غزہ میں محصور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی درندگی اور سفاکی
غزہ میں محصور فلسطینیوں کے خلاف
اسرائیلی درندگی اور سفاکی
الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی!
۲۷/ دسمبر ۲۰۰۸ء سے شروع ہونے والی اسرائیلی بربریت و دہشت گردی اور غزہ میں محصور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی بدترین جارحیت ۲۳ دنوں بعد ۱۸/جنوری ۲۰۰۹ء کو بغیر کسی ہارجیت کے فیصلہ کے موقوف ہوگئی ہے، چنانچہ اخبارات میں ہے:
”مقبوضہ بیت المقدس/اقوام متحدہ/ پیرس (امت نیوز/ ایجنسیاں) اسرائیلی کابینہ نے غزہ پر قبضہ برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے، تاہم کہا ہے کہ فوج مزید کچھ عرصہ موجود رہے گی، جبکہ حماس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے صہیونی فوج کے انخلاء تک مزاحمت جاری رکھی جائے گی، دوسری جانب غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول پر حملے میں مزید ۶ فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ جھڑپ میں ۲ صہیونی فوجی بھی مارے گئے، غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جنگ بندی کے اسرائیلی منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ سے ایک بھی راکٹ حملہ ہوا تو دوبارہ بمباری شروع کردی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ٹیلی ویژن پر براہ راست خطاب میں کہا کہ جنگ کے مقاصد حاصل کرلئے گئے ہیں اور حماس کا بہت نقصان ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود فوج مزید کچھ عرصہ فلسطینی علاقوں میں موجود رہے گی۔ ادھر اقوام متحدہ نے اپنے ایک اسکول پر بمباری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ یہ حملہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ جمعہ کی شب اسرائیلی فوج نے پچاس فضائی حملے کئے، غزہ شہر کے جنوب میں ہفتے کی صبح سے قبل بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں بیت اللہیہ میں واقع ایک اسکول پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ۲ بچوں سمیت ۶ فلسطینی شہید ہوگئے، اس اسکول میں سینکڑوں افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ دریں اثنا حماس کا کہنا ہے کہ اگر اس کی شرائط کو نہیں مانا گیا تو فائر بندی کے کسی معاہدے کی پابندی نہیں ہوگی، حماس کے ترجمان اسامہ ابو ہمدان نے فرانسیسی ادارے کو بتایا کہ جب تک غزہ میں اسرائیلی فوج موجود رہے گی اس وقت تک مزاحمت اور لڑائی جاری رہے گی۔“ (روزنامہ امت کراچی ۱۸/ جنوری ۲۰۰۹ء)
اس بدترین اسرائیلی جارحیت کے کیا عوامل تھے؟ یہ جنگ کیوں اور کس کے ایما پر برپا کی گئی؟ اس کے اہداف و مقاصد کیا تھے؟ اور یہ کہ فلسطینیوں کا کیا جرم تھا جس کی انہیں اتنی بڑی سزا دی گئی ہے؟ اسرائیلی صدر، وزیر اعظم، اس کی کابینہ اور اس کے سرپرستوں نے تاحال اس کی کوئی وضاحت نہیں کی اور شاید وہ اس راز سے پردہ اٹھانا پسند بھی نہیں کریں گے؟
تاہم اتنا واضح ہے کہ یہ جارحیت یہودیوں کی اسی اسلام دشمنی کا تسلسل ہے، جس سے کوئی باشعور انسان ناواقف نہیں، اسی طرح یہ بھی طے ہے کہ اس ظلم و بربریت اور قتل عام کے پیچھے عالمی استعمار، اسلام دشمن قوتیں اور ملعون امریکا ہے۔کون نہیں جانتا کہ گزشتہ ساٹھ سال سے فلسطینی مسلمان اپنے ملک اور شہر میں رہتے ہوئے بھی بے گھر اور اجنبی ہیں اور یہ بھی کوئی راز نہیں کہ اسرائیلی اور یہودی درندے جب چاہتے ہیں مسلمانوں پر یلغار کردیتے ہیں اور سینکڑوں معصوموں کو خاک و خون میں تڑپا دیتے ہیں اور ان کی ہستی بستی آبادیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیتے ہیں۔
ان ساٹھ سالوں میں مسلمان ،کس قدر اسرائیلی جارحیت اور ظلم و تشدد کا شکار رہے؟ اس کا صحیح معنی میں اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،تاہم اخبارات،رسائل،جرائد،ٹی وی رپورٹوں اور آزاد ذرائع سے جو کچھ منظر عام پر آیا ہے،اس سے ان کی داستانِ مظلومیت کاکسی قدر پتہ چلتا ہے۔ گزشتہ ساٹھ سالہ اسرائیلی مظالم سے قطع نظر حالیہ ۲۳ روزہ جنگ میں فلسطین پر کیا قیامت گزری؟اور فلسطینی مسلمانوں پر کس قدر مظالم ڈھائے گئے؟ایک جھلک ملاحظہ ہو:
چنانچہ اخباری اطلاعات اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کی حالیہ جارحیت اور بربریت کے ۲۳ دنوں میں شیرخوار و معصوم بچوں اور خواتین سمیت تقریباً ۱۳۰۰ مظلوم فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ہے، اس کے علاوہ ۲۰ ہزار سے زائد رہائشی مکانات اور عمارتیں تباہ ہوکر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہیں، مساجد، اسکول، ہسپتال اور دوسری رفاہی عمارتیں اس کے علاوہ ہیں، اسی طرح وہ مکانات اور عمارتیں بھی اس میں شامل نہیں، جو جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
ایسے ہی اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ: اس بمباری سے فلسطین کا اقتصادی اور معاشی طورپر کتنا نقصان ہوا؟ یا کس قدر غذائی اجناس،اموال، بازار، دکانیں ،تجارت اور تجارتی مراکز تباہ ہوئے؟اور غریب فلسطینی معاشی اور اقتصادی طور پر کس قدر مزید پیچھے چلے گئے، اور یہ کہ اس جنگ کے نتیجے میں کتنا لوگ ہمیشہ کے لئے معذور و اپاہج ہوگئے؟ یا آنے والی نسلوں پر اس کے کتناخطرناک اور مہلک اثرات مرتب ہوں گے؟ کیونکہ اس سلسلہ میں میڈیا اور بین الاقوامی ادارے خاموش ہیں۔ ا س بار غزہ پر اسرائیلی جارحیت کاسب سے تکلیف دہ پہلویہ تھا کہ ان ۲۳ دنوں میں جب تک اسرائیلی درندوں نے اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا نہیں کرلیا، اس وقت تک ملعون امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جھوٹے منہ اور حرف غلط کی طرح اسرائیلی جارحیت اور ظلم و تشدد کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔اسی طرح وہ تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مہر بہ لب رہیں، جن کی گز گز کی زبانیں دہشت گردی کے خاتمہ کے نام سے ہروقت مسلمانوں کے خلاف باہر رہتی ہیں ۔ایسے ہی نام نہاد مسلم ممالک اور مسلمانوں کے حقوق کی علم بردار تنظیموں نے بھی اس موقع پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا، چنانچہ اس پورے عرصہ میں عرب لیگ یا او-آئی-سی نے کسی قسم کا کوئی موثر کردار ادا نہیں کیا۔
بایں ہمہ آفرین ہے فلسطینی مسلمانوں کو، جنہوں نے اسرائیلی درندگی اور جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور اسباب و وسائل کی قلت کے باوجود میدان جنگ میں ڈٹے رہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ فلسطینی مسلمانوں اور مجاہدین نے اپنے اسی عزم، ہمت، جرأت اور بہادری سے اسرائیلی جنگی جنون اور اس کے آمرانہ غرور کو پیوند خاک کرکے اُسے کھلی شکست سے دوچار کردیا ہے۔کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس دعویٰ اور تعلّی آمیزدھمکی کے باوجود کہ:”اگر فلسطین کی جانب سے راکٹ حملے ہوئے تو اسرائیلی کارروائی جاری رہے گی۔“ اسرائیل کااز خود جنگ بندی کا اعلان کرنا،اس کی ننگی شکست اور واضح پسپائی کی دلیل ہے۔ دوسر ی جانب اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود فلسطینی مسلمانوں اور حماس کے اس عزم کا اظہار کہ: ”صرف جنگ بندی کا اعلان کافی نہیں، بلکہ اسرائیل کو مسلمانوں کے علاقوں سے اپنی فوج نکالنا ہوگی اور تمام بارڈر کھولنے ہوں گے، بلکہ ہم اپنی سرزمین پر ایک یہودی بھی برداشت نہیں کریں گے، اور جب تک اسرائیلی فوج، فلسطینی علاقے خالی نہیں کرے گی، اس وقت تک راکٹ حملے جاری رہیں گے۔“بلاشبہ فلسطینی مسلمانوں کی ہمت، جرأت اور واضح برتری کی علامت ہے۔
الغرض فلسطینی مسلمانوں کی ہمت و جرأت اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب اسرائیلی غرور خاک میں مل گیا اور اس نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا، تو دوسری طرف فلسطینی مسلمانوں نے بھی فائر بندی کا اعلان کردیا۔ خدا کرے کہ یہ جنگ بندی دیرپا ثابت ہو اور فلسطینی مسلمانوں کی طرح دوسرے مسلم ممالک کو بھی یہودی استعمار اور عیسائی قوتوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت و جرأت کی توفیق ہو۔
اس وقت جیسا کہ اخباری اطلاعات ہیں ،اسرائیل نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے، مگر تاحال یہودیوں کے جنونی مذہبی راہنماؤں کی آتشِ انتقام ٹھنڈی نہیں ہوئی، اور وہ نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت موقوف ہو، چنانچہ انہوں نے یہ ہرزہ سرائی کی ہے کہ:
”مکہ مکرمہ (مبشر لون استادانوالہ سے) اسرائیل کے جنونی مذہبی پیشواؤں نے اپنے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں خواتین اور بچوں پر بھی رحم نہ کھائیں، شیر خوار بچوں، مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور مویشیوں تک کو صفحہٴ ہستی سے مٹادیں۔ عربی جریدہ ”الحیات“ کے مطابق اسرائیل کے اوّل درجے کے مذہبی پیشوا مرد (خائی ایسا ہو) نے وزیر اعظم کے نام خط میں اولمرٹ کو ترغیب دی ہے کہ وہ توریت کی آیات کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا کا سلسلہ جاری رکھیں۔ یہودی مذہبی جنونی پیشواؤں کے فتوؤں کے بموجب اسرائیلی حکام کے لئے توریت کے احکام اور رب کی طرف سے فلسطینی عورتوں اور شیر خوار بچوں کا خون بہانا جائز ہے۔ مرد خائی ایساہو کا خط کتابچے کی شکل میں یہودی عبادت خانوں میں ہر جمعہ کو تقسیم کیا جارہا ہے۔“ (روزنامہ نوائے وقت کراچی ۱۹/جنوری ۲۰۰۹ء)
اس موقع پر متعدد علمأکرام اور ختم نبوت کے ذمہ داروں نے اسرائیل کے جنونی مذہبی پیشواؤں کے نام نہاد فتویٰ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہودیوں کے پیشواؤں کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے ،جو یہودیوں کو دہشت گردی کا درس دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہودیوں کے فتویٰ کاتوریت میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے،بلکہ یہ بالکل من گھڑت ، باطل اور محض یہودی مذہبی جنونی پیشواؤں کی اختراع ہے، علمأکرام نے کہا کہ اس پرپوری مسلم امہ اقوام متحدہ سے احتجاج کرے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی دہشت گردی کی بے رحمانہ کارروائیوں کو مستقل بنیادوں پر روکنے میں اپنا موٴثر کردار ادا کرے اور اسرائیل کے ان مذہبی جنونی پیشواؤں کو نکیل ڈالے، جن کے خطرناک فتوے سامنے آچکے ہیں، ان مسلم علمأکرام اورراہنماؤں نے مزید کہا کہ یہودیوں کے یہ جنونی مذہبی پیشوا نہ صرف دہشت گرد ہیں،بلکہ دہشت گردی کو پروان چڑھانے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں،اس لئے ان کو لگام دینے کے لئے ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جائیں۔
نیرنگئی دوراں دیکھئے! کہ جنگ،جہاد اور موت سے ڈرنے والے یہودی اس قدر نڈر ہوگئے کہ آگے بڑھ کر مسلمانوں پر حملہ آور ہورہے ہیں، دوسری جانب وہ مسلمان، جن کا طرئہ امتیاز ہی ہمت ، جرأت اور شجاعت وبہادری تھا اور جنگ و جہاد ان کا پسندیدہ مشغلہ اور شہادت ان کا مقصود حیات تھا،وہ اس قدر پست ہمت و بزدل ہوگئے کہ جہاد میں پیش قدمی تو کجا، اسلام دشمنوں کے سرپر چڑھ آنے کے باوجود بھی ان کے مقابلہ پر آنے سے گھبراتے ہیں، بلکہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی بجائے ان کی کاسہ لیسی پر مجبور نظر آتے ہیں۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ بلاشبہ ایسے نام نہاد اوربزدل مسلمانوں کے لئے فلسطینی مسلمانوں کا یہ جرأت مندانہ طرز عمل لائق اقتدا ہے، بہر حال دنیا بھر کے مسلمانوں کو فلسطینیوں کی اس ہمت و جرأت اور جوش و جذبہ سے سبق لینا چاہئے ۔
قسم بخدا !اگر مسلمان اپنی تاریخ کو دھراتے ہوئے تھوڑی سی ہمت کرلیں تو نہ صرف یہود و نصاریٰ دم دباکر اپنی بلوں میں گھس جائیں گے بلکہ فتح و کامرانی اور عزت و عظمت ان کے قدم چومے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم یہاں یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ جو لوگ مسلمانوں کو دہشت گرد اور تشدد پسند کہتے ہیں، ان کو مسلمانوں کودہشت گرد کہنے سے قبل یہودیوں کے جنونی مذہبی راہنماؤں کے اس غلیظ بیان کو بھی ایک بار پڑھ لینا چاہئے، جو اسرائیل کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ مسلمانوں پر کسی صورت بھی رحم نہ کیا جائے اور ان کے معصوم بچوں اور عورتوں،حتی کہ جانوروں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے میں کسی طرح کا تأمل نہیں کرنا چاہئے۔
بتلایا جائے کہ کیا کوئی انسان اس طرح کا سفاک بھی ہوسکتا ہے؟ جو معصوم بچوں ، بوڑھوں اور خواتین، حتی کہ جانوروں کی جان بخشی کا روادار نہ ہو؟ اگر جواب نفی میں ہے اور یقینا نفی میں ہے تو بتلایا جائے کہ دہشت گرد مسلمان ہیں؟ یاسفاک یہودی؟؟
اگر یہودی دہشت گرد ہیں اور یقینا دہشت گرد ہیں تو ان کی بجائے مسلمانوں کو کیوں اور کس بنا پر دہشت گرد کہا جاتا ہے؟ پھراگر” مسلمان دہشت گرد وں“ کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے، تو یہودی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ ہے کوئی انصاف پسند!جو اس حقیقت کا اعتراف کرے؟اور ان درندوں کواس درندگی اور ان کے سر پرستوں کو جانبداری سے باز رکھ سکے؟
واللّٰہ یقول الحق وہو یہدی السبیل۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , صفرالمظفر ۱۴۳۰ھ - فروری ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ