قادیانی دجل و فریب!
قادیانی دجل و فریب!

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
گزشتہ دنوں ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کی ڈاک میں قادیانیوں سے قطع تعلق اور بائیکاٹ سے متعلق، راقم الحروف کے ایک جواب کے سلسلہ میں جناب انعام الحق کراچی، کا ایک تفصیلی مکتوب موصول ہوا، جس میں موصوف نے لکھا کہ:” جب میں نے قادیانیوں سے بائیکاٹ سے متعلق آپ کا جواب اپنے قادیانی دوستوں کو دکھایا تو انہوں نے اس کے برعکس جو کچھ دکھایا، اُسے دیکھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا، اس لئے کہ آپ نے تو مرزا غلام احمد قادیانی کو گستاخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن لکھا تھا ،جبکہ قادیانیوں نے مرزا صاحب کی وہ تحریریں دکھائیں، جن سے گویا ان کا عاشقِ رسول ہونا ثابت ہوتا ہے۔“ پیش نظر تحریر اسی خط کا جواب ہے۔ جسے اصل خط سمیت افادئہ عام کے لئے بصائر وعبر کی جگہ شائع کیا جاتا ہے:
”بخدمت جناب مولانا سعید احمد جلال پوری صاحب سلام دعا کے بعد عرض ہے کہ :آج کے اس معاشرے میں ہر شخص کے بعض لوگوں سے دوستانہ تعلقات ہوتے ہیں، اور یہ اخلاق اور طبیعت کی بنا پر ہوتے ہیں نہ کہ مسلک یا گروہ کی وجہ سے، آپ لاکھ کوشش کرلیں، لوگ نہیں ہٹیں گے، دوسری بات کہ آج ایک بچہ بھی کسی بات کی دلیل یا ثبوت چاہتا ہے۔
میں جنگ کا پرانا قاری ہوں ،خصوصاً جمعة المبارک اقراء صفحہ کا، آئے دن اس میں آپ قادیانیت کے خلاف تو اظہار کرتے ہی تھے، مگر جمعة المبارک ۹/مئی ۲۰۰۸ء کو ایک خاتون کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ: قادیانی نہ صرف کافر و زندیق ہیں، یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن اور گستاخ ہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی.... نے حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین کی ہے۔
آپ کے اس بیان سے جب قادیانی دوست کو جواب دینے کا کہا تو سر شرم سے جھک گیا اور معلوم ہوگیا کہ جس طرح کافر ،تعصب و مخالفت میں اندھے ہوکر ہمارے پیارے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزامات لگاتے ہیں، اسی طرح آپ مولوی حضرات کررہے ہیں، کیونکہ قادیانی نے اپنے مرزا صاحب کی تحریرات دکھائیں، جن میں لکھا تھا کہ:
”سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
مصطفی پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت
ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام

لیک از خدائے برتر خیرالوریٰ یہی ہے
نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے
اس سے یہ نور لیا بارِ خدایا ہم نے
دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے“
(درثمین)
#… پھر مرزا صاحب کی کتاب آئینہ کمالات اسلام ص:۱۶۰، میں ہے کہ:
” وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم...قمر...آفتاب...زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا، وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا، صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں، جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سیّد و مولیٰ سیّد الانبیاء سیّد الاخیار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
دوسری بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کی اس کتاب کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ اسلام کے کمالات کا آئینہ۔
#… پھر مرزا صاحب کی ایک اور کتاب اتمام الحجة ، ص:۳۶ میں ہے:
”ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہوگیا، وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدا دنیا سے تونے کسی پر نہ بھیجا ہو۔“ مولوی صاحب! اب غور کرلیں کہ ختم المرسلین ماننے کا بھی ثبوت ہے اور کمال درود و سلام کا بھی۔
#… مرزا صاحب کی ایک اور تصنیف سراج منیر ،ص:۸۲ میں ہے کہ:
”ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہٴ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جواں مرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں، یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مرسلوں کا سرتاج، جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی۔“
#… مرزا صاحب کی کتاب حقیقة الوحی ص:۱۱۵ میں ہے:
”پس میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے، اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا، وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی، وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا، اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی، اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا، اس کو تمام انبیاء علیہم السلام اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی.... ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے۔“
#… چشمہ معرفت ص:۲۸۸ میں ہے:
”محمد عربی بادشاہ دوسرا،
کرے ہے روح جس کے در کی دربانی
اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پر کہتا ہوں،
کہ اس کے مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی“
#… اتمام الحجة ص:۳۶ میں ہے کہ:
” اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس، ایوب  اور مسیح بن مریم، ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی۔ اگرچہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے، یہ اس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔ اللّٰہم صل وسلم و بارک علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔“
#… جہاں تک حضرت مسیح ابن مریم کی توہین کا الزام ہے تو یہ بھی قادیانیوں کو ہی سچا ثابت کرتا ہے کہ اگر مرزا صاحب انگریزوں کے خود کاشتہ تھے تو ان کے خدا کی توہین کیونکر کرسکتے تھے؟ جب کہ مرزا صاحب حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی سچا اور برحق نبی مانتے تھے۔
#… اپنی تصنیف تحفہ قیصریہ ،روحانی خزائن ج:۱۲،ص:۲۷۲ پر ہے:
”مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں۔“
#… کتاب البریہ روحانی خزائن ج:۱۳، ص:۱۵۳ میں ہے:
”ہم لوگ ...حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک صادق اور راست باز اور ہر ایک ایسی عزت کا مستحق سمجھتے ہیں جو سچے نبی کو دینی چاہئے۔“
#… قادیانیوں کے بہت سارے حوالوں میں سے میں نے چند عرض کئے ہیں۔ اب آپ پر لازم ہے کہ اپنی بات کہ مرزا صاحب نے تمام نبیوں کی توہین کی ہے۔ ثابت کریں۔ اگر ایسا نہ کیا تو کس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا؟ منجانب: انعام الحق، کراچی“ ۱۴/۵/۲۰۰۸ء
ج: میرے عزیز! اللہ تعالیٰ آپ کی غلط فہمیوں کو دور فرمائے اور آپ کو قادیانی مکرو عیاری سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین، آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے مختصراً دو چار باتیں عرض کرنا چاہوں گا، اگر آپ نے خالی الذہن ہوکر ان کو پڑھا اور غوروفکر کیا تو انشاء اللہ آپ کی شرمندگی دور ہوکر آپ کی تشفی ہوجائے گی، ملاحظہ ہوں:
۱:… آپ کی یہ بات حقائق کے خلاف ہے کہ آدمی کسی سے دوستی محض اخلاق و محبت کی بنا پر لگاتا ہے، یہ بات کسی غیر مسلم اور لامذہب کی حد تک تو شاید درست ہو، کیونکہ ان کے ہاں دین، مذہب، قبر، آخرت اور جنت و جہنم کی کوئی اہمیت نہیں ہے، جہاں تک مسلمانوں اور دین داروں کا تعلق ہے، وہ اپنے ہر قول، فعل اور عمل میں دین، مذہب، قبر، آخرت، جنت اور جہنم کے نفع نقصان کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
۲:… آپ نے لکھا ہے کہ میں نے ایک خاتون کے جواب میں قادیانیوں کو ”کافر، زندیق اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن و گستاخ“ لکھا ہے، پھر جب آپ نے قادیانی دوستوں کو اس کاجواب دینے کے لئے کہا تو انہوں نے گویا مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب کے حوالہ سے ثابت کیا کہ مرزا صاحب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخ اور بے ادب نہیں تھے، بلکہ وہ تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق تھے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی راست باز اور اولوالعزم نبی جانتے اور مانتے تھے۔
میرے عزیز! قادیانیوں نے آپ کو مرزا غلام احمد قادیانی کی تصویر کا ایک رخ دکھایا ہے اور انہوں نے آپ کو مرزا غلام احمد قادیانی کی وہ عبارتیں دکھائیں ، جو اس کے دعویٰ نبوت، مسیحیت سے پہلے کی تھیں یا اس کی متضاد تحریروں میں سے ان مضامین پر مشتمل تھیں، جن میں اس نے بظاہر شرافت کا مظاہرہ کیا ہے۔
میرے عزیز! جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کے ”رخ زیبا“ کے دو پہلو تھے، ایک آنکھ ٹھیک تھی تو دوسری بھینگی۔ ٹھیک اسی طرح اس کی تحریرات اور کتب کے چہرہ کے بھی دو رخ تھے، ایک خوشنما تو دوسرا بھیانک اور ڈراؤنا۔ اس لئے آپ کے مرزائی دوستوں نے آپ کو مرزا جی کی تحریروں کا نام نہاد خوشنما منظر اور شریفانہ پہلو دکھایا اور آپ اس سے متاثر ہوکر شرمندہ ہوگئے۔
میرے عزیز! یہ مرزائیوں کا پرانا حربہ ہے کہ وہ جب کسی بھولے بھالے مسلمان کو گھیرتے ہیں، تو پہلے پہل اُسے مرزا غلام احمد قادیانی کے بھیانک عقائد و نظریات اور باعث نفرت تحریریں نہیں د کھاتے، ہاں جب کوئی انسان مکمل طور پر ان کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ،تب وہ اس کو مرزا جی کی اصل تصویر دکھاتے ہیں، چونکہ اس وقت تک وہ اپنی متاعِ دین و ایمان غارت کرچکا ہوتا ہے اور اپنی کشتیاں جلا کر قادیانی جہنم میں کود چکا ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنے اندر قادیانی نوازشات سے منہ موڑنے کی ہمت و جرأت نہیں پاتا۔
یہ دوسری بات ہے کہ کچھ خوش قسمت، بعض اوقات حقیقت ِ حال واضح ہوجانے کے بعد، قادیانیت پر دو حرف بھیج کر دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آتے ہیں، چنانچہ قادیانیوں کے دجل وفریب اور ایک سلیم الفطرت انسان کی قادیانیت سے تائب ہونے کی داستان اور تفصیلات ملاحظہ ہوں:
”خاکسار کا نام محمد مالک ہے‘ عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم ہوں‘ میری جرمن بیوی ہے‘ جس سے چار بچے ہیں‘ پھولوں کی دو دکانیں ہیں‘ یہاں ذاتی مکان ہے‘ شکر الحمدللہ کہ اچھی گزر بسر ہورہی ہے۔
میرے احمدی دوست بلکہ اب قادیانی کہنا مناسب ہوگا‘ کافی تھے‘ ان ہی سے امام مہدی کا ذکر سُنا اور قادیانی ہوگیا‘ مجھے بتایا گیا کہ یہ وہی امام مہدی ہے‘ جس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ یہ ۲۶/دسمبر ۱۹۹۸ء کا واقعہ ہے۔ مجھ پر گھر والوں‘ دوستوں اور رشتہ داروں کا بہت دباؤ پڑا مگر میں ثابت قدم رہا‘ میں نے سو مساجد اسکیم کے تحت (قادیانیوں کو) بیس ہزار مارک دینے کا وعدہ بھی کیا‘ جس میں سے تقریباً سولہ ہزار کی ادائیگی کردی‘ ماہانہ چندہ مع فیملی کے تقریباً چار سو مارک دیتا رہا‘ تقریباً ایک سال میں مجلس انصار اللہ جماعت پُل ہائم کا زعیم بھی رہا۔ چند ماہ قبل ایک قادیانی دوست نے ہی مجھے بتایا کہ: ” ہم مرزا غلام احمد کو صرف امام مہدی ہی نہیں بلکہ نبی اور رسول بھی مانتے ہیں اور ایک جگہ مرزا صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ: میں نے کشف میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ میرے جسم میں داخل ہوگیا اور مجھ میں تحلیل ہوگیا اور میں نے محسوس کیا کہ اب میں ہی خدا ہوں اور اس کے بعد ساری دنیا میں نے بنائی، وغیرہ وغیرہ۔“
میں نے اسی وقت جماعت سے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھے دھوکہ میں رکھا گیا ہے‘ مجھے بتایا گیا کہ ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ سب کچھ ثابت کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ محترم مربی جلال شمس صاحب تشریف لائیں او رمیں مسلمان علماء سے رابطہ کرتا ہوں‘ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں‘ جو بھی سچا ہوگا ‘میں مان لوں گا۔“ (پیکر اخلاص، ص:۹۰،۹۱)
اس کے ساتھ ساتھ مولانا منظور احمد الحسینی کے مناظرہ کولون، جرمنی، کی تفصیلی روئیداد میں ہے کہ محمد مالک نے مناظرہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے مجلس مناظرہ کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ:
” آج سے دو سال پہلے میں قادیانی ہوا تھا‘ اور مجھے قادیانیوں نے بتلایا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے‘ مگر کچھ دنوں پہلے مجھے یہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے نبی‘ رسول اور خدا ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے‘ لہٰذا میں نے یہ مجلس اسی لئے منعقد کرائی ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے‘ میں مسلمانوں کے نمائندے مولانا منظور احمد الحسینی سے درخواست کروں گا کہ وہ قادیانی کتب کے حوالے سے بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے یہ دعاوی کئے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ مولانا منظور احمد الحسینی نے تمام حاضرین کے سامنے بالتفصیل قادیانی کتب سے یہ ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۰۰ سے زائد دعاوی کئے ہیں‘ جن میں سے اس کا ایک دعویٰ نبوت و رسالت کا ہے‘ دوسرا دعویٰ اس نے یہ کیا کہ نعوذباللہ وہ خود محمد رسول اللہ بن گیا ہے اور تیسرا دعویٰ اس نے خدا ہونے کا کیا ہے اور انہوں نے ان دعاوی کو مرزا قادیانی کی کتابوں ”روحانی خزائن“ سے‘ جو ساری ان کے پاس اس وقت موجود تھیں‘ ثابت کیا۔ علم و دلائل کی روشنی میں قادیانی مربی اور ان کے رفقاء لاجواب و مبہوت ہوگئے۔ چنانچہ ان تمام حوالہ جات کو سن کر محمد مالک دوبارہ کھڑے ہوئے اور مرزائیوں کو مخاطب کرکے کہا کہ: ” مجھے تم نے دو سال تک دھوکہ دیئے رکھا‘ آج تمہاری کتابوں سے ثابت کردیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مذکورہ بالا یہ تمام دعاوی کئے تھے‘ آج مجھ پر یہ حقیقت حال واضح ہوگئی ہے‘ لہٰذا میں سب حاضرین کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ آج سے میرا قادیانی مذہب سے ہر طرح کا تعلق ختم ہے‘ یہ جھوٹا مذہب تمہیں مبارک ہو‘ اور میں توبہ کرکے اسلام میں داخل ہوتا ہوں ۔“ (پیکر اخلاص، ص:۸۴،۸۵)
میرے عزیز! یہ قادیانیوں کی پرانی اور غلیظ روش رہی ہے کہ وہ سیدھے سادے مسلمانوں کو دھوکا سے گمراہ کرتے ہیں، اس لئے وہ شروع شروع میں انہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقی تصویر نہیں دکھاتے۔
لہٰذا مناسب ہوگا کہ آپ کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے آپ کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کی، حضرات انبیاء کرام  کی توہین و تنقیص پر مبنی غلیظ تحریریں پیش کردی جائیں، تاکہ آپ کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نکھر کر سامنے آجائے۔
میرے عزیز! آپ کو قادیانیوں نے بتلایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ نہیں بلکہ مداح تھا اور انہوں نے آپ کو مرزا کی وہ عبارتیں دکھائیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ چشم بددور! مرزا قادیانی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق تھا۔
میرے عزیز! یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ مرزا جی ماں کے پیٹ سے کافر، مرتد، زندیق اور دجال پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ بعد میں انگریزوں کی تحریک اور ان کے ایماء پر گستاخ و مرتد بنا تھا، اس لئے اس کی شروع کی کتابوں اور تحریروں میں وہ کچھ نہیں تھا، جو اس نے بعد میں اُگلا، لہٰذا جب وہ دائرہ اسلام سے نکل کر مرتد ہوگیا، تو اس نے اپنی کتابوں میں کیسی کیسی گستاخیاں کیں؟ ان میں سے چند ایک ملاحظہ ہوں:
۱:… چنانچہ جب غلام احمد قادیانی مرتد و زندیق ہوگیا اور اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل و برتر جاننے لگا تو اس نے لکھا:
”آسمان سے کئی تخت اترے، مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(مرزا کا الہام، مندرجہ تذکرہ، ص:۱۴۳، طبع دوم)
بتلایئے! اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہیں؟ کیا اپنے تخت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت سے اونچا قرار دینا ،اپنی برتری و افضلیت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص کی دلیل نہیں؟
۲:… مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو نعوذباللہ! محمد رسول اللہ کہتا اور باور کراتا تھا،اس لئے اس نے لکھا:
”محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم“ ...اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی...“
(ایک غلطی کا ازالہ، ص:۳، مندرجہ روحانی خزائن، ص:۲۰۷، ج:۱۸ مطبوعہ ربوہ)
آپ ہی بتلایئے! کیا اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق ٹھہرانا، اللہ کی ذات پر بہتان و افترا، قرآن کریم کی تحریف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی نہیں؟
۳:… مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بعینہ محمد رسول اللہ! کہتا اور سمجھتا تھا، آخر کیوں؟ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اس نے خود لکھا کہ چونکہ حضرت خاتم النبییّن محمد رسول اللہ کا دوبارہ دنیا میں آنا مقدر تھا، پہلی بار آپ مکہ مکرمہ میں محمد رسول اللہ کی شکل میں آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں، اس لئے نعوذباللہ! وہ خود محمد رسول اللہ ہے، مرزا کی گستاخی ملاحظہ ہو:
”اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیح میں) ایسا ہی مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے۔“ (روحانی خزائن، ص:۲۷۰، ج:۱۶)
آپ ہی ارشاد فرمائیں کہ اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل، بروز اور عکس قرار دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات سے اپنے آپ کو متصف باور کرانا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی نہیں؟
۳:… جب مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ ہو کہ اس کا وجود نعوذباللہ! بعینہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرزا کا روپ دھار کر دوبارہ قادیان میں آئے ہیں، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے تمام کمالات و امتیازات بھی مرزا کی طرف منتقل ہوگئے ہیں، چنانچہ ملاحظہ ہو:
”جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا، جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟ “
(ایک غلطی کا ازالہ، ص:۱۸، روحانی خزائن ،ص:۲۱۲، ج:۱۸)
میرے عزیز! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اگر کوئی شخص آپ سے یہ کہے کہ میں آپ کا باپ ہوں، کیونکہ تمہارے والد کے تمام کمالات و صفات مجھ میں ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمہارے والد اور اس کی اولاد کی گستاخی نہ ہوگی؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو آپ ہی بتلایئے: مرزا کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں یہ کہنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کیوں نہ ہوگی؟ گستاخی معاف! کیا اس کا یہ معنی نہ ہوگا کہ آپ کے باپ سے متعلق تمام حقوق و فرائض بھی اب میری طرف منتقل ہوگئے ہیں، لہٰذا آج کے بعد اس کی جائیداد تمام املاک، اور نقد وغیرہ کا بھی میں ہی مالک ہوں، اور تمہاری اماں کا شوہر بھی میں ہی ہوں، آپ ہی بتلائیں کہ آپ ایسے گستاخ و موذی کو اپنے والد سے محبت کرنے والا کہیں گے یا اس کا گستاخ و بے ادب؟ ۴:… مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خاتم النبیین نہیں مانتا، البتہ اس کے برعکس اپنے آپ کو خاتم النبیین ضرور باور کراتا ہے، ملاحظہ ہو:
الف:… ”میں بار بار بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ”وآخرین منہم لما یلحقوابہم“ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ، ص:۱۸، روحانی خزائن، ص:۲۱۲، ج:۱۸)
آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ ایسا کہنے اور لکھنے والا زندیق، مرتد اور گستاخ ہے یا نہیں؟ لیجئے مرزا کی گستاخی کا ایک اور حوالہ پڑھیئے:
ب:… ”مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے ،کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“
۵:… مرزا غلام احمد قادیانی ایک طرف اپنے آپ کو نعوذباللہ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل، بروز اور عکس قرار دیتا ہے اور دوسری طرف وہ اپنے آپ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شان میں بڑھ کر بھی قرار دیتا ہے، کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی نہیں؟ ملاحظہ ہو:
”جس نے اس بات کا انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، بس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اِن دنوں میں بہ نسبت اُن سالوں کے ،اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔“
(خطبہ الہامیہ، ص:۱۸۱، روحانی خزائن ص:۲۷۱، ج:۱۶)
کیا خیال ہے جو مردود و ملعون یہ ہرزہ سرائی کرے کہ میری بعثت کی روحانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی روحانیت سے اقویٰ، اکمل اور اشد ہے یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے، وہ ملحد و بے دین ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ کہلائے گا؟ یا آپ کا عاشق صادق اور مداح؟
۶:… مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک چہیتے مریدقاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا کی شان میں منقبت کہی اور اس نے مرزا کو وہ منقبت سنائی تو مرزا نے نہ صرف یہ کہ اس کی تردید نہ کی، بلکہ اس کے جواب میں جزاکم اللہ کہہ کر اس خوشخط قطعہ کواپنے ساتھ اندرلے گئے۔
(الفضل قادیان،ج:۳۳نمبر:۱۹۶ص:۴،۲۲ اگست۱۹۴۴ء)
لیجئے! ظہور الدین اکمل کی نظم کے چند اشعار سن کر فیصلہ کیجئے! کہ قادیانیوں کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بڑھ کر ہے؟ یا ملعون مرزا کی؟
”امام اپنا عزیزو اس جہاں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد ہوا دارالاماں میں
مکان اس کا ہے گویا لامکاں میں
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
اور آگے سے ہے بڑھ کر اپنی شان میں
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں“
(اخبار بدر قادیان، ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء بحوالہ قادیانی مذہب، ص:۳۳۶)
۷:… اسی طرح قادیانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکے کی بعثت کو ہلال یعنی پہلی کا چاند اور مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت کو چودھویں کا چاند تصور کرتے ہیں، ظاہر ہے ہلال یعنی پہلی کا چاند نامکمل، باریک اور بے نور ہوتا ہے اور چودھویں کا چاند مکمل اور چمکتا ہوا ہوتا ہے، لیجئے مرزا قادیانی کی گستاخی ملاحظہ ہو:
”اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر (چودھویں کا چاند) ہوجائے، خدا تعالیٰ کے حکم سے، پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے، جو شمار کی رو سے بدر کی طرح مشابہ ہو، (یعنی چودھویں صدی)۔“
(خطبہ الہامیہ، ص:۱۸۴، روحانی خزائن، ص:۲۷۵، ج:۱۶)
۸:… مرزا غلام احمد قادیانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا مقام بڑھاتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان گھٹاتے ہوئے لکھتا ہے کہ نعوذباللہ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا زمانہ روحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور چشم بددور! قادیانی ظہور کا زمانہ روحانی ترقیات کی آخری معراج تھا، چنانچہ ملاحظہ ہو:
”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح تجلی فرمائی۔“
(خطبہ الہامیہ ص:۱۷۷، روحانی خزائن، ص:۲۶۶، ج:۱۶)
۹:… اسی طرح مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ نعوذباللہ! غلام احمد قادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھا، ملاحظہ ہو:
”حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا...اور یہ جزوی فضیلت ہے، جو حضرت مسیح موعود کو (غلام احمد قادیانی) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حاصل ہے، نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا۔“
(ریویو مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب، ص:۲۶۶، طبع نہم لاہور)
بتلایا جائے کہ مرزا کے ذہنی ارتقاء کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہنی ارتقاء سے برتر قرار دینا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمدن کو ناقص قرار دینا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قابلیت کی نفی کرنا اور مرزا کی استعداد و قابلیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد و قابلیت سے بڑھ کر قرار دینا گستاخی نہیں؟
۱۰:… مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اور ذریت کا عقیدہ ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا ہے اور آپ پر ایمان لاتا ہے، جب تک وہ غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے، گویا حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنا اور آپ پر ایمان لانا باعث ِ نجات نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانا باعث ِ نجات ہے، بتلایا جائے کہ جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہوں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی اور گستاخ نہیں؟ ملاحظہ ہو:
الف:… ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ “
(کلمة الفصل، ص:۱۱۰، بشیر احمد ایم اے)
ب:… ”کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت، ص:۳۵ از مرزا محمود احمد قادیانی)
ج:… ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں، یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔“
(انوارِ خلافت، ص:۹۰، ازمرزا محمود احمد قادیانی)
میرے عزیز! دیکھئے قادیانی کس قدر گستاخ ہیں کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین و شریعت کو باعث نجات نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا نجاتِ آخرت کا ذریعہ نہیں ہے۔ بتلایئے! یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا اظہار ہے یا توہین و تنقیص کا؟ ارشاد فرمایئے کہ یہ آپ اکی شان میں گستاخی ہے یا مدح سرائی؟
۱۱:… قادیانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کو نہ صرف باعث نجات نہیں سمجھتے بلکہ نعوذباللہ! وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین و شریعت کو منسوخ اور ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں، لیجئے ملاحظہ کیجئے:
الف:… ”ان کو کہہ! کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تاخدا بھی تم سے محبت کرے۔“
(مرزا قادیانی کا الہام: حقیقت الوحی، ص:۸۲، روحانی خزائن ص:۸۵، ج:۲۲)
ب:… ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے، اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فُلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا...اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات ٹھہرایا ، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“ (اربعین نمبر۴، ص:۱۷ روحانی خزائن:۴۳۵، ج:۱۷)
۱۲:…صرف یہی نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاں جس اسلام میں مرزا غلام احمد نہ ہوں وہ مردہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:
”غالباً ۱۹۰۶ء میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تحریک سے اخبارِ وطن کے ایڈیٹر کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب نے ایک سمجھوتا کیا کہ ریویو آف ریلیجنز میں سلسلہ کے متعلق کوئی مضمون نہ ہو، صرف عام اسلامی مضامین ہوں اور وطن کے ایڈیٹر رسالہ ریویو کی امداد کا پروپیگنڈا اپنے اخبار میں کریں گے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس تجویز کو ناپسند فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت کی گئی، حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دنیا کے سامنے پیش کروگے؟ “
(ذکرِ حبیب مولفہ مفتی محمد صادق قادیانی، ص:۱۴۶، طبع اوّل قادیان)
۱۳:… میرے عزیز! مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیوں کی زنبیل میں ایک آدھ نہیں ہزاروں زہرسے بجھے ہوئے تیر ہیں، چنانچہ وہ اپنی نبوت کے بغیر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو محض قصے، کہانیوں کا مجموعہ، لعنتی، شیطانی اور قابل نفرت قرار دیتا ہے، لیجئے پڑھیئے:
”وہ دین، دین نہیں اور وہ نبی، نبی نہیں ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ (یعنی نبوت، ناقل) سے مشرف ہوسکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعت محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، ناقل) انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں، بلکہ پیچھے رہ گئی ہے... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم، ص:۱۳۸، ۱۳۹، روحانی خزائن ص:۳۰۶، ج:۲۱)
۱۴:… اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ قادیانی جہاں محمد رسول اللہ یا نبی آخرالزمان کہہ کر اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، اس کا مصداق ان کے ہاں ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوتے، بلکہ ان کے ہاں اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوتا ہے، اس لئے کہ ان کے نزدیک نعوذباللہ ”محمد رسول اللّٰہ والذین معہ“ کا مصداق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے لئے کوئی نیا کلمہ بھی ایجاد نہیں کیا، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:
”ہاں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے آنے سے (کلمہ کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت کے بعد ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذباللہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ شان والا نبی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مفہوم میں داخل ہوگیا، ہاں مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا، اسی وجہ سے مرزا پر ایمان لائے بغیر اس کلمہ کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے،ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی آمد نے ”محمد رسول اللہ“ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے۔“ (کلمة الفصل، ص:۱۵۸، مولفہ بشیر احمد ایم اے قادیانی)
گویا مسلمان تو اس کلمہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیتے ہیں، لیکن قادیانی اس کلمہ میں مذکور ”محمد رسول اللہ“ سے مراد بعثت ثانیہ کا بروزی مظہر مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں۔
۱۵:… مرزا غلام احمد قادیانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی توہین کرتے ہوئے یہاں تک کہتا ہے کہ:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے، حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی تھی۔ “
(مرزا غلام احمد قادیانی کا مکتوب، مندرجہ الفضل قادیان، ۲۲/ فروری ۱۹۲۴)
۱۶:… صرف یہ نہیں کہ قادیانیوں کے ہاں مرزا غلام احمد قادیانی نعوذباللہ !حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھے، بلکہ ان کے ہاں تو ہر شخص ترقی کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ سکتا ہے، لیجئے ملاحظہ کیجئے:
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے، حتی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ “ (نعوذباللہ)
(اخبارالفضل قادیان، ۱۷/جولائی ۱۹۲۲ء)
میرے عزیز! ان مختصر سی تصریحات اور تفصیلات کے بعد میرے خیال میں آپ کی یہ غلط فہمی دور ہوجانی چاہئے کہ: ”مولوی قادیانی مخالفت اور تعصب میں اندھے ہوگئے ہیں“ بلکہ قادیانیوں اور ان کے نام نہاد نبی کے، ایسے کرتوت ہیں کہ ان کو پڑھ ، سن کر تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ قادیانی، نبی امی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے باغی و گستاخ ہیں یا مداح و ثناء خواں؟
آپ کے سوال کا دوسرا جز یہ تھا کہ: ”جہاں تک حضرت مسیح ابن مریم کی توہین کا الزام ہے، تو یہ بھی قادیانیوں کو ہی سچا ثابت کرتا ہے کہ اگر مرزا صاحب انگریزوں کے خود کاشتہ تھے تو ان کے خدا کی توہین کیوں کرسکتے تھے؟ جبکہ مرزا صاحب حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی سچا اور برحق جانتے تھے۔“
میرے عزیز! جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مرزا صاحب انگریز کے خود کاشتہ تھے، یہ ہم نے نہیں لکھا، بلکہ یہ مرزا صاحب کا اپنا اقرار ہے، لہٰذا اس کے لئے ہمیں اپنی طرف سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ خود مرزا جی نے واضح طور پر لکھا ہے کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں، ملاحظہ ہو:
”صرف یہ التماس ہے کہ سرکارِ دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں، اس ”خود کاشتہ پودا“کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھے کہ مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ،ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے، لہٰذا ہمارا حق ہے کہ خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار، دولت مدار کی پوری عنایت اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں، تاکہ ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لئے دلیری نہ کرسکے۔“
(درخواست بحضور نواب لیفٹننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب:خاکسار مرزا غلام احمد،از قادیان، مورخہ ۲۲/ فروری ۱۸۹۸ء، مجموعہ اشتہارات، ج:۳، ص:۲۲)
رہی یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو راست باز سمجھتے تھے اور انہوں نے ان کی توہین نہیں کی، اس کے لئے مرزا جی کی درج ذیل دل آزار اور توہین و تنقیص پر مبنی تحریریں ملاحظہ ہوں:
۱:… ”پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔ “ (ضمیمہ انجام اتھم،روحانی خزائن، ص:۲۸۸،ج:۱۱، حاشیہ ص:۴)
۲:…”ہاں آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔“
(ضمیمہ آنجام اتھم، روحانی خزائن ص:۳۸۹، ج:۱۱حاشیہ ص:۵)
۳:… ”مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں، کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ “
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۵)
۴:… ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۵)
۵:… ”جن جن پیشین گوئیوں کا اپنی ذات کی نسبت تورات میں پایا جانا آپ نے بیان فرمایا ہے، ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۵)
۶:… ”اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چراکر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۶)
۷:… ”آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۶/۱۲)
اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے علاوہ حضرت مریم علیہا السلام پر تہمت بھی لگائی گئی ہے۔ نیز اس میں قرآن مجید کی تکذیب بھی ہے، کیونکہ حقیقی بھائی تو وہی ہوگا جو ماں باپ دونوں میں شریک ہو، لہٰذا یہ نص قرآن کے خلاف ہے اور یہاں عیسیٰ علیہ السلام کے باپ اور مریم علیہما السلام کا خاوند ثابت کیا گیا۔
۸:… ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۶)
۹:… ”ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کو ر وغیرہ کو اچھا کیا ہو، یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔“
(ص:۷، روحانی خزائن، ص:۲۹۱، ج:۱۱)
۱۰:… ”مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا، جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ “ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم،ص:۷)
۱۱:… ”اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اسی تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم ص:۷/۷)
۱۲:… ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۷/۷)
۱۳:… ”آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری (کسبی) کو موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگادے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۷/۱۴)
۱۴:… ”مسیح علیہ السلام کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ پیؤ، نہ زاہد ،نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ، ج:۳، ص:۲۱ تا ۲۴)
۱۵:… ”سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۷/۱۴)
ان عبارات میں جو عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی گئی ہیں، ان کا جواب مرزا صاحب کی طرف سے جو خود مرزا صاحب نے دیا ہے ،یہ ہے:
۱۶:… ”اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم،ص:۹،روحانی خزائن، ص:۲۹۳، ج:۱۱ )
۱۷:… ”اور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا، جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ڈاکو اور بٹما رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا کہ میرے بعد سب جھوٹے نبی آئیں گے۔“ (حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۹/۴)
۱۸:… ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے، چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام اتھم، ص:۹/۶)
اب آپ ہی فیصلہ فرمائیں کہ آپ کے قادیانی دوستوں نے آپ کو مرزا صاحب کی جو تصویر دکھائی ہے، وہ صحیح ہے یا محض دجل و فریب!
میرے عزیز! یہ مختصر سا جواب اس کا متحمل نہیں کہ اس میں مرزا صاحب کی تمام مغلظات کی تفصیلات درج کی جائیں، اگر تفصیلات دیکھنا ہوں تو حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری کی ”مغلظاتِ مرزا“ اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کی تحفہٴ قادیانیت جلد اول اور خصوصاً ”قادیانیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین“ کا مطالعہ فرمالیں۔
تاہم آپ مرزائی دوستوں کو یہ پیشکش کرسکتے ہیں کہ وہ مندرجہ بالا تمام حوالوں کو مرزا صاحب کی اصل کتابوں سے چیک کرسکتے ہیں، اگر ان میں سے کوئی حوالہ غلط ثابت ہو تو وہ پاکستان کی کسی عدالت میں اس کو چیلنج کرکے میرے خلاف ہرجانہ کا دعویٰ کرسکتے ہیں اور عدالت جو جرمانہ طے کرے، میں اس کی ادائیگی کے لئے تیار ہوں۔
مگر میرے عزیز! یہ چیلنج کرتا ہوں کہ قادیانی زہر کا پیالہ پینا تو گوارا کریں گے مگر ان مندرجہ بالا حوالوں میں سے کسی کو چیلنج کرنے کو تیار نہ ہوں گے، اس لئے کہ اندر سے وہ بھی جانتے ہیں اور ان کو بھی یقین ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا ،دجال، کافر، مرتد، زندیق اور بدترین گستاخ تھا، اس نے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء کرام کو بے نقط سنائی ہیں بلکہ اس نے تو اللہ تعالیٰ کی شان میں بھی گستاخی کا ارتکاب کیا ہے، مگر ناس ہو ہوأ و ہوس اور دنیاوی مفادات و تعصب کا، جو انہیں حق پر غوروفکر کی اجازت نہیں دیتے، میرے عزیز جیسا کہ میں نے لکھا کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے حضرات انبیأ کرام کیا، خود ذات باری تعالیٰ کی بھی گستاخی کی ہے۔
ان تفصیلات کے بعد آپ ہی بتلائیں کہ ایسے میں اگر کوئی مسلمان، مرزا قادیانی اور اس کی امت کے غلیظ عقائد و نظریات کی حقیقی تصویر دکھلاتے ہوئے مسلمانوں کو اس کے گمراہ کن عقائد سے بچنے یا ان سے میل جول نہ رکھنے کی تلقین کرے، تو اس نے کون سا جرم کیا ہے کہ اس کو تعصب کا طعنہ دیا جائے؟
بہرحال اب آپ کا فرض ہے کہ اپنے قادیانی دوستوں کو میرا جواب دکھائیں اور ان سے اس کے جواب کا مطالبہ کریں اور امت کو قادیانیوں کے دجل و فریب سے آگاہ کریں،پھر خود بھی ان سے قطع تعلق کریں اور نوجوان نسل کو بھی ان کے اضلال و گمراہی سے بچائیں، تاکہ کل قیامت کے دن آپ کا باغیانِ نبوت کے بجائے ناموس رسالت کے پاسبانوں کے ساتھ حشر ہو اور آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا شرف و اعزاز حاصل ہو۔ وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , ربیع الاول ۱۴۳۰ھ - مارچ ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ