ان جیسوں کی صحبت میں رہ کر اللہ نے اس لائق بنا دیا کہ جو کچھ بھی کام ہوا ہے، وہ سب انہیں حضرات کے فیوض وبرکات سے ہوا ہے ۔
(۳) اس کے بعد دو سال تک ۱۴۰۵ھ اور ۱۴۰۶ھ میں دارالعلوم دیوبند میں اساتذہ کی توجہات سے خدمت تدریس کی سعادت حاصل ہوئی اور محض اللہ کے فضل اور اساتذہ کی توجہات سے دارالعلوم دیوبند میں میزان سے لے کر شرح جامی تک تقریباً سب ہی کتابیں پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی، اس زمانہ کے تلامذہ آج تک محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو دینی خدمات کے لئے قبول فرمائے۔
دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات کے درمیان احقر کے مخلص دوست اور محب محترم حضرت مولانا اخلد رشیدی مد ظلہ العالی جو حضرت مولانا سید رشید الدین صاحب حمیدی نور اللہ مرقدہ کے خلف الرشید ہیں، انہوں نے جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد کے لئے رابطہ شروع فرمایا۔ اور احقر کا جواب یہ رہا کہ حضرت الاستاذ مولانا معراج الحق صاحب صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند ان دونوں حضرات کی جو بھی رائے ہوگی اسی پر عمل کیا جائے گا، چنانچہ درمیان سال ہی میں احقر کے بہت بڑے محسن حضرت مولانا سید رشید الدین صاحب حمیدی مہتمم جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی نور اللہ مرقدہ از خود دیوبند تشریف لے جاکر مہتمم دارالعلوم دیوبند اور حضرت الاستاذ مولانا معراج الحق صاحب نور اللہ مرقدہ سے براہ راست رابطہ قائم کرکے جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی میں خدمت تدریس اور شعبہ افتاء کی ذمہ داری کے لئے احقر کا تقرر کروا لیا۔
۲۰؍ شعبان المعظم ۱۴۰۷ھ میں دارالعلوم دیوبند کے سالانہ امتحان کی نگرانی سے فراغت کے بعد اسی دن ساز وسامان کے ساتھ مدرسہ شاہی میں حاضری ہوئی، دستی اور ڈاک کے ذریعہ سے جو استفتاء پہلے ہی سے جمع ہوچکے تھے ان کے جوابات دارالعلوم سے آکر دوسرے دن سے لکھنا شروع کردئے، تقریباً سوا تین سال تک دارالافتاء میں اکیلا خدمت انجام دیتا رہا اور اس وقت تک رجسٹروں میں فتاوی نقل کرنے کے لئے منجانب مدرسہ کوئی