نظامِ عدل ریگولیشن کے مخالفین و محرکین کی خدمت میں !
نظامِ عدل ریگولیشن کے مخالفین و محرکین کی خدمت میں!

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
گزشتہ ایک عرصہ سے سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں حکومت اور مقامی آبادی کی باہم آویزش اور امن و امان کی مخدوش صورت حال کے خاتمہ کے لئے، سرحد حکومت نے مقامی عوام اور علمأ کے دیرینہ مطالبہ نفاذِ شریعت کو تسلیم کرتے ہوئے ۱۶/فروری ۲۰۰۹ء کو ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کے نام سے ”تحریک ِ نفاذ شریعت“ کے ذمہ داروں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، اصولی طور پر اگرچہ سرحد حکومت نے اس کی منظوری دے دی تھی، لیکن قومی اسمبلی اور صدر پاکستان کی جانب سے اس پر دستخط ہونا باقی تھے، ادھر سوات اور مالاکنڈ کے بگڑتے حالات اور حکومت و مقامی طالبان کے مابین عدم اعتماد کی صورت ِحال کے پیش نظر، اس معاہدہ کے ٹوٹنے کے امکانات بڑھ رہے تھے، تاہم مقام شکر ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق: سرحد حکومت اور تحریک ِنفاذ شریعت کے مابین طے ہونے والے معاہدہ! ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کی، قرارداد کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا اور صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے بھی اس پر دستخط کرکے گویا اس کے نفاذ کی منظور دے دی ہے۔ اس پر جہاں دین و مذہب، قرآن و سنت اور ملک و ملت سے اخلاص و محبت رکھنے والے شادکام و مسرور ہیں، وہاں ملکی امن و امان کے بارہ میں فکر مند طبقات، اسے اصلاح احوال کے حوالے سے نیک شگون قرار دے رہے ہیں۔ بلاشبہ اس لائق تعریف اقدام پر سرحد حکومت، قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان، جناب صدر اور وزیر اعظم اور اے این پی کی قیادت قابل مبارک باد ہے۔
جبکہ دوسری جانب وہ عناصر، قوتیں اور لابیاں جو اسلام، اسلامی نظام اور قرآن و سنت سے باغی اور خائف ہیں یا جبراً و قہراً ان کو اس سے خائف و باغی بنایا گیا ہے، وہ اس پر سیخ پا بلکہ آتش زیرپا ہیں، چنانچہ انہوں نے ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کو ”طالبان کی شریعت“ کہہ کر اُسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے، اور اس کے خلاف ”متفقہ لائحہ عمل“ اختیار کرنے اور اس کو عملی جامہ پہنانے پر غوروخوض کرنا شروع کردیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ان قوتوں نے شرعی نظام عدل کو ”طالبان کی شریعت“ کا نام دے کر سیدھے سادے مسلمانوں اور بھولی بھالی قوم کو اس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے کے لئے بھرپور مہم شروع کر رکھی ہے۔
لادین طبقات، اسلام دشمن عناصر اور قوتوں کے اس طرز عمل پر چنداں تعجب نہیں، افسوس تو ان حضرات پر ہے جو اپنے تئیں اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے اور سیاسی و مذہبی راہنما کہلاتے ہیں، ہائے افسوس! کہ وہ بھی محض سیاسی اور مسلکی اختلاف کی بنیاد پر، اس معاہدہ کی مخالفت میں ان لوگوں سے کندھا ملارہے ہیں، جو سرے سے دین و مذہب کے قائل ہی نہیں، اے کاش! کہ وہ بے چارے اپنی استعداد و صلاحیتوں کا وزن ان قوتوں کے پلڑے میں ڈال رہے ہیں ، جو دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، مذہبی، سیاسی، قومی اور صوبائی کسی تقسیم کے قائل نہیں، بلکہ ان کا متفقہ دشمن صرف اسلام اور مسلمان ہے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ متحدہ ہندوستان پر استعماری قبضہ اور تسلط کے وقت انگریزوں نے اپنے ان تمام وفاداروں کو بھی تہہ تیغ کردیا تھا، جو مسلم غداری اور انگریز وفاداری میں پیش پیش تھے، بلکہ انگریزوں نے اپنے ان ”وفاداروں“ کو یہ کہہ کر فنا کے گھاٹ اتار دیا تھا کہ : ”جب تم نے اپنی قوم سے وفا نہیں کی تو ہم سے کیونکر وفا کروگے؟“ بہرحال ایسے سیدھے سادے اور بھولے بھالے مسلمانوں اور اغیار کے پروپیگنڈا سے متاثر افراد کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے اور ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ سوات میں نافذ ہونے والے ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جائے ،تاکہ معلوم ہوسکے کہ شرعی نظام عدل کا معاہدہ یا ”نظامِ عدل ریگولیشن“ طالبان کی خود ساختہ شریعت ہے؟ یا قرآن و سنت پر مشتمل قوانین کا معاہدہ؟ اور اس کی کسی شق یا جزئیہ میں کہیں کوئی چیز قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟ اس لئے روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہونے والے ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کا متن افادئہ عام کے لئے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
”نظامِ عدل ریگولیشن ۲۰۰۹ء کا متن“
”مختصر ٹائٹل: مدت اور آغاز“
# ”اس ریگولیشن کو شریعت کے نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۹ء کا نام دیا جائے گا۔
# اس کا اطلاق’صوبے کے زیر انتظام آنے والے ان تمام علاقوں پر ہوگا‘ ماسوائے ان قبائلی علاقوں کے جو ضلع مانسہرہ سے ملحقہ اور سابق ریاست امب میں شامل ہیں، اور آگے چل کر جنہیں مذکورہ علاقوں کے نام سے پکارا جائے گا۔
# اس ریگولیشن پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔
# ان ریگولیشنز میں اسی وقت تک، جب تک ، موضوع یا متن میں کسی قسم کی ناخوشگوار تبدیلی واقع نہ ہوجائے۔
الف: عدالت کا مطلب ہوگا، ایسی عدالت ، جس کا دائرہ عمل و اختیار مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو اور جسے موجودہ ریگولیشن کے تحت قائم اور مقرر کیا گیا ہو، جس میں اپیل کے لئے بھی عدالت شامل ہوگی یا پھر کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے نظرثانی کی عدالت بھی شامل کی جاسکتی ہے۔
ب: ” دارالقضأ“ کا مطلب ہوگا، ایسی عدالت جہاں آخری اپیل دائر کی جاسکے یا نظرثانی کی عدالت جو مذکورہ علاقے کی حدود کے اندرواقع ہو اور جو آئین کی دفعہ (۲) آرٹیکل ۱۸۳ کے عین مطابق ہو۔
ج: ”دارالقضأ“ کا مطلب ہوگا اپیل یا نظر ثانی کی عدالت جسے شمال مغربی سرحدی صوبے کے گورنر نے مذکورہ علاقے کی حدود کے اندر قائم کیا ہو، جو آئین کی دفعہ (۴) آرٹیکل (۱۹۸) کے عین مطابق ہوگا۔
د: گورنمنٹ سے مراد ہوگی، شمال مغربی سرحدی صوبے کی گورنمنٹ۔
ہ: پیراگراف کا مطلب ہوگا، اس ریگولیشن کا ایک پیراگراف: ”تسلیم شدہ ادارے“ کا مطلب ہوگا، شریعت اکیڈمی، جسے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آرڈی نینس مجریہ ۱۹۸۵ء (xxx of 1985)کے تحت قائم کیا گیا ہو یا پھر کوئی ایسا ادارہ جو علوم شرعیہ کی تربیت دیتا ہو اور جسے حکومت منظور کرچکی ہو۔
و: ”تجویز کردہ“کا مطلب ہوگا، اس ریگولیشن کے زمرے میں آنے والے قوانین کے تحت تجویز کردہ۔
ز: قاضی کا مطلب ہوگا، ایسا مقرر کردہ عدالتی افسر جسے شیڈول (۲) کے کالم ۳ کے عین مطابق تعینات کیا گیا ہو۔
ح: ”منظور شدہ ادارے“ کا مطلب ہوگا شرعیہ اکیڈمی جسے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آرڈی نینس ۱۹۸۵ء یا کسی ایسے ادارے کے تحت قائم کیا گیا، جو شرعی علوم کی تربیت دیتا ہو اور حکومت سے منظور شدہ ہو۔
ط: ”شیڈول“ کا مطلب ہوگا موجودہ ریگولیشن کا کوئی شیڈول ۔
ی: ”شریعت“ سے مراد ہوگی وہ اسلامی تعلیمات و احکامات جو قرآن مجید اور سنت نیز اجماع اور قیاس میں بیان کی گئی ہیں۔ وضاحت کسی بھی مسلمان فرقے کے پرسنل لاء کا اطلاق کرتے وقت، جب کبھی قرآن مقدس اور سنت کے الفاظ استعمال ہوں گے تو ان کا مطلب ہوگا، قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تعبیر و تشریح، جو مذکورہ مسلمان فرقے کے نزدیک صحیح اور درست ہے۔
۱:․․․دیگر تمام الفاظ، جن کی تعریف موجودہ ریگولیشن میں نہیں کی گئی ان کا مطلب اور مفہوم وہی ہوگا جو کسی بھی ایسے قانون میں موجود ہوگا جو مذکورہ علاقے میں وقتی یا عارضی طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
۲:․․․ دیگر تمام ایسے الفاظ، جن کی خصوصی تعریف یا وضاحت اس ریگولیشنز میں نہیں دی گئی ا ن کا بھی مطلب وہی ہوگا جو مذکورہ علاقے میں وقتی یا عارضی طور پر کسی بھی نافذالعمل قانون کو دیا جاتا ہے۔
۳:․․․بعض قوانین کا اطلاق (۱) وہ قوانین جو شیڈول: ۱ کے کالم ۲ میں دیئے گئے اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں اس ریگولیشن کے نفاذ سے قبل، نافذ العمل تھے اور ان کے علاوہ وہ تمام قوانین ، نوٹیفکیشن اور احکامات جو ریگولیشن کے آغاز اور نفاذ سے قبل مذکورہ علاقوں میں نافذ العمل تھے۔
۴:․․․وہ تمام قوانین جن کا اطلاق مذکورہ علاقے پر ہوگا، جن میں وہ قوانین بھی شامل ہیں، جو ذیلی پیراگراف (۱) میں بیان کئے گئے ہیں، اور جو ان تمام مستثنیات اور ترامیم سے مشروط ہوں گے، جن کا ذکر موجودہ ریگولیشن میں کیا گیا ہے۔ بعض قوانین کالعدم ہوجائیں گے یا ان پر عمل درآمد نہیں ہوگا، اگر اس ریگولیشن کے آغاز اور نفاذ سے فوری پیشتر، مذکورہ علاقوں میں، کوئی ایسا قانون نافذ العمل تھا، اور اس پر عمل درآمد ہورہا تھا، کوئی ایسا ذریعہ، رسوم و رواج یا کسی اور شکل میں کوئی بھی ایسا قانون موجود تھا جو قرآن مجید اور سنت نبوی کے احکامات، تعلیمات اور ہدایات کے عین مطابق نہ تھا، تو ایسی صورت میں موجودہ ریگولیشن کا نفاذ ہوتے ہی اس علاقے میں ایسے تمام قوانین فوری طور پر کالعدم تصور کئے جائیں گے۔ عدالتیں: دارالقضأ اور دارالقضاء کے علاوہ مذکورہ علاقے میں درج ذیل عدالتیں بھی کام کرتی رہیں گی، جنہیں با اختیار دائرہ عمل و اختیار حاصل رہے گا: (الف) ضلع قاضی کی عدالت: (ب)اضافی ضلع قاضی کی عدالت: (ج) اعلیٰ علاقہ قاضی کی عدالت: (د) علاقہ قاضی کی عدالت: اور (ہ) ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت قضاة، ان کے اختیارات اور فرائض:
(۱) مذکورہ علاقے میں، تعینات ہونے والے ”علاقہ قاضی“ کو شمال مغربی سرحدی صوبے کے عدالتی افسر کا درجہ اور حیثیت حاصل ہوگی، بہرنوع اس سلسلے میں ترجیح ان عدالتی افسران کو دی جائے گی جنہوں نے کسی تسلیم شدہ ادارے سے شریعت کے کورس کی تکمیل کی ہوگی، (۲) فوجداری مقدمات کی کارروائی اور پیش رفت کے حوالے سے، تمام تر اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں شمال مغربی سرحدی صوبے کے ان عدالتی افسران کو ان قوانین کے تحت تفویض کی جائیں گی، جو علاقے میں وقتی طور پر نافذ العمل ہوں گے اور جن پر شیڈول نمبر ۲ کے متعلقہ کالم کے تحت تسلیم شدہ اصول شرعیہ کے عین مطابق درآمد کیا جارہا ہوگا۔ (۳) دارالقضاکے عہدے کی نگرانی سے مشروط، ضلع قاضی ماتحت عدالتوں کی کارروائی کی نگرانی کرے گا اور متفقہ ضلعی پولیس افسر کے توسط سے خدمت گار اسٹاف کی تقرری کو اپنے دائرہ اختیار کی مقامی حدود میں رہتے ہوئے ممکن بنائے گا۔“ (روزنامہ جنگ کراچی ۲۰/اپریل ۲۰۰۹ء)
مندرجہ بالا معاہدہ کے متن کے مطالعہ کے بعد اس کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ معاہدہ اور اس کا متن قرآن و سنت کے مطابق ہے یا مخالف؟ اور اس کے مندرجات شریعت اسلامیہ کے ترجمان ہیں؟ یا ”شریعت طالبان“ کے؟ اور قرآن و سنت، اجماع امت اور چودہ صدیوں کا تعامل اس نظامِ عدل ریگولیشن کی تائید کرتے ہیں یا مخالفت؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بہرحال ہمیں اس کی مخالفت کرکے اپنی عاقبت خراب کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، کیونکہ ایسے کسی قانونی معاہدہ کی مخالفت کرنا ․․․جو قرآن، سنت، اجماع امت، قیاس اور چودہ سو سالہ امت کے تعامل کی تائید سے مزین ہو․․․دراصل قرآن، سنت، اجماع امت، قیاس اور چودہ سو سالہ امت کے تعامل کی مخالفت کرنے کے مترادف ہے اور جو شخص ان ماٰخذ شریعت کی مخالفت کرے گا، کم از کم وہ دائرہ اسلام میں نہیں رہے گا۔
اور اگر جواب نفی میں ہے یعنی یہ ریگولیشن دین و شریعت کی تائید و حمایت کے شرف و اعزاز سے محروم ہے، تو اس کی نشاندہی کی جائے اور بتلایا جائے کہ اس کی کون کون سی شق، یا جزو، قرآن ، سنت، اجماع امت، قیاس یا چودہ سو سالہ امت کے تعامل کے خلاف ہے؟
اگر ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کی مخالفت سے قبل اس حکمت عملی کو اپنالیا جاتا تو جہاں اس طرز عمل سے نظامِ عدل ریگولیشن کے مخالفین کا موقف مدلل ہوجاتا، وہاں اس معاہدہ کے حامی بھی لاجواب ہوجاتے مگر افسوس کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ بہرحال بلادلیل و برہان کسی ایسے دینی، شرعی معاہدہ، یا ریگولیشن کی مخالفت کرنا، یا اس سے بغاوت کا اظہار و اعلان کرنا، نہایت ہی خطرناک ہے، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو، یا وہ دین و شریعت کا آئینہ دار ہو، اور ہم خواہ مخواہ اس کی مخالفت کرکے قرآن و سنت و دین و شریعت کی مخالفت و بغاوت کا وبال اپنے سرلے بیٹھیں۔
چونکہ اس معاہدہ کو دینی اور شرعی معاہدہ کا نام دیا گیا ہے اور بظاہر اس میں دین و شریعت اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی شق بھی نظر نہیں آرہی، اس لئے اس کی مخالفت کرنے والوں کو سوبار سوچنا چاہئے کہ کہیں ہم اس کی مخالفت کرکے دین و شریعت کی مخالفت کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟
جس طرح اس سوچ و بچار اور غوروتدبر کے دینی، مذہبی سیاسی اور قومی جماعتوں کے سربراہ اور ذمہ دار مکلف ہیں، ٹھیک اسی طرح ان جماعتوں کے کارکن بھی اس کے مکلف ہیں، کیونکہ دین و مذہب اور ایمان و عقیدہ ہر آدمی کا انفرادی اور ذاتی معاملہ ہے۔ اور کل قیامت کے دن کسی کو اس کا پارٹی سربراہ یا لیڈر چھڑانے نہیں آئے گا، بلکہ وہ اپنے اعمال و افعال کا خود ذمہ دار اور جواب دہ ہوگا۔ اس لئے محض جذبات سے متاثر ہوکر یا اپنے دینی، مذہبی، قومی اور سیاسی راہنماؤں کی ہمنوائی میں ایسا کوئی قدم اٹھانا عقل مندی نہیں، حماقت ہے۔ اس لئے کہ مبادا اس جذباتیت کی پاداش میں ذلت و رسوائی یا عذاب آخرت کا سامنا کرنا پڑجائے۔
لہٰذا جس طرح ہم دنیاوی معاملات میں اپنے سیاسی، مذہبی اور دینی راہنماؤں کی دعوت پر لبیک کہنے سے قبل، اپنے معاشی، اقتصادی اور معروضی حالات و معاملات کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو سوچ کر قدم اٹھاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح بلکہ کہیں اس سے زیادہ دین و مذہب کے معاملہ میں چھان پھٹک کر قدم اٹھانا چاہئے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ صوبہ سرحد میں نظامِ عدل ریگولیشن کے اجرأ میں بنیادی کردار اور تحریک طالبان کے ذمہ دار جناب صوفی محمد کو بھی عقل و شعور اور ہوش و حواس سے کام لینا چاہئے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کا لب و لہجہ بہت ہی جارحانہ ہوتا جارہا ہے اور ان کے اس جارحانہ انداز سے، ان کی تحریک کے بجائے ان کے مخالفین اور خصوصاً دین و شریعت کے معاندین کو فائدہ پہنچ رہا ہے، دیکھا جائے تو ان کے اس طرز عمل سے ان کے مخالفین کے ہی ہاتھ مضبوط ہورہے ہیں۔
اس لئے ضروری ہے کہ تحریک نفاذ شریعت کے کارکنوں اور اس کے ترجمانوں کو باور کرایا جائے کہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت، خصوصاً اے این پی نے اپنی حیثیت، ذوق اور مزاج کے علی الرغم ہمت و جرأت اور دریا دلی کا ثبوت دیا ہے، لہٰذا ان کے اس جذبہ اور قربانی کی قدر کرنی چاہئے، اور نفاذ شریعت کی جتنا کچھ صورت بنی ہے، اس کے عملی نفاذ و اجرأ کو یقینی بنانا چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ پوری کے چکر میں یہ ادھوری بھی چلی جائے۔
الغرض ان کا پورے ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور عدالتی نظام کو تنقید کا نشانہ بنانا غلط اوراپنی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک بڑھانے کے دعوے کرنا قبل از وقت ہے، ان کے اس انداز سے جہاں اس کا امکان ہے کہ صوبہ سرحد میں نافذ ”نظامِ عدل ریگولیشن“ کا تجربہ ناکام ہوجائے، یا اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں، وہاں اس کا بھی قوی امکان ہے کہ ان کے اس انداز کو جواز بناکر یہ کہا جائے کہ ! ”تحریک نفاذ شریعت کا مقصد قیام امن اور نفاذ شریعت نہیں، بلکہ پورے ملک پر قبضہ کرنا ہے“․․․ جیسا کہ اب یہ آواز یں بھی سننے کو مل رہی ہیں کہ :”یہ لوگ کسی کے اشارے پر اٹھے ہیں“ یا ”یہ لوگ کسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں وغیرہ وغیرہ“۔ لہٰذا خدارا! عقل و فہم سے کام لیتے ہوئے جتنا کچھ مل رہا ہے، اس کو لے لیا جائے اور ”مالاید رک کلہ لایترک کلہ“ کے مصداق پورا نہ سہی تو جو کچھ مل رہا ہے کم از کم اس کو تو نہ چھوڑا جائے․․․اس لئے کہ اگر آپ نے صحیح اسلامی نظامِ عدل قائم کرلیا اور صوبہ سرحد کے شہریوں کو گھر بیٹھے ان کی دہلیز پر انصاف ملنے لگا تو انشاء اللہ اس کے اثرات پورے ملک تک پہنچیں گے اور پورے ملک میں اس کے نفاذ و اجرأ کے امکانات واضح اور روشن ہوجائیں گے، اور اگر خدانخواستہ آپ کی غلط حکمت عملی اور بھونڈے طرز عمل سے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوگئیں تو آئندہ اتنا کچھ ہونے کے امکانات بھی معدوم ہوجائیں گے۔ ولا فعل اللہ۔․․․خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیّدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین

اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ھ بمطابق مئی ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ