پاکستان اور کراچی کی حالیہ تباہی!
پاکستان اور کراچی کی حالیہ تباہی!

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی
افغانستان سے شروع ہونے والی جنگ اور دہشت گردی کے خاتمہ کے نام سے امریکی دہشت گردی کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے پہلے افغانستان سے ملحق پاکستانی علاقوں: فاٹا، جنوبی و شمالی وزیرستان، سوات، سرحد سے ہوتا ہوا، پنجاب کے مختلف اضلاع، شہروں اور علاقوں میں پہنچا اور اب اس دہشت گردی کا طوفان بلاخیز سندھ کے آخری اور ساحلی شہر کراچی تک پہنچ چکا ہے، چنانچہ گزشتہ کئی ہفتوں سے کراچی اس کے منحوس سایوں کی زد میں ہے۔
چونکہ کراچی پاکستانی معیشت و اقتصاد کے اعتبار سے شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے، لہٰذا اس کی تباہی، بربادی دراصل پورے پاکستان کی تباہی و بربادی کے مترادف ہے، اس لئے ملک و ملت کے بدخواہوں اور دشمنوں کی پوری توجہ اب اس کی تباہی و بربادی پر ہے۔
کراچی میں فسادات، قتل و غارت اور تباہی و بربادی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ عیار دشمن نے اس عیاری سے اس کی تباہی و بربادی کا منصوبہ بنایا ہے کہ کسی کو محسوس تک نہیں ہونے دیا کہ اس کے پیچھے کون سے عوامل ہیں؟ چنانچہ پہلے پہل اس میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی گئی، پھر اس میں قومی و لسانی عصبیت کا بارود پھونکا گیا، یوں صدیوں سے باہمی شیر و شکر اور ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے شہریوں کے محبت و الفت کے قلعہ اور اس کی مضبوط فصیل کو پاش پاش کرتے ہوئے مسلمانوں کو مسلمانوں سے اور پاکستانیوں کو پاکستانیوں سے لڑایا گیا اور ان کی جان، مال، عزت و آبرو کو ایک دوسرے کے ہاتھوں تباہ و برباد کرایا گیا۔
یہ اسی کا بدترین نتیجہ اور ثمرہ تھا کہ روشنیوں کے اس شہر میں اُداسی و ویرانی کے منحوس سائے منڈلانے لگے۔ جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان اور پاکستانی اپنے ملک اور اپنے آبائی شہر سے بے دخل ہونے پر مجبور ہوگئے، اگر کسی کو اپنے پیاروں کی ہلاکت و شہادت کے صدمات نے دو نیم کردیا تو کسی کو اپنے کاروبار، دکانوں، کارخانوں اور مکانوں سے ہاتھ دھونا پڑا، ان صدمات سے متاثر اگر کئی ایک ملک عدم کے مسافر بنے تو کئی ایک زندگی بھر کا روگ لے کر دوسرے شہروں اور ملکوں کو سدھارگئے۔ چنانچہ کسی نے بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ کا رخ کیا تو کسی نے ملائیشیا اور انڈونیشیا کا، جبکہ بہت سے ان صدمات کی تاب نہ لاکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عقل و خرد کی نعمت سے محروم ہوگئے۔
خدا خدا کرکے اور بڑی دعاؤں کے بعد اس شہر کی کچھ رونقیں بحال ہوئیں تھیں کہ اب پھر کچھ عرصہ سے اس کے امن و امان اور اس کی معاشی و اقتصادی ترقی کے خلاف سازش کرتے ہوئے دوبارہ اس میں قتل و غارت اور دہشت گردی کا بازار گرم کردیا گیا ہے۔
یوں تو ایک عرصہ سے قتل و غارت گری اور بم دھماکے اس شہر کا مقدر بن چکے ہیں،بلکہ اخبارات اٹھاکر دیکھیے تو صاف نظر آئے گا کہ اب بھی یومیہ دس سے پندرہ افراد دہشت گردی کی نظر ہورہے ہیں، مگر دس محرم الحرام ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۸ دسمبر ۲۰۰۹ء کا دن کراچی کے مسلمانوں اور خصوصاً تاجروں کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ چنانچہ ایک طرف ماتمی جلوس پر نام نہاد خودکش حملہ یا بم دھماکا کرکے ۴۵انسانوں اور نہتے شہریوں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا تو دوسری طرف اس کے ردِ عمل کے نام پر ایم اے جناح روڈ جیسے گنجان کاروباری علاقہ میں موجود لنڈا بازار، پیپر مارکیٹ، لائٹ ہاؤس، چھانٹی لائن، پلاسٹک مارکیٹ اور بولٹن مارکیٹ کی ہول سیل، دکانوں، گوداموں اور آفسوں پر مشتمل بلڈنگوں کو آتش گیر مادہ کے ذریعے آناً فاناً جلاکر خاکستر کردیا گیا، صرف یہی نہیں بلکہ بینکوں، اے ٹی ایم اور اسلحہ کی دکانوں کو لوٹ کر تباہی مچائی گئی۔
اخباری اطلاعات اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا، چنانچہ مذکورہ بم دھماکا کے چند منٹ بعد یہ سب کچھ اس تیزی سے ہوا، جیسے پہلے سے یہ سب کچھ طے تھا اور دہشت گرد پہلے سے اپنی اپنی جگہ پر ڈیوٹی دینے کے لئے اردگرد کہیں موجود تھے، ورنہ یہ سب کچھ پلک جھپکنے میں کیوں اور کیسے ہوگیا؟ اگر پہلے سے اس کا کوئی منصوبہ اور پلان نہیں تھا تو سوال یہ ہے کہ واک تھرو گیٹ سے گزرنے والے ماتمی جلوس کے شرکا کے پاس دکانوں، بینکوں اور اے ٹی ایم کے دروازوں اور تالوں کے کاٹنے کے لئے بڑے بڑے کٹر، آگ لگانے کے لیے پیٹرول اور آتش گیر مادہ کہاں سے آگیا تھا؟
اسی طرح اگر یہ طے شدہ منصوبہ نہیں تھا تو دہشت گرد اس تباہی و بربادی اور جلاؤ گھیراؤ کے باوجود اس متاثرہ مقام پر کیوں موجود رہے؟ اور انہوں نے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو آگ بجھانے سے کیوں روکا؟ اور ان پر فائرنگ کیوں کی گئی؟ چلئے یہ سب کچھ بھی ان سفاکوں کی کارروائی تھی، مگر سوال یہ ہے کہ رینجرز اور پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی؟ چلئے ان کو بھی اسٹیٹ فائر کرنے کی اجازت نہ تھی تو کیا وہ ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کرکے ان مفسدوں اور شرپسندوں کو تباہی پھیلانے سے نہیں روک سکتے تھے؟ چلئے کسی مصلحت سے یہ بھی نہ ہوسکا تو سوال یہ ہے کہ اس پورے عرصہ میں شہری دفاع کے ادارے اور سٹی انتظامیہ کہاں رہی؟ کہ شہر جلتا رہا، نہتے اورمعصوم تاجر اپنی متاع عزیز لٹتی دیکھ کر روتے رہے اور دہائیاں دیتے رہے، مگر نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی مدد نہ کی گئی بلکہ شرپسندوں نے ان کو ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے یا وہاں سے چلے جانے پر مجبور کردیا، تاآنکہ جب تک ملک و قوم کے دشمنوں کا منصوبہ مکمل نہیں ہوگیا، وہ وہاں سے ہٹے اور نہ امدادی ٹیمیں پہنچیں، جب امدادی ٹیمیں وہاں پہنچیں تو سب کچھ جل کر خاکستر ہوچکا تھا۔
اخباری اطلاعات اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس آگ سے تقریباً ساڑھے چار ہزار دکانیں، دفاتر اور گودام جل گئے ہیں اور اس سے مجموعی اعتبار سے ۵ کھرب کا نقصان ہوا ہے، اس سے جہاں ہزاروں تاجر دیوالیہ ہوکر فٹ پاتھ پر آگئے ہیں، وہاں ان مارکیٹوں سے منسلک لاکھوں لوگ بھی معاشی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ (روزنامہ نوائے وقت کراچی ۳۰ دسمبر ۲۰۰۹ء)
عام تاثر یہ ہے کہ اس آگ سے ہونے والے نقصان کے لئے ۵ کھرب کا عدد بھی چھوٹا ہے، اس لئے کہ بہت سے تاجروں نے اپنے نقصان کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی نہیں کی اور وہ کر بھی نہیں سکتے، اس لئے کہ جو کچھ نقصان ہونا تھا وہ تو ہوچکا، اب اگر وہ اپنے نقصان کے ٹھیک ٹھیک اعدادو شمار بتلاتے ہیں تو ان پر دوسری قیامتیں ٹوٹنے کے اندیشے ہیں، اس لئے کہ ان کو اپنے ہونے والے نقصان کے اعداد و شمار کے ثبوت کے لئے ایسے ایسے مطالبوں کا سامنا ہوسکتا ہے جن کے تصور سے دانتوں سے پسینہ آتا ہے۔ چنانچہ ...واللہ اعلم...یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ متعدد حضرات کے لاکھوں پاؤنڈ، یورو، ڈالر، ریال اور کروڑوں کی پاکستانی کرنسی جو دکانوں اور دفتروں میں رکھی ہوئی تھی یا جو لوگ حوالے اور کرنسی کا کام کرتے تھے، ان بدنصیبوں کی وہ تمام نقدی بھی راکھ ہوگئی، وہ اس کا کلیم تو کجا اس کا کسی کے سامنے اظہار بھی نہیں کرسکتے، اگر بالفرض وہ اس کا اظہار کریں بھی تو ان کی بات پر کوئی کیونکر یقین کرسکتا ہے؟ دوسری طرف اس بات کا بھی شدید اندیشہ ہے کہ ملک و قوم کے ”بہی خواہ“ یہ کہہ کر حرکت میں آسکتے ہیں کہ آخر تمہارے پاس اتنا بڑی رقم کیوں، کیسے اور کہاں سے آئی تھی؟؟
بہرحال باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی کی تاریخ میں اتنا بڑا قومی اور تجارتی خسارہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوا، تادم تحریر اس سانحہ کو چودہ دن ہوچکے ہیں مگر ابھی تک ان تباہ حال اور خانماں برباد تاجروں کی بحالی اور ان کے نقصان کا ازالہ تو کجا؟ ان کی اشک شوئی کی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی جاسکی، بلکہ الٹا ان کو ذہنی اور فکری اعتبار سے ٹارچر اور پریشان کرتے ہوئے ان کے غم و اندوہ میں اضافہ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں، مثلاً:
الف: ...چونکہ موجودہ عمارتیں جلنے کے بعد ناقابل استعمال ہوچکی ہیں، اس لئے ان سب کو مسمار کیا جارہا ہے۔
ب:...دوبارہ تعمیر کے بعد جن کے پاس مالکانہ اور پگڑی حقوق کے ثبوت ہوں گے،ان کو دکانیں اور دفاتر دیئے جائیں گے، حالانکہ دکانوں، گوداموں اوردفاتر کے ساتھ ساتھ ان کے مالکانہ حقوق اور پگڑی کے کاغذات کی تمام فائلیں بھی راکھ ہوچکی ہیں۔ ج:... ان مارکیٹوں اور تجارتی مراکز کو شہر سے باہر دوسری جگہ منتقل کیا جارہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
اس صورت حال سے تاجر مزید در مزید اضطراب، پریشانی اور بے یقینی کی تکلیف دہ صورت حال سے دوچار ہیں۔
دیکھا جائے تو یہ نقصان صرف تاجر برادری کا نہیں بلکہ پورے ملک و قوم کا نقصان ہے، کیونکہ ہماری تاجر برادری ہماری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے، ان کی تباہی و بربادی دراصل ملک و قوم کی تباہی و بربادی ہے، مگر نہیں معلوم کہ ہمارے بڑوں کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس سانحہ کو قومی سانحہ کا درجہ دیتے ہوئے اس کے پس پردہ محرکات، اس کے مکروہ کرداروں کو بے نقاب کیا جاتا اور اس کو ملک و قوم پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جاتی اور آئندہ کے لئے ایسے کسی سانحہ کے سدباب کا لائحہ عمل طے کیا جاتا، مگر افسوس کہ نہ صرف یہ کہ ایسا نہ ہوسکا بلکہ دور دور تک کہیں اس کے آثار و نشانات بھی نظر نہیں آتے کہ ایسا کچھ ہوگا۔
اس موقع پر جہاں دوسری متعدد سیاسی اور قومی جماعتوں اور رفاہی اداروں نے قابل ستائش کردار ادا کیا، وہاں کراچی بھر کے علما کرام نے بھی تاجر برادری سے یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں جاکر اس بدترین کارروائی اور سانحہ کی نہ صرف بھرپور مذمت کی بلکہ اس کو قوم و ملک دشمنی کے مترادف قرار دیا، چنانچہ کراچی کے نامور علماء کرام میں سے دارالعلوم کراچی کے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا محمد افتخار، مولانا عزیز الرحمن، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مولانا سیّد محمد سلیمان یوسف بنوری، مولانا امداداللہ،مولانا سعید عبدالرزاق، قاری محمد اقبال، جمعیت علماء اسلام کے مولانا قاری شیر افضل، قاری محمد عثمان، جامعہ بنوریہ سائٹ کے مولانا مفتی محمد نعیم، جامعہ فاروقیہ کے مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، جناب محمد انور رانا نے اس سلسلہ کی پریس کانفرنس میں شریک ہوکر تاجر برادری کو ہر طرح کی اپنی حمایت و تعاون کا یقین دلایا اور اس سانحہ پر ان سے تعزیت کی، نیز حکومت و ارباب اقتدار کو ان مظلوموں کی بحالی اور ان کے نقصانات کے ازالہ کی طرف متوجہ کیا اور باور کرایا کہ یہ سب کچھ پاکستان دشمن، بدنام زمانہ امریکی ایجنسی بلیک واٹر کا کیا دھرا ہے۔ حکومت کو عقل و شعور کے ناخن لیتے ہوئے اس کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنا چاہئے، اگر خدانخواستہ اس کو کھلی چھٹی دے دی گئی تو اس کی دہشت گردی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
آج اگر پاکستان کے نہتے عوام اس کا شکار ہیں تو آگے چل کر خود اربابِ اقتدار بھی ان کی دہشت گردی کی لپیٹ میں آسکتے ہیں، چنانچہ اس موقع پر ملکی اخبارات میں اس پریس کانفرنس کی جو خبر شائع ہوئی ،وہ حسب ذیل ہے:
”کراچی (اسٹاف رپورٹر) ملک کے جید علماکرام نے کہا ہے کہ حکومت نے ایم اے جناح روڈ پر مذموم حملے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لئے جس طرح مالی امداد کا اعلان کیا ہے، اسی طرح شرپسندوں کے ہاتھوں جلائی گئی دکانوں، گاڑیوں اور دیگر نجی املاک کے مالکان، دکانداروں اور تاجروں کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان سانحے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیں۔ بزدل حکمرانوں نے امریکا کے ساتھ پاکستان اور عوام کی گردن کا سودا کرلیا اور آج اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ پُرامن جلوس پر حملے کے مرتکب افراد حرام کے مرتکب ہوئے، یہ قرآن و حدیث کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے، اگر یہ خود کش حملہ تھا تو اس میں ملوث عناصر نے خود کو مارنے اور بے گناہوں کو مار کر دہرا گناہ کیا ہے۔ اسلام تو غیر مسلم کو بھی امان فراہم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، مفتی محمد تقی عثمانی، شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم، مولانا محمد افتخار بیگ، مولانا عزیزالرحمن اور دیگر علماء کرام نے منگل کو جامعہ بنوریہ عالمیہ کے زیر اہتمام ایم اے جناح روڈ (پرانا تاج ہوٹل) پر منعقدہ پُرہجوم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر متاثرہ دکانداروں اور تاجروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ پاکستان کے حالیہ حالات بزدل حکمرانوں کی وجہ سے ہیں جنہوں نے بے غیرتی اور بے حمیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قدرتی وسائل سے مالا مال مملکت خداداد پاکستان اور عوام کی گردن کا سودا امریکا کے ساتھ کرلیا، آج بلیک واٹر کے دہشت گرد پاکستان میں شب خون ماررہے ہیں۔ بلیک واٹر پاکستان میں ہی ضمیر فروشوں کو خرید کر پاکستان میں کارروائیاں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بم دھماکے ، خود کش حملے ہوتے ہی دو تین یوم کے بعد ہمارے عوام اور حکمران بھول جاتے ہیں، ان کی تحقیق میں جانے کی زحمت نہیں کی جاتی، سرکاری سطح پر بھی تحقیقات پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، یہی وجہ ہے کہ خود کش حملہ آور کے حوصلے پست ہوتے دکھائی نہیں دیتے، عوام اور حکمرانوں میں اتنی دوری ہے کہ آپس میں ربط نہیں حکمران عوام کے پاس جانے پر آمادہ نہیں اور عوام کو اپنی حکومت پر اعتماد نہیں، نہ وعدوں پر اور نہ ہی وعیدوں پر، ہر مسلمان کو اپنے قول و فعل کی درستگی کے لئے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور اپنی کمزوریوں کو ختم کرنا ہوگا۔ مفتی محمد نعیم نے کہا کہ ۴۳ افراد کی شہادت اور ۶۰ سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد آگ اور خون کی جو ہولی کھیلی گئی ہے ان کا قصور بھی خودکش حملہ آور سے کم نہیں، خود کش حملہ آور تو ایک تھا لیکن لوگوں کی املاک کو جلانے اور نقصان پہنچانے والے افراد کی کثرت تھی، سرکاری و غیر سرکاری گاڑیوں کو جلانا، دکانوں اور کاروباری مراکز کو جلانا انتہائی افسوسناک بات ہے۔ مذہبی طبقہ علماء سمیت کوئی بھی محب وطن اس طرح کے حملوں کی ہرگز ہرگز حمایت نہیں کرتا اور اس کی شدید مذمت کرتا ہے، گزشتہ روز شہر میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں سے ایسامحسوس ہورہا تھا جیسا سب کچھ شرپسندوں نے مکمل پلان کے تحت کیا۔ قاری شیر افضل نے کہا کہ حکومت اس مذموم سانحہ میں ملوث چہروں کو بے نقاب کرے، انہوں نے کہا کہ مشتعل افراد کی ویڈیو بنی ہے، کیمرے نصب تھے، اب تک انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اس موقع پر ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت نے ان مذموم حملوں کے نتیجے میں جس طرح انسانی جانوں کے ضیاع اور زخمی ہونے والوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، اسی طریقے سے ان حملوں میں شرپسندوں کے ہاتھوں جلائی گئی دکانوں، گاڑیوں اور دیگر نجی املاک کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے، جس کے لئے ۷۵ فیصد متاثرہ دکانداروں کو فی الفور جبکہ ۲۵ فیصد قرض حسنہ کے طور پر دیا جائے۔ حکومت یا کوئی بھی سیاسی جماعت ان واقعات اور اس طرح کے دیگر واقعات کو فرقہ واریت اور لسانیت کا ہرگز نام نہ دے، حکومت اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے تمام مذہبی جماعتوں اور مسالک کو ان کی مذہبی تقریبات کے لئے ایک مخصوص جگہ متعین کرے۔ حکومت تمام غیر سیاسی دینی جماعتوں پر مشتمل ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے جو ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے، جس کے بعد حکومت ان سفارشات کو باقاعدہ اپنی پالیسی کا حصہ بنائے اور اس پر عمل کرے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی ،۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء)
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ”ہمارے بڑے“ اور اربابِ اقتدار اپنے کھلے دشمنوں کی ننگی جارحیت اور ملک دشمن منصوبہ بندیوں اور سازشوں سے آنکھیں بند کرکے اس کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں، چنانچہ حالات و واقعات اور اخبارات و میڈیا کی رپورٹوں اور تجزیوں کا مطالعہ کیجئے! تو باآسانی اندازہ ہوگا کہ: اشاروں، کنایوں اور دبے لفظوں میں پی پی پی حکومت کے کچھ لوگ اس کا ذمہ دار سٹی حکومت اور اپنی حلیف سیاسی جماعت کو قرار دیتے ہیں، چنانچہ ان کا استدلال ہے ...بلکہ بے نام کے ہزاروں موبائل پیغامات میں اس کو ہائی لائٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ...کہ شام چار بجے بم پھٹا، آگ لگی ،اس کے ٹھیک دس گھنٹے بعد رات دو سے تین بجے کے درمیان پورے کراچی میں سفید اور کالے بینر لگ گئے، حالانکہ اس دن اور اس سے ایک دن قبل پورا کراچی بند تھا، ان کا کہنا ہے کہ کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ سب کچھ پہلے سے تیار تھا؟ اسی طرح سٹی حکومت کے لوگ صوبائی حکومت کو اس کا مجرم قرار دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی حکومت میں ہوا ہے، ایسے ہی کچھ لوگ اس کو شیعہ لابی کی کارستانی قرار دیتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ سٹی حکومت کے کیمروں کی فوٹیج میں کالے کپڑوں والے دہشت گرد نظر آرہے تھے ،جب کہ کچھ لوگ اس کو سٹی اور صوبائی حکومت کو آپس میں لڑانے کی سازش قرار دے رہے ہیں۔
الغرض قطع نظر اس کے کہ اس میں کون استعمال ہوا؟ اور کس سے کیا کام لیا گیا؟ بہرحال عام تأثر یہ ہے کہ یہ بدنام زمانہ بلیک واٹر کی کارستانی ہے، بعید نہیں کہ اس نے اس سلسلہ میں اپنے پاکستانی ایجنٹوں اور کرایہ کے دہشت گردوں کی خدمات حاصل کی ہوں اور ملک کے ان غداروں نے اپنے مفادات کی قربان گاہ پر پاکستان اور اس کی قومی املاک کو بھینٹ چڑھایا ہو، بہرحال یہ طے ہے کہ کوئی مسلمان اور ملک کا خیرخواہ ایسی غداری کا مرتکب نہیں ہوسکتا۔
شنید ہے کہ اس موقع پر متاثرہ تاجروں کی جانب سے یہ آواز بھی اٹھائی گئی ہے کہ: ایسے تمام جلوس جن سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، ان کو یا تو بند کردیا جائے ،نہیں تو کم از کم ان کے منتظمین سے کہا جائے کہ اگر یہ تمہارا دینی شعار ہے تو اس کو اپنی عبادت گاہوں اور چار دیواریوں کے اندر ادا کیا کریں۔ دیکھا جائے تویہ تجویز نہایت معقول اور قابل عمل ہے، کیونکہ اس سے ہر طرح کے خطرات و اندیشوں سے حفاظت اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن ہوسکے گا۔ خدا کرے کہ کسی بندئہ خدا کو اس پر غورکرنے کی توفیق نصیب ہوجائے۔آمین۔
خلاصہ یہ کہ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ملک و قوم کے بہی خواہ، اپنے دشمنوں اور ملک و قوم کے غداروں کا کھوج لگائیں اور ان کو پکڑ کر عبرت ناک سزا دیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ ان امریکی درندوں کی نقل و حرکت پرکڑی نگاہ رکھی جائے، جو پاکستان، خصوصاً اسلام آباد اور کراچی میں اپنے مستقل اڈے قائم کرکے ملکی سلامتی اور امن و امان کے درپے ہیں۔
اخبارات، میڈیا اور صحافی برادری اور کالم نگار چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ اربابِ اقتدار جن امریکیوں کو دھڑا دھڑ ویزے جاری کررہے ہیں اور ایک ایک دن میں ان کے لئے دس دس ہزار ویزوں کا اجرا کیا جارہا ہے، ان کاپاکستان میں کیا کام ہے؟ اور وہ یہاں پاکستان کی کون سی ملکی وفلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں؟ لہٰذا ان کی پاکستان آمد پر پابندی لگائی جائے۔
ایسے ہی اس طرف بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی پاکستانی امریکا کا سفر کرے تو اس کو تو سخت چیکنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اندرون و بیرون تک کا ننگا معائنہ کیا جاتا ہے، مگر اس کے برعکس امریکی درندے بڑی آسانی سے اور بغیر کسی چیکنگ کے پاکستان آجاتے ہیں اور ہمارے ملک میں نہ صرف کھلے عام دندناتے ہیں، بلکہ الٹا ہماری سیکورٹی فورسز کو ڈراتے دھمکاتے نظر آتے ہیں، آخر ایسا کیوں؟
اس پر مستزاد یہ کہ اگر بالفرض کوئی جرأت مند پاکستانی فوجی یا پولیس اہلکار ان درندوں کی راہ روکنے کی کوشش کرے یا ان کو ملکی آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلے تو پاکستان کے نام نہاد بڑوں یا خود امریکی سفارت خانہ کی مداخلت پر نہ صرف ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے، بلکہ ہماری حکومت و اقتدار کے ”بڑے“ اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک نہایت شدو مد سے اپنے ان آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ان کی بے گناہی و نیک نامی کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں، چنانچہ وہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان میں بلیک واٹر نامی کوئی تنظیم نہیں ہے، حالانکہ خود مختار تحقیقاتی ادارے اور اخبارات و میڈیا واشگاف الفاظ میں اس کا اعلان کرچکے ہیں کہ پاکستان میں موجودہ قتل وغارت، فسادات اور دہشت گردی یا آپریشن امریکی ایجنسیوں کی کارستانی ہے۔ مگر افسوس کہ اس کو سننے کے لئے کوئی تیار نہیں۔
بتلایا جائے کہ! ہمارے اربابِ اقتدار پاکستان کے خیر خواہ ہیں یا امریکا اور اس کی ایجنسیوں کے؟ حیف! صد حیف! کہ ہمارے یہ ”بڑے“ کھاتے پاکستان کا ہیں، مگر گاتے امریکا کاہیں۔
الغرض اب بھی وقت ہے کہ اس خطرناک صورت حال کا تدارک کرلیا جائے ،ورنہ :”تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں۔“
آخر میں ایک بار پھر ہم اپنے مسلمان تاجروں اور بم دھماکوں میں ہلاک و شہید ہونے والوں کے وارثوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اپنی مکمل حمایت و تعاون کا یقین دلاتے ہیں اورارباب حکومت سے ان مظلوموں کی اشک شوئی کی بھرپور درخواست کرتے ہیں۔

وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
اشاعت ۲۰۱۰ ماہنامہ بینات , صفر المظفر:۱۴۳۱ھ - فروری: ۲۰۱۰ء, جلد 73, شمارہ