مقربین الٰہی کی توہین کا وبال !
مقربین الٰہی کی توہین کا وبال!

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!
آج کل عام طور پر یہ وبا اور رَوِش چل نکلی ہے کہ جس کے جی میں جو آتا ہے اُگل دیتا ہے، چاہے کوئی بڑا ہو یا چھوٹا، عالم ہو یا جاہل، بزرگ ہو یا شیخ، استاذ ہو یا پیر، اس کی کوئی ایسی بات، قول، فعل اور عمل جو سمجھ میں نہ آئے، اس پر اعتراض و تنقید کے نشتر چلا دیئے جاتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اگر کوئی مقرب بارگاہ الٰہی ایسا کررہا ہے تو یقینا اس کے پاس کوئی دلیل یا جواز ہوگا، جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہا؟ یا وہ ہمارے علم میں نہیں، کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے، مختصر یہ کہ بجائے اس کے کہ نہایت ادب اور سلیقہ سے ہم اس مقبول بارگاہ الٰہی سے اس کے قول، فعل یا عمل کی وجہ، علت اور حکمت پوچھتے، اپنی ہانکنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، بلاشبہ یہ رَوِش بہت ہی خطرناک ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ دین دشمنوں نے ہماری نئی نسل کے کان میں یہ افسوں پھونک دیا ہے کہ تم کسی سے کم نہیں ہو، لہٰذا جو بات تمہاری عقل و فہم میں نہ آئے وہ غلط ہے، بلکہ صحیح وہ ہے جو تمہیں صحیح اور سچ نظر آئے، غالباً اسی وجہ سے ہماری نوجوان نسل، ہر بڑے، چھوٹے اور عالم و جاہل پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتی ہے، بالفرض اگر کوئی بندہٴ خدا ان کو اس سے باز رہنے کی تلقین کرے تو اس کی دل سوزی پر مبنی اس نصیحت کو بھی اندھی تقلید کی تلقین کے نام سے جھٹک دیا جاتا ہے۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں بلکہ اپنے اس غیر معقول فعل اور عمل کے جواز کے لئے طرح طرح کے دلائل و براہین تراشے جاتے ہیں، بلاشبہ اس مرض میں لکھے، پڑھے اور جاہل، عوام اور خواص سب ہی مبتلا ہیں، غالباً ان کو اس اندھی تنقید و تنقیص کے انجام بد کا علم نہیں، اگر انہیں اس کے خطرناک انجام کا علم ہوجائے تو شاید وہ اس کی جرأت نہ کریں۔
اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ احادیث مبارکہ میں ایسے ناقدین کے بارہ میں جو وعید آئی ہے، اسے افادہ عام کے لئے ذیل میں درج کردیا جائے، لیجئے ملاحظہ فرمایئے:
الف:… ”عن ابی سعید بعث علی الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بذہیبة فقسمہا بین اربعة: الاقرع بن حابس الحنظلی ثم المجاشعی وعیینة بن بدر الفزاری وزید الطائی ٴثم احد بنی نبہان وعلقمة بن علاثة العامری ثم احد بنی کلاب فغضبت قریش والانصار، فقالوا یعطی صنادید اہل نجد ویدعنا، قال انما اتأ لفہم ،فاقبل رجل غائر العینین، مشرف الوجنتین نأتی الجبین، کث اللحیة محلوق، فقال: اتق اللّٰہ یا محمد! فقال: من یطع اللّٰہ اذا عصیت؟ ایأ مننی اللّٰہ علی اہل الارض فلا تامنونی؟ فسألہ رجل قتلہ، احسبہ خالد بن الولید، فمنعہ، فلما ولیّٰ قال: ان من ضئضیٴ ہذا اوفی عقب ہذا قوماً یقرأو ن القرآن لایجاوز حناجرہم، یمرقون من الدین مروق السہم من الرمیة، یقتلون اہل الاسلام ویدعون اہل الاوثان، لئن انا ادرکتہم لاقتلنہم قتل عاد۔“ (صحیح بخاری، ص:۲۔۴۷۱، ج:۱)
ترجمہ: ”حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا، آپ نے اس کو چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی جو بعد میں بنو نبہان میں شامل ہوگئے تھے، اور علقمہ بن علاثہ عامری، جو بعد میں بنو کلاب میں شامل ہوگئے تھے، کے درمیان تقسیم فرمایا، تو اس پر قریش اور انصار نے ناگواری محسوس کی اور کہنے لگے کہ ہمیں چھوڑ کر اہلِ نجد کے سرداروں کو دیا گیا ہے، آپ نے فرمایا: میں نے صرف ان کی تالیف قلب کی غرض سے ان کو دیا ہے، اتنے میں ایک شخص جو گہری آنکھوں، بھدے انداز میں ابھری رخساروں، باہر نکلی ہوئی پیشانی، گھنی داڑھی اور محلوق الرأس...سر کے منڈے بالوں والا...تھا، کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈریئے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اس کی اطاعت کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر امین بناکر بھیجا ہے، لیکن کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، لیکن آپ نے انہیں اس سے روک دیا اور اس فعل کی اجازت نہ دی، پھر جب وہ شخص اٹھ کر جانے لگا تو آپ انے فرمایا کہ اس کی نسل سے یا آپ انے فرمایا کہ اس کے بعد اس کی قوم سے ایک ایسی جماعت پیدا ہوگی جو قرآن کی تلاوت تو کرے گی، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، یہ اہل ِ اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑدیں گے، یعنی ان کو کچھ نہ کہیں گے، اگر میں ان کو پالیتا یعنی ان کے نکلنے کے وقت میں زندہ ہوتا تو میں تو ان کو قتل کرکے ان کا ایسا صفایا کرتا، جیسے قوم عاد کا عذاب الٰہی سے صفایا کیا گیا۔“
ب:… ”عن ابی سعید قال: بعث الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم بشیٴ، فقسمہ بین اربعة وقال: اتألفہم، فقال رجل: ما عدلت، فقال یخرج من ضئضیٴ ہذا قوم یمرقون من الدین۔“ (صحیح بخاری، ص:۶۷۳، ج:۲)
ترجمہ: ”حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کوئی چیز آئی تو آپ نے اُسے چار آدمیوں... اقرع بن حابس، عیینہ بن بدر، زید طائی اور علقمہ بن علاثہ... میں تقسیم فرمادیا اور فرمایا کہ میں نے... یہ اس لئے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب ہو، ایک آدمی...ابو الخویصرہ...نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تقسیم میں عدل نہیں کیا، اس پر آپ ا نے فرمایا کہ اس آدمی کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے نکل جائیں گے۔“ دراصل ابتدأ اسلام میں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ایسے لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوتے ان کی دل داری کے لئے ان کی مالی مدد کا حکم تھا اور ایسے لوگوں کو مؤلفة القلوب کہا جاتا ہے، چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے وہ مال ان چار نئے مسلمان ہونے والوں کے درمیان تقسیم کیا، تو ابتداءََ قریش اور انصار کے لوگوں کو بھی اشکال ہوا مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ میں نے تالیف قلب کے لئے ایسا کیا ہے، تو ان کو بات سمجھ میں آگئی، مگر ابوالخویصرہ کو پھر بھی سمجھ نہ آئی اور اس نے گستاخی کرتے ہوئے کہاکہ: ”اے محمد! اللہ سے ڈریئے!“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے نکل جائیں گے۔ اس لئے حضرات علماء کرام فرماتے ہیں کہ ان احادیث مبارکہ سے چند باتوں کی نشاندہی ہوتی ہے:
۱:… یہ رَوِش آج کی نہیں زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے۔
۲:… یہ رَوِش مسلمانوں کی نہیں، بلکہ ان لوگوں کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے مگر دل و جان سے آپ کے احکام ،اوامر، قضایاا ور فیصلوں پر راضی نہ تھے۔
۳:… ایسے ناقدین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کو بھی نعوذباللہ! اپنی تنقید سے بالاتر نہیں سمجھا۔
۴:… ایسے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اگر خدانخواستہ میں عدل و انصاف نہیں کرتا اور میں بھی اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو بتلاؤ! اللہ کی زمین پر میرے علاوہ دوسرا کون ہے جو عدل و انصاف کرتا ہے یا اللہ کی اطاعت کرتا ہے؟
۵:… ایسے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کرام زندہ رہنے کے قابل نہیں سمجھتے تھے، جب ہی تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے قتل کی اجازت مانگی تھی۔
۶:… ایسے لوگ اپنے اس قبیح طرز عمل اور روش بد کی بنا پر حضرات اہلِ حق کی جماعت سے خارج تھے۔
۷:… ایسے لوگوں کی اس بدعملی کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ان کی نسلوں سے دین و دیانت ایسے نکل جائے گی، جیسے تیر اپنے کمان سے نکل جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بے شک وہ کلمہ اور قرآن پڑھتے ہوں گے، مگر ان کو اس کا فائدہ نہیں ہوگا بلکہ جیسے تیر اپنے نشانہ سے پار نکلتے ہوئے اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جاتا، ٹھیک اسی طرح یہ لوگ بھی قرآن کی تلاوت سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔
۸:… ایسے لوگ بے شک قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے دل میں نہیں ہوگا، بلکہ قرآن صرف ان کے حلق اور گلے تک رہے گا۔
۹:… ایسے لوگوں کی نسل ایسی بے دین ہوگی کہ وہ کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کا قتل عام کرے گی۔
۱۰:… ایسے لوگوں کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو ان کو قتل کرکے ان کا ایسا صفایا کردوں، جیسے قوم عاد کا اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے صفایا کردیا تھا۔
الغرض ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے بڑوں اور بزرگوں کی جائز باتوں اور مبنی برحکمت اقوال و افعال پر تنقید برائے تنقید کرتے ہیں، ان کو دنیا میں نقد یہ سزا دی جائے گی کہ ان کی اولاد بے دین اور ملحد پیدا ہوگی۔
لہٰذا اگر کوئی شخص چاہے کہ اس کی اولاد مسلمان رہے اور بے دین و ملحد نہ ہو، تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے اکابر و بزرگان دین کے کسی قول و فعل پر بے جا اعتراض و تنقید نہ کرے اور ان کی بے ادبی و گستاخی نہ کرے، ہاں اگر کسی بات کی کوئی حکمت یا دلیل سمجھ میں نہ آئے تو دانشمندی، سلیقہ اور ادب و آداب کے ساتھ اس کے بارہ میں سوال کرسکتا ہے۔
اسی طرح یہ غلط فہمی بھی نہ ہونی چاہئے کہ بہت سے اصاغر نے اپنے اکابر سے اختلاف کیا ہے تو ہم کیوں اختلاف نہیں کرسکتے؟ اس لئے کہ ایک ہے ادب وآداب اور دلائل و براہین سے کسی بڑے کے مؤقف سے اختلاف کرنا ،اور ایک ہے اس پر اعتراض و تنقید کرنا، ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جہاں تک دلائل و براہین کے ساتھ اور ادب و آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی بڑے کے موقف سے اختلاف کرنے کی بات ہے تو نہ صرف اس کی اجازت ہے، بلکہ ایسا اختلاف رحمت ہے، لیکن اس کے برعکس اگر کسی نے بڑوں کے موقف کو سمجھے بغیر اس پر بے جا تنقید کی یا توہین و تنقیص کا رویہ اپنایا تو یہ گستاخی کہلائے گی اور اس گستاخی پر یہ وعید سنائی گئی ہے کہ جو لوگ ایسا کریں گے ان کی اولاد بے دین و ملحد پیدا ہوگی۔
حضرات علماء اور محققین نے فرمایا ہے کہ جس طرح حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کی توہین و تنقیص یا ان پر بے جا تنقید پر یہ وعید ہے، ٹھیک اسی طرح وہ لوگ جو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے سچے وارث اور صحیح جانشین ہیں، ان کی توہین و تنقیص یا ان کی گستاخی اور بے ادبی کا بھی یہی حکم ہے، چنانچہ حدیث قدسی میں ہے:
”من عادیٰ لی ولیاً فقد آذنتہ بالحرب“ (مشکوٰة، ص:۱۹۷)
ترجمہ:۔ ”جس نے میرے کسی ولی کی مخالفت اور عداوت کی، میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔“
لہٰذا جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد گمراہ نہ ہو، وہ قرآن و سنت اور دین و شریعت پر عمل پیرا رہے، یا وہ جادہٴ حق پر قائم اور صراطِ مستقیم پر گامزن رہے تو ان کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے دور کے اکابر علماء، محققین اور خدا ترس صلحاء سے دلائل و براہین کے ساتھ اختلاف ضرور کریں، کیونکہ یہ ان کا حق ہے، مگر خدارا! ان کی توہین و تنقیص سے پرہیز کریں، کیونکہ اس سے ان کی اولادوں اور نسلوں کے بے دین اور ملحد و خارجی ہونے کا شدید اندیشہ ہے، چنانچہ ایسی بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ جن لوگوں نے اکابر علماء اور صلحا کی گستاخی یا بے ادبی کی، نہ صرف یہ کہ ان کی اولاد بے دین و گمراہ ہوگئی بلکہ ان کا انجام بھی کچھ اچھا نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کواور ہماری نسلوں کو گستاخی اور بے ادبی سے بچنے، اہل اللہ اور مقربین بارگاہِ الٰہی کی قدردانی کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , شوال المکرم:۱۴۳۰ھ - اکتوبر: ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ