راہبروں کے روپ میں راہزن
راہبروں کے روپ میں راہزن

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی سے اطلاع پاکر قیامت تک پیش آنے والے حالات و واقعات کی امت کو اطلاع دے دی ہے اورانہیں ممکنہ خطرات و اندیشوں سے آگاہ فرمادیا ہے۔ اسی طرح قرب قیامت میں جو جو فتنے ظہور پذیر ہوں گے یا جن جن طریقوں سے امت کو گمراہ کیا جاسکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیشگی اطلاع دے کر امت کو ان سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ چنانچہ اہل علم اور علماء جانتے ہیں کہ احادیث کی تمام متداول کتب میں حضرات محدثین نے ”ابواب الفتن“ یا ”کتاب الفتن“کا عنوان قائم کرکے ایسی تمام احادیث اور روایات کو یکجا کردیا ہے۔
یوں تو قرب قیامت میں بہت سے فتنے اٹھیں گے، مگر ان میں جو سب سے بڑا فتنہ ،دجال کا فتنہ ہوگا۔ جو انسانیت کو اپنی شعبدہ بازیوں سے گمراہ کرے گا۔
دجال اکبر تو ایک ہوگا، جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر مقام ”لُدّ“ میں قتل کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو امت کو گمراہ کرنے میں دجال اکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔
اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان کُش راہ زنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے، کیونکہ قرب قیامت میں شیاطین انسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس کامیابی سے اپنی تحریک کو اٹھائیں گے کہ کسی کو ان کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ گزرے گا۔
چنانچہ علامہ علأ الدین علی متقی  نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کنزالعمال میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان انسان نما شیاطین کے دجل و اضلال ،فتنہ پروری کی سازشوں اوردجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ:
”انظروا من تجالسون وعمن تأخذون دینکم، فان الشیاطین یتصّورون فی آخر الزمان فی صور الرجال، فیقولون:حدثنا، واخبرنا۔ واذا جلستم الی رجل فاسئلوہ عن اسمہ و اسم ابیہ وعشیرتہ، فتفقدّونہ اذا غاب۔“ (تاریخ مستدرک حاکم، مسند فردوس دیلمی، کنزالعمال، ص:۲۱۴،ج:۱۰)
ترجمہ: ۔”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ․․․ تم لوگ یہ دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اور کن لوگوں سے دین حاصل کررہے ہو؟ کیونکہ آخری زمانہ میں شیاطین انسانوں کی شکل اختیار کرکے ․․․انسانوں کو گمراہ کرنے․․․ آئیں گے․․․ اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچا باور کرانے کے لئے من گھڑت سندیں بیان کرکے محدثین کی طرز پر․․․کہیں گے حدثنا واخبرنا․․․․مجھے فلاں نے بیان کیا، مجھے فلاں نے خبر دی وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا جب تم کسی آدمی کے پاس دین سیکھنے کے لئے بیٹھا کرو، تو اس سے اس کا، اس کے باپ کا اور اس کے قبیلہ کا نام پوچھ لیا کرو، اس لئے کہ جب وہ غائب ہوجائے گا تو تم اس کو تلاش کروگے۔“
قطع نظر اس روایت کی سندکے، اس کا نفس مضمون صحیح ہے۔بہرحال اس روایت میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً:
۱:… مسلمانوں کو ہر ایرے غیرے اور مجہول انسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اس کی تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے؟کیسا ہے؟ کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اس کے اساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اس نے علم حاصل کیا ہے؟ اس کا علم خودرو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اور مستشرق اساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟
۲:… اس شخص کے اعمال و اخلاق کیسے ہیں؟ اس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ خاندانی پس منظر کیا ہے؟ نیز یہ شعبدہ باز یا دین کے نام پر دنیا کمانے والا تو نہیں؟
۳:… اس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں نقل کرنے اور ”اخبرنا“ و” حدثنا“ کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالم ربانی نہیں کہلاسکتا، اس لئے کہ بعض اوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کافر و ملحد بھی اس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مقرر و مدرس ،واعظ یا ”وسیع معلومات“ رکھنے والے ”اسکالر“وڈاکٹر کی بات پر کان دھریں بلکہ اس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور ان کے علم و تحقیق کا حدود اربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ منکر حدیث، منکر دین،منکر صحابہ،منکر معجزات، مدعی نبوت یا ان کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟ چنانچہ ہمارے دور میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی یا عام اجتماعات میں ایسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے جو اپنی چرب زبانی اور ”وسعت معلومات“ اور تُک بندی کی بنا پر مجمع کو مسحور کرلیتے ہیں،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے عقیدت مند ہوجاتے ہیں، ان کے بیانات، دروس اور لیکچر زکا اہتمام کرتے ہیں، ان کی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنا بناکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں، جب ان بے دینوں کا حلقہ بڑھ جاتا ہے اور ان کی شہرت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے تو وہ کھل کر اپنے کفر وضلال اور باطل و گمراہ کن نظریات کا پرچار شروع کردیتے ہیں، تب عقدہ کھلتا ہے کہ یہ تو بے دین، ملحد، بلکہ زندیق اور دھریہ تھا اور ہم نے اس کے باطل و گمراہ کن عقائد و نظریات کی اشاعت و ترویج میں اس کا ساتھ دیا اور جتنا لوگ اس کے دام تزویر میں پھنس کر گمراہ ہوئے ہیں، افسوس ! کہ ان کے گمراہ کرنے میں ہمارا مال و دولت اور محنت و مساعی استعمال ہوئی ہے۔ اس روایت میں یہی بتلایا گیا ہے کہ بعد کے پچھتاوے سے پہلے اس کی تحقیق کرلی جائے کہ ہم جس سے علم اور دین سیکھ رہے ہیں یہ انسان ہے یاشیطان؟مسلمان ہے یاملحد؟موٴمن ہے یامرتد؟ تاکہ خود بھی اور دوسرے بھی ایسے شیاطین کی گمراہی سے بچ سکیں۔
حال ہی کی بات ہے کہ متعدد احباب نے پوچھا کہ زید حامد نام کا ایک اسکالر آج کل ٹی وی پر آرہا ہے، جس کی براس ٹیکس www.brasstacks.pk کے نام سے ایک ویب سائٹ ہے، جس میں اس کا مکمل تعارف اور اس کی تصویر موجود ہے، اسی ویب سائٹ میں بتلایا گیا ہے کہ یہ شخص جہاد …میں بھی شریک رہا ہے ،پھر چونکہ آج کل وہ کھل کر امریکا اور یہودیوں کے خلاف بولتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس جھوٹی سچی معلومات اور نہایت ہی چرب لسان بھی ہے، لہٰذا لوگ دھڑا دھڑ اس کے گرویدہ ہورہے ہیں۔ بتلایا جائے کہ یہ شخص کون ہے اور اس کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟ اس پر جب ہم نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ شخص ملعون یوسف کذاب ...جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھایا اور اس کو گرفتار کراکے حوالہ زندان کیا تھا اور جیل ہی کے اندر ایک عاشق ِ رسول نے اس کا کام تمام کیا تھا... کا خلیفہ اول ہے اور اس کا اصل نام زید زمان ہے۔ چنانچہ روزنامہ خبریں لاہور کی خبر ملاحظہ ہو:
”ملتان (اسٹاف رپورٹر) نبوت کے جھوٹے دعویدار کذاب یوسف جو توہین رسالت کے الزام میں گزشتہ ۸ ماہ سے جیل میں بند ہے، نے اپنی غیر موجودگی میں برنکس کمپنی اسلام آباد کے منیجر زید زمان کو خلیفہ اول مقرر کردیا ہے اور تمام چیلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زید زمان کے احکامات کے مطابق کام کریں۔ زید زمان کو اس سے قبل ۲۸ /فروری کو کذاب یوسف کی نام نہاد ورلڈ اسمبلی آف مسلم یونٹی کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی طور پر بلایا گیا تھا اور تقریباً ۱۰۰ افراد کی موجودگی میں کذاب یوسف نے اسے (اپنا) صحابی قرار دیتے ہوئے (نعوذباللہ) حضرت ابوبکر صدیق  کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے زید زمان کو حقیقت عطا کردی ہے۔ اس پروگرام کی ویڈیو اور آڈیو کیسٹ بھی تیار ہوئی، جو پولیس کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور مقدمہ کا حصہ ہے۔ اس اجلاس میں صحابی قرار پانے کے بعد زید زمان نے تقریر کی اور کذاب یوسف کی تعریف اور عظمت میں ز مین و آسمان کے قلابے ملادیئے تھے۔ زید زمان ان دنوں کذاب یوسف کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا ہے۔ کذاب یوسف کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اڈیالہ جیل میں اس نے عبادات ترک کردی ہیں اور آج کل خط و کتابت کے ذریعے روٹھے مریدوں کو منانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔“ (روزنامہ خبریں، لاہور، ۸/نومبر ۱۹۹۷ء)
چنانچہ جب عام لوگوں کے ذہن سے وہ قضیہ اوجھل ہوچکا اور لو گ یوسف کذاب اوراس کے چیلے زید زمان کی دینی اور مذہبی حیثیت سے تقریباََ ناآشنا ہوچکے تھے، تو اس ملعون نے زید حامد کے نام سے اپنے آپ کو متعارف کرانے اور منوانے کا ناپاک منصوبہ شروع کردیا، اس لئے اس روایت کی رو سے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس ملعون کا تعاقب کریں اور اس کے دام تزویر میں نہ آئیں ،تاکہ امت مسلمہ کا دین و ایمان محفوظ رہ سکے۔
اس کے علاوہ مسلمانوں کو اس بات کابھی بطورِ خاص اہتمام کرنا چاہئے کہ مستند علما اور اکابر اہلِ حق کے علاوہ کسی عام آدمی کو درس و تدریس کی مسند پر نہ بیٹھنے دیں اور نہ ہی اس کے حلقہ درس میں بیٹھیں، کیونکہ حجة الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ:
”وانما حق العوام ان یومنوا ویسلموا ویشتغلوا بعبادتہم ومعایشہم ویترکوا العلم للعلماء، فالعامی لو یزنی ویسرق کان خیراً لہ من ان یتکلم فی العلم، فانہ من تکلم فی اللّٰہ وفی دینہ من غیر اتقان العلم وقع فی الکفر من حیث لایدری کمن یرکب لجة البحر وہو لایعرف السباحة۔“
ترجمہ: ”یعنی عوام کا فرض ہے کہ ایمان اور اسلام لاکر اپنی عبادتوں اور روزگار میں مشغول رہیں ،علم کی باتوں میں مداخلت نہ کریں۔ اس کو علماء کے حوالے کردیں۔عامی شخص کا علمی سلسلہ میں حجت کرنا زنا اور چوری سے بھی زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے، کیونکہ جو شخص دینی علوم میں بصیرت اور پختگی نہیں ر کھتا وہ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے مسائل میں بحث کرتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ ایسی رائے قائم کرے جو کفر ہو اور اس کو اس کا احساس بھی نہ ہو کہ جو اس نے سمجھا ہے وہ کفر ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تیرنا نہ جانتا ہو اور سمندر میں کود پڑے۔“ (احیاء العلوم، ص:۳۶، ج:۳)
لہذاغیرمستند حضرات دین ومذہب میں دخل نہ دیں اور نہ ہی درس قرآن کی مسندوں پر بیٹھنے کی کوشش کریں،آج کل یہ فتنہ قریب قریب عام ہورہا ہے کہ ہرجاہل وعامی محض اردو کتب اورتراجم کی مدد سے درس قرآن دینے لگاہے، جبکہ یہ بہت ہی خطرناک ہے۔
کیونکہ اس سے دینی، مذہبی اور علمی اعتبار سے نوجوان نسل بہت ہی اضطراب کاشکارہورہی ہے، کیونکہ وہ دین و مذہب کے بارہ میں علمأ سے کچھ سنتے ہیں تو جدید اسکالروں سے کچھ اور،لہٰذا وہ اس کشمش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟
اس لئے ضروری ہے کہ اربابِ علم وعمل جگہ جگہ ایسے مستند مدرسین، واعظین اور مقررین کاانتظام کریں جو ہر اعتبار سے لائق اعتماد ہوں، تاکہ نئی نسل کی ذہن سازی ہو،اوروہ ان جہالت کے علَم برداروں کی گمراہی سے محفوط رہ سکیں۔
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , محرم الحرام ۱۴۳۰ھ - جنوری ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ