الصلوۃ والسلام سے شروع ہوا ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ قوم تبع سے شروع ہو ہے ۔
بلغنا أن تبّعا أول من کساالکعبۃ الوصائل فسترت بہا، قال ابن جریج: وقد زعم بعض علمائنا اسماعیل النبی صلی اللہ علیہ وسلم (مصنف عبد الرزاق، المجلس العلمي۵/۸۹رقم ۹۰۸۶)
وقد زعم بعض علمائنا أن أول من کسی الکعبۃ إسماعیل النبي صلی اللہ علیہ وسلم واللہ أعلم بذلک ۔ (مصنف عبدالرزاق ، المجلس العلمي۵/۱۵۳، رقم: ۹۲۳۰)
وتبعان: أسعد ہو حسان تبع وہو فیما یقال أول من کسا الکعبۃ۔ (تاریخ ابن خلدون ۲/۶۱)
فأول من ولی منہم حجر آکل المرار ابن عمرو المعاویۃ الأکبر وولاہ تبع ابن کرب الذی کساالکعبۃ۔ (تاریخ ابن خلدون ۲/۳۳۱)
نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن سب أسعد الحمیری ، وہو تبع، وہو أول من کسا البیت۔ (تفسیر قرطبي ، تحت تفسیر سورۃ البقرۃ الآیۃ/ ۱۲۷، دارالکتب العلمیۃ ۲/۸۶، الدر المنثور تحت تفسیر سورۃ الدخان الآیۃ/ ۳۷-۴۲، دارالکتب العلمیۃ ۵/۷۵۰)فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
۲؍۱؍۱۴۱۲ھ
(الف فتویٰ نمبر:۲۷/۲۵۱۱)
کشتی ٔ نوح سے متعلق ایک سوال
سوال:]۴۲۳[:کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں :کہ حضرت نوحؑ کاکشتی بنانا ان کی قوم کا اس میں پاخانہ پھر نا، خارش کامرض پیداہونا، ایک شخص کا اس میں گر کر خارش سے نجات پانا اور پھر قوم کا کشتی کی گندگی بدن پر لگانا جس سے کشتی کا صاف ہونا ،