بھی تواسی کے حکم کے تابع ہے(صاوی تفسیر جلالین)
اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا
وَقُلْناَ یَانَارُکُوْنِیْ بَرْداًوَّسَلاَماًعَلٰی اِبْرَاہِیْمَ
اورہم نے کہا اے آگ ابراہیمؑ پرٹھنڈی اورسلامتی والی ہوجا۔
بوڑھا پے میں اولاد کی دعا
سیدنا ابراہیمؑ نے بوڑھاپے میں اللہ سے دعاکی
رَبِّ ہَبْ لِی مِنَ الصَّالِحِیْنَ اے میرے رب ایک صالح بیٹادے
اللہ تعالی نے دعا قبول فرمائی۔فَبَشَّرْنَاہٗ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ۔
ہم ابراہیمؑ کو ایک حلیم بیٹے کی بشارت دی
مانگ رہے ہیں’’صالح بیٹا‘‘اوردیا جارہا ہے ’’حلیم بیٹا‘‘
یہ اشارہ ہے اس طرف کہ ابراہیم !تم پراور تمہارے اس بیٹے پرہماری طرف سے وہ امتحانات اورآزمائشیں ہوں گی۔اس میں پورا اترنے کے لئے صالح کے ساتھ حلیم کی صفت کی ضرورت ہے،حلم،قوت برداشت،صبروتحمل کی ضرورت ہے۔ہم ایسا بیٹا دے رہے ہیں جوصالح ہونے کے ساتھ ساتھ صفت حلم سے بھی متصف ہے۔
تیسرا امتحان اورکامیابی
اوراب بوڑھاپے میں اللہ نے بیٹا دیا اورحکم آگیا کہ ابراہیمؑ اس بیٹے کو اوراس کی ماں کو بیابان جنگل میں ،وادی غیرذی زرع میں چھوڑآئو۔
چنانچہ اس پر بھی وہی بات ……سرتسلیم خم ہے جومزاج یارمیں آئے۔
پانی کی ایک مَشَک اورکھجورکی تھیلی یہ توشہ لیا اور بیوی بچے کو لیکر جنگل بیابان میں