حج․․․ایک عاشقانہ رمز !
حج․․․ایک عاشقانہ رمز

الحمدللّٰہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی
حج اسلام کا پانچواں رکن، اس کی اہم ترین عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے ۔ حج جانی و مالی عبادتوں کا امتزاج اور مجموعہ ہے۔ حج سفری صعوبتوں کی تعب اور مشقتوں کا حامل ہے،اسی لئے اس کو جہاد کا مماثل کہا گیا ہے۔
دیکھا جائے تو حج اپنے احکام، ارکان، اعمال، افعال، مناسک اور عبادات کے ساتھ ساتھ طاعتِ محض ، امتثالِ مجرد، بے چوں و چرا حکم الٰہی بجالانے ، اس کے ہر حکم اور مطالبہ کے آگے سر جھکانے اور انقیاد و تسلیم کا نام ہے۔ حج کے افعال و اعمال مظاہر عشق ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کے افعال و اعمال عقل و فہم میں آئیں یا نہ آئیں، انہیں ادا کیا جاتا ہے، چنانچہ تمام انبیاء کرام ، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین، علماء، صلحاء، عارفین امت اور اہل ذوق و محبت نے بھی ٹھیک اسی طرح انہیں بے چوں چرا ادا کیا،اور ہونا بھی یہی چاہیے،کیونکہ عبدیت کی شان اوراس کا طرئہ امتیازہی یہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک حاجی اپنی عقل و فہم، ذوق و مزاج اورپسندوناپسندکوحکم الٰہی پرقربان کرنانہ سیکھے یاجب تک اس میں یہ جذبہ پیدا نہ ہو،وہ حج نہیں کرسکتا۔
اس لیے کہ کسی کی عقل وفہم اورذوق ومزاج میں یہ کیونکر آسکتا ہے کہ ایک خوش حال اور فارغ البال انسان اپنے گھر بار، عیش ، آرام، راحت، سکون، لباس ،پوشاک اور زیب و زینت کی ساری شکلوں کو قربان کرکے کفن کی سی دو چادریں لپیٹ کر دیوانہ وار عشقیہ ترانہ: ”لبیک اللّٰہم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک ،ان الحمد والنعمة لک والملک لا شریک لک“ کہتے ہوئے گھر سے نکل پڑے، یہاں تک کہ اسے اپنی بیوی، بچوں، گھر بار، دکان، مکان، عیش، آرام، عہدہ، منصب، حکومت و اقتدارتک کی کوئی پرواہ نہ رہے، صرف یہی نہیں، بلکہ بے آب و گیاہ وادی اور سنگلاخ خطہ میں واقع ایک چاردیواری کے گرد دیوانہ وار چکر لگاتاپھرے۔
دلائل وبراھین اورشواہدو آثاربتلاتے ہیں کہ ا للہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے،جیساکہ ارشاد الٰہی ہے: ”نحن اقرب الیہ من حبل الورید“...ہم اس کی شہ رگ سے بھی قریب تر ہیں...اسی طرح وہ اپنے بندے کی دور و نزدیک سے سنتا اور قبول کرتا ہے، کیونکہ ارشاد الٰہی ہے کہ: ”واذا سألک عبادی عنی فانی قریب، اجیب دعوة الداع اذا دعان“... میرے بندے آپ سے میرے بارہ میں پوچھتے ہیں؟...انہیں بتلاؤ...کہ میں قریب ہی ہوں ، میرا کوئی بندہ جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا اور پکار کو سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں...
اب سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے بلکہ ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے اور اپنے بندے کی ہر صدا کو ہر جگہ سے سنتا، جواب دیتا اور قبول کرتا ہے، توعقل کہتی ہے کہ پھر گھر بار، بیوی بچوں اور وطن وملک سے دور کیوں جایا جائے؟ اور اپنی یہ کیفیت کیوں بنائی جائے؟ اور اس کے لئے اتنے مصارف کی قربانی کیوں دی جائے؟
مگر عشق کہتا ہے: نہیں !ہمارے مالک کا بلاوا اور ہمارے خالق کا حکم اور محبوب و معشوق کی چاہت ہے، اس لئے ہم اپنے رب کے بلاوے پرضرور جائیں گے، جیساکہ فرمان الٰہی ہے:
”واذن فی الناس بالحج یأتوک رجالا وعلیٰ کل ضامر یأتین من کل فج عمیق۔“ (الحج:۲۷)
ترجمہ:”اورپکاردے لوگوں میں حج کے واسطے کہ آئیں تیری طرف پاوٴں چل کراو ر سوارہوکر دبلے دبلے اونٹوں پرچلے آئیں راہوں دور سے“
اسی طرح ان کا فرمان ہے:
”وللّٰہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا، ومن کفر فان اللّٰہ غنی عن العالمین۔“ (آل عمران:۹۷)
ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے، جس شخص کو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو، اور جس نے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ بے شک تمام جہانوں سے بے نیاز ہے“
لہٰذا عاشق ان احکام و اوامر کے امتثال و بجاآوری کے لیے سب کچھ قربان کرکے اپنے خالق و مالک کی رضا جوئی کے لئے نہ صرف چل پڑتا ہے ،بلکہ معشوق نے جو کیفیت و ہئیت بناکر آنے کا مطالبہ کیا،اس کے اپنانے کوبھی اپنے لئے سرمایہ عزت و افتخار سمجھتا ہے۔
پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عام حالات میں کوئی مہذب انسان اور باحیاء مسلمان اپنا پسندیدہ لباس اتارکر کفن کی دو چادروں کے ساتھ کسی سنجیدہ محفل و اجتماع میں جانا تو درکنار، گھر سے باہر نکلنا بھی گوارا نہیں کرتا، مگر جب کسی حاجی کو اپنے محبوب کی جانب سے اس طرز لباس کو اپنانے کا حکم ملتا ہے تو وہ اپنے خلقی، طبعی اور ذوقی تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر اس کو نہ صرف اپناتا ہے بلکہ اس کو مایہ افتخار سمجھتے ہوئے اپنے گھر، وطن اور ملک کے بجائے دنیا بھر کے بڑے اجتماع میں جانے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور بالفعل اس میں پہنچ بھی جاتا ہے۔
یہ بھی اسی انقیاد وتسلیم کی برکت ہے کہ حاجی کے سفرِحج کے ایک ا یک قدم پر نیکیوں کے انبار لگتے ہیں اور اس کے گناہوں کے مٹانے اور درجات کی بلندی کا سامان ہوتا ہے،چنانچہ اس پرمتعدداحادیث وآثارموجود ہیں،لیجئے ان میں سے چند ایک ملاحظہ ہوں:
۱:․․”․ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ قبیلہ ثقیف اور انصار میں سے دو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: مجھے ان امور کے بارے میں بتایئے، اے اللہ کے رسول۔ (چنانچہ آپ نے خود ان کے سوالوں کو جان لیا اور فرمایا: تم ان سوالوں کے جواب کے لئے آئے ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم اپنے گھر سے بیت اللہ (حج) کے ارادے سے نکلو گے تو تمہاری اونٹنی کا قدم جتنا اٹھے گا اور بیٹھے گا ،اس کے بدلہ نیکی لکھی جائے گی اور گناہ معاف ہوں گے ، اور طواف کے بعد دو رکعت کا ثواب خاندان اسماعیل کے غلام کی آزادی کے برابر ثواب پاؤ گے اور صفا مروہ کی سعی کا ثواب ستر غلام کی آزادی کے مثل پاؤ گے، اور تمہارا وقوفِ عرفہ سو اس وقت اللہ پاک آسمان دنیا پر اتر آتے ہیں اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر فرماتے ہیں، اور کہتے ہیں: دور دراز کی مسافت طے کرکے پراگندہ حال میرے بندے میرے پاس آتے ہیں، مجھ سے جنت کی امید کرتے ہوئے،پس اگر تمہارے گناہ ریت کی مقدار کے برابر، یا بارش کے قطروں کی مقدار یا سمندر کی جھاگ کے مانند (یعنی اس قدر کہ شمار سے باہرہوں گے) تو اسے معاف کردوں گا، چلو کوچ کرو میرے بندے عرفات سے تم بخشے بخشائے ہوگئے ا ور اس کی بھی جس کی تم شفاعت کروگے اور تمہارا کنکری مارنا سو ہر کنکری جو تم ماروگے ہلاک کرنے والے بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے، اور تمہارا قربانی کرنا ،پس وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کا ذخیرہ ہے، اور تمہارا سر کا حلق کرانا، سو ہر بال کے بدلے ایک نیکی اور گناہوں کی معافی ہے اور تمہارا اس کے بعد طواف (زیارت) کرنا، اس حال میں طواف کرنا ہوگا کہ کوئی گناہ نہ ہوگا، فرشتے آئیں گے تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھیں گے جو چاہے آئندہ عمل کرو، گزشتہ گناہوں کی معافی ہوگئی ہے۔ “
(ترغیب:۲/۱۷۶، القریٰ:ص:۳۶، طبرانی، کبیر، ابن حبان)
۲:․․․” حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ: جب تم بیت اللہ کے ارادے سے آؤگے جو قدم رکھوگے یا اٹھاؤ گے تم یا تمہاری سواری تو تمہارے لئے نیکی لکھی جائے گی اور درجہ بلند ہوگا اور تمہارا جو وقوفِ عرفہ ہوگا سو اللہ پاک فرشتوں سے فرمائیں گے : اے میرے فرشتے! میرے بندے کیوں آئے ہیں؟ وہ کہیں گے وہ آپ کی رضا مندی اور جنت حاصل کرنے آئے ہیں تو اللہ پاک فرمائیں گے: میں اپنے آپ کو اور مخلوق کو گواہ بناکر کہتا ہوں میں نے ان کی مغفرت کردی ،چاہے ان کے گناہ زمانہ کے ایام کے مثل یا ریت کے مانند کیوں نہ ہوں اور تمہارا رمی جمار کرنا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی جان نہیں جانتی کہ میں نے ان کے لئے کیاآنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھا ہے، بدلہ ہے اس عمل کا جو تم کررہے ہو اور رہا تمہارا سر مونڈنا پس ہر کوئی بال جو زمین پر گرے گا وہ قیامت کے دن تمہارے لئے نور ہوگا اور تمہارا رخصت کے وقت طواف کرنا تو بس تم نکل جاؤگے گناہوں سے اس طرح جیسے تمہاری ماؤں نے آج ہی جنا ہو۔ “ (ترغیب: ۲/۱۷۷)
۳:․․”․حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بیت اللہ کے طواف کے لئے (خواہ حج میں یا عمرہ میں) نکلتا ہے، وہ خدا کی رحمت میں غوطہ کھاتا ہے...پھر جو قدم بھی اٹھاتا ہے اور رکھتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ ہر قدم پر پانچ سو نیکیاں لکھتا ہے، پانچ سو گناہوں کو معاف کرتا ہے اور اس کے پانچ سو درجے بلند کرتا ہے اور وہ جب طواف سے فارغ ہوجاتا ہے اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھتا ہے تو گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے آج ہی جنا ہو اور اسے حضرت اسماعیل کے خاندان کے دس غلاموں کی آزادی کے برابر ثواب ملتا ہے اور حجر اسود کے پاس فرشتے اس کے استقبال میں رہتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں : باقی زندگی میں بھی اسی طرح (نیک) عمل کرتے رہو، گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوگیا ہے اور اس کے اقربا،ٴ اعزہ میں سے ستر لوگوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔“ (اخبار مکہ:۲/۴)
۴:․․”․حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرنے والے اپنے اقربأ میں سے چار سو آدمیوں کی شفاعت کریں گے اور وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائیں گے جیسے اس کی ماں نے آج ہی جنا ہو۔“ (بزار، ترغیب:۲/۱۶۶)
۵:․․․”حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج و عمرہ کرنے والے خدا کے مہمان ہیں جو سوال کرتے ہیں ملتا ہے، جو دعا کرتے ہیں قبول ہوتی ہے ،جو خرچ کرتے ہیں اس کا بدل پاتے ہیں اور ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب دس لاکھ ملتا ہے۔ “ (بزار، ترغیب، ص:۸۰)
مانا کہ حج و عمرہ پر جانے والوں کو ہر ہر قدم پر پانچ پانچ سو نیکیاں ملتی ہیں، پانچ سو گناہ معاف ہوتے ہیں ،پانچ سو درجے بلند ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کو حرم کی ایک ایک نیکی پر لاکھ کا اجر ملتا ہے اور بیت اللہ میں ہر وقت نازل ہونے والی ایک سو بیس رحمتوں میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں، چالیس نماز پڑھنے والوں اور بیس دیکھنے والوں کے حصے میں آتی ہیں، تو عقل کا تقاضا ہے کہ ہر وقت بیت اللہ میں رہتے ہوئے اس کا طواف، اس میں نماز اور اس کی طرف دیکھنے کی سعادت حاصل کی جاتی رہے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آٹھ ذوالحجہ کو بیت اللہ کو خیر باد کہہ کر منیٰ کی سنگلاخ وادی میں چلے جانے، وہاں ایک رات گزار کر ۹ ذوالحجہ کو عرفات جانے اور وہاں سے واپسی پر مزدلفہ کے لق و دق صحرا میں رات گزارنے کا حکم ملتا ہے، اور ۱۰ سے ۱۲ ذوالحجہ تک منیٰ میں موجود جمرات پر سنگ باری کا حکم ہوتا ہے، آخر کیوں؟
مگراس کے بر عکس عشق کہتا ہے، نہیں ، نہیں!: ”مرضئی مولیٰ از ہمہ اولیٰ“ جب تک بیت اللہ میں رہنے کا حکم تھا، وہی عبادت تھی ،اب جب اس کو چھوڑ کر منیٰ، عرفات اور مزدلفہ جانے کا حکم ہوا تو اب یہی سب سے بڑی نیکی ہے، اس لئے کہ سب سے بڑی نیکی اور عبادت اللہ کا حکم بجالانا ہے، احرام باندھنا ، بیت اللہ میں آنا، اس کا طواف کرنا یا اس میں نماز پڑھنا بھی اس لئے عبادت ہے کہ اللہ کا حکم ہے، کوئی عمل اس وقت تک عبادت وا طاعت نہیں کہلاسکتا جب تک کہ اس کے پیچھے اللہ کا حکم نہ ہو۔
اس لئے حاجی اور ہر مسلمان عقل کے تقاضے کے برعکس یہی کہتا اور سمجھتا ہے کہ ہمیں ایک لاکھ نیکی کی نہیں، ہمیں اللہ کی رضا کی ضرورت ہے، اگر اللہ تعالیٰ راضی ہوجائیں گے تو ایک لاکھ نہیں ایک کروڑ بھی عطا فرمادیں گے، اور اگر ان کی نافرمانی کی گئی اور وہ راضی نہ ہوئے تو بیت اللہ کے سو حج بھی نجات کے لئے ناکافی ہوں گے۔ الغرض نیکی و ثواب :بیت اللہ کی زیارت، اس کے طواف اور ان میں نمازیں پڑھنے میں نہیں، بلکہ اللہ کا حکم بجالانے میں ہے۔ اس لئے جب تک اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کا طواف کرنے، اس میں نمازیں پڑھنے اور اس کی طرف دیکھنے کا حکم دیا تھا وہ عبادت تھی، اب جب اس نے وہاں سے دور ہوجانے کا حکم دیا تو نیکی اور ثواب اس دور ہوجانے میں ہی ہے۔
الغرض حج عشق و محبت اور انقیاد و تسلیم کا نام ہے، اس کو عقل و فہم اور ادراک و شعور کے پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا، اور نہ ہی اس پر اللہ تعالیٰ کی عطا و عنایات بے پایاں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
حج کی اسی اہمیت و عظمت اور بے بہا جزا و ثواب کی وجہ سے شیطان کی خصوصی کاوشوں اور کوششوں میں یہ بات داخل ہے کہ کسی طرح وہ حاجی کے حج کو برباد یا کم از کم ناقص کردے،لہٰذا شیطان اس بے بہا عمل کو تباہ و برباد کرنے کے لئے مختلف انداز سے حملہ آور رہتا ہے، چنانچہ کہیں تو ریا، شہرت، نام ، نمود، لڑائی، جھگڑے ، دنگا فساد، رفث، فسوق اور جدال کے ذریعے اس کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کہیں مناسک حج میں غفلت و لاپرواہی کے راستے سے اس کوکالعدم قرار دینے اور اس عظیم عبادت کو بے قیمت کرنے کی ناپاک کوششیں کرتا ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ:
”ان لابلیس شیاطین مردة یقول لہم علیکم بالحجاج والمجاہدین فاضلوہم السبیل“ (مجمع الزوائد، ج:۲، ص:۲۱۵)
ترجمہ: ”بے شک ابلیس کے کارندے سرکش شیاطین ہیں، جن کو وہ کہتا ہے کہ حجاج و مجاہدین پر مسلط ہوکر ان کو راہ راست سے گمراہ کرو اور ان کے حج و جہاد کو برباد کرو۔“
اس لئے جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ حجاج کرام حج کے احکام و مسائل سیکھ کر جائیں،ا ور اس کے آداب و احکام صحیح صحیح ادا کریں، وہاں ان کو یہ بھی چاہیے کہ خلوص و اخلاص کا مظاہرہ کریں، اس لئے کہ اگر خدانخواستہ نیت میں فتورہوا تو حج جیسی عبادت بھی اکارت و بے کار ہوجائے گی، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ قرب قیامت میں چار قسم کے لوگ حج کریں گے، جن کا حج قبول نہیں ہوگا۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ میری امت کے مال دار سیر و تفریح کے لئے حج کریں گے اور بیچ درجہ کے لوگ تجارت کے لئے کریں گے، ان کے علماء اور پڑھے لکھے ریا اور شہرت اور ناموری کے لئے کریں گے اور غریب لوگ سوال مانگنے کے لئے کریں گے۔ “ (القریٰ، ص:۳۱)
اسی طرح ابو عثمان الصابونی نے ”کتاب المائتین“ میں روایت کیا ہے اور ابن جوزی نے مثیر الغرام میں ذکر کیا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ امت کے مال دار لوگ سیر و تفریح کے لئے حج کریں گے، متوسط طبقہ کے لوگ تجارت کے واسطے حج کریں گے اور غریب وتنگدست لوگ سوال کے لئے اور علما ریا و شہرت کے لئے حج کریں گے۔“ (شرح احیاء، ص:۷۲۸)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم عبادت اورعاشقانہ رمز کی قدردانی اورمنشائے خداوندی کے مطابق اسے بجالانے کی توفیق بخشے ۔آمین۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیرخلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۰۹ ماہنامہ بینات , ذوالحجہ:۱۴۳۰ھ - دسمبر: ۲۰۰۹ء, جلد 72, شمارہ