الْبَائِعِ قِیَاسًا لِاَنَّہٗ ھُوْ الْمُدَّعِیْ وَیُوْجِبُہٗ اِسْتِحْسَانًا لِاَنَّہٗ یُنْکِرُ تَسْلِیْمَ الْمَبِیْعِ بِمَا اِدَّعَاہُ الْمُشْتَرِیْ ثَمَنًا وَھٰذَا حُکْمٌ تَعَدّٰی اِلَی الْوَارِ ثِیْنَ وَاِلَی الْاِجَارَۃِ فَاَمَّا بَعْدَ الْقَبْضِ فَلَمْ یَجِبْ بِہٖ یَمِیْنُ الْبَائِعِ اِلَّا بِالْاَثَرِ بِخِلَافِ الْقِیَاسِ عِنْدَاَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَاَبِیْ یُوْسُفَ فَلَمْ یَصِحْ تَعْدِیَتُہٗ
ترجمہ:-پھر جو حکم مستحسن ہے قیاس خفی کی وجہ سے اس کا تعدیہ صحیح ہے بر خلاف اس حکم کے جو مستحسن ہے نص یا اجماع یا ضرورت کی وجہ سے ،جیسے بیع ِسلم اور استصناع اور حوضوں اور کنوؤں اور برتنوں کا پاک کرنا، کیا تو نہیں دیکھتا ہے کہ بیع کے قبضہ سے پہلے ثمن میں اختلاف قیاساًبائع پر قسم واجب نہیں کرتا ہے،اس لئے کہ وہ مدعی ہے،اور یہ اختلاف استحساناًبائع پر قسم واجب کرتا ہے اس لئے کہ بائع مبیع کی تسلیم کا انکار کرتا ہے اس ثمن کے بدلہ جس کا مشتری دعوی کرتا ہے اور یہ ایسا حکم ہے جو وار ثین اور اجارہ کی طرف متعدی ہوگا،پس بہرحال قبضہ کے بعد اختلاف کی وجہ سے بائع کی قسم واجب نہیں ہوتی ہے مگر خلاف قیاس صرف اثر (نص)سے امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ،تو اس کا تعدیہ صحیح نہیں ہے۔
------------------------------
تشریح:-استحسان ایسی دلیل کو کہتے ہیں جو قیاسِ جلی کے معارض ہوتی ہے،قیاسِ جلی کے معارض کبھی نص ہوتی جس کو مصنف ؒ نے اثر سے تعبیر کیا ہے،جب نص معارض ہو تو اس سے جو حکم ثابت ہوگا اس کو کہیں گے یہ حکم استحسان بالنص سے ثابت ہے،__اور کبھی قیاس جلی کے معارض اجماع ہوتا ہے،تواس کو استحسان بالاجماع کہتے ہیں،__اور کبھی ضرورت قیاس جلی کے معارض ہوتی ہے اس کو استحسان بالضرورۃ کہتے ہیں،__ اور کبھی قیاس خفی معارض ہوتا ہے تو اس کو استحسان بالقیاس کہتے ہیں۔
غرض حکمِ شرعی کا ثبوت جیسے قیاسِ جلی سے ہوتا ہے،ایسے ہی اس کے معارض چار دلیلیںاور ہیں،(۱)استحسان بالنص(۲)استحسان بالاجماع (۳)استحسان بالضرورۃ (۴)استحسان بالقیاس ۔
اب مصنفؒ اس عبارت میں یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ مذکورہ دلائل سے جوحکم ثابت ہوتا ہے ،اس میں کہاں حکم اپنے موردپر رہے گا اور کہاں حکم کا اصل سے فرع کی طرف تعدیہ کرسکتے ہیں۔
چنانچہ فرمایا کہ جو حکم قیاس جلی کے مقابلہ میں استحسان بالقیاس سے ثابت ہو،تواس کاتعدیہ صحیح ہے یعنی اس حکم کی علت نکال کروہ حکم فرع کی طرف متعدی کرسکتے ہیں،اس پر دوسرے کو قیاس کرسکتے ہیں،اور استحسان بالقیاس کے علاوہ جو باقی تین قسمیں ہیں یعنی استحسان بالنص ،استحسان بالاجماع اور استحسان بالضرورۃ -ان تینوں سے جو حکم ثابت