ہوگیا ،لیکن وجوب ِادا ایک مہینہ کے بعد ہوگا ،تو یہاں وجوبِ ادا اور نفس ِوجوب میں فصل ہوا،اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مال میں عدم ِوجوبِ ادا عدمِ نفس ِ وجوب پر دلالت نہیں کرتا ہے، یعنی ایسا ہوسکتا ہے کہ مال کا نفس ِوجوب تو ثابت ہوجائے اور وجوب ِادا ابھی نہ ثابت ہو،اور نفس ِوجوب ثابت ہوجانے کے بعد واجب کو وجوب ا دا کے ثابت ہونے سے پہلے ادا کرنا جائز ہے،جیسے کہ مالک ِنصاب کے لئے حولانِ حول سے پہلے زکوۃ ادا کرنا جائز ہے،اور مشتری کے لئے ثمن مؤجل کو میعاد پوری ہونے سے پہلے ادا کرنا جائز ہے،__لیکن جو بدنی واجب ہے اس میں نفس ِوجوب اور وجوب ِادا میں فصل نہیں ہوسکتاہے ،بلکہ وجوب ِادا ہی کا نام نفس وجوب ہے،لہٰذا کفارہ ٔبدنی میں وجوبِ ادا حانث ہونے کے بعد ہے تو نفس ِوجوب بھی حانث ہونے کے بعد ہی ہوگا کیونکہ واجب ِبدنی میں وجوب ِادا ہی نفس وجوب ہے،فلما تاخر الاداء سے مصنف یہی سمجھا رہے ہیں،کہ جب وجوب ِادا مؤ خر ہوگیا تو نفس ِوجوب بھی پہلے باقی نہیں رہا بلکہ وہ بھی مؤخر ہوگیا،اور جب مؤ خر ہوگیا تو حانث ہونے سے پہلے بدنی کفارہ ادانہیں کرسکتا ہے۔
بہر حال امام شافعی ؒ کے نزدیک حانث ہونے سے پہلے کفارہ ٔمالی دے سکتا ہے، کفارۂ بدنی نہیں ادا کرسکتا ہے، اور احناف کے نزدیک چونکہ کفارہ کا سبب یمین نہیں ہے بلکہ حانث ہونا ہے تو کفارہ حانث ہونے کے بعد ہی واجب ہوگا ، چاہے کفارۂ مالی ہو یا بدنی، اگر کوئی پہلے ادا کردے تو اس کا اعتبار نہ ہوگا حانث ہونے کے بعد اعادہ ضروری ہے۔
وَاِنَّا نَقُوْلُ بِاَنَّ اَقْصٰی دَرَجَاتِ الْوَصف اِذَا کَانَ مُؤَثِّرًا اَنْ یَّکُوْنَ عِلَّۃً لِلْحُکْمِ کَمَا فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی اَلزَّانِیْ وَالسَّارِقُ وَلَا اَثَرَ لِلْعِلَّۃِ فِی النَّفْیِ بِلَاخِلَافٍ
ترجمہ:-اور ہم کہتے ہیںکہ وصف کے درجات میں اعلی درجہ جب کہ وہ مؤثر ہو یہ ہے کہ وہ حکم کے لئے علت ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ’’الزانی والسارق‘‘ میں اور علت کا کوئی اثر نہیں ہے نفی میں بغیر کسی اختلاف کے ۔
------------------------------
تشریح:-کچھ باتیں بطور تمہیدکے سمجھ لیں ،امام شافعی ؒ نے جو بات کہی وہ پانچ مقدمات سے مرکب ہے (۱)مقدمہ ٔاولی انہوں نے وصف کو شرط کے ساتھ لاحق کیا (۲)مقدمہ ٔثانیہ تعلیق بالشرط مانع حکم ہے،مانعِ انعقاد سبب نہیںہے، (۳)مقدمہ ٔ ثالثہ طلاق اور عتاق کو ملک پر معلق کرنا باطل ہے (۴)مقدمہ ٔ رابعہ کفارہ ٔ مالی قبل الحنث جائز ہے (۵ )مقدمہ ٔ خامسہ امام شافعی ؒ نے واجب ِمالی اور واجب ِبدنی میں فرق کیا ہے ۔ہمارے نزدیک یہ پانچوں مقدمات باطل ہیں ، مصنف ؒ ترتیب وار ہر ایک کی تردید کرینگے ،پہلے مقدمہ ٔ اولی کی تردید ہے۔
حضرت والا !آپ نے وصف کو شرط کا درجہ دیا ،اور یوںفرمایا کہ جیسے شرط کے انتفاء سے حکم کا انتفاء ہوتا ہے،