شاندار ماضی اسی زمانہ کی تصنیف ہے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمۃ اللہ علیہ انہیں حیوان کاتب کہا کرتے تھے، جمعیۃ العلماء ہند کے ناظم بھی رہے۔
۱۳۹۵ھ میں ۷۴؍ سال کی عمر میں وفات پائی۔
(۵۳) حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحبؒ متوفی:۱۴۱۷ھ
۱۳۲۳ھ میں سنبھل میں پیدا ہوئے، اسی سال حضرت گنگوہیؒ کی وفات ہوئی اور وطن سنبھل ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل فرمائی۔
۱۳۴۵ھ میں دارالعلوم میں سب سے اعلیٰ نمبرات سے پاس ہوکر فراغت حاصل فرمائی، اس کے بعد تین سال دارالعلوم چلّہ امروہہ میں درس دیا، پھر چار سال تک دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شیخ الحدیث رہے۔
۱۳۵۳ھ میں بریلی جاکر رسالۃ الفرقان جاری فرمایا، یہ رسالہ ہندوستان کے رسائل میں نہایت اہم او رعلمی رسالہ شمار کیا جاتا تھا، آپ نے مسلک دیوبند کی ترجمانی میں مناظرہ میں ایک طویل زمانہ گذار دیا، بعد میں فرمانے لگے کہ میں نے اپنی عمر کے پچاس سال مناظرہ میں گذارے، مگر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔
۱۳۶۲ھ سے دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ ہوگئے، اراکین شوریٰ میں سے سب سے طویل مدت آپ کو حاصل ہوئی۔ ۲۷؍ ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ میں وفات پائی، ۹۵؍ سال عمر پائی۔
(۵۴) حضرت مولانا عبدالجبار صاحبؒ متوفی: ۱۴۰۹ھ
۱۳۲۷ھ مطابق ۱۹۰۷ء میں آپ کی ولات ہوئی۔
۱۳۴۸ھ میں مظاہر علوم سہارنپور سے فراغت حاصل ہوئی۔
۱۳۴۹ھ میں فنونات وغیرہ پڑھے، اس کے بعد مظاہر علوم میں معین المدرس رہے، پھر اس کے بعد گجرات میں آنند اور ڈابھیل میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔
۱۳۷۷ھ میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی وفات پر مدرسہ شاہی کے