الفصل الخامس:
مفتی اور قاضی کی ذمہ داری اور دائرہ عمل


(۱) مفتی پر ضروری ہے کہ زمانہ اور حالات پر واقف رہے اور جب کوئی استفتاء آجائے اس پر بار بار غور کرے اور مستفتی اور موجودہ حالات پر بھی نظر رکھے، اس کے بعد خوب سوچ سمجھ کر ایسا جواب لکھنے کی کوشش کرے جو مسئلہ کی رو سے صحیح بھی ہو اور مفتی کے جواب سے غلط اثر بھی نہ پڑے اور مستفتی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے اور مسئلہ حل ہونے کا مطلب یہی ہے کہ صحیح مسئلہ لکھا جائے، چاہے مستفتی کے خلاف ہی کیوں نہ پڑے۔
(۲) مسئلہ لکھنے سے پہلے فقہی جزئیات اور اس کے مطابق قرآن وحدیث کے نصوص کو بھی پیش نظر رکھا جائے اور ہر جواب کے ساتھ فقہی جزئیات یا قرآن وحدیث کے نصوص کی عربی عبارت لکھی جائے؛ اس لئے کہ آج کے زمانہ میں مفتی مجتہد نہیں ہے؛ بلکہ مفتی ناقل ہے، صحیح طور پر نقل کر دینا یہی بہت بڑا کام ہے۔
(۳) فرضی سوالات کے جواب دینے کی کوشش نہ کرے۔
(۴) غیر واضح سوال کا جواب بھی نہ دیا جائے، حتی الامکان مستفتی سے سوال واضح کرا لیا جائے۔
(۵) مفتی اور قاضی کی ذمہ داری بہت ہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
جب دو فریق کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، کوئی ہارنے کے لئے تیار نہیں ہوتاہے، ایک سے ایک آگے ہو تو ایسے حالات میں مسئلہ مفتی کے سر لاکر ڈال دیا جاتا ہے، تو ایسے مسائل کے جواب لکھنے میں بہت ہی سوچ بوجھ اور تدبر سے کام لینا ضروری ہے اور ایسے مسائل کا جواب لکھنے میں جلدی نہ کی جائے؛ بلکہ جہاں تک ہو سکے تاخیر سے کام لیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ اس کے بارے میں واقفیت حاصل ہوجائے۔