افسوس ناک ملکی صورت حال کا پس منظر مولانا محمد امین اورکزئی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت !
افسوس ناک ملکی صورت حال کا پس منظر مولانا محمد امین اورکزئی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
افغان جنگ میں جب روس کو شکست ہوگئی اوروہ اپنے معاشی اور اقتصادی مسائل میں گھر گیا، توامریکا نے اپنے تئیں روس کو شکست دینے والے مسلمانوں کو اپنا حریف اور خطرناک دشمن جان کر ان کے خلاف جنگی حکمت عملی کے منصوبہ پر سوچنا اور غوروفکر کرنا شروع کردیا۔
چنانچہ مسلمانوں کو زیر کرنے اور ان کو شکست دینے کے منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ڈرامہ رچایا گیا، اور اس کا ذمہ دار اسامہ، القاعدہ، افغانستان اور مسلمانوں کو قرار دے کر بیک وقت ان سب کے خلاف اعلان جنگ کردیا گیا۔
شومیٴ قسمت! کہ اس وقت پاکستان کے حکمران ایسے لوگ تھے جو امریکی اشاروں پر ناچنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے، اس لئے وہ امریکا کی اس جنگ میں اس کے ہمنوا بن گئے اور اس کی ہر طرح کی مددومعاونت کرنے لگے۔
صرف یہی نہیں بلکہ امریکا نے اس سلسلہ میں جو کہا، اس کو بلاچوں و چرا مان لیا گیا۔ امریکا نے کہا: اسامہ، القاعدہ اور طالبان دہشت گرد ہیں، انہوں نے مان لیا، اس نے کہا: مسلمان دہشت گرد ہیں، انہوں نے آمنا کہا، اس نے کہا: علماء دہشت گرد ہیں، انہوں نے کہا :ٹھیک ہے، اس نے کہا: مدارس، مساجددہشت گردی کے اڈے ہیں، انہوں نے اُسے قبول کرلیا، اس نے کہا: پاکستان سے طالبان کی مدد ہورہی ہے، اور القاعدہ کے لوگ پاکستان میں ہیں، انہوں نے اس پر سر تسلیم خم کرلیا، اس نے کہا: پاکستان میں موجود طالبان اور القاعدہ کے خلاف ہم نے کارروائی کرنی ہے، انہوں نے اس سے بھی انکار نہ کیا۔یوں امریکا، افغانستان اور طالبان کوتو فتح نہ کرسکا، البتہ امریکا کی ہمنوائی میں ہمارے ”بڑوں“ نے اس کی برپا کردہ جنگ کو پاکستان کی سرزمین تک پھیلادیا، جب افغانستان کے طالبان کی طرف سے مزاحمت بڑھی تو امریکا نے پاکستان پر الزام لگانا شروع کردیا کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان میں ہیں۔ لہٰذا ہمارے دشمن ہمارے حوالے کئے جائیں، ورنہ ہم خود ان کو ٹھکانے لگانے آئیں گے۔ حسب معمول اس موقع پر بھی ملک و ملت کے ”بہی خواہوں“ نے کہا: آپ کو یہاں آنے کے تکلف کی ضرورت نہیں،اس خدمت کے لئے بھی ہم حاضرہیں۔
دیکھا جائے تو ملک بھر میں برپا جنگی صورت حال، سرحدی علاقوں، سوات، دیر، مالاکنڈ اور وزیرستان میں جاری آپریشن، ملک و قوم کے” بہی خواہوں“کی ملک وملت سے اسی ”محبت، الفت اور والہانہ لگاؤ“کاکرشمہ ہے۔
چونکہ روس کی شکست کے بعد امریکامسلمانوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن اور حریف جانتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ روس سے مقابلہ اور اس سے جیتنا آسان تھا، مگر مسلمانوں سے پنجہ آزمائی اور ان سے جیتنا ناممکن نہیں تو بہرحال مشکل ضرور ہے، اس لئے اس نے اپنے تمام اسباب و وسائل استعمال کرکے سب سے پہلے نام نہاد مسلمان لیڈروں اور حکمرانوں کو اپنا ہمنوا بنایا، پھر اربابِ اقتدار اور عوام کو ایک دوسرے سے بدظن کیا، طبقاتی کشمکش پیدا کی، لسانی منافرت کو ہوا دی، مسلمانوں کو دین و مذہب سے دور کرنے اور مساجد و مدارس سے متنفر کرنے کے لئے زر خرید لوگوں سے منافرت انگیز بیانات دلائے، مسٹر و ملا کی جنگ شروع کرائی، مساجد و مدارس پر حملے کرائے، مسلمانوں کے اکابر،اربابِ علم و فضل کو قتل کرایا، مسلمانون کی مقدس شخصیات خصوصاً حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے خلاف توہین آمیز خاکے بنوائے، مسلمانوں کو ہیجان میں مبتلا کیا، جذباتی نوجوانوں کو تشدد پر ابھارا، جب انہوں نے جذبات و ہیجان سے مجبور ہوکر کچھ کرنا چاہا تو ان کو دہشت گرد کا نام دیا گیا ،یوں خودپیدا کردہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ کے نام پرامریکہ کوبنفس نفیس پاکستان میں آنا پڑا،تو اسی کے ساتھ ساتھ افغان جنگ بھی مکمل طور پر پاکستان میں تشریف لے آئی۔
دیکھا جائے تو چودہ صدیوں سے مسلمان دوسری اقلیتوں کے ساتھ باہم شیروشکر رہ رہا تھا، آج تک کبھی اس پر ظلم و تشدد کا الزام اور تہمت نہیں لگی تھی، کیونکہ مسلمان اول و آخر امن پسند ہے، اگراس نے اپنے اقتدار و شوکت کے دور میں غیر مسلموں کو کچھ نہیں کہا، بلکہ ا ن کی جان و مال کی حفاظت کی ہے، تو آج مسلمان پوری دنیا میں مظلوم، مقہور اور مجبور ہے ․․․و ہ کیونکر دوسروں پر حملہ کرسکتا ہے؟ مگر چونکہ ملعون امریکا طے کرچکا ہے کہ مسلمانوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانا ہے اور ان کو مٹانے کے لئے ان کو دہشت گرد اور باغی باور کرانا ہے، اس لئے اس نے اپنے زر خریدوں کے ذریعہ خودکش حملے کا بہانہ اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کا مسئلہ کھڑا کردیا، بہت ممکن ہے بلکہ یقین کی حد تک کہا جاسکتا ہے کہ اس ملعون نے مسلمانوں کی صفوں میں اپنے ایجنٹ داخل کرکے ان کو جذبات دلانے، مشتعل کرنے، ملکی و قومی املاک اور شخصیات پر حملے کرانے کا منصوبہ بنایا ہو۔
بہرحال ہمارے خیال میں موجودہ صورت حال امریکا اور اس کے ایجنٹوں کی پیدا کردہ ہے، جس کا سارا نقصان پاکستان اور مسلمانوں کواور اس کا سارا فائدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو پہنچ رہا ہے ،اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ امریکا چین و سکون سے اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہے، دوسری طرف اپنی عوام سے دست و گریبان پاکستانی فورسز براہ راست ملکی اور بالواسطہ امریکی مفادات کی تکمیل کررہی ہے۔
اب تو نوبت بایں جارسید کہ پراپیگنڈا کے ذریعہ پوری دنیا میں دین دار مسلمان، ملا، مولوی، مسجد، مدرسہ اور دینی مدارس کے طلبا کو دہشت گردی کی علامات بنادیا گیا ہے، پرائے تو پرائے اپنے بھی ان کو دہشت گرد سمجھنے لگے ہیں اور ان کے نیست و نابود کرنے کو ملک و قوم کی خدمت تصور کیا جانے لگاہے، چنانچہ اب صورت حال یہ ہے کہ امریکا اور اس کے بہی خواہ جب اور جہاں چاہیں کسی دینی مرکز، مسجد، مدرسہ اور خانقاہ پر بمباری کرکے یا ڈرون حملوں کی خدمات حاصل کرکے اسے صفحہ ہستی سے مٹادیں، یا کسی ہنستی بستی معصوم آبادی، شہر اور قریہ کو خاک و خون میں تڑپادیں، تونہ صرف یہ کہ اس پر کسی کو کوئی دکھ نہیں ہوگا، بلکہ اگر انسانیت کے ناتے اس پر کوئی اظہار ہمدردی کرنابھی چاہے تو صاف کہہ دیا جاتا ہے: نہیں صاحب! اس پر افسوس نہ کریں، کیونکہ وہاں ملک و ملت کے خلاف منصوبہ بندی ہورہی تھی یا اس جگہ دہشت گرد پناہ گزین تھے، یا وہاں سپاہ گری کی تربیت دی جاتی تھی، ظاہر ہے ”قلم در کفِ دشمن است“ کے مصداق ان خاک و خون میں مل جانے والوں کوہی دہشت گردکہااور سمجھا جائے گا اور اس کے مقابلہ میں ظالم درندوں کو ملک و قوم کا خیر خواہ تصورکیا جائے گا ،کیونکہ پروپیگنڈہ نے عوامی ذہن کو اتنا تیار کردیا ہے کہ کوئی ان کے حق میں سننے، سوچنے، سمجھنے اور غوروفکر کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔
کچھ یہی صورت حال گزشتہ دنوں شاہو خیل ہنگو کے مشہور عالم دین، عظیم مصنف، مایہ ناز محقق، فرشتہ صفت انسان شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید کے مدرسہ پر بمباری کے بعد پیش آئی، چنانچہ مدرسہ، مسجد اور گھروں پر بمبارمنٹ کرنے، ان کو تباہ و برباد کرنے اور دسیوں علماء و معصوم طلبا کی شہادت کے بعد اخبارات میں جو بیان جاری کیا گیا، وہ نہایت ہی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے، لیجئے! اس کے لئے روزنامہ جنگ کی خبر ملاحظہ ہو:
پشاور / راولپنڈی (مانیٹرنگ سیل/ ایجنسیاں)ہنگو میں دہشت گردوں کے زیر استعمال مدرسے پر جیٹ طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ۳۱- افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بنوں، جنوبی وزیرستان، سوات اور مالا کنڈ کے دیگر علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے آپریشن راہ راست میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے ۷۶ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ جھڑپوں میں ۱۰- اہل کار شہید ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں سے ہنگو کے علاقے میں دہشت گردوں کے زیر استعمال مدرسے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اہم عسکریت پسند کمانڈر محمد امین سمیت ۳۱ شدت پسند ہلاک اور ۲۶ زخمی ہوگئے۔ جبکہ آئی ایس پی آر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ہنگو میں مدرسوں پر جیٹ طیاروں کی بمباری کی وضاحت کرتے ہوئے خبر کو من گھڑت اور پروپیگنڈا پر مبنی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے اس بات کی وضاحت کی کہ کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل انتہائی سوچ و بچار اور مصدقہ اطلاعات کی بنا پر کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی پریس ریلیز میں ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شاہو خیل اورکزئی ایجنسی میں قائم مدرسے کو دہشت گرد اور دوسرے شرپسند عناصر، سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کررہے تھے ،یہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات اور اغوا برائے تاوان میں ملوث شرپسندوں کی بھی کمین گاہ تھی، یہ بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہاں پر معصوم اور بے گناہ انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، حملہ کے وقت بھی اس مرکز پر ۴۰ دہشت گرد موجود تھے، جن میں سے ۱۳ ہلاک ہوچکے ہیں، جس کی مقامی ذرائع اور سول انتظامیہ نے بھی تصدیق کی ہے․․․“ (روزنامہ جنگ کراچی،۱۲/ جون ۲۰۰۹ء )
تصویر کے دوسرے رخ سے آگاہی کے لئے روزنامہ اسلام کی خبر ملاحظہ ہو:
”ہنگو/اورکزئی (مانیٹرنگ ڈیسک) ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ جیٹ طیاروں نے زرگیری اور شاہوخیل کے علاقوں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی صدر کے گھر اور دو مدرسوں پر بمباری کی ہے، جس میں کم سے کم ۱۲ افراد شہید ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ۵ خواتین اور بچے شامل ہیں۔ حملے میں ہنگو اورکزئی ایجنسی کے ایک سرکردہ اور ممتاز عالم د ین مولانا محمد امین اورکزئی اپنے بھتیجے سمیت شہید ہوگئے۔ مولانا محمد امین ہنگو اورکزئی ایجنسی کے ایک سرکردہ عالم د ین تھے۔ وہ سنی سپریم کونسل ضلع ہنگو کے سربراہ تھے۔ ان کا تعلق اورکزئی ایجنسی کے شیخان قبیلے سے بتایا جاتا ہے، جیٹ طیاروں نے شاہو خیل بازار میں بھی ایک مدرسے اور جامع مسجد کو نشانہ بنایا جس سے قریب واقع ایک گھر پر بم گرنے سے ۱۵ افراد جاں بحق ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ۳ خواتین ا ور ۲ بچے شامل ہیں۔ ہنگو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لڑاکا طیاروں نے جمعہ کی صبح ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقے زرگری میں واقع جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی امیر مفتی دین اصغر کے گھر پر بمباری کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے میں مفتی دین اصغر اور ان کے گھر سے ملحقہ دو گھر مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے، جس میں ۵ افراد ہلاک اور ۸ افراد زخمی ہوئے، تاہم حملے کے وقت مفتی دین اصغر گھر میں موجود نہیں تھے، مرنے والوں میں ۲ خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک ہونے والی خواتین جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر کی رشتہ دار بتائی جاتی ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ واقعہ میں مفتی دین اصغر کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئیں۔ حکام کے مطابق جیٹ طیاروں نے ہنگو کے علاقے شاہوخیل میں ممتاز عالم دین مولانا محمد امین کے مدرسے کو نشانہ بنایا جس میں وہ اپنے بھیجتے سمیت شہید ہوگئے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ضلع ہنگوکے تمام مدرسے احتجاجاً بند ہوگئے ہیں اور مولانا محمد امین کی ہلاکت کی خبر سننے کے بعد ہزاروں لوگ شاہو خیل پہنچنا شروع ہوگئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مولانا امین کی ہلاکت پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ مقامی انتظامیہ نے بھی ضلع بھر میں سیکورٹی سخت کردی۔ مرحوم مولانا محمد امین اورکزئی ایجنسی اور ہنگو کے ایک بااثر عالم سمجھے جاتے تھے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بمباری کی وجہ سے مدرسے کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ،انہوں نے کہا کہ شیلنگ کے وقت مدرسے میں کئی طالب علم موجود تھے جو عمارت گرجانے کی وجہ سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور جنہیں نکالنے کا کام جاری ہے۔“
(روزنامہ اسلام ۱۲/جون ۲۰۰۹ء)
دوسری جانب حقیقی صورت حال یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید نہایت ہی امن پسند عالم دین، علاقہ بھر کی عظیم علمی شخصیت، خالص تحقیقی انسان تھے، ان کا کسی دہشت گردی یا فرقہ واریت کی سرگرمیوں کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ موصوف کی برکت سے علاقہ میں پائی جانے والی شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ہوا اور علاقہ امن و امان کا گہوارہ بنا۔
حضرت مولانا محمد امین اورکزئی قدس سرہ کاقصور یہ تھاکہ انہوں نے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورئہ حدیث کیا، فراغت کے بعد تخصص فی الحدیث یعنی علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کی،بعدازاں ۱۳ سال تک جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں استاد و ناظم کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ کراچی کے کئی ایک مدارس کے اساتذہٴ حدیث ان کے شاگرد ہیں، انہوں نے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے بانی محدث العصر حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوری  کے خصوصی ایماء پر علم حدیث کی مشہور کتاب طحاوی شریف کی شرح لکھی،جس کی دوجلدیں”نثر الازہار علی شرح معانی الآثار“کے نام سے طبع ہوکر اہل علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ انہوں نے اس کے علاوہ بھی متعدد کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں حدیث شریف کی کتاب” مسند امام اعظم“ پر تحقیقی کام بھی انہیں کاکارنامہ ہے، جامعہ علوم اسلامیہ کی تدریس کے بعد انہوں نے اپنے علاقہ میں حضرت بنوری قدس سرہ کے نام پردینی ادارہ قائم کیا،وہاں شعبہ تصنیف وتالیف قائم کیا،علاقہ میں امن وامان قائم کرنے میں موٴثر کرداراداکیا،اللہ کی مخلوق کواللہ کے ساتھ جوڑا،غیراللہ سے منہ موڑ کراللہ سے لولگائی،اے کاش! کہ جمعرات کو ہونے والی بمباری سے مدرسہ کی عمارت کے ساتھ ساتھ وہ عظیم کتب خانہ اورعلم وتحقیق کاخزانہ بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جس میں حضرت مولانا محمد امین اورکزئی کی ۴۰ سال کی محنت سے جمع شدہ کتابیں موجود تھیں۔ ان میں مولانا کے وہ تمام علمی و تحقیقی مسودات بھی شامل تھے، جو شائع ہونے والے تھے، حدیث شریف کی مشہور کتاب طحاوی شریف پر کیا گیا ان کا تحقیقی کام اور دیگر زیر طبع کتب بمباری میں ملیا میٹ ہوگئیں۔ایسا لگتا ہے کہ مولانا مرحوم کو اپنی شہادت اور سفر آخرت کا کچھ اندازہ ہوگیا تھا،چنانچہ ہمارے دوست مولانامحب اللہ صاحب نے بتلایا کہ حضرت مولانامحمدامین شہید ایک روزقبل کسی عزیز کے جنازہ میں تشریف لے گئے،کسی وجہ سے جنازہ میں تاخیر کی گئی توواپسی پر بلکہ حادثے کی رات اپنے صاحبزادے مولانا محمد یوسف کو بلاکر وصیت کی تھی، انہوں نے اپنی وصیت میں صاحبزادے کو ہدایت کی کہ میرے مرنے کے بعد موت کا اعلان نہ کیا جائے، جنازے کے مقررہ وقت اور تدفین میں تاخیر نہ کی جائے۔ ذرائع کے مطابق بعدازں مولانا محمد امین اورکزئی نے اپنے صاحبزادے کو مدرسہ یوسفیہ اور دیگر لوگوں کی تمام امانتیں حوالہ کیں۔بتلایا جائے کہ ایسے ولی اوراللہ والے کومظلومانہ انداز میں شہیدکرنا،اس کے مدرسہ ،مسجد،کتب خانہ،معصوم علمأاورطلبہ کوابدی نیندسلادینا،کیاملک وقوم کے حق میں مفیدثابت ہوگا؟
ایسا لگتا ہے کہ یہ ساری صورت حال مملکت خداداد پاکستان سے دین، دینی اقدار، مساجد اور مدارس اور علماء کو بدنام کرنے، مسلمانوں کو ان سے بدظن کرنے اور معاشرے سے ان کے کردار کو ختم کرنے کی خاطر پیدا کی جارہی ہے۔ خاکم بدھن کیا اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ آئندہ جس مسجد، مدرسہ، ملا، مولوی کو راستے سے ہٹانا ہو، اس پر بمباری کرکے یا ڈرون حملوں کی خدمات حاصل کرکے یہ بیان دے دیا جائے کہ یہ لوگ ملک دشمن تھے، دہشت گرد تھے، اغوا برائے تاون کے مرتکب تھے، فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے، یہاں معصوم اور بے گناہ انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا،یہاں ملک و قوم اور حکومت کے خلاف منصوبہ بندی ہوتی تھی وغیرہ وغیرہ، بتلایا جائے اس طرح کوئی مسجد، مدرسہ،دینی ادارہ اور عالم دین ان کی دست بُرد سے محفوظ رہ سکے گا؟
حکومت اور اس کے زرخرید میڈیاکے برخلاف ملک بھر کے اکابر علماء اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید کی شخصیت،مرتبہ،مقام،خدمات، ان کے دینی ادارہ، علماء اور طلبا پر بمباری کے نقصانات واثرات کے سلسلہ میں کیا کہتی ہے؟ روزنامہ اسلام کراچی کے حوالہ سے ملاحظہ ہو:
”اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اورکزئی ایجنسی میں دینی مدرسہ پر پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں کا حملہ اور شیخ الحدیث مولانا محمد امین اورکزئی کی شہادت ایک قومی سانحہ ہے، اس اشتعال انگیز کارروائی کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ایسی ظالمانہ کارروائیوں سے اجتناب کریں، ان خیالات کا اظہار وفاق المداس العربیہ پاکستان کے رہنماؤں شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمد، علامہ ساجد میر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا مفتی محمد نعیم اور دیگر نے اورکزئی ایجنسی میں ایک مدرسہ پر پاک فضائیہ کے حملے اور اس کے نتیجے میں شہید ہونے والے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد امین کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا محمد امین بزرگ اور امن پسند عالم دین تھے اور دنیا بھر میں ا ن کے شاگردوں کا وسیع حلقہ موجود ہے۔ ان کی شہادت سے پاکستان میں قیام امن کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ اس اشتعال انگیز اور ظالمانہ کارروائی کے بہت بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، وفاق المدارس العربیہ کے رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمران ہوش کے ناخن لیں اور فوج کو امن پسند علماء ،طلبا اور بے گناہ عوام سے لڑانے اور بیک وقت بہت سے محاذ کھولنے سے اجتناب کریں۔ “ (روزنامہ اسلام، کراچی ۱۲/جون ۲۰۰۹ء)
ہمارا خیال ہے بلکہ ہر صاحبِ عقل و شعور کا وجدان بھی یہی کہتا ہے کہ اس سے اگلے روز، و ز ن برابر کرنے اور طالبان کو اس ردِ عمل کا ذمہ دار قرار دینے کے لئے بریلوی مکتبہ فکر کے ایک امن پسند اور صلح کل عالم دین کو خودکش حملہ کرکے شہید کردیا گیا۔ اس سلسلہ میں روزنامہ جنگ کی خبر ملاحظہ ہو:
”جامعہ نعیمیہ لاہور میں خودکش حملے کے نتیجے میں ملک کے ممتاز عالم دین اور جامعہ نعیمیہ لاہور کے منتظم علامہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور ان کے ۳ساتھیوں سمیت ۵- افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق علامہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں جامعہ نعیمیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد معمول کے مطابق اپنے دفتر میں جامعہ کے طلبا اور لوگوں سے ملاقات کررہے تھے کہ اسی اثنا میں خودکش حملہ آور اندر داخل ہوا اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکا سے اڑا دیا۔ خودکش حملے میں ڈاکٹر سرفراز نعیمی، ان کے معتمد ڈاکٹر خلیل، ان کے قریبی ساتھی عبدالرحمن ، راشد اور ایک نامعلوم شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ دفتر میں موجوددیگر افراد شدید زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، دھماکے سے مسجد اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی کو کیرن ہسپتال لے جایا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے، دھماکے کے وقت نمازیوں کی اکثریت نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے جاچکی تھی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت کی خبر ملتے ہی جامعہ کے طلبا، اساتذہ اور مولانا کے عقیدت مند، رفقاء، عزیز و اقارب اور رشتہ دار فوری طور پر مسجد پہنچ گئے اور انہوں نے ناقص سیکورٹی انتظامات پر احتجاج کیا۔ اس موقع پر بعض طلبا مشتعل ہوگئے اور ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر عقیدت مند، طلبا اور دیگر افراد دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور ہر آنکھ اشکبار تھی جبکہ شہر بھر میں سوگ کا سماں رہا۔ مظاہرین نے سیکورٹی کے ناقص انتظامات پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے اس موقع پر اسلام کے نام پر معصوم، بے گناہ اور نیک انسانوں کا ناحق قتل کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ مشتعل طلبا نے پولیس اہلکاروں اور میڈیا کے نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس، رینجرز اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار سوگواران کے احتجاج پر مدرسے سے باہر آگئے۔ تاہم ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے صاحبزادے راغب نعیمی، جامعہ نعیمیہ کے ذمہ داروں اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے طلبا کو صبر و تحمل کی تلقین اور پُرامن رہنے کی اپیل کی۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے صاحبزادے نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا ہے، اس کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، والد کی شہادت ملک کو محفوظ بنانے کے لئے ایک قربانی ہے جو کسی بھی صورت رائیگاں نہیں جائے گی․․․۔ “
(روزنامہ جنگ کراچی، ۱۳/جون۲۰۰۹ء)
اس صورت حال کا کسی قدر گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر محسوس ہوگا کہ اسلام دشمنوں اوران کے ایجنٹوں نے ان ہر دو واقعات میں جہاں علما اور اہلِ علم کو ختم کرنے کی ناپاک سازش کو پروان چڑھانے کی منصوبہ بندی کی ہے، وہاں دیوبندی، بریلوی نزاع کھڑا کرنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی غلیظ سازش بھی کی ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ہر دو طبقات کے سنجیدہ حضرات کو ،جنہوں نے اس سازش کو بھانپ کر بروقت اس کا سدباب کرلیا، ورنہ بہرحال صورت حال کچھ ایسی بن گئی تھی کہ اگرفرقہ واریت کی اس آگ کو ذرا سی ہوا دے دی جاتی، یا جذباتی کارکن ذرا سا بھی جذباتیت کا مظاہرہ کرتے تو ملک و قوم ایک دوسری مصیبت میں گھر جاتے۔
اس موقع پر ہم اہلِ علم، علماء، طلبا اور دین دار مسلمانوں سے عرض کرنا چاہیں گے کہ اس گھمبیر اور پریشان کن صورت حال کا ادراک کریں، اپنے دشمن کو پہچانیں، جذباتیت سے اجتناب و احتراز کریں اور ملک و قوم کی حفاظت کے ساتھ دین، دینی مدارس، مساجد اور دینی اقدار کی حفاظت کے لئے کوئی موٴثر لائحہ عمل اختیار کریں اور سر جوڑ کر بیٹھیں کہ اس صورت حال کا تدارک کیونکر ہو، اور وہ لوگ جن کو طالبان کا نام دے کر ملکی مفادات کا دشمن باور کرایا جارہا ہے، اور ان کے کندھے پر رکھ کر اسلام، مسلمانوں، دین، دینی اداروں، علماء اور طلبا کو مطعون کیا جارہا ہے، آخر وہ کون ہیں؟ کہیں ان کے ”اپنے لوگ“ طالبان کا روپ دھار کر یہ سب کچھ تو نہیں کررہے؟ یا کوئی بیرونی عناصر آپ کو اور آپ کے دین و مذہب اور قوم و ملک کو بدنام کرنے کی ناپاک سازشوں میں مصروف تو نہیں؟؟
اللہ تعالیٰ ملک ،قوم، دین، دینی اقدار، مساجد، مدارس، علماء اور طلبا کی حفاظت فرمائے اور جو لوگ ملک و قوم اور دین و ملت کے خلاف سازشیں کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب فرمائے۔آمین۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , رجب المرجب۱۴۳۰ھ - جولائی ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ