بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ !
بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ!
یعنی سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی کا متعصبانہ قانون!

مسلمانوں کو عدم برداشت اور تنگ نظری کا طعنہ دینے والوں کی مذہبی تنگ نظری، عدم برداشت اور شعائر اسلام کے خلاف تعصب و تنگ نظری کی تازہ مثال سوئٹزر لینڈ حکومت کا وہ غلیظ فیصلہ ہے، جس میں اس نے نام نہاد ریفرنڈم کا سہارا لے کر سوئٹزر لینڈ میں قائم مساجد کے میناروں پر پابندی عائد کرکے باقاعدہ قانون پاس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سوئٹزر لینڈ میں بننے والی کسی مسجد کے مینار نہیں بنائے جاسکیں گے، نہ صرف یہی بلکہ اب تک تعمیر ہونے والی تمام مساجد کے مینار بھی گرائے جائیں گے۔ فانا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
لیجئے! دنیا بھر میں مذہبی رواداری کا درس دینے والوں، عدم تشدد اور برداشت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کی عدم برداشت، مذہبی تنگ نظری، اسلام، مسلمانوں اور شعائر اسلام کے خلاف تعصب و تنگ نظری پر مبنی خبر ملاحظہ ہو:
”جنیوا (امت نیوز/ ایجنسیاں) سوئٹزر لینڈ میں ایک ریفرنڈم کے بعد مساجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی لگادی گئی۔ ریفرنڈم میں ۵۷ فیصد سوئس شہریوں نے مساجد کے میناروں پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق جرمن بولنے والے سوئس شہریوں نے پابندی کے حق میں جبکہ فرانسیسی بولنے والے شہریوں نے پابندی کے خلاف ووٹ ڈالا۔ ریفرنڈم کے دوران جنیوا میں مسجد پر تیسری مرتبہ حملہ بھی کیا گیا۔سوئٹزر لینڈ میں ۴ لاکھ مسلمان ہیں جبکہ ملک میں صرف ۴ مینار ہیں۔ دوسری جانب سوئس وزیر خارجہ میکلین کامی ری نے کہا ہے کہ میناروں کی تعمیر کے خلاف ریفرنڈم کا نتیجہ ملکی آئین اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ عوامی رائے کا احترام کیا جائے گا اور آئندہ مساجد کے میناروں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ریفرنڈم کے بعد بھی مسلمان ممالک سے بہتر تعلقات قائم رہیں گے۔ ادھر او آئی سی اور برطانوی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم کونسل آف بریٹن نے ریفرنڈم کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ایک المیہ کہا ہے۔ اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان نے کہا کہ اس پابندی کا مقصد یورپ میں اسلام کے مخالف رجحانات کو فروغ دینا ہے، جبکہ برطانوی کونسل کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی دنیا کس سمت جارہی ہے۔ سوئس و دیگر غیر ملکی مسلم تنظیموں نے بھی ریفرنڈم کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام مخالف قرار دیا۔ مزید براں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس واچ ڈاگ نے ریفرنڈم پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ فرانس نے میناروں کی تعمیر پر پابندی کو امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک مذہب کو دبانے کی کوشش ہے، فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ سوئس اس فیصلے کو واپس لے لیں گے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی ، یکم دسمبر ۲۰۰۹ء)
دنیائے کفر اور ابنائے یہود و نصاریٰ کی اسلام دشمنی اور شعائر اسلام سے ان کا بغض، عناد کسی باخبر انسان اور دین دار مسلمان سے مخفی نہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”ولن ترضٰی عنک الیہود ولا النصاریٰ حتیٰ تتبع ملتہم۔“ (البقرہ:۱۲۰)
ترجمہ:۔ ”اورہرگز راضی نہ ہونگے تجھ سے یہود اورنہ نصاریٰ جب توتابع نہ ہو ان کے دین کا“
لیکن بایں ہمہ جو نام نہاد مسلمان، یہود و نصاریٰ کے بارہ میں خوش فہمی کا شکار ہیں یا وہ ان کو مذہبی تفریق و تعصب سے بالاتر قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے اپنی زبان و بیان اور قلم و قرطاس کی صلاحیتیں استعمال کرنے میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں مصروف نظر آتے ہیں، مندرجہ بالاخبر اور سوئٹزرلینڈ حکومت کا یہ فیصلہ ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔
عام طور پر یہ باور کیا جاتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور مغربی ممالک کی حکومتیں خالص لبرل اور غیر مذہبی ہیں اور وہاں بلاامتیاز دین و مذہب ، تمام انسانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنے، اپنے دین و مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اس لئے مغرب کے ذہنی اور فکری غلاموں کی خواہش بلکہ شدید مطالبہ ہے کہ جس طرح ان ممالک میں بلا امتیاز دین و مذہب سب انسان آزادی سے رہتے ہیں، ٹھیک اسی طرح مسلمان ممالک میں بھی مذہبی امتیاز و تفریق کو ختم ہونا چاہئے۔
چنانچہ ہمارے بہت سے نام نہاد مسلمانوں اور ان کے ”نامور“ لیڈروں پر بھی اس کا بھوت سوار ہے کہ انہیں کوئی خطہ زمین مل جائے تو وہاں وہ مسلمانوں کی مسجد، عیسائیوں کا گرجا، یہودیوں کی عبادت گاہ، سکھوں کا ٹمپل اور ہندوؤں کا مندر بنا دیں، جہاں تمام مذاہب کے لوگ مکمل آزادی سے اپنی اپنی مذہبی رسومات ادا کیا کریں۔ الغرض ان کی دلی خواہش، تمنا اور آرزو ہے کہ کسی طرح مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں کے دل ودماغ سے دین و مذہب اور کفر و اسلام کی تفریق مٹادی جائے اور وہ بھی اقوام مغرب کی طرح بلا امتیاز دین و مذہب خالص ملحدانہ زندگی گزاریں۔
ہمارے خیال میں مذکورہ بالا خبر اور سوئٹزر لینڈ حکومت کا یہ فیصلہ اور قانون ایسے لوگوں کے منہ پر کسی طمانچہ سے کم نہیں۔
سوئٹزر لینڈ حکومت کے اس اقدام کا پس منظر اور پیش منظر کیا ہے؟ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا؟ اس کے لئے کیا حکمت عملی اپنائی گئی؟ اور سوئٹزرلینڈ کی عوام کو اس غلیظ اقدام کے لئے کیسے آمادہ اور تیار کیا گیا؟ اور مساجد کے میناروں سے وہاں کی عوام کو کس طرح ڈرایا گیا؟ اور اس کے لئے کیا کیا ذرائع اور اسباب اختیار کئے گئے؟ اس کی تفصیلات اخبارات میں آچکی ہیں، لیکن اس سلسلہ کا مختصر، جامع، دینی، مذہبی جذبات کا ترجمان اور مسلمانوں کو اس صورت حال کا سامنا کرنے اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس کے دفاع کے لئے اٹھ کھڑا ہونے اور خود سوئٹزرلینڈ کو اس پر سوچنے کے لئے جتنے مضامین اور کالم لکھے گئے ہیں، ہمارے خیال میں ان میں سب سے مفید جناب اشتیاق بیگ صاحب کا وہ کالم ہے، جو روزنامہ جنگ کراچی ۱۶ دسمبر ۲۰۰۹ء کے ادارتی صفحہ میں شائع ہوا ہے۔ چونکہ اس مضمون میں ہمارے جذبات و احساسات کی ترجمانی ہے، اس لئے جی چاہتا ہے کہ اس کو بھی قارئین کی خدمت میں نقل کردیا جائے۔ لیجئے پڑھئے:
”سوئٹزر لینڈ میں لگے ان پوسٹرز پر سوئس جھنڈے پر ایک عورت کو حجاب پہنے اور مسجدوں کے میناروں کو میزائلوں کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ پوسٹر پر تحریر تھا کہ مسجدوں کے مینار اسلامائزیشن کی نشانی ہیں جس پر پابندی عائد کی جائے۔ یہ وہ پوسٹر تھا جو ریفرنڈم کی حامی جماعت سوئس پیپلز پارٹی نے ریفرنڈم سے قبل ملک بھر میں چسپاں کئے تھے۔ میناروں پر پابندی لگانے والی جماعت نے یہ دعویٰ کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں مسجدوں کے میناروں پر پابندی لگانا اس لئے ضروری ہے کہ مسجد کے مینار مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مظہر ہیں جو ایک دن سوئٹزرلینڈ کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرسکتی ہے۔ سوئس حکومت نے کہا ہے کہ عوامی رائے کا احترام کیا جائے گا اور آئندہ مساجد کے میناروں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سوئٹزرلینڈ میں گزشتہ دنوں ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے مینار تعمیر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ریفرنڈم میں تقریباً ۲۷ لاکھ لوگوں نے حصہ لیا، جن میں ۵۷ فیصد لوگوں نے مساجد کے میناروں کی تعمیر کے خلاف اور ۴۳ فیصد لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیئے۔ سوئٹزرلینڈ کی کل آبادی ۷.۵ ملین ہے، جس میں مسلمانوں کی تعداد ۴ لاکھ ہے جو کل سوئس آبادی کا تقریباً ۶فیصد ہے۔ عیسائیت کے بعد اسلام سوئٹزرلینڈ کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور مسلمانوں کی زیادہ تعداد کا تعلق ترکی اور یوگوسلاویہ سے ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں قائم ۱۶۰ مساجد میں صرف ۴ مساجد کے مینار ہیں، مگر ان میناروں پر اذان دینے کی اجازت نہیں۔ مذہبی ریفرنڈم کے اس فیصلے سے وہاں رہنے والے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مساجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف نفرت ظاہر کرتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگوں کو مسلمانوں کا یہاں رہنا قبول نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں، اس سے قبل یورپ کے ایک اور ملک فرانس میں بھی مسلمان خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی عائد کی جاچکی ہے اور وہاں کی حکومت ایسا قانون بنانے پر غور کررہی ہے جس کی رو سے مسلمان خواتین کے برقع پہننے پر پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ ڈنمارک اور سوئیڈن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت، مسلمانوں کے ساتھ مغربی ممالک میں امتیازی سلوک، گرفتاریاں، چھاپے، اسکارف پر پابندی، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی جیسے واقعات ایک عرصے سے جاری ہیں اور یورپ کے ڈیڑھ کروڑ سے زائد مسلمانوں کو تعصب کا سامنا ہے۔
۹/۱۱ کے بعد امریکی صدر بش نے یہ الفاظ کہے تھے کہ ۹/۱۱ کا حملہ دنیا کی تاریخ بدل دے گا۔ یہ جملہ ایک لحاظ سے سچ ثابت ہورہا ہے۔ یورپ اور امریکا میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق اس وقت برطانیہ میں جان (Jhon)کے بعد سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام ”محمد“ ہے۔ یورپ اور امریکا میں اس وقت قرآن پاک سب سے زیادہ ہدیہ کی جانے والی کتاب ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اسلام مخالف پروپیگنڈے کی وجہ سے غیر مسلموں کے ذہنوں میں یہ تجسس پیدا ہوا کہ یہ کیسا مذہب ہے کہ اس کے ماننے والے اس پر اپنی جان نچھاور کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے؟ یہ تجسس انہیں قرآن پاک کے مطالعے کی طرف مائل کرگیا جس سے انہیں اسلام کو سمجھنے کاموقع ملا وہ اس کی زریں تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ اس کی واضح مثال گوانتاناموبے جیل میں ایک امریکی سیکورٹی گارڈ ہولڈر بروکس جس کا اسلامی نام مصطفی عبداللہ ہے کی ڈیوٹی وہاں پر موجود مسلمان قیدیوں پر تشدد کرنے کے لئے لگائی گئی تھی، مگر اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اس نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جتنا آپ اسلام کے ماننے والوں پر تشدد کروگے اتنا ہی وہ پھیلتا جائے گا اور یورپ اور امریکا میں اسلام فوبیا کی اصل وجہ یہی ہے۔
پرانے زمانے میں لوگوں کو نماز کے لئے بلانے میں مسجدوں کے میناروں کا بڑا اہم کردار تھا جس کی اونچائی پر کھڑے ہوکر موٴذن اذان دے کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیا کرتے تھے مگر دور جدید میں نئی ٹیکنالوجی نے مینار کی ضرورت پوری کردی ہے، یعنی مینار کے بغیر بھی لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں تک اذان کی آواز پہنچاسکتے ہیں۔ اس لئے آج کے دور میں مینار مسجد کی تاریخی بناوٹ، اس کی شناخت اور علامت سمجھا جاتا ہے اور ایک مسجد بغیر مینار کے بھی مسجد ہی ہے۔ اگر مساجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی لگتی ہے تو اس سے مسلمانوں کے نماز پڑھنے میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ اسلام مخالف لوگ شاید اس چیز سے ناواقف ہیں کہ مسجد اللہ کا گھر ہے جو ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے اور میناروں پر پابندی عبادت کرنے والوں کو کم نہیں کرسکتی۔ مذہبی بنیاد پر ریفرنڈم کی حامی جماعت کو یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ مساجد کے میناروں پر پابندی لگاکر انہوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہے، کیونکہ اگر اسی طرح کا ریفرنڈم کسی بھی مسلم ملک میں کرایا جائے اور مسلمانوں سے یہ رائے لی جائے کہ کیا وہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں اپنے ملک میں بنانے کے حق میں ہیں تو ۱۰۰ فیصد مسلمانوں کا فیصلہ اس کی مخالفت میں ہوگا مگر اس کے باوجود ان اسلامی ممالک میں اقلیتوں کو ان کے طرز کی عبادت گاہوں میں مذہبی عبادات کی ادائیگی کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ یورپ ایک عرصے سے واویلا کررہا ہے کہ مسلمانوں میں عدم برداشت کا مادہ پایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو انتہا پسندوں کا لقب دینے والوں کو خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ جس بیماری کا وجود وہ دوسروں میں ثابت کررہے ہیں، دراصل وہ خود انتہا پسندی کی بیماری کا شکار ہیں۔ سوئٹزرلینڈ جو کبھی ایک سیکولر اور تمام مذاہب کے لئے ایک پرامن ملک سمجھا جاتا تھا، آج اس نے مذہبی ریفرنڈم کراکے اپنے اس تشخص کی نفی کردی ہے اور یہ ریفرنڈم اقلیتوں اور انسانی بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کا یہ اقدام تہذیبوں اور مذاہب کے مابین تصادم کا ایک نیا باب کھولنے کے مترادف ہے۔
اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) جو ۵۷ مسلمان ممالک پر مشتمل ہے اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے کو چاہئے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے سوئس حکومت سے مساجد کے میناروں پر پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرے۔ اگر مساجد کے میناروں پر پابندی قائم رہتی ہے تو امیر عرب مسلمانوں اور ہمارے حکمران کو چاہئے کہ سوئس اکاؤنٹس میں رکھے تقریباً ۴۰۰ ارب ڈالر نکال لیں اور سوئٹزرلینڈ میں چھٹیاں گزارنے سے اجتناب کریں۔ مینار پر پابندی محض ایک بہانہ اور ابتدا ہے، دراصل سوئس ووٹرز یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ مسلمان مساجد کے میناروں پر پابندی کو کس طرح لیتے ہیں۔ اگر آج اس پابندی کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو کل ایک اور ریفرنڈم کراکے مساجد پر بھی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔“
اسی طرح روزنامہ اسلام کا ادارتی شذرہ بھی قابل ستائش بلکہ ہمارے دل کی آواز ہے، جس میں لکھا گیا کہ:
”سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ملک میں مساجد کے میناروں پر پابندی کا قانون منظور کروالیا ہے جس کے بعد مسلمانوں کو مساجد کے موجودہ مینار بھی گرانے ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سوئس حکومت مساجد سے اذان دینے پر پابندی عائد کرچکی ہے۔ پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور عالم اسلام میں اس اقدام پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگانے کا فیصلہ اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یورپی و مغربی قوتوں کی بوکھلاہٹ کی واضح علامت اور مذہبی رواداری کے مغربی نعروں کی کھلی نفی ہے۔ یہ پابندی صرف مسلمانوں کی مساجد کے میناروں پر عائد کردی گئی ہے اور عیسائی اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں پر نصب مخصوص مذہبی علامات پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ اگر کسی سیکولر ملک میں کسی مذہب کی مخصوص علامات کا استعمال درست نہیں ہے تو اس کا اطلاق تمام علامات پر ہونا چاہئے۔ خود سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے کئی ادارے جن میں ریڈکراس بھی شامل ہے، دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں اپنی مخصوص صلیبی علامات کے ساتھ کام کررہے ہیں اور ان سوئس اداروں کا اصرار ہے کہ یہ علامات کسی مذہبی تفریق پر دلالت نہیں کرتیں، کسی اسلامی ممالک نے ان اداروں پر پابندی نہیں لگائی۔ اب جبکہ سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے مساجد کے میناروں کو اسلام کی شوکت کی علامت قرار دے کر ان پر پابندی لگادی ہے، مسلم دنیا کے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اسلامی ممالک میں صلیبی علامتوں پر پابندی لگائیں، ریڈکراس سمیت ان اداروں کا بائیکاٹ کیا جائے جو عالمی رفاہی اداروں کا روپ اختیار کرنے کے باوجود اپنے نام اور لوگوں پر صلیبی نشانات مٹانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ساتھ ہی پوری دنیا کے مسلمانوں کو اپنی مساجد کے میناروں کو مزید اونچا اور مضبوط کرنے پر توجہ دینی چاہئے کہ یہ اب عدو کی نظر میں اسلام کی عظمت کا نشان قرار پائے ہیں۔“ (روزنامہ اسلام کراچی، ۳ دسمبر ۲۰۰۹ء)
مسلمانوں کی مذہب بیزاری، اسلام دشمنوں کے مذہبی تعصب، بنیاد پرستی اور اسلام دشمنی دیکھ کر اس پر بے اختیار یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ:
دیکھ مسجد میں شکست رشتہٴ تسبیح شیخ
بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ
سوئٹزرلینڈ حکومت کے اس متعصبانہ اقدام اور تنگ نظری پر مبنی فیصلہ کے بعد ہر باضمیر مسلمان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر سوئٹزرلینڈ جیسا ”لبرل“ ملک اور اس کی حکومت دائیں بازو کی ایک جماعت کی ”خوشنودی“ کے لئے اپنے ملک کے لاکھوں افراد پر مشتمل مسلم برادری، دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں اور ۵۷ اسلامی ممالک کے دینی، مذہبی جذبات کے خلاف اتنا بڑا فیصلہ کرسکتی ہے، تو سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ حق کیوں نہیں دیا جاسکتا کہ وہ بھی اپنے ملک میں یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کو اپنی مخصوص طرز کی عبادت گاہیں بنانے سے روک دیں، اس لئے کہ اگر مسجد کے میناروں کو مسلمانوں کی برتری کی علامت قرار دیا جاسکتا ہے تو اسلام دشمنوں کی عبادت گاہوں کی مخصوص طرز تعمیر کو، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کی برتری کی علامت کیوں نہیں قرار دیا جاسکتا؟ اگر سوئٹزرلینڈ کے لوگ مسلمانوں کے شعائر اور مسجد کے میناروں سے خائف ہوسکتے ہیں تو مسلمان عیسائیوں کے گرجوں اور صلیب کے نشانات سے کیونکر خائف نہیں ہوسکتے؟ اس لئے کہ یہودیوں اور صلیب کے پجاریوں نے تو عملاً پوری دنیا میں کشت و خون کا بازار گرم کررکھا ہے۔ دور کیوں جایئے! افغانستان اور عراق میں صلیب کے پجاریوں کا شرمناک کردار اور لاکھوں بے گناہوں کا قتل عام اس کی زندہ مثال ہے، جبکہ ا س سے قبل ویتنام اور ہیروشیما کی تباہی بھی اسی صلیب کے پجاریوں کی درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی طرح فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام، مسلمانوں کو ان کی بستیوں سے بے دخل کرنا اور مسجد اقصیٰ پر قبضہ وغیرہ، یہودی بربریت کا شاہکار ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوؤں اور سکھوں کے مظالم اور مسلمانوں کے قتل عام سے بھی کوئی باشعور نا آشنا نہیں۔ اور اب تو خود پاکستان میں صلیبی گماشتے ڈرون حملوں کی شکل میں نہتے مسلمانوں کی بستیوں کی بستیاں اجاڑ رہے ہیں اور شہروں کے شہر کھنڈرات میں تبدیل کررہے ہیں۔
الغرض اگر سوئٹزرلینڈ کے عیسائیوں کو مسجد کے میناروں سے خوف آسکتا ہے اور وہ اس کے خلاف نام نہاد ریفرنڈم کے ذریعے قانون سازی کراسکتے ہیں تو کیا مسلمان یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں بھی یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کی مخصوص طرز کی عبادت گاہوں سے صلیبی سفاکوں، یہودی دہشت گردوں، ہندو قاتلوں اور سکھ درندوں کی سفاکی، دہشت گردی ،قتل و غارت اور درندگی کا احساس ہوتا ہے؟ اور ہمیں بھی ان کے نشانات اور علامات سے ڈر لگتا ہے، لہٰذا اگر کسی اسلامی ملک میں اس طرح کی عبادت گاہیں یا کوہ قامت عمارتیں تعمیر ہوں گی تو ان سے عیسائیت، یہودیت، ہندومت اور سکھا شاہی کے تسلط کا انجانا خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ دنیا بھر میں یہودی اور عیسائی اپنی مخصوص طرز کی عبادت گاہیں تعمیر کرتے ہیں اور ان کو اس کی مکمل آزادی ہے؟ پھر سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کا گھٹیا قانون کیونکر وضع کیا جائے؟
کیا کبھی مسلمانوں نے بھی سوئٹزرلینڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ اپنی تنظیم ریڈ کراس...لال صلیب.. کا لوگو اور نشان ہٹائیں ،اس سے عیسائیت کے تسلط کا اندیشہ ہوتا ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں، تومسلمانوں کی مساجد کے میناروں پر کیونکر پابندی لگائی جائے؟
اگر پوری دنیا میں یہودی اور عیسائی اپنی مادرپدر آزاد تہذیب کی اشاعت کے لئے آزاد ہیں اور کوئی ان کی راہ نہیں روک سکتا، تو سوال یہ ہے کہ یہ کون سے انسانی حقوق ہیں کہ مسلمانوں کی اذان، ان کی مساجد کے میناروں، مسلم خواتین کے حجاب اور پردہ پر پابندی عائد کرکے ان پر ان کی مذہبی رسومات، تعلیم و تعلم اور کسب معاش کے دروازے بند کئے جائیں؟
اگر کسی ملک کی عوام کی رائے اور ریفرنڈم کو اتنا ہی اہمیت ہے اور اس کا اتنا ہی پاس و احترام کیا جاسکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ گزشتہ نصف صدی سے فلسطینی عوام، یہودی دہشت گردی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور اب تین دہائیوں سے افغان عوام جارح اقوام کے خلاف برسرپیکار ہیں، آخر ان کی رائے اور احتجاج کو کیوں درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا ؟ اور ان پر ظلم و تشدد کے توڑے جانے والے پہاڑوں کا سدباب کیوں نہیں کیا جاتا؟
چشم بددور! اب تو پاکستان کی عوام بھی اپنے ملک و قوم اور اپنی املاک کو جبر و استبداد سے چھڑانے کے لئے ہاتھ پیر مار رہی ہیں، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کے مصداق الٹا ان مظلوموں کو ہی دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، کیا پاکستانی عوام کو یہ حق نہیں کہ وہ جب متفقہ طور پر امریکی اور عیسائی جابروں کو اپنے ملک کی سرحدوں میں دراندازی سے روک رہے ہیں اور اس کے لئے باقاعدہ عوامی ریفرنڈم کے طور پر انہوں نے اس سے اظہار نفرت کیا ہے تو ان کی رائے کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟
بہرحال مسلمانانِ عالم کو چاہئے کہ اس بین الاقوامی دہشت گردی اور جبر و تشدد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اس لئے کہ جس طرح کل جہاد و حجاب پر پابندی لگنے پر ہم نے چپ سادھ لی اور اعدائے اسلام نے اس سے دو قدم آگے بڑھ کر مسجد کے میناروں پر پابندی کا قانون پاس کردیا ہے، اگر خدانخواستہ ہم نے اس کو بھی ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرلیا تو اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ آئندہ چل کر مساجد اور مسلمانوں کے دین و مذہب پر ہی پابندی نہ لگادی جائے۔ولا فعل اللہ۔
خدا کرے مسلمانوں کا خفتہ ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ اس خوفناک سازش کا ادراک کرتے ہوئے اس ظلم و بربریت کے خلاف بند باندھنے کی کوشش کریں، ورنہ اندیشہ ہے کہ کہیں رفتہ رفتہ دنیا سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان ہی مٹا دیا جائے۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۰ ماہنامہ بینات , محرم الحرام:۱۴۳۱ھ - جنوری: ۲۰۱۰ء, جلد 73, شمارہ