ہوگا وہ اپنے مورد پر رہے گا،اس کا تعدیہ درست نہیں ہے، مصنفؒ سب کی مثالیں ذکر کررہے ہیں۔
استحسان بالنص کی مثال :-جیسے بیع سَلَم ،قیاس جلی کا تقاضا یہ ہے کہ بیع سلم جائز نہ ہو ،کیونکہ مبیع معدوم ہوتی ہے مگر خلافِ قیاس نص سے اس کا جواز ثابت ہے،حضورﷺنے فرمایا ’’منً اسلم منکم فَلْیُسْلِمْ فی کیل معلوم ‘‘ تم میں سے جو بیع سلم کرے وہ کیل معلوم میں بیع سلم کرے ،تو اس کا تعدیہ نہیں ہوتا ہے،لہٰذا بیع سلم پر قیاس کرکے بیع سلم کے علاوہ میں معدوم چیز کی بیع جائز نہ ہوگی۔
استحسان بالاجماع کی مثال :-استصناع یعنی سائز دیکر کوئی چیزبنواناجیسے موچی کو سائز دیکر چمڑے کے جوتے بنانے کا آڈر دیا اور ثمن بھی طے کردیا ،میعاد مقرر ہویا نہ ہو،قیمت پیشگی دے یا نہ دے__ یہاں بھی چونکہ مبیع معدوم ہے اس لئے یہ حکم قیاس ِجلی کے خلاف ہے ،البتہ تعامل کی وجہ سے شرعاً جواز ثابت ہے ،تو یہ حکم خلاف ِقیاس استحسان بالاجماع سے ثابت ہے،اور اس میں بھی تعدیہ درست نہیں ہے ،لہٰذا اس پر قیاس کرکے معدوم کی بیع جائز نہ ہوگی۔
استحسان بالضرورۃکی مثال :- جیسے حوض ،کنواں اور برتن ناپاک ہوجائے تو اس کی طہارت کا طریقہ یہ ہے کہ حوض اور کنویں کا پانی نکال دیا جائے اور برتن دھولیا جائے،تو طہارت حاصل ہوجائے گی، کیونکہ اس میں لوگوں کی عام حاجت وضرورت ہے،اور ضرورت ِعامہ کا حکمِ شرعی میں اثر ہوتا ہے،لہٰذا اس کی طہارت کا حکم استحسان بالضرورۃ سے ثابت ہوا__ حالانکہ قیاس ِجلی کا تقاضا تو یہ ہے کہ طہارت حاصل نہ ہو ،کیونکہ ان چیزوں کو کپڑے کی طرح نچوڑکر ناپاک اجزاء نکالنا ممکن نہیں ہے،__مگر خلافِ قیاس استحسان بالضرورۃ سے طہارت کا حکم ثابت ہوا،اور اس میں بھی تعدیہ نہیں ہے ، لہٰذا اس پر کسی دوسرے کو قیاس نہیں کرسکتے ۔
الاتری:-استحسان بالقیاس الخفی کی مثال بیان کررہے ہیں کہ جیسے زید نے اپنا موبائل بیچااور ابھی موبائل زید ہی کے پاس ہے اور مقدار ثمن میں جھگڑا ہوا، زید کہتا ہے کہ موبائل دوہزار میں بیچاہے اور بکرجو مشتری ہے وہ کہتا ہے کہ پندرہ سو میں خریدا ہے__ تو ظاہری اعتبار سے زید مدعی ہے اور بکرمُنْکِر ہے،کیونکہ زید زیادہ ثمن کا دعوی کرتا ہے اور بکر انکار کرتا ہے،اور قاعدہ ہے البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر-تو قیاس جلی کاتقاضا یہ ہے کہ زید سے گواہ طلب کیا جائے اور گواہ نہ ہوتو مشتری (بکر ) سے قسم لی جائے ۔
اور استحسان اور قیاس خفی کا تقاضا یہ ہے کہ بائع اور مشتری دونوں سے قسم لی جائے ،اور بیع کو فسخ کردیا جائے __ کیونکہ ظاہری طور پر جیسے بائع مدعی اور مشتری مُنْکِر ہے،ایسے ہی غورسے دیکھا جائے تو بائع بھی مُنْکِر ہے ،کیونکہ مشتری (بکر) دعوی کرتا ہے کہ میں اس موبائل کو پندرہ سو میں لینے کا حق دار ہوں، اور بائع (زید )اس کا مُنْکِر ہے، معلوم ہواکہ الگ الگ جہت سے دونوں منکر ہوئے ،لہٰذا دونوں پر قسم واجب ہے،اور دونوں کی قسم کے بعد بیع فسخ کردی