کی وجہ سے ہر سال دو دفعہ امریکا جانا ہوتا تھا، اس کے علاوہ مختلف اسلامی ممالک میں جانا ہوتا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ میری دانشورانہ ڈویلپمنٹ اس فیلڈ میں زیادہ ہے ،کیونکہ یہ سب عالم فاضل لوگ تھے، پہلا دھچکا مجھے اسی وقت لگا تھا جب میں میکگل پہنچا تھا، وہاں جاکر ساری مسلم تاریخ اکائی کے ساتھ ،نہ کہ ٹکڑوں میں تقسیم کرکے پڑھی، اسلامی تاریخ کے فوجی، معاشی، اسلامی پہلو تمام پڑھے، تو وہ جو دھچکا تھا کہ ہم کس طرح اسلامی تاریخ کو سمجھتے ہیں۔“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
گویا امریکا اور ان کی اس کمیٹی کی ممبر شپ کی ”برکت“ سے موصوف کی آنکھیں کھل گئیں اور اب تک امت مسلمہ کے بارہ میں وہ جس خوش فہمی میں مبتلا تھے ،وہ امریکی استعمار کی مرتب کردہ امت مسلمہ کی تاریخ، فوجی،معاشی اور اسلامی تصورات کی غلطی ان پر روز روشن کی طرح عیاں ہوگئیاور وہ اپنے استاذ اور مربی ڈاکٹر فضل الرحمن کے نظریہ الحاد اور ان کی اس سلسلہ کی الحادی خدمات کے معترف ہوگئے اور سمجھنے لگے کہ ڈاکٹر فضل الرحمن کا وجود جس طرح ان کے لئے نعمت غیر مترکبہ تھا، ایسے ہی پاکستان میں جاری الحادی تحریک کے لئے بھی از حد ضروری تھا، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:
”ڈاکٹر فضل الرحمن کے باہر جانے سے پاکستان کو نقصان ہوا، انہیں پاکستان سے ۱۹۶۹ء میں نکال دیا گیا، پہلے وہ برطانیہ گئے پھر شکاگو یونیورسٹی میں۔“
(سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء) ڈاکٹر فضل الرحمن سے ان کے جوڑ بیٹھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ جس طرح وہ ایک خالص دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور استعمار کی چمک دمک سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے دین و مذہب، معاشی، معاشرتی اور اسلامی تاریخ سے بغاوت کی تھی، ٹھیک اسی طرح خالد مسعود صاحب بھی وہی پس منظر رکھتے تھے اور بعینہ اسی طرح وہ بھی امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کی ”برکت“ سے دین و مذہب سے باغی ہوگئے، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں: ”اصل میں ان ...ڈاکٹر فضل الرحمن.... کا تعلق ہزارہ سے تھا، ان کے والد مولانا شہاب الدین دیوبندی تھے اور وہ مولانا محمود الحسن اور بڑے جید علماء کے ساتھیوں میں سے تھے، مولانا شہاب الدین اہل حدیث مکتبہ فکر کے امام ابن تیمیہ کے بہت قائل تھے....․․اہل حدیث ان کو بہت مانتے ہیں....ڈاکٹر فضل الرحمن کی مذہبی تعلیم مدرسے سے نہیں، بلکہ ان کے والد صاحب سے تھی، جو لاہور میں اس وقت درس دیتے تھے، ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، ان کی علمیت میں کوئی شک نہیں ہے، جب وہ آکسفورڈ گئے تھے تو سنا ہے شیروانی اور داڑھی کے ساتھ ہاتھ میں مولویوں والی چھڑی لے کر جاتے تھے، لیکن وہاں جاکر کلین شیو ہوگئے تھے۔ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/ اکتوبر ۲۰۰۷ء) گویا جس طرح وہ ایک عالم دین کے بیٹے، دین دار، مشبہ شکل، داڑھی، ٹوپی، شیروانی اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ آکسفورڈ گئے اور ان کے فلسفہ استشراق سے متاثر ہوکر کلین شیو ہوگئے، موصوف خالد مسعود صاحب نے بھی ان کی تقلید کی۔ مگر اے کاش کہ ڈاکٹر فضل الرحمن کو پاکستان سے نکال دیا گیا اور موصوف اکیلے اور بے یارو مددگار ان کی فکرو فلسفہ کے وارث رہ گئے اور تحریک الحاد واستشراق کی بھاری بھرکم ذمہ داری ان کے ناتواں کندھوں پر آگئی ،ظاہر ہے ان کو اس کا جس قدر قلق و افسوس ہوا ہوگا وہ خود ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں، چنانچہ مندرجہ بالا اقتباس میں انہوں نے اسی درد و کرب کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے جس طرح اپنی دینی، مذہبی، اور فکری تبدیلی اور اس میں انقلاب کا ذکر کیا ہے اور جس طرح انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحمن کے علم و فضل کی تعریف و توصیف کی ہے، اس کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ ان کے عقائد و نظریات سے بحث کی جائے۔ تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چند ایک اچھوتے عقائد و نظریات اور ان کی دین و مذہب اور مسلم تاریخ اور مسلم تحریکوں کے بارہ میں باغیانہ جذبات کا بھی تذکرہ کردیا جائے:
۱:… موصوف ڈاکٹر فضل الرحمن کے عائلی قوانین کے بہت بڑے مداح، حامی اور داعی ہیں اور نعوذباللہ وہ انہیں قرآن مجید کے عائلی قوانین کا تسلسل سمجھتے ہیں، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:
”عائلی قوانین کا تعلق معاشرے سے ہے اور جو قرآن کریم اور سنت میں بھی عائلی قوانین ہیں اور وہ اس وقت کی معاشرتی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر جہاں جہاں ضرورت تھی بنیادی طور پر قبل اسلام بھی وہ چیزیں موجود تھی، نکاح، طلاق، وراثت یہ سب چیزیں قبل از اسلام موجود تھیں، اس میں جہاں جہاں زیادتی تھی خاص طور پر عورتوں کے ساتھ، اس میں قرآن کریم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ان کی اصلاح کردی گئی۔“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
کیا موصوف سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ان کے بقول جب قرآن و سنت کے ذریعے عائلی قوانین میں قابل اصلاح امور کی اصلاح کردی گئی تھی تو اب ڈاکٹر فضل الرحمن اور ان کے جانشین خالد مسعود صاحب کو اس میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟ کیا نعوذباللہ ! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصلاح طلب امور کی اصلاح میں کوئی کمی رہ گئی تھی؟ جس کے لئے چشمِ بددوران کو میدان میں کودنا پڑا؟ اگر نہیں تو کیا یہ قرآن و سنت سے بغاوت اور ان کی توھین وتنقیص کے مترادف نہیں؟
۲:… ان کے ہاں چار شادیوں پر قدغن ہونی چاہئے کیونکہ یہ حکم الٰہی ”اگرعدل نہ کرسکو“ کے خلاف ہے۔ چنانچہ وہ ارشاد الٰہی:”پس نکاح کرو دو دو، تین تین اور چار چاراور اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی نکاح کرو“ کی صریح نص اور ”عدل کرسکو“ کے معنی و مفہوم میں تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”قرآن مجید میں چار تک شادیاں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی تعداد کو محدود کرنا اور پھر اس طرح مزید محدود یہ کہہ کر قرآن مجید میں کردیا گیا کہ عدل کرو۔ میرے خیال میں سب سے پہلے عدل شرط ہے، عدل یہ نہیں کہ آپ بیویوں کو نان نفقہ دے دیں۔“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
موصوف قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت اور ”عدل نہ کرسکو“ کا جو مفہوم بیان فرمارہے ہیں، اگر ان کو ناگوار خاطر نہ ہو تو کیا ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ معنی کس آیت، حدیث میں آیا ہے؟یا، صحابہ کرام، ائمہ ہدیٰ ، ائمہ تفسیراور محقق علماء میں سے کس نے بیان کیا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا یہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام، ائمہ ہدیٰ اور چودہ صدیوں کے اکابر علماء کی تحقیق سے بغاوت اور ان کو جاہل و لاعلم کہنے کے مترادف نہیں؟ اگر بالفرض اس کا یہی معنی و مفہوم تھا تو کیا اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاف طور پر یہ نہیں فرماسکتے تھے کہ ایک سے زیادہ نکاح نہ کیا کرو؟ بتلایا جائے کہ اس مختصر سی تعبیر کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ نے اتنی طویل تعبیر کیوں اختیار کی؟ اس کے علاوہ موصوف نے تعدد ازواج کی ضرورت کو ایک معاشرتی ضرورت کہتے ہوئے اس کے لئے جو مثال دی ہے، ہمارے خیال میں کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ،بلکہ صحیح معنی میں ایک باغیرت مسلمان کو اس کے تصور سے بھی قے آئے گی، مگر موصوف چونکہ ا نگریزی معاشرت کے دلدادہ ہیں ،اس لئے انہوں نے بلاتکلف وہ سب کچھ کہہ دیا، جس کی کسی باغیرت انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی ، چنانچہ پڑھئے اور سر دھنیئے:
”…میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ اگر معاشرتی اور معاشی طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا لازمی طور پر ہے تو ٹھیک ہے آپ اس کو اجازت دے دیجئے !صرف معاشرے پر آپ بات نہیں کررہے، اگر لوگ یہ ضرورت سمجھیں کہ ایک عورت دو مردوں سے تین مردوں سے چار مردوں سے تعلقات رکھے تو آپ اس کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے، کیوں؟ کیونکہ آپ معاشرے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کررہے ہیں، آپ فیصلہ دیتے ہیں رواج، اقدار اور اسلامی روایات کے اوپر،تو اسلامی روایات پر اگر آپ کمپرومائز کررہے ہیں کہ آپ عدل کے بغیر بھی اجازت دے رہے ہیں تو پھر اس کا مطلب ہے واضح طور پر قرآن و سنت کی رہنمائی میں نہیں، بلکہ جو اپنی معاشرتی اقدار ہیں،ا ن کی راہ نمائی میں کررہے ہیں، میرا خیال ہے معاشرتی اقدار اور قرآن و سنت دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے․․․․“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
کیا ہم ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھنے کی گستاخی کرسکتے ہیں کہ ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت معاشرہ نے دی ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ایک قرآنی حکم کے مقابلہ میں نہایت بے حیائی، بے شرمی اور بے غیرتی پر مشتمل ایک لچر، واہیات اور خود ساختہ مغربی معاشرتی ضرورت پیش کرکے ایک حکم الٰہی کی تضحیک کرنا کسی مسلمان کو زیب دیتا ہے؟ کیا کوئی مسلمان اس کا تصور کرسکتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا کہا جائے کہ موصوف دانش گاہ افرنگ سے اس قدر مرعوب ہیں کہ ان کی ہمنوائی میں وہ قرآن و سنت کے صریح احکام کی مخالفت سے بھی نہیں ہچکچاتے۔
۳:… ڈاکٹر فضل الرحمن کے مرتب کردہ اور صدر ایوب خان کے نافذ کردہ عائلی قوانین میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرا نکاح کرنا چاہے تو پہلے اپنی بیوی سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دے دے تو فبہا ،ورنہ اگر اس نے بلا اجازت دوسرا نکاح کیا تو اسے عائلی قوانین کی رو سے جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ ظاہر ہے یہ حکم قرآن و سنت کی صریح نصوص صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے اکابر کی تحقیقات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
لیکن موصوف ڈاکٹر خالد مسعود اس کے جواز میں نعوذباللہ قرآن کریم پر اپنی تحریف کا تیشہ چلاتے ہوئے کہتے ہیں:
”قرآن کریم میں بڑا واضح ہے کہ جہاں بھی حکم ہے، اگر تم یہ سمجھو تو دو، تین، چار شادیاں کرو، لیکن یہ یقین کرلو کہ تم عدل کروگے، تو عائلی قوانین بنانے والوں نے سوچا کہ عدل کی ایک صورت یہ تھی کہ جو آپ کی پہلی بیوی ہے اگر وہ اجازت دے دے تو ٹھیک ہے، تو یہ اجازت اس عدل کو کہا گیا، جس کا قرآن مجید میں تقاضا ہے۔“
(سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء) موصوف ڈاکٹر صاحب سے کوئی پوچھے کہ اس آیت کا جو مفہوم عائلی قوانین کے مرتبین نے اخذ کیا ہے، کیا ان کے علاوہ کسی اور سے بھی منقول ہے؟ کیا یہ بزرچ مہر حضور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین سے بھی زیادہ عقل و فہم رکھتے ہیں؟ کیونکہ انہوں نے تو دوسری شادی کو اس ”عدل“ سے کہیں نہیں جوڑا ، پھر اس کے علاوہ ان کو اس بات پر بھی سوچنا چاہئے کہ چلئے ایک شخص نے اس ”عدل“․․․․․اجازت․․․․․․ کا تقاضا پورا کرتے ہوئے پہلی بیوی سے اجازت لے لی اور دوسرا نکاح کرلیا، لیکن بایں ہمہ اگر وہ ”عادل“ انسان پھر بھی پہلی بیوی کو نان نفقہ نہیں دیتا، اس کو اس کی باری سے محروم کرتا ہے یا اس پر ظلم و ستم کرتا ہے یا اس سے بے اعتنائی برتتا ہے تو پھر عائلی قوانین اس مظلومہ کی کیا مدد کریں گے؟ اور وہ اس ”عادل“کے خلاف کچھ کر بھی کیوں سکیں گے، کیونکہ وہ تو ”عدل“ کے قانونی تقاضے پورے کرچکا ہے، بتلایا جائے کہ: اس پر ”عدل“ کی خلاف ورزی کا جرم کیونکر لاگو ہوگا؟ اس سے معلوم ہوا کہ عائلی قوانین ”عدل و انصاف“ کے تقاضے پورے نہیں کرتے، بلکہ عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی مسلمان مرد کو اس کے شرعی اور اسلامی حق سے نہ روکا جائے، ہاں البتہ اس کی اس طرح ذہن سازی کی جائے کہ اگر اس نے ایک سے زیادہ نکاح کئے اور اپنی بیویوں کے برابر حقوق ادا نہ کئے تو قیامت کے دن اس کا گریبان ہوگا اور اس کی مظلوم بیویوں کا ہاتھ ہوگا، صرف یہی نہیں بلکہ قیامت کے دن ایسا شخص مفلوج کرکے اٹھایا جائے گا۔
بتلایا جائے کہ ایک مسلمان اس وعیدسننے پر عد ل و انصاف کرے گا یا محض بیوی کی اجازت دینے پر؟
۴:… خالد مسعود صاحب حالیہ بینکنگ کے یہودی سودی نظام کے بھی حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ قرآن کریم نے جس سود کی ممانعت کی ہے وہ یہودیوں کا سسٹم تھا، اب وہ نہیں ہے تو یہ موجودہ بینکینگ کا سود بالکل جائز ہے، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:
”میری ذاتی رائے یہ ہے کہ حالیہ میں بینکنگ کا نظام ہے جو خالد اسحق صاحب کی رائے تھی، اس میں کسی قسم کا ظلم نہیں ہے اور بینکرز جو ہیں اور بینکنگ سسٹم ہے، اس میں پرانے زمانے والا یہودیوں کا گروہ نہیں ہے، بلکہ ایک سسٹم ہے جس میں یہ لوگ بیٹھ کر حساب لگاتے ہیں کہ اس سود کی شرح کیا ہوگی اور اس میں کتنا اضافہ کرنا چاہئے اور کیا کرنا ہے؟ اس میں یہ لوگ اپنے معاملات بھی دیکھتے ہیں اور سٹیٹ کے معاملات بھی دیکھتے ہیں، کیونکہ اس میں استحصال نہیں ہے، اس لئے جائز ہے اور جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب یہودی زیادہ کاروبار کرتے تھے، اس میں یہ تھا کہ وہ جب قرض دیتے تھے اور اس کے بعد جب وہ واپس آتا تھا، سال کی بات ہوتی تھی یا چھ ماہ کی، تو اس سے کہا جاتا تھا کہ: تم اس وقت پورا قرض ادا کرتے ہو، یا اس میں اضافہ کردوں؟ تو وہ کہتا تھا کہ ٹھیک ہے( سو کے) ایک سو پچاس میں تمہیں دوں گا، لیکن ابھی نہیں دے سکتا، تو اسی طرح وہ دوگنا اور تگنا کرتے رہتے تھے، وہ نظام اب رائج نہیں ہے۔“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
جناب خالد مسعود اگر کسی احمقوں کی جنت میں نہیں رہتے تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کیا موجودہ سودی بینکاری میں سود کی شرح شروع سے ہی متعین نہیں ہوتی؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو اس اعتبار سے موجودہ سودی نظام یہودیوں کے سودی سسٹم سے بھی بدرجہا بدترقرارپاتا ہے، کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے بقول یہودی تو ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں سود میں اضافہ کرتے تھے، جبکہ موجودہ نظام میں شروع دن سے ہی سود لگادیا جاتا ہے، پھر اس کے علاوہ کیا موجودہ سودی سسٹم میں، سود پر سود نہیں لگایا جاتا؟ مثلاً اگر ایک آدمی نے ایک لاکھ روپے بینک سے قرض لیا ہے اور اس کی سالانہ شرح سود دس فیصد ہے تو سال بعد اس کے ذمہ ایک لاکھ دس ہزار ہوگا اور آئندہ سال اس پر ڈبل کرکے سود نہیں لگایا جاتا؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بتلایا جائے کہ یہودی سودی نظام اور موجودہ سودی بینکاری نظام میں کیا فرق ہے؟ اگر ان دونوں نظاموں میں کوئی فرق نہیں ،تو یہودی سودی نظام ناجائز اور موجودہ بینکاری سودی نظام کیونکر جائز ہوگا؟ کیا سود کے جواز اور عدم جواز میں سود خور کے دین و مذہب کو بھی کوئی دخل ہے؟ کہ اگر سود لینے والا یہودی ہو تو سود ناجائز اور اگر سود لینے والا مسلمان ہو تو جائز ہوگا؟ اگر ان کی یہ انوکھی منطق مان لی جائے تو بتلایا جائے کہ یہ اصول تمام جرائم اور گناہوں پر بھی لاگو ہوگا؟ یعنی اگر کوئی غیر مسلم یہودی یا عیسائی زنا، چوری، ڈکیتی کرے تو اس کا حکم دوسرا اور اگر وہی کام کوئی نام نہاد مسلمان کرے تو اس کا حکم جدا ہوگا؟
۵:… ڈاکٹر خالد مسعود صاحب، جہاد کے بارہ میں بھی ظاہر ہے وہی نظریہ رکھتے ہیں جو ان کے اساتذہ نے انہیں پڑھایا ہے، چنانچہ وہ مسلمانوں کی جانب سے انگریزوں کے خلاف کئے گئے کسی جہاد سے متفق نہیں ہیں۔ حتی کہ وہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کو بھی پرائیویٹ جہاد کا نام دے کر اس پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہیں، اسی طرح تحریک شہیدین یعنی مجاہدین بالا کوٹ کی قربانیوں پر پانی پھیرتے ہوئے اسے بھی جہادقرار نہیں دیتے ،بلکہ شہدأ بالا کوٹ کی شہادت کو بھی خالص مغربی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے اسے سکھوں کے خلاف جنگ کے بجائے مسلمانوں کی باہمی آویزش یا غیرت کے نام پر قتل کا عنوان دیتے ہیں، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
”…جو کچھ ۱۸۵۷ء میں ہوا بالکل اسی طرح آج بھی ہورہا ہے، اس وقت بھی جو جہاد ہے مالاکنڈ، وزیرستان وغیرہ میں ہوا تھا،اب بھی وہی حالات ہیں، ایک فقہی سوال ہے اور ایک ہے تاریخی سوال، فقہی سوال تو یہ ہے کہ اس وقت بھی جہاد نہیں تھا، کیونکہ کسی کا فتویٰ نہیں تھا، سید احمد بریلوی کا جو جہاد ہے، وہ بھی جہاد نہیں تھا، وہ جہاد سکھوں کے خلاف نہیں تھا، پٹھانوں نے بھی ان کو مارا، پٹھان سکھوں سے نہیں ملے تھے، انہوں نے پٹھانوں کی عورتوں سے شادیاں کیں ،تو پٹھانوں کے لئے یہ مسئلہ بن گیا، اصل میں پرائیویٹ جہاد کی یہی خرابی ہوتی ہے․․․․․․“ (سنڈے میگزین کراچی ۲۸/اکتوبر ۲۰۰۷ء)
ایسا لگتا ہے کہ موصوف اپنے آقاؤں کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات سننا گوارہ نہیں فرماتے، یہی وجہ ہے کہ انگریز بہادر کے مظالم کے خلاف جب بھی کسی نے آواز اٹھائی یا جس نے بھی کسی قسم کی کوئی تحریک بپا کی وہ ان کے نزدیک بغاوت ہے اور بغاوت کی سزا قتل ہے۔ ظاہر ہے ڈاکٹر خالد مسعود صاحب پاکستان کے مسلم معاشرہ میں مرزا غلام احمدقادیانی کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ انگریز کے خلاف جہاد حرام ہے، اس لئے انہوں نے اس کو پرائیویٹ جہاد کا نام دے کر اس کے خلاف اپنی دلی بھڑاس نکالی ہے۔ دراصل موصوف ۱۸۵۷ء کی انگریزوں کے خلاف مسلمانو ں کی تحریک، مسلمانوں کے جہاد ، جنگ آزادی اور سکھوں کے خلاف حضرت اقدس سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کے جہاد ، ان کی جاں سپاری اور …پوری جماعت کی شہادت و قربانی سے ناراض ہیں،اس لئے وہ اس کو پرائیویٹ جہاد کا نام دے کران مخلصین کو باغیوں کی صف میں لاکھڑا کر ناچاہتے ہیں اور ان کی شہادت کوبغاوت کی سزا کا نام دے کران کے قتل عام کوسند جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر جہاد کے لئے حکومت وقت کی اجازت شرط ہے تو بتلایا جائے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مقابلہ میں جہاد کے وقت کس سے اجازت لی تھی؟ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ بلکہ تمام کافر اقوام کے خلاف اپنے ۲۷ سے زیادہ غزوات میں کس کافرومشرک حکومت سے اجازت لی تھی؟اگر انگریزوں کے خلاف۱۸۵۷ء،کا جہاداورسکھوں کے خلاف شہدائے بالاکوٹ کی تحریک پرائیویٹ جہاد تھاتو کیاحضرات انبیأکرام کاکافراقوام اور حکومتوں کے خلاف جہاد کیونکر پرائیویٹ جہادنہیں تھا؟ اگر جواب اثبات میں ہے اوریقیناََاثبات میں ہے تو بتلایا جائے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے جہاد پر کیا حکم لگایا جائے گا؟ چلئے اگر جہاد کے لئے حکومت وقت کی اجازت شرط ہے تو بتلایا جائے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہو یا تحریک شہیدین اس میں مسلمان کس سے اجازت لیتے؟ کیا وہ انگریزوں اور سکھوں سے اجازت لیتے کہ حضور! ہم آپ کے خلاف جنگ اور جہاد کرنا چاہتے ہیں ،کیا ہمیں اس کی اجازت ہے؟ تف ہے اس عقل و دانش پراور حیف ہے اس فکر و سوچ پر۔ اس کے علاوہ ان کا یہ ”فرمان والا شان“ کہ شہدائے بالا کوٹ کی شہادت بھی سکھوں کے مقابلہ میں نہیں ہوئی تھی بلکہ ان کو پٹھانوں نے قتل کیا تھا، اس لئے کہ تحریک شہیدین کے اکابر نے․․․․․ نعوذباللہ․․․․ پٹھانوں کی عورتوں سے نکاح کئے تھے اور پٹھانوں کو اس پر غیرت آئی اور انہوں نے ان کو قتل کردیا تھا، کیا․․․․موصوف کایہ․․․․”فرمان“ ان اکابر کے خلاف کھلا بہتان نہیں؟ کیاموصوف اس بہتان کاکوئی حوالہ پیش کرسکتے ہیں؟کیاآج تک کسی مسلمان موٴرخ نے بھی ایسا لکھاہے؟ا گر جواب نفی میں ہے اور یقیناََ نفی میں ہے تو بتلایا جائے کہ موصوف کے ملحد اساتذہ اور مستشرق اکابر کے علاوہ کس مورخ نے یہ بات لکھی ہے؟ بلاشبہ یہ سب کچھ مغرب کے اس سبق کانتیجہ اوراثر ہے جو موصوف نے کینیڈا، امریکا اور برطانیہ کی درس گاہوں میں بیٹھ کر پڑھاتھا اور اب خیرسے اس کو دہرا رہے ہیں۔ کیا ان کی یہ ہرزہ سرائی حضرات شہدأ بالا کوٹ کی قربانیوں پر پانی پھیرنے اور ان کی شخصیتوں کو داغ دار کرنے کے مترادف نہیں؟کیا یہ دین دار پٹھانوں پربھی بدترین تہمت نہیں؟ کہ ان کو ایک اسلامی لشکر کے قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے؟ الغرض موصوف نام کے مسلمان ہیں، ورنہ ان کے دل و دماغ اور قلب و جگر میں اسلام، اسلامی قوانین، قرآن و سنت اور امت مسلمہ کے خلاف بغض و عداوت اور بغاوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ موصوف اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھ کر کیا کیا کارنامے انجام دے رہے ہیں اور ان کی سازشوں کا دائرہ کس قدر پھیلتا جارہا ہے اور ان کی علمی تحقیقی حیثیت کا کیا مقام ہے؟ اس کے لئے ایک واقف حال کا درد بھرا خط پڑھیئے اور سر دھنیئے:
”جناب مولاناسعید احمد․․․․․السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
روزنامہ اسلام میں آپ کا مضمون ”کیا اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں؟“پڑھ کر دل خوش ہوا، دل مطمئن ہوا اور دل سے آپ کے لئے سے دعا نکلی ،اللہ تعالیٰ آپ برکت دے ،اللہ تعالیٰ آپ کو استقامت دے ۔ یہ مضمون پڑھ کراحساس ہوا کہ ابھی اللہ کے بندے موجود ہیں جوجاگ رہے ہیں ،اللہ نے انہیں بصیرت بھی دی ہے اور قوّت گویائی بھی۔ اکبر کے فیضی اور ابوالفضل کے بیانات، تاویلات اور سفارشات اتنی ضرر رساں نہ تھیں کہ انہیں آئینی تحفظ حاصل نہ تھا، تب علماء حق موجود تھے جو اکبر کی موجودگی میں حق بات کہہ دیتے، اکبر خود بھی جانتا تھا کہ فیضی اور ابوالفضل خوشامدی ہیں۔ مگر آپ نے اپنے مضمون میں جس شخص کو آج کا فیضی یا ابوالفضل قرر دیا ہے، اس کے بیانات، تاویلات، سفارشات کو آئینی حیثیت حاصل ہے۔ عوام کو بھی یہ یقین ہے کہ اس آئینی ادارہ سے جو بیان آئے گا وہی اسلام کی درست اور مستند تعبیر ہے، پھر علماء کرام کے اجماعی سکوت نے عوام کے اس یقین کو مزید تقویت بخشی، اگر یہ لوگ جاگ رہے ہوتے یا ان میں بصیرت ہوتی تو اس منصب پر اس شخص کی تقرری کے فوراً بعد ہی اسے بھگایا جاسکتا تھا، مگر ایسا نہ ہوسکا، چار سال کا عرصہ گزر گیا اور اس دوران اس نے بہت کچھ کرلیا، جو شاید آپ کے علم میں نہ ہو۔ مثال کے طور پر یہ کہ اس آئینی ادارہ میں ہر دس پندرہ دن کے بعد کوئی سیمینار /فنگشن ہوتا ہے ․․․․․․آئین کی رو سے اس کی گنجائش نہیں ․․․․․․․ اور بہت ہرزہ سرائی کی جاتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جب کونسل نے سفارش دی تھی کہ ضبط شدہ شراب بیچ کر اقلیتوں کی بہبود پر خرچ کی جائے تو ہمارے علماء کرام پر سکوت مرگ طاری رہا، مگر جے سالک نے اس پر احتجاج کیا اور اس سفارش کی سخت مذمت کی۔ اسی طرح شیطان رشدی کو ”سر“ کا خطاب ملنے سے چند روز پہلے اس کونسل نے سفارش دی کہ موت کی سزا صرف قتل عمد پر ہے یا فساد فی الارض پر۔ کسی عالم دین نے اس پر گرفت نہیں کی، البتہ برطانیہ کے خلاف احتجاج کرتے رہے کہ اس نے رشدی کو سر کا خطاب کیوں دیا؟ اللہ کا شکر ہے کہ اس ادارہ کے سربراہ کے ایک خاص بیان کا آپ نے نوٹس لیا ہے، یہ بیان اخبارات میں آئے ہوئے کئی دن گزرچکے ہیں، کتنے ہی دینی مجلات شائع ہوتے ہیں مگر سب کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔
ام علی قلوب اقفالہا۔
مولانا محترم! یہ شخص محض ابوالفضل یا فیضی نہیں، دجال ہے۔ اس نے شاطبی پر پی ایچ ڈی کیا ہے، کسی واقف حال نے کہیں کہہ دیا کہ یہ مکار شاطبی کو پڑھ ہی نہیں سکتا۔ کسی نے یہ بات اس تک پہنچادی، اب اس نے کونسل کے بجٹ سے عربی پڑھانے کے لئے ایک عراقی کو رکھ لیا ہے۔ یہ اندھی اور بہری قوم خاموش ہے۔ اگر اندر جھانکیں تو اس قوم کا پیسہ نہایت بے دردی کے ساتھ ضائع کیا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی زبان میں ،آپ کے علم میں، آپ کی قلم میں برکت دے۔مجھے امید ہے کہ آپ نے استقامت دکھائی تو دجال بھاگ جائے گا۔ والسلام
اخوکم فی الاسلام معرفت انچارچ ادارتی صفحہ روزنامہ اسلام ،ناظم آباد:۴کراچی“
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , ربیع الاول ۱۴۲۹ھ اپریل ۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ