قلم درکفِ دشمن است
قلم در کف ِ دشمن است نذیر ناجی صاحب کی خدمت میں!
الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
فارسی کی ایک مشہورکہاوت ہے کہ: ”قلم در کفِ دشمن است“․․․قلم دشمن کے ہاتھ میں ہے․․․اس کہاوت کا پس منظر یوں بیان کیا جاتا ہے کہ کسی انسان اور جنگلی شیر کی دوستی تھی، ایک بار راہ چلتے انسان کو ایک ایسا سائن بورڈ اور اشتہار نظر آیا ، جس میں انسان کو شیر پر سواری کرتے دکھایا گیا تھا، انسان نے سائن بورڈ دیکھتے ہی ازراہ تفنن و ظرافت اپنے دوست جنگلی شیر سے کہا: دیکھئے! حضرت انسان کی قوت و طاقت کا منظر ،ملاحظہ کیجئے! کہ وہ جنگل کے بادشاہ پر سوار ہے!
دوسری طرف جنگل کے بادشاہ نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا: نہیں ایسا کچھ نہیں، بلکہ: ”قلم در کفِ دشمن است“ یعنی اس میں انسان کی قوت و طاقت کا کوئی کمال نہیں اور نہ ہی اس میں شیر کی کمزوری اور ضعف کا دخل ہے، بلکہ یہ سب کچھ قلم کا کھیل ہے، چونکہ قلم اور برش شیر کے دشمن کے پاس تھا۔ اس لئے اس نے شیر اور جنگل کے بادشاہ کو مغلوب اور انسان کو غالب دکھایا ہے۔
کچھ اسی طرح کا معاملہ دورِ حاضر کی صحافت اور مفاد پرست صحافیوں کا ہے، وہ بھی اپنے قلم اور میڈیا کی طاقت سے جسے چاہیں ہیرو بنادیں اور جسے چاہیں زیرو کر دیں، وہ چاہیں تو مجرم کو محرم اور محرم کو مجرم بناسکتے ہیں، اس لئے کہ رذیلوں کو عزیز اور عزیزوں کو رذیل باور کرانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
دیکھا جائے تو یہ سب کچھ مفادات کا چکر ہے اور ان بیچاروں کا قبلہ مفادات کے گرد گھومتا ہے، لہٰذا اگر کبھی ان کے مفادات روس سے وابستہ تھے تو یہ سب روسی تھے اور جب سے مفادات کا رخ امریکا کی طرف ہوا ہے، تو”یہ مسکین“ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں، بلکہ وہائٹ ہاؤس کا طواف، ان کی زندگی کی معراج اور امریکی صدر کے سامنے ہاتھ باندھے ریاض کرنا، ان کا مقصد حیات ہے، اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہو کہ ان کے ہاں امریکی صدر کی خوشنودی رضائے الٰہی سے بڑھ کر ہے،سچ ہے یہ عقلمند ”بینگن کے نہیں، بادشاہ کے ملازم ہیں“ اور ”چلو ادھر کو ہوا ہو جدھر کی“ کے فلسفہ امن و عافیت کے علمبردار ہیں۔
ناس ہو ان مفادات کا کہ انہوں نے اچھے اچھے اور نامور لوگوں اور لکھاڑیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا، آج اگر وہ کسی کے خلاف لکھتے ہیں تو کل ان کے حق میں لکھنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور کل تک جن کے حق میں لکھنا حق و صداقت کی علامت تھا، تو آج ان کے خلاف لکھنا مجبوری بن جاتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اگر دال روٹی کے عوض اپنی قوم و وطن کی عزت و آبرو کا سودا کرنا پڑے تو اس سے بھی احتراز نہیں کیا جاتا۔
جو لوگ اخبارات اور اخباری کالم پڑھتے ہیں ا ن کو اندازہ ہوگا کہ یہی کالم نگار کبھی غلام محمد‘ سکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے تھے، تو کبھی ان کے خلاف لکھ کر جہاد بالقلم کا فریضہ ادا کرتے نظر آتے ہیں، کبھی وہ ضیاء الحق کو امیر المومنین کہتے تھے تو کبھی اسے ڈکٹیٹر و آمر، کبھی وہ بے نظیر کو پاکستان کے مقدر کا سکندر باور کراتے تھے تو کبھی نواز شریف کو محسن الملک، اسی طرح کبھی وہ پرویز مشرف کو ملک و قوم کا بہی خواہ کہتے تھے تو کبھی بدترین دشمن ۔
اس صورت حال پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ جب تک کوئی آمر و ڈکٹیٹر برسر اقتدار رہتا ہے، اس کی خوشامد و مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور جب وہ بیک بینی و دو گوش کرسیٴ اقتدار سے الگ کردیا جاتا ہے اور اس سے کسی نقصان و انتقام کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا تواس کے خلاف لکھ کر حق گوئی کا فرض ادا کیا جاتا ہے۔ الغرض یہ سب کچھ پیٹ کا رولہ اور مفادات کا چکر ہے، غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ:
”پیٹ نے غالب نکما کردیا ․․․ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے“
بہرحال ہر آدمی اپنی مجبوریوں کو بہتر جانتا ہے ، نہیں معلوم کہ کون کس مجبوری کے تحت کیا کررہا ہے؟ لہٰذا کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی پسند و ناپسند کے معاملہ میں دخل دے یا اس پر اعتراض، اشکال یا نکیر کرے، اس لئے کہ ہر آدمی اپنے نفع و نقصان کو جتنا خود سمجھ سکتا ہے یا جتنا اس کو اپنے مفادات عزیز ہوسکتے ہیں، دوسرا کوئی اس کے بارہ میں نہیں جان سکتا۔
بایں ہمہ اتنا تو بہرحال ہر عقل مند جانتا اور سمجھتا ہے کہ اپنے مفادات کے حصول اور کسی کو اپنی وفاداری جتلانے کے لئے کسی معصوم کی کردار کشی کرنا، اس کو بدنام کرنا، اس کو رگیدنا یا اس کا نقصان کرنا کم از کم دینی ، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے ناجائز‘ غلط اور غیر شریفانہ عمل ہے۔
اس اجمال کی تفصیل اور اس تمہید کا پس منظر یہ ہے کہ روزنامہ جنگ کے کہنہ مشق صحافی اور مشہور کالم نگار جناب نذیر ناجی صاحب نے ۲۱/ مئی ۲۰۰۹ء کے کالم: ”اس جنگ میں بہت سی جنگیں ہیں“ میں دین دار مسلمانوں، اسلام کے نام لیواؤں کو جس طرح اپنی بے جا تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اس کو پڑھ کر بلا مبالغہ یہی کہنے کو جی چاہتا ہے کہ: ”قلم در کفِ دشمن است“ یعنی قلم دشمنوں کے ہاتھ میں ہے، یوں تو خیر سے جناب ناجی صاحب نے کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں کے حق میں نہیں لکھا، بلکہ ان کے قلم کا پورا زور اور اس کی ساری توانائیاں کسی کی ”پسند و ناپسند“ کے گرد گھومتی ہیں اور جیسا کہ ہم نے چند سطرقبل عرض کیا، ہمیں اس پر کبھی کوئی اعتراض تھا اور نہ ہے، کیونکہ یہ ان کے ”مفادات“ اور ”روٹی و روزگار“ کا معاملہ ہے، تاہم چونکہ انہوں نے موجودہ کالم میں تاریخی حقائق مسخ کرنے اور نئی نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، اس لئے ہمارا بلکہ روزنامہ جنگ کے ہر قاری کا حق بنتا ہے کہ تاریخ کے ریکارڈ کو درست کرنے کی اپنی سی سعی و کوشش کرے۔ لیجئے! ناجی صاحب کے قلم ”صداقت ِ رقم“ کے شاہکار پڑھئے اور سر دھنئے۔ ناجی صاحب فرماتے ہیں:
”تحریک پاکستان کے دوران کچھ اسی طرح کا منظر تھا، جو لوگ آج تحفظ پاکستان کی مہم کے مخالف ہیں، ان کے بزرگ قیام پاکستان کے مخالف تھے، وہ بھی یہ کام اسلام کے نام پر کرتے تھے، یہ بھی اسلام کا نام لیتے ہیں، ان کے کچھ حامی کانگریس کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے مخالف تھے، جانشین اپنے اپنے پلیٹ فارم پر وہی کام دکھارہے ہیں، کچھ علماء اور تمام مشائخ کرام پاکستان کے حامی تھے، ان کے جانشین آج بھی اپنے اکابرین کے موقف پر قائم ہیں، قیام پاکستان کے بعد اس ملک کی مخالفت کرنے والوں نے اسلام کے نام پر اقتدار حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی اور پاکستان کے ہمدرد کا روپ دھار لیا۔ پاکستان حاصل کرنے والی قیادت جلد ہی رخصت ہوگئی اور اس کی جگہ لینے والے بزدل بابوؤں کو اسلام کے نام سے ڈرا کر، ان عناصر نے جمہوریت کی راہ سے ہٹادیا اور انہیں گھیر گھارکے مذہب کو ریاستی معاملات کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوگئے، اس کے نتیجے میں تباہ کن فرقہ واریت کا زہر پھیلنے لگا، ایک گروہ کو آئینی طور سے کافر قرار دے کر اس کے شہری حقوق سلب کرنا شروع کردیئے گئے، دوسرے گروہ کو کافر قرار دینے کا مطالبہ ہونے لگا، اس سے تعلق رکھنے والے مختلف سرکردہ اصحاب اور ہنر مندوں کو قتل کیا جانے لگا، امام بارگاہوں میں بم پھینک کر عبادت گزاروں کا خون بہایا جانے لگا، یہ لوگ جی بھر کے قائد اعظم کے ہاتھوں اپنے اکابرین کی شکست کا حساب لینے لگے۔“(روزنامہ جنگ کراچی، ۲۱/مئی ۲۰۰۹ء)
جناب نذیر ناجی صاحب نے اس مختصر سے اقتباس میں چند ایسے ”تاریخی حقائق“ بیان کئے ہیں، جن کی وضاحت و تفصیلات شاید ان کے علاوہ دوسرا کوئی نہ جانتا ہو، مثلاً:
۱:․․․ ان کا فرمانا ہے کہ:
”جو لوگ آج تحفظ پاکستان کی مہم کے مخالف ہیں، ان کے بزرگ قیامِ پاکستان کے مخالف تھے، وہ بھی یہ کام اسلام کے نام پر کرتے تھے، یہ بھی اسلام کا نام لیتے ہیں۔“
اگر ناجی صاحب، بُرا نہ منائیں تو کیا ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ کسی معاملہ میں اکابر کی آرأ کا مختلف ہونا، زندہ معاشرہ کی نشانی اور اختلاف رائے کرنے والوں کی سلامتی فکر کی علامت نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو کسی ایک فریق کو موردالزام ٹھہرانا، اس کی نیت پر شک کرنا یا اسے مسلمانوں کا مخالف کہنا بیمار ذہنیت یا بغض و عناد کی علامت نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو قبل از تقسیم، مجوزہ تقسیم سے اختلاف کرنے والے، حضرات کی اخلاص پر مبنی رائے اور حکمت عملی کو قیام پاکستان کی مخالفت سے تعبیر کرنا، کیا ان پر بہتان تراشی نہیں؟
یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان کے چوٹی کے علماء میں سے متعدد حضرات نے تقسیم کی تائید کی تھی تو کچھ حضرات نے اپنی خداداد بصیرت سے مستقبل کے خطرات اور اندیشوں کے پیش نظر مجوزہ تقسیم سے اختلاف بھی کیا تھا، لیکن جب مجوزہ تقسیم ہوگئی تو کیا اختلاف کرنے والوں کے سرخیل حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہ نے یہ فرماکر اس باب کو بند نہیں کردیا تھا کہ:
”شروع میں اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ فلاں جگہ مسجد بننی چاہئے یا نہیں، لیکن جب مسجد بن جائے تو اس کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے، لہٰذا پاکستان بننے سے پہلے جو اختلاف بھی رہا ہو، پاکستان بننے کے بعد اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔“
(مکتوب مولانا تقی عثمانی مدظلہ، ماہنامہ البلاغ، جمادی الاولیٰ ۱۴۳۰ھ، ص:۲۴)
اسی طرح کیا امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری نے قیامِ پاکستان کے بعد یہ فرماکر بات ختم نہیں کردی تھی کہ:
”میں خوش ہوں، میری خوشی بے کراں ہے، کہ اس ملک سے انگریز نکل گیا، میں دنیا کے کسی حصہ میں سامراج کو نہیں دیکھ سکتا، میں اس کو قرآن اور اسلام کے خلاف سمجھتا ہوں، تم میری رائے کو خود فروشی کا نام نہ دو، میری رائے، قیام پاکستان کے وقت ہارگئی اور اس کہانی کو یہیں ختم کردو․․․اب پاکستان نے جب بھی پکارا، واللہ باللہ میں اس کے ذرے ذرے کی حفاظت کروں گا، مجھے یہ اتنا ہی عزیز ہے، جتنا کوئی اور دعویٰ کرسکتا ہے․․․ میں قول کا نہیں عمل کا آدمی ہوں، اس طرف کسی نے آنکھ اٹھائی تو وہ پھوڑ دی جائے گی، کسی نے ہاتھ اٹھایا تو وہ کاٹ دیا جائے گا․․․وطن اور اس کی عزت کے مقابلہ میں نہ اپنی جان عزیز رکھتا ہوں، نہ اولاد․․․میرا خون پہلے بھی تمہارا تھا اور اب بھی تمہارا ہے․․․“ (سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری سوانح افکار، ص:۲۰۱)
بتلایا جائے کیا اس کے باوجود بھی ان حضرات کے خلاف لب کشائی کرنا حق و انصاف سے میل کھاتا ہے؟
۲:․․․ کیا یہ حقیقت نہیں کہ حضرت مدنی قدس سرہ اور ان کے مکتبہ فکر نے قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کو مسجد کے تقدس کا مقام دے کر اس کی حفاظت کو اپنا فریضہ سمجھا؟ اور تن من دھن سے اس کے چپہ چپہ کی حفاظت کو دین، دینی شعائر کی حفاظت کے مترادف جانا؟ بلکہ عملی طور پر اس کی انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا؟ اور ملک میں الحاد و زندقہ کی ہر تحریک اور ہر فتنہ پرور کا جی جان سے مقابلہ کیا؟ اور قیامِ پاکستان کے مقاصد کے خلاف سر اٹھانے والے ہر طالع آزماکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو للکارا؟ اگر جواب اثبات میں ہے اور یقینا اثبات میں ہے تو اس پھبتی کا کیا معنی؟ کہ: ”جو لوگ آج تحفظِ پاکستان کے مخالف ہیں، ان کے بزرگ قیامِ پاکستان کے مخالف تھے۔“
۳:․․․ناجی صاحب مان لیا کہ تقسیم سے اختلاف کرنے والوں کا موقف غلط تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ ان حضرات نے جن خطرات اور اندیشوں کے پیش نظر مجوزہ تقسیم کو مسلمانوں اور خود مملکت خداداد کے لئے نقصان دہ تصور کیا تھا، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتلایئے کیا وہ تمام اندیشے اور خطرے ایک ایک کرکے سامنے نہیں آرہے؟ :
کیا ملک ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوگیا؟ اور اس سے مسلمانوں کی قوت و طاقت دو چند بلکہ سہ چند تقسیم نہیں ہوگئی؟ کیا ہندوستان سے آنے والے تمام دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کے آب پاشی کے نظام کو تباہ وبرباد نہیں کر دیا گیا؟ کیا انگریز وں اور ہندوؤں سے لڑنے والا مسلمان، اب صوبائی اور لسانی بنیاد پر ایک دوسرے کا خون نہیں بہا رہا؟ کیا باقی ماندہ ملک کے چاروں صوبے ایک دوسرے کو اپنا حریف و دشمن نہیں سمجھ رہے؟ کیا مہاجر، سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان اور سرائیکی ایک دوسرے سے شاکی نہیں؟ کیا اس سب کچھ کی ان بزرگوں نے پہلے سے نشاندہی نہیں کردی تھی؟ جی ہاں! انہیں اندیشوں اور خطروں کے پیش نظر انہوں نے کہا تھا کہ:
”مسلم لیگ اور کانگریس! دونوں میری بات سنو!
احباب جمع ہیں میر، دردِ دل کہہ لے
پھر التفات دلِ دوستاں رہے نہ رہے
یاد رکھو !اگر تم باہم مل بیٹھ کر کوئی معاملہ کرلیتے تو الگ الگ رہ کر بھی شیر و شکر رہتے، مگر تم نے فرنگی سے اپنا انصاف مانگا ہے، وہ تم دونوں کے درمیان کوئی نہ کوئی ایسا فساد ضرور پیدا کرجائے گا کہ تم قیامت تک چین سے نہیں بیٹھ سکتے، آج تلواروں اور لاٹھیوں سے لڑتے ہو تو آنے والے کل کو توپ اور بندوقوں سے لڑوگے، تمہاری اس نادانی سے انسانیت کا جو نقصان ہوگا، عورت کی جو توہین ہوگی، شرافت جس طرح برصغیر میں زخمی ہوگی اس کے لئے تم دونوں مجرم ہوگے۔“ (خطاب سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری اردو پارک دھلی، حیات ِ امیر شریعت، ص:۳۶۶)
ہاں! ہاں! اسی جامع مسجد دہلی کے سامنے ۲۶/جولائی ۱۹۴۶ء کو شاہ جی نے فرمایا تھا: ”اے لوگو! وقت آئے گا تمہارے دریا تمہارے پاس نہیں رہیں گے، مشرقی بنگال بھی تمہارا ہم نوا نہ ہوگا۔“ (تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک، ص:۸۷)
ناجی صاحب! آپ ہی بتلایئے! کیا آج ہم آزاد ہونے کے باوجود غلام نہیں؟ کیا ہم اپنے ملک میں اپنی مرضی کے فیصلے کرسکتے ہیں؟ کیا ہم سپر طاقتوں کے باج گزار نہیں؟ کیا ہم ہندو بنیئے سے خم نہیں کھاتے؟ کیا ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود سر اٹھاکر چلنے کی جرأت کرسکتے ہیں؟ کیا ہم معاشی اور اقتصادی اعتبار سے بعد میں آزاد ہونے والے بنگلہ دیش سے پیچھے نہیں چلے گئے؟ کیا ہم صنعتی اعتبار سے اغیار کے محتاج نہیں؟ کیا ہماری کرنسی بھارت اور بنگلہ دیش سے کمتر نہیں؟ ۴:․․․ناجی صاحب نے ”تحفظ پاکستان کی مخالفت“ کی تہمت کا ملبہ بھی دین دار مسلمانوں کے سروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ کیا ہم ناجی صاحب سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں پاکستان کے تحفظ کی موافقت و مخالفت کا کیا معیار ہے؟ اگر وہ اس کی نشاندہی فرمادیتے تو تحفظ پاکستان کے مخالفین و موافقین کے درمیان فرق و امتیاز کرنا آسان ہوجاتا۔
تاہم یہ تو طے ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک اور مختارکل وہی حضرات چلے آرہے ہیں جو اس ملک کو اپنی ذاتی اور جدی پشتی جاگیر سمجھتے تھے، ورنہ بتلایا جائے کہ کب اور کون اس ملک کا ایسا سربراہ رہا ہے جو اس ملک کے قیام کا مخالف تھا؟ لہٰذا اس ملک کو اگر کوئی نقصان پہنچا ہے تو اس کا سہرا اس کے سیاہ و سفید کے جدی پشتی مالکوں کے سر ہے۔
تاہم موصوف سے ہی پوچھنا چاہیں گے کہ اس ملک کو دولخت کس نے کیا؟ اس کو معاشی و اقتصادی قلاش کس نے بنایا؟اس کی درآمدی، برآمدی اور تجارتی پالیسی کو بدحالی کے دہانے تک کس نے پہنچایا؟اس کو صوبائی اور لسانی منافرت و عصبیت کی دلدل میں کس نے پھینکا؟ اس کا خزانہ لوٹ کر بیرون ملک لے جانے والے کون تھے؟ اپنے شہریوں اور مسلمانوں کو امریکا اور مغرب کے ہاتھ فروخت کرنے والے اور ان کے عوض ڈالر وصول کرنے والے کون ہیں؟ قوم کی بیٹیوں اور معصوم نوجوانوں کو کیوبا بھیجنے والے اور ملک و قوم کو بدنام کرنے والے کون ہیں؟ اسی طرح اپنے ہی شہریوں پر کارپٹ بمباری کرکے ان کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنے والے کون ہیں؟ اربوں کھربوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والے کون ہیں؟ ناجی صاحب !سوچ کر بتلائیں کہ آپ نے یہ گالی کس کو دی ہے؟ کہیں اس کی زد میں آپ کے اپنے ممدوح تو نہیں آرہے؟
۵:․․․ناجی صاحب فرماتے ہیں کہ: ”پاکستان حاصل کرنے والی قیادت جلد ہی رخصت ہوگئی اور اس کی جگہ لینے والے بابوؤں کو اسلام کے نام سے ڈرا کر، ان عناصر نے جمہوریت کی راہ سے ہٹادیا۔“ اے کاش! کہ ناجی صاحب نے ”شاہراہ پاکستان“ پڑھی ہوتی‘ تو وہ یہ نہ لکھتے! کیونکہ چوہدری خلیق الزمان بہت پہلے مسٹر جناح صاحب کا یہ شکوہ نقل کرچکے ہیں کہ:
”مسلم لیگ کے بہت سے لیڈر جو عموماً نوابان اور تعلقہ داران پر مشتمل ہیں، محض انگریز کے اشاروں پر چلتے ہیں اور جماعت کو اپنے مفادات کا گہوارا بنائے ہوئے ہیں جن کو قومی مفاد سے کوئی واسطہ نہیں، میں خود ان سے عاجز آچکا ہوں، حالانکہ آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں ان کی جنبہ داری بھی کرتا ہوں۔“ (شاہراہ پاکستان، ص:۱۲۹)
ناجی صاحب! اس ملک کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، مسٹر جناح صاحب کے بقول لیگ کے ان لیڈروں کا کیا دھرا ہے جن سے خود جناح صاحب بھی عاجز تھے۔
۶:․․․ ناجی صاحب نے اس ملک کو ”جمہوریت کی راہ سے ہٹانے اور مذہب کو ریاستی معاملات کا حصہ بنانے“ کی جو دہائی دی ہے، دیکھا جائے تو اس کا سارا الزام وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ کو دینا چاہتے ہیں، کیونکہ قیامِ پاکستان کے بعد اس ملک کو مذہبی اور دینی اسٹیٹ بنانے میں جس شخصیت نے سب سے پہلے علم جہاد بلند کیا، وہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ کی باہمت شخصیت تھی، جن کی جدوجہد کی برکت سے قراردادِ مقاصد منظور ہوئی اور بعد میں وہ دستورِ پاکستان کا حصہ قرار پائی۔
بجائے اس کے کہ ناجی صاحب ملک کی دینی اور مذہبی حیثیت کی طرف پیش قدمی اور اکابر کی اس سلسلہ کی مساعی و جدوجہد پر خوش ہوتے یا ان کی تحسین کرتے‘ افسوس کہ وہ اسے الٹا تحفظِ پاکستان کے خلاف اقدام کا نام دے کر ان نفوسِ قدسیہ پر پاکستان کے بقا کی مخالفت کا الزام دھرنا چاہتے ہیں۔ فانا لله وانا الیہ راجعون۔
ناجی صاحب! یہ شیخ الاسلام ،امام المفسرین، محقق اسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ ہی تھے، جنہوں نے مسٹر جناح کے جانشینوں اور دستوراسلامی کے سلسلہ میں حیلہ سازیاں کرنے والوں کو کھلے الفاظ میں یہ چیلنج کیا تھا کہ: ”اگر اسلامی دستور کو آئندہ حسب وعدہ پاکستان میں رائج کرنے کو پس پشت ڈالا گیا تو میرا راستہ اور ہوگا اور آپ کا اور! نہ صرف یہ بلکہ میں قوم کو بتادوں گا کہ اہل اقتدار دستورِ اسلامی کے سلسلہ میں اچھی نیت نہیں رکھتے۔“ (تجلیاتِ عثمانی، ص:۴۶)
الغرض پاکستان کو جمہوریت کی راہ سے ہٹانے اور مذہب کو ریاستی معاملات کا حصہ بنانے پر ناجی صاحب کو دکھ ہے، اوروہ اس کا الزام پاکستان مخالفین کو دینا چاہتے ہیں‘ حالانکہ یہ کارنامہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ نے سرانجام دیا تھا اور یہ سب کچھ نوابزادہ لیاقت علی خان کی زندگی میں ہوگیا تھا، جیسا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ نے قرارداد مقاصد کی تجویز پیش کرنے پر نوابزادہ لیاقت علی خان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا: ”یہ مبارکباد فی الحقیقت میری ذات کی طرف سے نہیں بلکہ اس پسی ہوئی اور کچلی ہوئی روح انسانیت کی جانب سے ہے، جو خالص مادہ پرست طاقتوں کی حریفانہ حرص و آز، رقیبانہ ہوس ناکیوں کے میدان کارزار میں مدتوں سے پڑی کراہ رہی ہے، اس کے کراہنے کی آوازیں اس قدر درد انگیز ہیں کہ بعض اوقات اس کے سنگدل قاتل بھی گھبرا اٹھتے ہیں اور اپنی جارحانہ حرکات پر نادم ہوکر تھوڑی دیر کے لئے مداوا تلاش کرنے لگتے ہیں، مگر پھر علاج اور دوا کی جستجو میں وہ اس لئے ناکام رہتے ہیں کہ جو مرض کا اصل سبب ہے، اسی کو دوا اور اکسیر سے سوا سمجھ لیا جاتا ہے، یاد رکھئے! دنیا اپنے خود ساختہ اصولوں میں پھنس چکی ہے اس سے نکلنے کے لئے جس قدر پھڑپھڑائے گی، اسی قدر جال کے حلقوں کی گرفت اور زیادہ سخت ہوتی جائے گی، وہ صحیح راستہ گم کرچکی ہے اور جو راستہ اب اختیار کررکھا ہے اس پر جتنے زور سے بھاگے گی وہ حقیقی طور پر فلاح کی منزل سے دور بھی ہوتی چلی جائے گی۔“
(معمارانِ پاکستان، منشی عبدالرحمن خان، ص:۳۶۷)
۷:․․․ اسی طرح ناجی صاحب پاکستان میں مذہب کو ریاستی معاملات کا حصہ بنانے پر شکایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: اس سے فرقہ واریت کا زہر پھیلنے لگا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
”اس کے نتیجے میں تباہ کن فرقہ واریت کا زہر پھیلنے لگا، ایک گروہ کو آئینی طور سے کافر قرار دے کر اس کے شہری حقوق سلب کرنا شروع کردیئے گئے۔“
غالباً اس اقتباس میں ناجی صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار وں اور نبی امی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدارقادیانیوں کی ترجمانی فرمانا چاہتے ہیں، اگر ہم نے صحیح سمجھا ہے اور یقینا صحیح سمجھا ہے، تو ہم ناجی صاحب کو بتلانا چاہیں گے کہ مسلمانوں کا مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت سے اصولی نزاع اور دین و مذہب کا اختلاف ہے، اس کو فرقہ واریت کا نام دینا نری جہالت و سفاہت ہے، کیونکہ فرقے کسی ایک نبی، رسول‘ کتاب‘ دین اور مذہب کے ماننے والوں میں معمولی تعبیرات کے اختلاف کی بنا پر وجود میں آتے ہیں، جیساکہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین و شریعت کو ماننے والے مسلمانوں میں: حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث وغیرہ، فرقے کہلاتے ہیں، لیکن جہاں نبی‘ رسول‘کتاب‘ شریعت‘ دین اور مذہب کا اختلاف ہو، وہ فرقہ وارانہ اختلاف نہیں‘ بلکہ اصولی اختلاف کہلائے گا، مثلاً یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں کا آپس کا اختلاف اصول، کلیات اور دین و مذہب کا اختلاف کہلاتا ہے، اس لئے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے اختلاف کو فرقہ وارانہ اختلاف کہناغلط بلکہ دنائت و حماقت کے مترادف ہے، اس تفصیل کے بعد عرض ہے کہ مسلمانوں کا مرزائیوں سے فروعی نہیں، اصولی اختلاف ہے، لہٰذا اس اختلاف کو فروعی اختلاف کہنا، یا اس کو فرقہ واریت کا نام دینا، نعوذباللہ !قادیانیوں کو مسلمانوں کا فرقہ باور کرانے کے مترادف اور ان کے کفر کو نرم کرنے کی سازش ہے، بلاشبہ ایسا کرنا بدترین جرم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کے مشابہ ہے۔
۲:․․․چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نئی کتاب، نئے دین، نئی شریعت اور نئی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا تھا اور چونکہ اس کے ماننے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب، نبوت، شریعت اور دین کے بجائے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب، دین، شریعت اور نبوت پر ایمان رکھتے ہیں، اس لئے وہ مسلمانوں سے الگ امت اور الگ ملت ہیں اور چونکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن و سنت اور پوری امت کے اجماع کی روشنی میں ا للہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے ،لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی نئے نبی کو، قرآن کے بعد کسی نئی کتاب کو اور شریعت اسلام کے بعد کسی نئی شریعت پر ایمان لانا‘ یا اس کو ذریعہ نجات تصور کرنا کفر ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے جو اپنے آپ کو احمدی اور قادیانی بھی کہتے ہیں، ان غلیظ عقائد کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان‘ بلکہ سچے مسلمان کہتے ہیں، تو کیا امت اسلامیہ کا فرض نہیں بنتا کہ وہ قادیانیوں کو ان غلیظ عقائد کی بنا پر امت مسلمہ سے الگ اور غیر مسلم اقلیت قرار دیتی؟؟
اے کاش! کہ ناجی صاحب تو ان کو زبردستی مسلمانوں کی فہرست میں شامل کرنے پر مُصر ہیں، جبکہ خود قادیانیوں کا اپنا موقف اور عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا، چاہے وہ حضرت محمد رسول اللہ کا کلمہ بھی کیوں نہ پڑھتا ہو، کافر ہے، پکا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، لیجئے پڑھیئے:
الف:․․․”ہر ایک شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ  کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ “ (کلمة الفصل ص:۱۱۰، مرزا بشیر احمد ایم اے)
ب:․․․”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں، یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔“ (انوارِ خلافت، ص:۹۰، از مرزا محمود احمد قادیانی)
ج:․․․اس سے دو قدم آگے بڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مخالفین کو گالی دیتے ہوئے لکھتا ہے: ” یہ میری کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان دوستی اور محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے․․․مگر کنجریوں کی اولاد کہ وہ نہیں مانتے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص:۵۴۷، روحانی خزائن، ج:۵)
د:․․․”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔“
(نجم الہدیٰ، ص:۵۳، روحانی خزائن، ج:۵)
ناجی صاحب! ان تصریحات کے بعد آپ ہی بتلایئے کہ جو لوگ مسلمانوں کو کافر سمجھتے اور کہتے ہوں،․․․بلکہ اگر آپ بھی ان کے نبی کونبی نہ مانتے ہوں‘ تو وہ آپ کو بھی کافر، پکا کافر، دائرئہ اسلام سے خارج ، کنجریوں کی اولاد‘ بیابان کا خنزیر کہتے ہوں… اور اپنے آپ کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ وابستہ کرتے ہوں، کیا ان کو قانوناً مسلمانوں سے الگ باور کرانا یا غیر مسلم اقلیت قرار دلانا خود ان کے اپنے مزاج و موقف کی تائید نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس پر چیں بہ چیں ہونے کا کیا معنی؟ جناب ناجی صاحب! ہم تو آپ کو آج تک مسلمان سمجھتے آئے ہیں، اگر ہماری دانست صحیح ہے تو کیا بحیثیت مسلمان آپ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کی ترجمانی کرنا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دکھانے اور چھلنی کرنے کے مترادف نہیں؟
ناجی صاحب! ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلہ کو․․․دراصل مسلمانانِ پاکستان کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی سے محبت و الفت کا ادنیٰ اظہار اورخراج ہے ․․․اس کوفرقہ واریت کی زہر قرار دینا کیا اس آئینی ترمیم اور خود آئین ِ پاکستان سے بغاوت نہیں کہلائے گا؟
۳:․․․پھر یہ بات بھی نہایت غور طلب ہے کہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم پر دستخط کرنے والے یا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے ارکان اسمبلی کوئی ملا ، مولوی یا سارے دین دار نہیں تھے، بلکہ اس پورے ہاؤس میں صرف سات مولوی تھے اور ہاؤس میں اکثریت پیپلز پارٹی کے ارکان کی تھی، جس کے سربراہ خود مسٹر ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ کیا وہ سارا ہاؤس ان سات مولویوں کے ہاتھوں یرغمال بن گیا تھا؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس اُپچ کا کیا معنی؟
ناجی صاحب! اگر آنجناب ضد و عناد کی عینک اتار کر دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے ارکان اسمبلی نے آنکھیں بند کرکے فیصلہ نہیں کیا، بلکہ مسلسل ۱۳ دن کی بحث و تمحیص اور جرح و قدح کے بعداور مرزائیوں کے دونوں گروہوں: قادیانیوں اور لاہوریوں کے سربراہوں کو بلاکر ان کا موقف سننے اور ان کو اپنی صفائی کا موقع دینے کے بعد، کہیں جاکر ان کے غلیظ عقائد و نظریات کی روشنی میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ یقین نہ آئے تو ۱۹۷۴ء کی اسمبلی کی مطبوعہ کارروائی کا مطالعہ فرمالیں۔
۴:․․․ ناجی صاحب اپنی اس تحریر کے اقتباس میں مزید لکھتے ہیں کہ:
”اس فیصلے کے بعد اس گروہ کے شہری حقوق سلب کرنا شروع کردیئے گئے“
کیا ہم ناجی صاحب سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان کے نزدیک شہری حقوق کی کیا تعریف ہے؟ اگر ان کے ہاں شہری حقوق کی یہ تعریف ہے کہ قادیانیوں کو کھلے عام حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام کو گالیاں دینے کی چھوٹ ہونی چاہئے اورقادیانیوں کو اپنے کفریہ عقائد و نظریات کو اسلام باور کرانے کی اجازت ہونی چاہئے اورانہیں اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہنے اور جتلانے کی آزادی ہونی چاہئے تو ہمارے خیال میں ایسا مطالبہ نہ صرف ناجائز اور غلط ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے بنیادی حقوق پر ڈاکا زنی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس سے کھیلنے اور اسلام سے بغاوت کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔
اور اگر ان کے ہاں بنیادی اور شہری حقوق سے مراد یہ ہے کہ ان کو اپنے دین و مذہب پر آزادی سے عمل کرنے اور کھلے عام چلنے پھرنے، رہنے، سہنے اور کھانے پینے اور اپنی چار دیواری میں اپنے مذہبی رسوم بجالانے کی اجازت ہونی چاہئے! تو بتلایا جائے کب اور کہاں اس پر قدغن ہے؟ جو یہ دہائی دی جاتی ہے کہ قادیانیوں کے شہری حقوق سلب ہورہے ہیں؟
اگر ناجی صاحب قادیانی طرف داری اور مسلمانوں کے خلاف تعصب و عناد کی عینک اتار کر دیکھیں تو ان کو اندازہ ہوگا کہ قادیانی پاکستان میں اپنی تعداد سے کہیں زیادہ فوائد اور منافع حاصل کررہے ہیں، آپ سروے کراکر دیکھ لیں اس وقت کتناقادیانی بیوروکریسی میں ہیں، کتنادوسرے اہم عہدوں اور مناصب پر ہیں اور کتنوں نے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈال رکھا ہے اور کتنی ایسی اسامیاں ہیں، جہاں قادیانیوں نے مسلمانوں کا روپ دھار کر ان پر قبضہ جمارکھا ہے؟
سب سے آخر میں ناجی صاحب کی اسلام اور مسلم دشمنی کا ایک انوکھا شاہکار بھی ملاحظہ کیجئے اور ان کی ”حق پرستی“ کی داد دیجئے! ملاحظہ ہو:
”آج یہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ فوج پاکستانی عوام کے خلاف آپریشن کیوں کررہی ہے؟ ۱۹۷۱ء میں یہی لوگ فوج کے ساتھ مل کر پاکستانیوں پر گولیاں چلارہے تھے، انہیں ان کے گھروں میں زندہ جلارہے تھے، ان کے کاروبار تباہ کررہے تھے اور جمہوری آزادیوں کے لئے سرگرم کارکنوں کی نشاندہی کرکے، انہیں فوج کے ہاتھ قتل کرارہے تھے، اس وقت چونکہ پاکستان ٹوٹ رہا تھا، اس لئے یہ فوجی آپریشن کے حامی ہی نہیں مددگار بھی تھے، حالانکہ بنگالی مسلمانوں نے اپنے عالمی اور جمہوری حقوق مانگنے کا گناہ کیا تھا، انہوں نے کسی پر تشدد نہیں کیا تھا، کسی شہر پر قبضہ نہیں کیا تھا، کہیں سے فوج کو نکالا نہیں تھا، ووٹ کے ذریعے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اور اپنا حق مانگا، لیکن اسلام کے نام پر پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کے جانشین فوج کو ان پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دیتے رہے اور آخرکار اس میں کامیاب رہے، شیخ مجیب الرحمن برصغیر میں حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرکے پاکستانی عوام کی آزادی و خوشحالی کو یقینی بنانا چاہتے تھے، وہ بھارت کے ساتھ دشمنی کے رشتے کو پُرامن ہمسائیگی کے رشتے میں بدلنے کے خواہشمند تھے اور خوشگوار تعلقات کے ماحول میں تنازعہ کشمیر حل کرنا چاہتے تھے اور ایسا ہونے کے لامحدود امکانات موجود تھے، مگر یحییٰ خان کے انہی مشیروں نے انہیں گمراہ کرکے فوج اور پاکستان کی شکست کا راستہ ہموار کیا، حقیقت نعروں میں نہیں، عمل میں ہوتی ہے، قیام پاکستان سے پہلے بھی ان کا نعرہ اسلام تھا، مگر عملاً یہ اس کا قیام نہیں چاہتے تھے۔ ۱۹۷۱ء میں بھی ان کا نعرہ اسلام تھا اور یہ حب الوطنی کی دیگ بانٹا کرتے تھے، مگر ان کے عمل نے پاکستان کو دولخت کردیا، آج پھر یہ اسلام اور حب الوطنی دونوں کے نعرے لگارہے ہیں اور ریاست کے باغیوں کی سرکوبی میں مصروف پاک فوج کے مشن پر عوام کے اندر شکوک و شبہات دینے والے دین اسلام کو تقسیم فرقہ واریت اور باہمی منافرت پھیلانے کے لئے استعمال کیا۔ پاکستان ایک بہت گہری سازش کا شکار ہورہا ہے، عالمی برادری میں ۱۹۷۱ء میں بھی اتنے تنہا نہیں تھے، جتنے آج ہیں، اس وقت چین ہمارا ساتھ دے رہا تھا، خطے میں امریکا کے براہ راست مفادات قائم نہیں ہوئے تھے، مسلم دنیا ہماری عملی مدد کررہی تھی، نام نہاد اسلام پسندوں کے فریب میں آئے ہوئے فوجی حکمرانوں نے نہتے عوام پر ٹینک چڑھاکر عالمی رائے عامہ کی مخالفت مول لے لی تھی۔“ (ادارتی صفحہ روزنامہ جنگ کراچی، ۲۱/مئی ۲۰۰۹ء)
ایسا لگتا ہے کہ ناجی صاحب دنیا جہاں کی تمام برائیوں اور کوتاہیوں کو علما، صلحا اور دین دار مسلمانوں کے کھاتے میں ڈال کر اپنی علمأ دشمنی کی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہتے ہیں، کیا کوئی عقلمند اس کو تسلیم کرسکتا ہے کہ ۱۹۷۱ء کی جنگ اور بنگلہ دیش میں بنگالیوں کے خلاف فوج کشی کرنے والوں میں کوئی ملا، مولوی تھا؟ اگر تھاتو اس کی نشاندہی کی جائے؟کیا ناجی صاحب اس کا ثبوت پیش کرسکتے ہیں کہ علمأ نے فوج کو بنگالیوں پر چڑھائی کرنے کی تلقین کی تھی؟ کیا جنرل نیازی مولوی تھا؟ کیا ادھر ہم اور ادھر تم کا نعرہ لگانے والے مولوی تھے؟ کیا بنگالیوں پرفوج کشی کرنے والے مولوی تھے؟ ناجی صاحب کچھ تو خدا کا خوف کیجئے! کچھ تو عقل و شعور کے ناخن لیجئے!
ناجی صاحب! پاکستان کی تاریخ گواہ ہے مولویوں نے کبھی ملک توڑنے کی باتیں نہیں کیں، بلکہ آج بھی صرف مولوی ہی ایسا ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ سوات اور وزیرستان آپریشن بند کیا جائے، کیونکہ یہ دراصل ملک توڑنے کی سازش ہے۔ اس لئے کہ اپنی قوم اور عوام پر بمباری کرکے اس کو حکومت و اقتدار سے دور تو کیا جاسکتا ہے، اس سے ان کو قریب نہیں لایاجاسکتا، بنگلہ دیش کا ایک تجربہ آپ کے سامنے ہے، اسی طرح افغانستان اور عراق کا قضیہ بھی آپ کی آنکھوں سے اوجھل نہیں۔ ناجی صاحب! کل بنگلہ دیش کاآپریشن یا اس پر فوجی چڑھائی اگر ملک توڑنے کی سازش تھی تو آج کا سوات آپریشن کیونکر تحفظ پاکستان کا ذریعہ ہے؟
بحمدللہ ملا، مولوی کل بھی اپنی قوم پر چڑھائی کا مخالف تھا اور آج بھی اس کا مخالف ہے، کیونکہ تاریخ میں آج تک ایسی نظیر نہیں ملتی کہ کسی ملک نے اپنی عوام پر کارپٹ بمباری کی ہو اور اپنے ہی ۲۵/۳۰ لاکھ شہریوں کو گھر سے بے گھر کیا ہو اور ان کی اربوں کھربوں کی املاک، مکانات ‘دکانوں، ہوٹلوں اور کاروباری مراکز کو تباہ کیا ہو۔
ناجی صاحب! اگرسوات آپریشن ہی ضروری تھا تو کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ متعلقہ علاقوں میں کرفیو لگاکر سرچ آپریشن کیا جاتا اور ملک دشمن عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جاتی؟ یا یہ اعلان کردیا جاتا کہ فلاں تاریخ سے سرچ آپریشن ہوگا‘ جولوگ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘ وہ خودبخود ہمارے ملک سے نکل جائیں‘ اگر وہ پکڑے گئے یا جن لوگوں نے ان کو پناہ دی ہوگی، ان سب کے خلاف شدید ترین کارروائی کی جائے گی۔
لگتا ہے ناجی صاحب کو علماء دشمنی کا فوبیا ہوگیا ہے ، چنانچہ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ ہر جرم کے مرتکب کی جگہ کسی ملا مولوی کا نام لگاکر اپنے قلب و جگر کی آگ کو ٹھنڈا کرتے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ناجی صاحب کو اس موذی مرض سے نجات عطا فرمائے اور ان کی مُشکل کو آسان فرمائے۔آمین۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , جمادی الاخریٰ ۱۴۳۰ھ بمطابق جون ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ